ایک تیسری نسل کا کمہار، بدھا دیب کمبھکر، جو مغربی بنگال کے بانکورہ ضلع کے پنچ مورہ گاؤں کے رہنے والے ہیں، اپنے کام اور زندگی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ یہاں کے کمہار (مٹی کا برتن اور کھلونے بنانے والے) سرخ رنگ کے مٹی کے گھوڑے بنانے کے لیے مشہور ہیں۔

یہ فلم آپ کو بدھا دیب کی روزمرہ زندگی اور محنت بھرے کام کے بارے میں بتائے گی، گیلی مٹی کے ڈھیر سے کھرچنے سے لے کر، اسے اپنے پیروں سے ملانے تک، مٹی کے پیڑے سے گھوڑے کے اعضاء بنانے تک اور پھر، پورے ہنر کے ساتھ ان تمام اعضاء کو آپس میں ملا کر ایک گھوڑا بنانے تک۔ اس کے بعد وہ اس گھوڑے کو بھٹی میں پکاتے ہیں، جب تک کہ وہ سرخ نہ ہو جائے۔

اس کے بعد ان گھوڑوں کو ایجنٹوں کو بیچ دیا جاتا ہے جو کوڑیوں کے دام انھیں خریدتے ہیں اور پھر کولکاتا، بانکورہ، بشن پور، دُرگاپور، اور یہاں تک کہ دہلی کے بڑے بازاروں میں بیچ کر اونچا پیسہ کماتے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس، بدھا دیب کو مہینہ کے اخیر میں صرف تین ہزار روپے ملتے ہیں۔

مضمون نگار: کویتا کارنیرو

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here: