’باہر سے آنے والے افراد کا داخلہ ممنوع ہے‘ – سِیا دیہی گاؤں کے داخلی دروازہ پر موجود بانس سے بنے بیریکیڈ پر لگی تختیوں کے اوپر لکھا تھا۔ یہ رپورٹر جب چھتیس گڑھ کے دھمتری ضلع کے نگری بلاک کے اس گاؤں میں پہنچا، تب پاس میں بیٹھے گاؤں کے کچھ لوگ بات کرنے کے لیے بیریکیڈ کے پاس آئے – لیکن دوری برقرار رکھتے ہوئے۔

’’ہم سبھی گاؤں والوں نے خود کو اس جان لیوا کورونا وائرس سے بچانے کے لیے ایک رائے ہوکر ناکہ بندی کرنے کا فیصلہ کیا ہے،‘‘ پڑوس کے کانکیر ضلع میں واقع ایک سرکاری کالج کے لکچرر، بھرت دھرو نے کہا۔ سیا دیہی، بنیادی طور پر گونڈ آدیواسیوں کا گاؤں ہے جس میں تقریباً ۹۰۰ لوگ رہتے ہیں، یہ چھتیس گڑھ کی راجدھانی، رائے پور سے تقریباً ۸۰ کلومیٹر دور ہے۔

’’ہم لوگ ’سماجی دوری‘ بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی باہر والا اس لاک ڈاؤن کے دوران ہمارے گاؤں میں آئے، اور نہ ہی ہم خود باہر جاکر ضابطوں کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ ناکہ بندی کی ہے،‘‘ اسی گاؤں کے ایک غریب کسان اور مزدور، راجیش کمار نیتم کہتے ہیں۔

’’ہم کسی بھی رابطہ سے بچنے کے لیے یہاں آنے والے سبھی لوگوں کو روک رہے ہیں۔ ہم ان سے اپنے گاؤں واپس لوٹ جانے کی درخواست کرتے ہیں،‘‘ ایک زرعی مزدور، سجی رام منڈوی بتاتے ہیں۔ ’’ہمارے ہی گاؤں کے کچھ بچے اسکل ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت مہاراشٹر ہجرت کر گئے تھے، لیکن وہ ہولی سے پہلے ہی لوٹ آئے تھے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’بہرحال، محکمہ صحت کے اہلکاروں نے ان کی تفصیل لے لی ہے۔‘‘

سیا دیہی کے باقی مہاجرین کا کیا ہوگا جو اب واپس لوٹیں گے؟ کیا ان کو اندر آنے دیا جائے گا؟ ’’ہاں‘‘، ایک پنچایت اہلکار، منوج میش رام کہتے ہیں۔ ’’لیکن سرکار کی ہدایات کے مطابق، ان لوگوں کو کوارنٹائن کی مدت سے گزرنا ہوگا۔‘‘

Left: In Siyadehi village of Dhamtari district, Sajjiram Mandavi, a farm labourer, says, 'We are stopping all those coming here to avoid any contact'. Right: We saw similar barricades in Lahsunvahi village, two kilometres from Siyadehi
PHOTO • Purusottam Thakur
Left: In Siyadehi village of Dhamtari district, Sajjiram Mandavi, a farm labourer, says, 'We are stopping all those coming here to avoid any contact'. Right: We saw similar barricades in Lahsunvahi village, two kilometres from Siyadehi
PHOTO • Purusottam Thakur

بائیں: دھمتری ضلع کے سیا دیہی گاؤں میں ایک زرعی مزدور، سجی رام منڈوی کہتے ہیں، ’ہم کسی بھی رابطہ سے بچنے کے لیے یہاں آنے والے سبھی لوگوں کو روک رہے ہیں‘۔ دائیں: ہم نے ایسی ہی ناکہ بندی لسون وہی گاؤں میں بھی دیکھی، جو سیا دیہی سے ۲ کلومیٹر دور ہے

حالانکہ، ملک بھر میں، سرکاروں کے ذریعے اعلان شدہ کوارنٹائن کے ضابطوں کو بیان کرنے میں ریاستوں، ضلع انتظامیہ اور مقامی اہلکاروں کے درمیان بھرم اور بہت زیادہ اختلاف ہے۔

سیا دیہی کے لوگوں کو کورونا وائرس کے خطرے کی جانکاری کہاں سے ملی؟ ’’ٹی وی اور اخباروں سے اور، بعد میں، ہمیں انتظامیہ کے ذریعے جانکاری ملی،‘‘ میش رام کہتے ہیں۔ وہ آگے کہتے ہیں، ’’اگر ہم اپنے آپ کو بچائیں گے، تو ہماری فیملی اور ہمارا گاؤں بھی محفوظ رہے گا۔‘‘

وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ حالانکہ ان کی آمدنی کو بہت نقصان پہنچا ہے، ’’پہلے، اس وائرس سے بچنا ضروری ہے۔ یہ ایک بہت بڑا ایشو ہے۔ اس کے بعد، ہم پیسے کما لیں گے۔‘‘

انہوں نے مرکزی حکومت کے ذریعے اعلان شدہ ’’پیکیجوں‘‘ کے بارے میں سنا ہے۔ لیکن، دو تین ایک ساتھ بولتے ہیں، ’’ہم [اس بارے میں] تب تک کچھ نہیں کہہ سکتے، جب تک کہ ہمیں پیکیج مل نہیں جاتا۔‘‘

ایک گاؤں والا بجلی کے تار باندھنے کے لیے درخت پر چڑھا ہوا تھا۔ انہوں نے سمجھایا کہ یہ ’’اس جگہ پر روشنی کرنے کے لیے کیوں کہ ہم لوگ رات کے ۹ بجے تک اس ناکہ بندی کی نگرانی کرتے ہیں۔‘‘

ہم نے ایسی ہی ناکہ بندی لسون وہی میں بھی دیکھی، جو تقریباً ۵۰۰ لوگوں کا ایک گاؤں ہے اور سیا دیہی سے صرف ۲ کلومیٹر دور ہے۔ یہ بھی ایک گونڈ آدیواسی گاؤں ہے۔ یہاں کی ناکہ بندی پر لگے پوسٹر میں لکھا تھا: ’دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے – ۲۱ دنوں تک داخلہ ممنوع ہے‘۔ دوسرے پوسٹر پر اتنا ہی لکھا تھا: ’باہری لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے‘۔

’’ہم لوگ باہر سے آنے والے لوگوں کو روک رہے ہیں اور خاص طور سے شہری لوگوں کو،‘‘ ناکہ بندی پر کھڑے ایک مقامی زرعی مزدور، گھاسی رام دھرو بتاتے ہیں۔ شہری لوگوں کو ہی کیوں؟ کیوں کہ ’’وہ لوگ ہی ملک سے باہر جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے یہ وائرس پھیل رہا ہے۔‘‘

پورے بستر میں کئی جگہ پر ایسی ناکہ بندی دیکھنے کو ملتی ہے۔

Mehtarin Korram is a mitanin (known elsewhere as an ASHA) health worker, thee frontline foot-soldiers of the healthcare system at the village level. She says, 'If I get scared, who will work?'
PHOTO • Purusottam Thakur
Mehtarin Korram is a mitanin (known elsewhere as an ASHA) health worker, thee frontline foot-soldiers of the healthcare system at the village level. She says, 'If I get scared, who will work?'
PHOTO • Purusottam Thakur

مہترین کورّم ایک میتانِن (جو دوسری جگہوں پر آشا کے نام سے جانی جاتی ہیں) صحت کارکن ہیں، دیہی سطح پر طبی خدمات مہیا کرنے کی اگلی قطار کی سپاہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’اگر میں ڈر گئی تو کام کون کرے گا؟‘

لیکن کھڑدہ میں، جو کہ دھمتری-نگری سڑک پر پڑنے والا ایک دوسرا گاؤں ہے، کوئی ناکہ بندی نہیں تھی۔ یہاں ہم مہترین کورم سے ملے، جو کہ ایک میتانن (جو دوسری جگہوں پر آشا کے نام سے جانی جاتی ہیں) صحت کارکن ہیں۔ وہ انوپا بائی منڈوی – ایک عورت جنہیں ملیریا ہوا تھا – کے گھر سے ابھی ابھی لوٹ کر آئی تھیں۔ مہترین نے انوپا کو دوائیں مہیا کروائی تھیں۔

’’ہمیں کورونا وائرس کے بارے میں جانکاری دی گئی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں نے خود ہر گھر میں جاکر لوگوں سے سماجی دوری بناکر رکھنے کی درخواست کی ہے۔ اور ان کو باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کے لیے بھی کہا ہے۔‘‘ کیا انہوں نے لوگوں کو یہ اطلاع کسی میٹنگ میں دی؟ ’’نہیں۔ اگر ہم کوئی میٹنگ کریں گے، تو لوگ ایک دوسرے کے پاس آکر بیٹھیں گے... ہمارا چھوٹا سا گاؤں ہے، صرف ۳۱ کنبوں کا۔ اس لیے میں نے یہ اطلاع گھر گھر جاکر دی۔‘‘

وہ اور ان کے ساتھی سماجی دوری کے موضوع پر محتاط رہتے ہیں۔ ایک بار کی بات ہے، انہوں نے بتایا، ’’کمہڑ گاؤں کے اشوک مرکم کے گھر پر موت کے بعد ہونے والی پوجا تھی، اس لیے میں بنروڑ، کمہڑ اور مرداپوٹی کی میتانن کے ساتھ وہاں گئی اور ان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کو ایک دوسرے سے دوری بناکر رکھنے کے لیے کہا۔ ہم وہاں پورے دن تب تک کھڑے رہے، جب تک پوجا پوری نہیں ہو گئی۔‘‘

اور اس وقت وہ کیا احتیاط برتتی ہیں؟ ’’ہم دوپٹے یا تولیے سے اپنا منہ ڈھکتے ہیں اور صابن یا ڈیٹال سے اپنا ہاتھ دھوتے ہیں۔‘‘

لیکن انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے پاس ماسک نہیں ہے۔

میتانن یا آشا کارکن دیہی سطح پر طبی خدمات مہیا کرنے کے نظام کی پہلی قطار کی سپاہی ہیں۔ ایسے گاؤوں جن میں ڈاکٹروں یا طبی اہلکاروں کی کمی ہے، وہاں پر یہ کارکن اور بھی اہم ہیں۔ ذاتی حفاظتی کٹ کا نہ ہونا انہیں اس دوران اور بھی زیادہ خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

لیکن مہترین کورم کو ڈر نہیں لگتا ہے: ’’اگر میں ڈر گئی تو کام کون کرے گا؟ اگر کوئی بیمار ہے، تو مجھے تو جانا ہی ہوگا۔‘‘

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Purusottam Thakur

پرشوتم ٹھاکر ۲۰۱۵ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ایک صحافی اور دستاویزی فلم ساز ہیں۔ فی الحال، وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور سماجی تبدیلی پر اسٹوری لکھتے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur