یہ حواس پر ایک حملہ ہے ۔ گرمی، دھنواں، گڑگڑاتا انجن۔ لیکن کنواں کھودنے والوں، پانچ مرد اور تین عورتیں ۔ کو اس سے کوئی فرق پڑتا محسوس نہیں ہوتا۔ وہ کیچڑ اور پتھر نکالتے ہیں، وہ بھی ۴۰ ڈگری سیلسیس کی گرمی میں، کیوں کہ تمل ناڈو کے شیوا گنگئی ضلع کے ایام پٹی گاؤں میں ان کے کھیتوں کو پانی کی ضرورت ہے۔

’’تقریباً ۲۵ ۔ ۲۰ سال قبل، ہمیں یہاں کنویں کا پانی ۱۵ ۔ ۱۰ فٹ نیچے مل جاتا تھا،‘‘ تھنگاویل بتاتے ہیں، جنہیں کنواں کھودنے کا یہ ٹھیکہ ملا ہوا ہے۔ ان سے پہلے، ان کے والد ہاتھ سے کنواں کھودنے کا کام کرتے تھے اور ان کی ماں، سیرنگائی، کیچڑ مٹی کو اپنے سر پر لاد کر باہر نکالتی تھیں اور اس طرح اس کام میں ان کی مدد کیا کرتی تھیں۔

شیوا گنگئی، چیٹی ناد کا ایک حصہ ہے، جو اپنی کھانوں اور آرکی ٹیکچر کے لیے مشہور ہے۔ یہاں، پانی کا مسئلہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ تمل ناڈو کے ’کم بارش والے‘ علاقہ میں ہونے کی وجہ سے، یہاں بارش کبھی کبھار ہی ہوتی ہے اور گزشتہ چند برسوں سے بہت کم ہو رہی ہے۔ ہمارے آس پاس کے کھجور کے درخت خشک ہو رہے ہیں؛ دھان کے کھیت مرجھا گئے ہیں، تالاب سوکھے پڑے ہوئے ہیں۔ کھیتی کے لیے ہزار فٹ گہرے کنویں سے پانی نکالنا پڑتا ہے؛ یہ کنویں دن بہ دن گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک بنیان اور کیچڑ آلود تولیہ لپیٹے ہوئے تھنگاویل (ایک زنگ آلود لوہے کی ٹوکری سے گڈھے کے باہر کھڑے ہوتے ہوئے) اپنی ماں کے پاس بیٹھتے ہیں، ریت کے ٹیلے پر، اور بتاتے ہیں کہ کنواں کھودنا کتنا مشکل ہے۔ لیکن وہ بد دعا نہیں دیتے؛ نہ ہی وہاں کام کرنے والی دیگر تین عورتیں۔ ایک ان کی ماں سیرنگائی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان کی عمر کیا ہے، وہ خود تو بالکل بھی نہیں جانتیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کی عمر ۸۰ کے آس پاس ضرور ہوگی۔ ان کا چہرہ سورج سے جھلسا ہوا ہے، کندھے نرم و نازک ہیں، اور وہ کنڈانگی اسٹائل میں ساڑی پہنے ہوئی ہیں۔ لیکن یہ ان کی آنکھ ہے، جو مسحور کن ہے۔ ان میں تجسس اور بے خوفی ہے، خاص کر تب، جب وہ ۴۰ فٹ کے گڈھے میں کھڑی ہوتی ہیں، گرمی کی دوپہری میں، جس وقت سایہ انھیں اپنے اندر سمو لیتا ہے۔

عورتوں کا کام کرین کو چلانا ہے، جو کھودی گئی مٹی کو لوہے کی ٹوکری میں اٹھاتا ہے۔ دو عورتیں کرین کو ایک طرف دھکیلتی ہیں، اور تیسری ٹوکری سے مٹی کو خالی کرتی ہے، جہاں کیچڑ کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ ظاہر ہے، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، لیکن یہ عورتیں اس کام سے خوش ہیں، کیوں کہ چلچلاتی دھوپ میں آٹھ گھنٹوں تک کام کرنے کے بعد انھیں ۱۵۰ روپے مل جاتے ہیں۔

مرد، عورتوں کو تھوڑی بہت رعایت دے دیتے ہیں۔ پانچ کنویں کے اندر ہیں، یہ ۲۵ فٹ گہرا، اور انھیں اسے ۱۵ فٹ مزید گہرا کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے، اور یہ سبھی مرد کام کے وقت سخت محنت کرتے ہیں۔ وہ بغیر کسی مشینری کے کیچڑ کے درمیان پڑے بڑے پتھروں کو باہر نکالتے ہیں، اس کے بعد انھیں لوہے کی زنجیر سے باندھتے ہیں اور پھر چیخ کر کرین چلانے والے سے کہتے ہیں کہ وہ اسے اٹھا لے۔ وہ اسے اوپر اٹھتے ہوئے دیکھتے ہیں، بغیر ٹوپی والے اپنے سر کو اوپر سورج کی طرف اٹھاتے ہوئے، اور پھر اپنے سروں کو نیچے جھکا کر دوبارہ کھودنے کے کام میں لگ جاتے ہیں۔

یہ کام سال میں کم از کم ۲۵۰ دنوں تک چلتا رہتا ہے۔ بارش ان کے کام کو روک دیتی ہے۔ لیکن وہ دوسرے کام کو کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ’’ہمیں صرف کنواں کھودنا آتا ہے،‘‘ تھنگاویل کہتے ہیں، اس شام کو اپنے گھر سے باہر بیٹھے ہوئے۔ انھیں ابھی ابھی غسل کرکے نیلے چیک والی شرٹ پہنی ہے۔ سیرنگائی ان کے صبح میں پہنے گئے کپڑوں کو دھونے کی جگہ پر رکھ رہی ہیں، انھیں ابھی کھانا پکانا ہے اور صفائی کرنی ہے۔ پانی کا سورس تھوڑی دوری پر ہے۔ گھر میں صرف رہنے اور سونے کی جگہ ہے؛ کوئی ٹوائلیٹ نہیں ہے۔ کھانا کھلے میں پکایا جاتا ہے، مٹی کے چولہے پر، جنگل سے اکٹھا کی گئی لکڑیاں جلا کر۔

دو دیگر عورتیں جو ان کی ٹیم میں کام کر رہی ہیں، پیچی یما اور ولّی، پاس ہی رہتی ہیں۔ دونوں سورج طلوع ہونے سے قبل سوکر اٹھ جاتی ہیں، اپنی فیملی کے لیے کھانا پکاتی ہیں، اور ۶ بجے تک کام کرنے کے مقام کی طرف روانہ ہو جاتی ہیں؛ کام صبح ۷ بجے سے شروع ہوتا ہے۔ ان دونوں میں سے ہر ایک عورت کے دو دو بیٹے ہیں۔ ولّی کے بیٹے اسکول گئے ہوئے ہیں۔ پیچی یما کی بھی خواہش ہے کہ ان کے بیٹے بھی اسکول جاتے؛ چونکہ وہ پڑھے لکھے ہوئے نہیں ہیں، اس لیے کھیتی کا یا مکان بنانے کا کام کرتے ہیں۔

تھنگاویل بھی پڑھے لکھے ہوئے نہیں ہیں۔ وہ پہلی کلاس تک اسکول گئے، اور پھر کام کرنے لگے، کیوں کہ ان کی فیملی غریب تھی۔ ان کے بچے (ایک بیٹی اور دو بیٹے) کرور میں واقع ان کے ہوم ٹاؤن کے اسکول میں ہیں، کیوں کہ ان کے بیٹے بہرے اور گونگے ہیں۔ حال ہی میں ان کے کام میں سننے کا آلہ لگا ہے، لہٰذا انھیں امید ہے کہ جلد ہی وہ بات کرنے لگیں گے۔

کام تھنگاویل کو اپنی فیملی سے دور رکھتا ہے؛ ایام پٹی میں ان کے پاس میشن ہے اور اپنے ٹھیکے ہیں۔ مشین تھوڑی پرانی ہے، لیکن کارگر ہے۔ وہ کنواں جسے کھودنے میں ان کے والد کو کم از کم چھ مہینے لگ جاتے ہیں، تھنگاویل کو اسے کھودنے میں صرف دو مہینے لگتے ہیں۔ مشین کی قیمت ایک لاکھ ہے اور ان کی سہولت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ یہ ان کا واحد اثاثہ ہے؛ ان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے، نہ ہی کوئی گھر ہے۔ انھوں نے اس مشین کو خریدنے کے لیے جو قرض لیا تھا، اس کا پیسہ وہ اب بھی چکا رہے ہیں۔ اس میں ایک گریز کی ہوئی چرخی ہے جو ادھر ادھر گھومتی رہتی ہے، اور رسی کو کھینچ کر کنویں کے اندر لے جاتی ہے؛ اس کا ایک انجن ہے جو کالے دھواں پھینکتا ہے اور کرین میں بجلی پہنچاتا ہے۔ لیکن اس نے ان کی زندگی کو تھوڑا آسان بنا دیا ہے، اسی لیے وہ جہاں بھی جاتے ہیں اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، اس کے پرزوں کو الگ کرکے، ٹریکٹر پر لاد دیا جاتا ہے اور پھر مقام پر پہنچ کر اسے دوبارہ جوڑ لیا جاتا ہے۔


02_AK_Not a drop to drink_IMG_8638.jpg

تھنگاویل اب بھی وہ قرض چکا رہے ہیں، جو انھوں نے کرین خریدنے کے لیے لیا تھا۔ یہ ان کا واحد اثاثہ ہے، ان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے اور نہ ہی کوئی گھر ہے۔ لیکن اس مشین نے ان کی فیملی کی زندگی کو تھوڑا آسان بنا دیا ہے


’’ہر ایک مربع فٹ کے لیے ہمیں ۲۵ روپے ملتے ہیں، اور ان میں سے ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسے پیسہ ادا کیا جائے۔ بعض دفعہ ہم پیسے کماتے ہیں۔ بعض دفعہ ہمیں کچھ نہیں ملتا،‘‘ تھنگاویل کہتے ہیں۔ پہلے ۱۰ فٹ کی کھدائی مشین سے ہوتی ہے؛ اس کے بعد جسمانی محنت کرنی پڑتی ہے۔ بعد میں مستری ان کے اوپر کنکریٹ کا گھیرا یا بلاک بنا دیتا ہے۔ اس کنویں سے دن میں دو سے تین گھنٹے تک پانی نکالا جا سکتا ہے۔ کام کے خطروں کے بارے میں پوچھنے پر وہ بتاتے ہیں کہ کھدائی کرتے وقت بھاری بوجھ ان کے سروں پر گر سکتا ہے یا پھر دیواریں گر سکتی ہیں۔ باوجود اس کے ان جگہوں پر بچے بھی کام کرتے ہیں۔ نوجوان لڑکے برگد کی جڑ پکڑ کر کنویں میں کود جاتے ہیں۔ اخیر میں وہ کتوں کو ہانکتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں۔ ’’یہ ان کا کتا ہے،‘‘ تھنگاویل کہتے ہیں، لوہے کی بالٹی کو لے کر کنویں کے اندر جاتے ہوئے۔ سطح پر پہنچنے پر، وہ لوہے کی ایک سلاخ اٹھاتے ہیں اور اس سے پتھر توڑتے ہیں اور اسے اٹھانے کے لیے پھاوڑا استعمال کرتے ہیں۔ وہاں گرد آلود پانی موجود ہے۔ اور پینے کے پانی کی ایک بوتل۔

بدقسمتی سے، ان کے گھروں کے قریب لگے نلوں میں زیادہ پانی نہیں آتا ہے؛ اس لیے ایک آدمی کو دوسری جگہ سے نیلے رنگ کی پانی کی بوتل لانی پڑتی ہے۔ وہ جیسے ہی پہنچتا ہے، کنویں کے اندر موجود آدمی اوپر آتے ہیں۔ وہ اپنا اسٹیل کا گلاس ساتھ لاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی بوتل بھر لیتے ہیں۔

’’اگر تم سارا پانی لے لوگے، تو ہم کیا کریں گے؟‘‘ سیرنگائی چلاتی ہیں۔

’’اور ہم کیا کریں گے؟‘‘ دوسرا آدمی واپس چیختا ہے۔ ’’۴۰ فٹ زمین کے اندر؟‘‘

آخر کار، انھیں ایک کنواں کھودنا ہے۔ پانی کے لیے۔

 

یہ مضمون  سب سے پہلے دی ہندو میں ۲۵ اکتوبر، ۲۰۱۴ کو شائع ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Aparna Karthikeyan
[email protected]

اپرنا کارتی کیئن ایک آزاد ملٹی میڈیا صحافی ہیں۔ وہ تمل ناڈو کے دیہی علاقوں سے ختم ہوتے ذریعہ معاش کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں اور پیپلز آرکائیوز آف رورل انڈیا کے ساتھ بطور رضاکار کام کر رہی ہیں۔

Other stories by Aparna Karthikeyan