’’یہ میرا گھر ہے۔ میں نے اپنی ساری زندگی یہیں بسر کی ہے۔ میرے والد اور دادا یہاں رہتے تھے۔ اب وہ [حکومتِ مہاراشٹر] ہمیں اسے چھوڑنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ہمیں کوئی [تحریری] نوٹس بھی نہیں دیا گیا ہے،‘‘ ۴۲ سالہ جانو کہتے ہیں۔ ’’ہم یہاں سے کہاں جائیں گے؟ ہم اپنا گھر کہاں بنائیں گے؟‘‘ ان کی جھونپڑی بھیونڈی تعلقہ کے چراڈپاڑہ گاؤں سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جسے بانس کی دیوار سے تقسیم کیا گیا ہے، اور دوسری طرف مٹی کے چولہے کے ساتھ کھانا پکانے کی جگہ ہے۔ فرش کو گوبر سے لیپا جاتا ہے، گھاس اور مٹی سے بنی دیواریں لکڑی کے ستونوں پر ٹکی ہوئی ہیں۔

جانو ہر دوسرے دن صبح ۸ بجے سے دوپہر ۳ بجے تک مچھلی پکڑتے ہیں۔ ان کی بیوی، وسنتی سر پر ۵-۶ کلو وزن کی ٹوکری لادے مچھلی بیچنے ایک تنگ، اوبڑ کھابڑ راستے سے چھ کلومیٹر پیدل چلتے ہوئے پڈگہا ٹاؤن کے بازار تک جاتی ہیں۔ وہ چار ممبران پر مشتل اپنی فیملی کے لیے مہینہ کے تقریباً ۱۵ دنوں تک یومیہ ۴۰۰ روپے کماتے ہیں۔ درمیان میں، جب کام دستیاب ہوتا ہے، تو جانو اور وسنتی دونوں چراڈپاڑہ کے آس پاس کے کھیتوں میں زرعی مزدوری کرتے ہیں، اور کھیرا، بینگن، مرچ اور دیگر سبزیاں توڑ کر روزانہ ۲۵۰ روپے کماتے ہیں۔

Family standing outside their hut
PHOTO • Jyoti Shinoli
Hut
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: جانو واگھے، وسنتی اور ان کے بچے۔ دائیں: چراڈپاڑہ میں چار جھونپڑیوں میں سے ایک۔ ’ہم یہاں سے کہاں جائیں گے؟‘ جانو پوچھتے ہیں

اس بستی کی چار جھونپڑیاں پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے سروے نمبر ۲۱۰/۸۵ میں درج فہرست کی گئی ہیں۔ لیکن جس زمین پر یہ ڈھانچے کھڑے ہیں، اسے جلد ہی ۶۰ میٹر چوڑے پُل کی تعمیر کے لیے تحویل میں لیا جائے گا۔ یہ بات مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ایس آر ڈی سی) کے ذریعہ جون ۲۰۱۸ میں مرکزی حکومت کو سونپی گئی ماحولیاتی اثر کا تجزیہ (ای آئی اے) رپورٹ سے پوری طرح واضح ہے۔

۴۰۰ میٹر لمبا پُل چراڈپاڑہ سے ہوتا ہوا بھاٹسا ندی کے مشرق تک جائے گا۔ یہ نہ صرف جانو اور ان کے پڑوسیوں کے گھر توڑے گا، بلکہ مچھلی پکڑنے کے ان کے روایتی ذریعہ معاش کو بھی ان سے چھین لے گا۔

کلکٹر آفس کے افسر جب ۲۰۱۸ میں ایک سروے کے لیے یہاں آئے تھے، تو چاروں کنبوں کو زبانی طور پر بتایا گیا تھا کہ انھیں ۷۰۰ کلومیٹر لمبے شاہراہ کی جگہ بنانے کے لیے کہیں اور جانا ہوگا۔ ان کنبوں کو ابھی تک کوئی تحریری نوٹس نہیں ملا ہے۔ مہاراشٹر سمردھی مہامارگ کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ شاہراہ ۲۶ تعلقہ کے ۳۹۲ گاؤوں کو جوڑے گی، اور اس کے لیے تقریباً ۲۵ ہزار ایکڑ زمین کی ضرورت ہوگی۔

اس میں تھانے ضلع کے ۴۱ گاؤوں میں پھیلی ۷۷۸ ہیکٹیئر زمین شامل ہے، جس سے ۳۷۰۶ کسان متاثر ہوں گے، ایسا سمردھی پروجیکٹ کی اکتوبر ۲۰۱۸ کی ’مشترکہ پیمائش سروے/زمین کی خرید‘ دستاویز میں کہا گیا ہے۔

تحویل اراضی کے عمل میں مدد کے لیے، ریاست نے مہاراشٹر قومی شاہراہ قانون، ۱۹۵۵ میں ترمیم کی ہے، اور تحویل اراضی، باز آباد کاری اور باز رہائش قانون، ۲۰۱۳ میں مناسب معاوضہ اور شفافیت کے حق میں ریاست سے متعلق مخصوص ترامیم جوڑی ہیں۔ سب سے اہم تبدیلی جو کی گئی ہے، اس میں سے ایک سماجی اثر کے تخمینہ کا خاتمہ ہے۔

ویڈیو دیکھیں: ’ہم اپنا گھر کھونے جا رہے ہیں۔ ہم کہاں جائیں گے؟‘

نتیجتاً، بے زمین مزدوروں کی منتقلی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، اور جانو اور ان کے پڑوسیوں کے لیے کوئی معاوضہ ابھی بھی طے کیا جا رہا ہے۔ ایم ایس آر ڈی سی کی ڈپٹی کلکٹر، ریوتی گایکر نے ٹیلی فونک انٹرویو میں مجھ سے کہا: ’’ہم مہاراشٹر قومی شاہراہ قانون کے مطابق تحویل اراضی کر رہے ہیں۔ ہم متاثرہ کنبوں کی باز آباد کاری نہیں کر سکتے، لیکن انھیں نقصان کے لیے معاوضہ ضرور دیا جائے گا۔‘‘

لیکن وسنتی کو شک ہے۔ ’’اگر وہ [سرکار] ہمارا گھر چھیننے کے بدلے ہمیں پیسہ بھی دیتے ہیں، تو ہم نئے گاؤں میں کیسے بسیں گے؟‘‘ وہ پوچھتی ہیں۔ ’’ہمیں وہاں کے لوگوں کو جاننا ہوگا، تبھی وہ ہمیں اپنے کھیتوں پر کام کرنے دیں گے۔ کیا یہ آسان ہے؟ ہم مچھلی پکڑنا جاری نہیں رکھ پائیں گے۔ ہم آخر زندہ کیسے رہیں گے؟‘‘

وسنتی کو فیملی کے خطِ افلاس سے نیچے کے راشن کارڈ پر، ہر مہینے ۳ روپے فی کلو کے حساب سے ۲۰ کلو چاول اور ۲ روپے فی کلو کے حساب سے پانچ کلو گیہوں ملتا ہے۔ ’’ہم دال نہیں خرید سکتے، ہم چاول کے ساتھ مچھلی کھاتے ہیں۔ کبھی کبھی، اپنا کام ختم کرنے کے بعد ہم کھیت مالکوں سے کچھ سبزیاں مانگ لیتے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’یہاں سے چلے جانے کے بعد، ہم مچھلی پکڑنا جاری نہیں رکھ پائیں گے،‘‘ جانو کہتے ہیں۔ ’’مچھلی پکڑنے کی یہ روایت ہمارے اجداد کے ذریعہ ہمیں سونپی گئی ہے۔‘‘

ان کے پڑوسی، ۶۵ سالہ کاشی ناتھ بمنے، ۲۰۱۸ کے اُس دن کو یاد کرتے ہیں (انھیں لگتا ہے کہ یہ مارچ یا اپریل تھا) جب تھانے ضلع کلکٹریٹ کے افسروں نے چراڈپاڑہ اور اس کے آس پاس کی زمین کا سروے کیا تھا۔ ’’میں دروازے پر بیٹھا تھا۔ ہاتھوں میں فائلیں لیے ۲۰-۳۰ افسر گھوم رہے تھے۔ پولس کو [ان کے درمیان] دیکھ کر ہم ڈر گئے۔ ہم ان سے کچھ نہیں پوچھ سکے۔ انھوں نے ہمارے گھر کی پیمائش کی اور کہا کہ ہمیں اسے خالی کرنا ہوگا۔ پھر وہ چلے گئے۔ انھوں نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ ہم یہاں سے کہاں جائیں گے۔‘‘

Old couple sitting on ground, looking at documents
PHOTO • Jyoti Shinoli
Old lady selling fishes
PHOTO • Jyoti Shinoli

کاشی ناتھ اور دھروپد واگھے (بائیں) اپنے گھر میں اور دھروپد (دائیں) پڈگہا ٹاؤن کے بازار میں مچھلی فروخت کر رہی ہیں

دسمبر ۲۰۱۸ میں، کاشی ناتھ نے تھانے ضلع میں شاہپور تعلقہ کے ڈالکھن گاؤں اور کلیان تعلقہ کے اشیڈ اور پھالیگاؤں کے ۱۵ کسانوں کے ساتھ، تھانے کلکٹر آفس کے باہر ایک روزہ بھوک ہڑتال میں حصہ لیا تھا۔ ’’کلکٹر نے ۱۵ دنوں میں اس مسئلہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن کچھ نہیں ہوا،‘‘ کاشی ناتھ کہتے ہیں۔ وہ ابھی بھی تحریری نوٹس اور معاوضہ کی شکل میں ملنے والی رقم کے بارے میں کسی رائے کا انتظار کر رہے ہیں۔

کاشی ناتھ اور ان کی بیوی دھروپد بھی مچھلی پکڑنے پر ہی منحصر ہیں۔ ان کے تین بچوں کی شادی ہو چکی ہے – دو بیٹیاں دوسرے گاؤوں میں رہتی ہیں، جب کہ ان کا بیٹا چراڈپاڑہ گاؤں میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے۔ اپنی ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی کو دیکھتے ہوئے دھروپد کہتی ہیں، ’’ہم نے کبھی اتنا نہیں کمایا کہ اس کی مرمت کرا سکیں، بس پیٹ بھرنے کے لیے کافی تھا۔ ندی پاس ہے، اس لیے بارش کے موسم میں گھر میں سیلاب آ جاتا ہے۔ لیکن یہ جو کچھ بھی ہے، کم از کم ہمارے سر پر ایک چھت تو ہے۔‘‘ وہ مجھے رسیدیں دکھاتی ہیں – یہاں کے کنبوں کو ۲۵۸ روپے سے ۳۵۰ روپے تک سالانہ ہاؤس ٹیکس گرام پنچایت میں جمع کرنا پڑتا ہے۔ ’’یہ گھر پٹی، بجلی کا بل... ہم یہ سب پابندی سے جمع کر رہے ہیں۔ کیا ہم ابھی بھی دوسرا گھر پانے لائق نہیں ہیں؟‘‘

تقریباً ۱۳۲۵ لوگوں کی آبادی والے چراڈپاڑہ گاؤں نے اپریل ۲۰۱۷ کی گرام سبھا تجویز میں مہامارگ کی مخالفت کی تھی۔ لیکن اُس سال، مہاراشٹر کے گورنر نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضروری پروجیکٹوں کے لیے تحویل اراضی کے لیے گرام سبھا کی تجویز کی ضرورت نہیں ہے۔

کسانوں اور کارکنوں نے اس قدم کی بڑے پیمانے پر مذمت کی ہے۔ ’’تھانے ضلع کے ۴۱ گاؤوں کی گرام سبھاؤں نے اس پروجیکٹ کی مخالفت کی تھی۔ سرکار نے تحویل اراضی قانون میں ترمیم کی اور گرام سبھا کی منظوری کی لازمیت کو ہٹا دیا، جو کسانوں اور آدیواسیوں کے حقوق کے خلاف ہے،‘‘ ببن ہرنے کہتے ہیں، جو تھانے واقع کارکن اور سمردھی مہامارگ شیتکری سنگھرش سمیتی کے معاون ہیں۔ ’’ریاست نے بازآبادکاری کے عمل کو ختم کر دیا ہے اور ’پیسے لو اور یہاں سے جاؤ‘ والی پالیسی اختیار کیے ہوئی ہے۔‘‘

A family with their children in their house
PHOTO • Jyoti Shinoli
A man showing his house tax receipt
PHOTO • Jyoti Shinoli

وِٹھّل واگھے اپنی فیملی کے ساتھ، ان کے ہاتھوں میں ہاؤس ٹیکس کی رسید (دائیں) ہے جس سے انھیں اور دیگر کو بے دخلی کے وقت مدد ملنے کی امید ہے

ای آئی اے کی رپورٹ کہتی ہے کہ چراڈپاڑہ گاؤں میں ۱۴ ہیکٹیئر زمین کو قومی شاہراہ کے لیے تحویل میں لیا جانا ہے۔ بدلے میں، زمین مالکوں کو فی ہیکٹیئر (۱ ہیکٹیئر، یعنی ۲ اعشاریہ ۴۷ ایکڑ) ۱ اعشاریہ ۹۸ کروڑ روپے دیے جائیں گے۔ ایم ایس آر ڈی سی کی ریوتی گایکر کے مطابق، معاوضہ کا یہ فارمولہ بازار کی قیمت سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ لیکن جو کسان اپنی زمین دینے سے منع کر رہے ہیں، انھیں زرعی زمین کا ۲۵ فیصد کم معاوضہ ملے گا، وہ آگے کہتی ہیں۔

’’سرکار نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسانوں کو اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور نہیں کریں گے۔ لیکن کچھ معاملوں میں انھوں نے مخالفت کرنے والوں کو کم معاوضہ دینے کی دھمکی دی ہے، اور کچھ ایسی مثالیں بھی ہیں جہاں انھیں زیادہ پیسے کی لالچ دی جا رہی ہے،‘‘ کپل ڈھمنے کہتے ہیں، جو اپنا دو ایکڑ کھیت اور دو منزلہ گھر کھو دیں گے۔ ’’میرے معاملے میں، تحویل اراضی کے افسر نے کہا کہ پہلے اپنا کھیت دے دو، تبھی آپ کو اپنے گھر کے پیسے ملیں گے۔ لیکن میں نے اپنی زمین دینے سے انکار کر دیا اور اب وہ اسے طاقت کے دَم پر [یعنی، رضامندی کے بغیر] تحویل میں لے رہے ہیں۔‘‘ کلکٹر آفس کے دو سال تک چکر لگانے اور مختلف درخواستوں کے بعد، جنوری ۲۰۱۹ میں، ڈھمنے کو کسی طرح ان کے گھر کے معاوضہ کے طور پر ۹۰ لاکھ روپے ملے۔ انھیں نہیں معلوم کہ کھیت کا کتنا معاوضہ ملے گا۔

چراڈپاڑہ کے ایک اور کسان، ہری بھاؤ ڈھمنے، جنہوں نے کلکٹر آفس میں اعتراض درج کرایا اور اپنا کھیت دینے سے منع کر دیا تھا، کہتے ہیں، ’’ہمارے ۷/۱۲ [سات/بارہ دستاویز محکمہ مالیات کے زمین رجسٹر سے ماخوذ ہے] پر ۱۰ سے زیادہ نام ہیں۔ لیکن تحویل افسر نے دو تین ممبران کی ہی رضامندی لی اور [ایم ایس آر ڈی سی کی] سیل ڈیڈ (فروخت کا معاہدہ) کو پورا کر دیا۔ یہ کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔‘‘

A man in a boat, catching fishes
PHOTO • Jyoti Shinoli
Lady
PHOTO • Jyoti Shinoli

انکش اور ہیرابائی واگھے: ’مچھلیاں کیسے بچیں گی؟ ندی ہماری ماں ہے۔ اس نے ہمیں کھلایا ہے‘

اس درمیان، چراڈپاڑہ کی ماہی گیروں کی بستی کے ۴۵ سالہ انکُش واگھے، مچھلی پکڑنے کے لیے اپنی کشتی تیار کرنے، اپنی جھونپڑی کے پاس ڈھلان والے راستے سے ندی کی طرف جا رہے ہیں۔ ’’میرے والد بھی اسی راستے سے ندی کی طرف جایا کرتے تھے۔ سڑک [شاہراہ] کی تعمیر ہوتے ہی یہ بند ہو جائے گا۔ اور وہ سبھی سیمنٹ، مشینیں ہماری ندی کو آلودہ کریں گی۔ اس سے شور پیدا ہوگا۔ مچھلیاں کیسے بچیں گی؟ ندی ہماری ماں ہے۔ اس نے ہمیں کھلایا ہے۔‘‘

انکش کی تشویش ماحولیاتی اثر کے تجزیہ کی رپورٹ میں بھی جھلکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پل کی تعمیر کے لیے ضرورت ہے ’’پانی کے اندر بنیاد ڈالنے کے کام کی جس میں کھدائی، ڈریلنگ اور پائلنگ کے کام شامل ہیں... پل کی بنیاد ڈالتے وقت کچھ مقدار میں ملبے نکل سکتے ہیں... [جس کے سبب] میلاپن میں عارضی اضافہ ہوگا اور اس سے پانی آلودہ ہوگا... تلچھٹ اور گاد سے بھاٹسا جھیل، جو مجوزہ پروجیکٹ کے جنوب مشرق میں واقع ہے، بھی کافی حد تک متاثر ہوگی۔‘‘

’’ہم کیا کریں گے؟‘‘ انکُش کی بیوی، ہیرا بائی تشویش ظاہر کرتی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا، ۲۷ سالہ وِٹھّل بھی شاہراہ کی وجہ سے اپنی جھونپڑی کھو دے گا – جو چار میں سے ایک ہے۔ وہ تقریباً ۶-۷ کلومیٹر دور، ساوڈ گاؤں کے پاس ایک پتھر کے کان میں کام کرتا ہے، اور پتھر توڑنے اور انھیں ٹرکوں پر لادنے کے ۱۰۰ روپے یومیہ پاتا ہے۔ ’’ہم سبھی بھیونڈی کے پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ گئے تھے [نومبر ۲۰۱۸ میں]،‘‘ وِٹھّل بتاتے ہیں۔ ’’انھوں نے پوچھا کہ کیا ہمیں خالی کرنے کا نوٹس ملا ہے [جو انھیں ابھی تک نہیں ملا ہے]۔ ہمارے درمیان کوئی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہے۔ ہم کچھ نہیں جانتے۔ ہمیں متبادل زمین ملنی چاہیے۔ اگر کل کو وہ ہمیں یہاں سے جانے کے لیے کہتے ہیں، تو ہم کہاں جائیں گے؟‘‘

ندی کی تباہی، سماجوں کی بے دخلی، بازآبادکاری – یہ اور دیگر تشویشوں کو دسمبر ۲۰۱۷ میں، مہاراشٹر آلودگی کنٹرول بورڈ کے ذریعے تھانے ضلع کے واشلا کھ گاؤں میں منعقد ایک عوامی شنوائی میں اٹھایا گیا تھا۔ لیکن تشویشوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔

شام ۴ بجے، دھروپد کا بیٹا تِلاپیا مچھلی سے بھری پلاسٹک کی ٹوکری کے ساتھ گھر لوٹتا ہے۔ دھروپد پڈگہا بازار جانے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ ’’میری زندگی مچھلی بیچنے میں ہی گزری ہے۔ وہ ہمارے منھ سے اسے بھی کیوں چھین رہے ہیں؟ پہلے تو اس غبار آلودہ راستے کی مرمت کیجئے۔ ہمیں بازار تک ایک لمبا راستہ طے کرنا پڑتا ہے،‘‘ ٹوکری میں پھڑپھڑاتی مچھلی پر پانی چھڑکتے ہوئے، وہ کہتی ہیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی ممبئی میں مقیم ایک صحافی اور پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی کانٹینٹ کوآر ڈی نیٹر ہیں؛ وہ اس سے پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ جیسے نیوز چینلوں کے لیے کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli