’چکّی کے گانوں کے پروجیکٹ‘ میں آپ کا خیر مقدم ہے، جو کہ ایک لاکھ سے زائد گانوں کا ایک مجموعہ ہے، جسے مہاراشٹر کی عورتیں کئی نسلوں سے گھر پر جاٹے (انگریزی: گرِنڈ مِل) یعنی چکی پیستے وقت اور دیگر کام کرتے وقت گاتی رہی ہیں۔

یہ ڈیٹا بیس متعدد ماہرین بشریات اور دیگر قوموں کی موسیقی کا پتہ لگانے والے ماہرین کے صدیوں پر محیط کڑے فیلڈ ریسرچ کا آمیزہ ہیں۔ اس پروجیکٹ کا مقصد اُن گانوں کی طویل فہرست کی لمبے عرصے تک حفاظت، ترجمہ، دستاویزکاری اور بحالی ہے جسے عورتوں نے چکّی پیستے وقت گایا۔ گزشتہ دہائی کے دوران یہ کام تقریباً ختم ہو گیا، کیوں کہ ہاتھ سے چلائی جانے والی چکیوں کی جگہ اب موٹر سے چلنے والی چکی کی پِسائی نے لے لی۔

یہ ایک ایسا شاندار مجموعہ ہے، جس کے گانے آپ کو گاؤں کی زندگی اور ثقافت کی سیر کرائیں گے؛ صنف، طبقہ اور ذات سے متعلق امور؛ مذہب؛ عورتوں اور ان کے بچوں، شوہروں، بھائی بہنوں، اور وسیع برادریوں کے درمیان رشتہ؛ اور متعدد ہم عصر سماجی و سیاسی پہلوؤں سے آپ کو روبرو کرائیں گے۔


پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کو دیہی مہاراشٹر کی عورتوں کی قوتِ یادداشت اور فنکارانہ صلاحیت کو اپنی ویب سائٹ پر متعارف کرانے میں فخر ہے۔ یہ افتتاح ۸ مارچ، ۲۰۱۷ کو بین الاقوامی یومِ خواتین کے موقع پر ان کے تئیں اعزاز ہے۔

چکّی کے گانوں کا ڈیٹابیس تیار کرنے کا خیال سماجی کارکن اور مشہور اسکالرس آنجہانی ہیما رائیرکر اور گائی پوئٹیوین کی دین ہے، جنہوں نے ساتھ مل کر پُنے میں سنٹر فار کوآپریٹو ریسرچ اِن سوشل سائنسز کی بنیاد ڈالی۔ ان دونوں نے آپس میں مل کر ۲۰ برسوں کے دوران مہاراشٹر کے ۱۱۰،۰۰۰ فوک گانوں کو ٹرانس کرائب کیا۔

کمپیوٹیشنل میوزیکولوجسٹ اور فرینچ نیشنل سنٹر فار سائنٹیفک ریسرچ کے سابق انجینئر برنارڈ بیل اس پروجیکٹ میں ۱۹۹۰ کی دہائی کے اخیر میں شامل ہوئے اور ۱۲۰ گھنٹوں سے زیادہ کی متعلقہ آڈیو، متن کے ڈیٹابیس اور ریکارڈنگ کی تشریح کی شکل میں ترتیب دی۔ اس مواد کو گڑگاؤں، ہریانہ کے آرکائیوز اینڈ ریسرچ سنٹر فار ایتھنو میوزیکولوجی نے سنبھال کر رکھا اور بعد میں ایکس۔این۔پرووینس، فرانس کی اسپیچ اینڈ لینگویج ڈیٹا رِپوزیٹری کو پورٹ کر دیا، جس کے کیوریٹ بھی پروفیسر بیل ہیں۔ وہاں پر، چکّی کے گانوں کا ڈیٹا بیس بعد میں اوپن آرکائیول انفارمیشن سسٹمز کا پروٹوٹائپ بن گیا اور اس طرح ڈجیٹل ہیومینٹیز کی آگے کی متعدد پیش رفتوں کی راہ ہموار ہوئی۔

سال ۱۹۹۳ سے ۱۹۹۸ کے درمیان، چکّی کے گانوں کے پروجیکٹ کو یونیسکو، نیدرلینڈس منسٹری فار ڈیولپمنٹ کوآپریشن، اور سوئزرلینڈ کے چارلس لیوپولڈ مایر فاؤنڈیشن فار دی پروگریس ہف ہیومن کائنڈ سے مالی مدد ملی۔

’’میں نے ہیما رائیرکر اور گائی پوئٹیوین سے ذاتی طور پر وعدہ کیا تھا کہ میں گرنڈ مِل کارپس کے ڈواکیومینٹیشن/ ایڈیشن / ترجمہ کو مکمل کروں گا اور اسے شائع کروں گا، تاکہ اس تک سب کی رسائی ہو سکے،‘‘ پروفیسر بیل بتاتے ہیں۔ ’’جنوری ۲۰۱۵ میں ان کے پروجیکٹ کا احیا ہوا، جب میں نے پُنے میں کام کرنے والے چکّی کے گانوں کے ماہرین کی ٹیم کو آلات عطیہ کیے۔ ہم نے کارپس کے لیے اشاعت کے ابتدائی فارمیٹ پر ساتھ کام کیا۔ اس کے لیے ڈیٹا بیس کی ری۔انجینئرنگ اور متعدد دیوناگری اِنکوڈنگس سے متون کی ٹرانس کوڈنگ میں سنجیدہ سرمایہ کاری کی ضرورت پڑی۔‘‘

پاری کی شمولیت سے، اس پروجیکٹ کا احیا حال ہی میں متعدد پرانے اور نئے کام کرنے والوں کے ساتھ اشتراک سے ہوا ہے۔ بغیر ترجمہ والے ۷۰ ہزار گانوں پر گوکھلے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹکس اینڈ اکنامکس، پُنے کی سابق ڈاکیومینٹیشن آفیسر، آشا اوگلے اور ان کی ساتھی رجنی کھلاڈکر اور جتیندر میڈ کام کر رہے ہیں۔ مراٹھی زبان اور دیہی زندگی کے بارے میں ان کے گہرے اور اجتماعی علم کی وجہ سے ترجمہ میں کافی مدد مل رہی ہے۔

سونی پت، ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر، گلس ورنیئرس کی قیادت میں سال ۲۰۱۶ میں اس ادارہ کے ساتھ پارٹنرشپ قائم ہوئی۔ ۱۷۔۲۰۱۶ ینگ انڈیا فیلوشپ کلاس کے تین ممبران ۔ مہریش دیواکی، سنیہا مادھوری اور پورنا پراگیہ کلکرنی ۔ ترجمے کا تجزیہ کر رہی ہیں اور اضافی آرکائیول تعاون فراہم کر رہی ہیں۔ پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا میں چکّی کے گانوں کے اس پروجیکٹ کی سربراہی پاری کی منیجنگ ایڈیٹر، نمیتا وائیکر کر رہی ہیں، جب کہ امیریکن انڈیا فاؤنڈیشن کلنٹن فیلو، اولیویا ویئرنگ بھی ڈیٹا بیس کیوریشن میں اپنا تعاون دے رہی ہیں۔

اس پروجیکٹ میں مزید کئی لوگوں کا تعاون شامل رہا، جن کے نام ہیں بھیم سین نانیکر (انٹرویو لینے والے)، دَتّا شنڈے (ریسرچ کرنے والے)، ملاویکا تالوڈکر (فوٹوگرافر)، لتا بھورے (ڈیٹا اِن پُٹ)، اور گجرابائی ڈاریکر (ٹرانس کرائبنگ)۔

اس پروجیکٹ کی مرکزی پرفارمر اور شریک کار، گنگو بائی امبورے کے تمام منتخب ویڈیوز، اینڈرین بیل کی محنت کا نتیجہ ہیں۔

ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی اس تازہ پیشکش کا لطف اٹھائیں، جس میں آنے والے مہینوں اور سالوں میں دھیرے دھیرے شاندار اضافہ جاری رہے گا۔ پاری چکّی کے گانوں کے تمام پارٹنرس کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہے، اور خاص کر دیہی مہاراشٹر کی ہزاروں عورتوں کی زندگیوں اور حصولیابیوں کا ذکر کرنا چاہتا ہے، جن کے لیے کوئی گانا اور کوئی ڈیٹا بیس نہیں ہوگا۔


Gangubai Ambore

پرفارمر/گلوکار: گنگوبائی امبورے

گاؤں: تاڑکلاس

تعلقہ: پُرنا

ضلع: پربھنی

صنف: عورت

ذات: مراٹھا

عمر: ۵۶

تعلیم: نہیں

بچے: ۱ بیٹی

پیشہ: اس فیملی سے جس کے پاس ۱۴ ایکڑ زمین تھی؛ انھیں چھوڑ دیا گیا، اس کے بعد وہ گاؤں کے ایک مندر میں رہنے لگیں

تاریخ: ان کا انٹرویو اور گانے ۷ اپریل، ۱۹۹۶ اور ۵ فروری، ۱۹۹۷ کو ریکارڈ کیے گئے۔


اووی


आरण्या ग वनामधी, कोण रडत आईका, कोण रडत आइका | बोरी बाभळी या बाइका, बोरी बाभळी बायका |
कोण रडत आईका, सीतेला ग समजावया | बोरी बाभळी बाइका, बोरी बाभळी बाइका बोरी बाभळी या |


āraṇyā ga vanāmadhī, kōṇa raḍata āīkā, kōṇa raḍata āikā | bōrī bābhaḷī yā bāikā, bōrī bābhaḷī bāyakā |
kōṇa raḍata āīkā, sītēlā ga samajāvayā | bōrī bābhaḷī bāikā, bōrī bābhaḷī bāikā, bōrī bābhaḷī yā |

 

جنگل میں، لکڑیوں میں، کون رو رہا ہے؟ سنو!

بوری بابھلی (بیر اور کیکر کے درخت) ’عورتیں‘ ہیں جو سن رہے ہیں اور سیتا کو تسلی دے رہے ہیں۔


نوٹ: اِس اووی میں، سیتا رو رہی ہیں۔ وہ جنگل میں ہیں ۔ انھیں یہاں بھگوان رام نے سزا کے طور پر بھیجا ہے، جیسا کہ رامائن میں درج ہے۔ وہ اکیلی ہیں اور اکیلی دوست جس کے ساتھ وہ اپنے غم کو بانٹ سکتی ہیں، وہ ہیں بوری (بیر) اور بابھلی (کیکر) کے درخت۔ یہ کانٹے دار درخت ہیں، جن کے چھلکے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں؛ ان کی حالت، جیسا کہ اووی میں اشارہ کیا گیا ہے، معاشرے میں خواتین کی مظلومانہ، عدم مساوات پر مبنی حالت جیسی ہے۔ گانے میں، یہ درخت، ’عورتوں‘ کی شکل میں، سیتا کو تسلی دیتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ وہ بھی انہی کی طرح ہیں: اکیلے اور حاشیہ پر۔ گنگوبائی امبورے، جو اس اووی کو گا رہی ہیں، خود کو روتی ہوئی سیتا کے طور پر دیکھتی ہیں۔


یہ بھی دیکھیں ۔ گنگوبائی: گاؤں کی آواز، مراٹھی روح، مضمون نگار جتیندر میڈ

پربھنی ضلع کے تاڑکلاس گاؤں کی گنگوبائی امبورے نے درد بھری آواز میں گانے گائے، ان کی آواز بتا رہی ہے کہ انھوں نے تنہائی کے کتنے سال گزارے ہیں ۔ اور اس نے سننے والوں کو مسحور کر لیا۔

مزید پڑھیں: یہاں

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

PARI Grindmill Songs Project Team

پاری چکّی کے گانوں کا پروجیکٹ ٹیم

Other Stories by PARI Grindmill Songs Project Team