جاٹ ایوب امین، اپنی برادری کے دوسرے لوگوں کی طرح ہی، کہتے ہیں کہ وہ ایک مطمئن شخص ہیں۔ ’’ہم پیتے نہیں ہیں اور دوسروں کی جائیداد کو دیکھ کر ہمیں حسد نہیں ہوتی؛ ہم اپنے دل کی بات سنتے ہیں، ہم خود اپنی موسیقی پر چلتے ہیں۔‘‘

میں جاٹ ایوب جیسے مالدھری سے تقریباً دو سال قبل بھُج کے باہر ایک دھول بھری سڑک پر ملا تھا۔ مالدھری کَچھّ کے خانہ بدوش گلّہ بان ہیں، گجراتی میں ’مال‘ کا مطلب ہے مویشی (اس لفظ کا مطلب ہے ’میٹریل‘) اور ’دھری‘ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ان مویشیوں کو رکھتے ہیں۔ ان کے ریوڑ میں اونٹ، بھیڑ، بکریاں، بھینس اور گائیں شامل ہیں۔

مالدھری برادریوں کے کئی لوگ گرمی شروع ہونے سے ٹھیک پہلے، سبز چراگاہوں کی تلاش میں، مارچ۔ اپریل میں ہجرت کرتے ہیں۔ وہ جولائی۔ اگست میں اپنے گھروں کو تب لوٹتے ہیں، جب مانسون شروع ہوتا ہے۔ جن مویشیوں کو وہ رکھتے ہیں، ان کے حساب سے ان کی ہجرت کرنے کی تاریخیں بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ سارے اس لیے زندہ ہیں، کیوں کہ یہ چلتے رہتے ہیں۔

کَچھّ کی مالدھری برادریوں میں سب سے بڑی برادریاں جاٹوں، رابڑیوں اور سمّاؤں کی ہیں۔ یہ ہندو (رابڑی) یا مسلم (جاٹ اور سمّا) ہو سکتے ہیں، لیکن ان تمام برادریوں میں خانہ بدوشی کی زندگی ہی ان کے آپس میں رشتے کی مشترک چیز ہے۔

میرے لیے، امتیازی مالدھری کی تصویریں کھینچنا ایک چیلنج رہا ہے۔ بلندیوں پر رہنے والے گلّہ بانوں کے برعکس جن کا کمیونٹی اسٹرکچر سادہ ہوتا ہے، کَچھّ میں یہ ڈھانچے پیچیدہ ہیں اور انھیں ڈھونڈنے میں وقت لگتا ہے۔ مثال کے طور پر جاٹوں میں چار برادریاں ہیں: فقیرانی جاٹ، حاجیانی جاٹ، دنیتا جاٹ اور گارسیا جاٹ۔ ان میں سے چند کافی عرصے پہلے سیٹل ہو چکے ہیں اور اپنے پاس بھینس اور گائے رکھتے ہیں۔ صرف فقیرانی ہی اونٹ پالتے ہیں، یہ خانہ بدوش ہیں، اور سال بھر حرکت میں رہتے ہیں، عام طور سے اپنے تعلقہ کے اندر۔

’’جو لوگ صوفی ساولا پیر کے پیروکار ہیں، وہ فقیرانی جاٹ کہلاتے ہیں،‘‘ آغا خان ساولانی بتاتے ہیں، جو ایک بزرگ روحانی استاد ہیں اور نہایت محترم فقیرانی جاٹ ہیں۔ ساولانی نے مجھے بتایا کہ ۱۶۰۰ عیسویں میں، ساولا پیر نے دیوی داس رابڑی کو ایک اونٹ تحفہ میں دیا، اور اس طرح رابڑیوں نے کھرائی اونٹوں کو رکھنا شروع کردیا، جن کی وہ آج بھی قدر کرتے ہیں۔

فقیرانی جاٹ قدامت پرست ہیں اور کیمرے کو پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ وہ مہمانوں کا استقبال اونٹ کے دودھ سے بنی ہوئی چائے سے کرتے ہیں، لیکن انھیں تصویریں کھنچوانا کسی بھی طرح پسند نہیں۔ ان کی جن فیملیوں سے میں نے بات کی، سب نے اپنی روزمرہ کی زندگی کو فلمانے کے میرے خیال کو مسترد کردیا۔

تب میں جاٹ ایوب امین سے ملا، جو کَچھّ کے بھاچَو تعلقہ کے فقیرانی جاٹ ہیں، یہ ایک عام اور معمولی انسان ہیں۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ چلتے ہیں، جس میں ان کی بیوی خاتون اور ان کی بہن حسینہ شامل ہیں، اور اونٹوں کا ایک قافلہ ہے۔ سال ۲۰۱۶ کے شروع میں، انھوں نے مجھے کیمرے کے ساتھ اپنی زندگی میں داخل ہونے کی اجازت دی۔

حالانکہ یہاں کی جاٹ برادریاں بنیادی طور پر کَچھی بولی بولتی ہیں، لیکن ۵۵ سالہ امین فراٹے سے ہندی بولتے ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہندی بولنا ریڈیو سن کر سیکھا ہے۔ دوسرے فقیرانی جاٹوں کے برعکس امین اور ان کی فیملی پخاس (گھاس، جوٹ، رسی اور لکڑی سے بنے عارضی گھر) میں رہتی ہے۔ وہ کھلے آسمان کے نیچے سوتے ہیں۔

فقیرانی جاٹ عام طور سے دو نسلوں کے اونٹ رکھتے ہیں، کھرائی اور کچھائی، لیکن ایوب کے پاس صرف کھرائی اونٹ ہیں۔ اور چونکہ ان مویشیوں کے چارے میں پتے اور گھاس وغیرہ شامل ہیں، اسی لیے ان کو مسلسل چراگاہوں کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ تاہم، جنگلات کی کٹائی اور صنعت کاری کی وجہ سے، خاص کر ابداس، لکھپت اور مندرا جیسے ساحلی علاقوں میں باغات ختم ہو چکے ہیں، حالانکہ ۱۹۸۲ میں محکمہ جنگلات نے ان ساحلی علاقوں کو محفوظ علاقے ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ ایوب گنڈو باوَر نام کے پودے کے تیزی سے پھیلنے کے بارے میں بھی بتاتے ہیں، یہ پودا جانوروں کے لیے بہترین چارے والے پودوں اور گھاسوں کو بڑھنے نہیں دیتا۔

لیکن ان تمام پریشانیوں کے باوجود، ایوب امین، اپنی کمیونٹی کے بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح ہی کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں: ’’دن کے اختتام پر ہمیں روٹی اور اونٹ کا دودھ مل جاتا ہے، جسے کھانے کے بعد ہم سونے چلے جاتے ہیں۔‘‘


02-DSC_0760-RM-We walk to our own rhythm.jpg

چری۔ دھنڈ ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزرو کے قریب رواں دواں ایک فقیرانی جاٹ فیملی۔ یہ کنبے، دیگر مالدھری کے برعکس جو موسم کے حساب سے ہجرت کرتے ہیں، سال بھر مسلسل سفر پر رہتے ہیں، عام طور سے کَچھّ کے ہی اندر


03-DSC_3953-RM-We walk to our own rhythm.jpg

کھاڑی روہڑ میں جاٹ ایوب امین، نو مولود کھرائی اونٹ کو پیار کرتے ہوئے۔ ایوب کا تعلق کَچھّ کے بھاچَو تعلقہ سے ہے، اور اس سال تقریباً ۱۰۰ سے ۱۱۰ اونٹ ہیں


04-DSC_0637-RM-We walk to our own rhythm.jpg

جاٹ امین خاتون بھاچَو تعلقہ کے چیرائی موتی گاؤں میں چرتے ہوئے کھرائی اونٹوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں


05-DSC_4092X-RM-We walk to our own rhythm.jpg

جاٹ حسینہ کھرائی اونٹوں کے ساتھ پانی کی تلاش میں چل رہی ہیں۔ ہر سال گرمیوں کے موسم میں چارہ اور پانی کی اتنی قلت ہو جاتی ہے کہ یہ فیملی ہر دوسرے دن اپنی جگہ بدل لیتی ہے


06-DSC_0690-RM-We walk to our own rhythm.jpg

آغا خان ساولانی غروبِ آفتاب سے قبل نماز کی تیاری کر رہے ہیں۔ ساولانی ایک روحانی استاد ہیں اور فقیرانی جاٹ برادری کے محترم بزرگ ہیں۔ وہ لکھپت تعلقہ کے پیپر گاؤں میں رہتے ہیں


07-DSC_1142-RM-We walk to our own rhythm.jpg

اونٹوں کے بال سال میں ایک بار یا دو بار اتارے جاتے ہیں، گرمیوں سے پہلے۔ گلّہ بان ان کے بالوں کو اتارنے کے لیے خود ہی قینچیوں کا استعمال کرتے ہیں


08-DSC_0856-2-RM-We walk to our own rhythm.jpg

اونٹ کا دودھ روٹلو کے ساتھ (گیہوں اور باجرے سے ملاکر بنی ہوئی روٹی) اور چائے عام طور سے فقیرانی جاٹ فیملی کا کھانا ہے۔ پوری طرح جوان ایک اونٹنی ایک دن میں ۱۰ سے ۱۲ لیٹر دودھ دے سکتی ہے


09-DSC_0962-RM-We walk to our own rhythm.jpg

ایک اونٹ بَنّی گراس لینڈ کے دیہی میلہ میں ’بیوٹی‘ مقابلہ کے لیے تیار ہوتے ہوئے۔ اونٹوں کو سجانے کے لیے جاٹ مہندی اور ان دیگر رنگوں کا استعمال کرتے ہیں، جس سے ان مویشیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے


10-DSC_4183-RM-We walk to our own rhythm.jpg

ہند۔ پاک سرحد کے قریب، کَچھّ کے موہادی گاؤں کے ایک کنویں سے پانی پیتے ہوئے کھرائی اونٹ


11-DSC_4130-RM-We walk to our own rhythm.jpg

جاٹ ایوب امین ایک حاملہ کھرائی اونٹنی کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، جو چرتے وقت گر گئی تھی۔ گھنے جنگلوں کے کچھ حصوں میں زمین اتنی نرم ہوتی ہے کہ اگر اونٹ نیچے گر جائے، تو وہ خود سے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اگر دو گھنٹے تک وہ یونہی پڑا رہے، تو اسے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ (اس موقع پر، ہم تینوں نے اس اونٹی کو ۴۵ منٹوں کے اندر کھڑا کردیا)


12-DSC_1101-RM-We walk to our own rhythm.jpg

فقیرانی جاٹ بچے بھی اپنے والدین کے ساتھ چلتے رہتے ہیں اور کم عمری سے ہی اونٹوں کو چرانے کا ہنر سیکھنے لگتے ہیں


13-DSC_0094-RM-We walk to our own rhythm.jpg

ایک فقیرانی جاٹ بچہ اپنے گلّہ کے ساتھ چلتا ہوا، جب کہ ریتیلا طوفان گرمی کے موسم میں جمع ہو رہا ہے



ویڈیو دیکھیں: جاٹ ایوب امین: ’میں ہر جگہ جا چکا ہوں ۔۔۔‘


بھُج میں واقع ٹرسٹ اور غیر سرکاری تنظیم، سہجیون کے ہر فرد کا بے حد شکریہ۔ یہ تنظیم مالدھری کے ساتھ کام کرتی ہے۔ میرے تخلیقی کولیبوریٹر اور دوست، ہاردِک دیالنی کا بھی شکریہ، جنہوں نے میرا تعارف کَچھّ کے خانہ بدوش کلچر سے کروایا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Ritayan Mukherjee

رِتائن مکھرجی کولکاتا میں مقیم ایک پرجوش فوٹوگرافر اور ۲۰۱۶ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ایک لمبے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جو تبتی پٹھار کی خانہ بدوش کمیونٹیز کی زندگی کا احاطہ کرنے پر مبنی ہے۔

Other stories by Ritayan Mukherjee