03-1003-PS-Foot Soldiers of Freedom-Panimara 1.jpg

01-1002-PS-Foot Soldiers of Freedom-Panimara 1.jpg

بائیں سے دائیں بیٹھے ہوئے: دیانِدھی نائک، ۸۱، چمارو پریدا، ۹۱، جتیندر پردھان، ۸۱، اور (پیچھے) مدن بھوئی، ۸۰، پنی مارہ گاؤں کے سات مجاہدینِ آزادی میں سے چار اب بھی باحیات ہیں


’’یہ تمام عرضیاں واپس لو اور انھیں پھاڑ کر پھینک دو،‘‘ چمارو نے کہا۔ ’’یہ صحیح نہیں ہیں۔ یہ عدالت انھیں منظور نہیں کرے گی۔‘‘

انھوں نے مجسٹریٹ بننے کا مزہ لینا شروع کر دیا تھا۔

یہ اگست ۱۹۴۲ کی بات ہے، جب پورا ملک جوش سے بھرا ہوا تھا۔ سمبل پور کورٹ میں یہ جوش پوری طرح محسوس کیا جا سکتا تھا۔ چمارو پریدا اور ان کے ساتھیوں نے ابھی ابھی اس عدالت پر قبضہ کیا تھا۔ چمارو نے خود کو جج ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ جتیندر پردھان ان کے ’’اَردَلی‘‘ تھے۔ پورن چندر پردھان نے ’پیش کار‘ یا عدالتی کلرک بننا پسند کیا تھا۔

اس عدالت پر قبضہ، بھارت چھوڑو تحریک میں ان کا ایک تعاون تھا۔

’’یہ عرضیاں راج (برطانوی حکومت) کے نام سے ہیں،‘‘ چمارو نے عدالت میں موجود حیرت زدہ مجمع سے کہا۔ ہم آزاد ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ ان معاملوں پر غور کیا جائے، تو انھیں واپس لو۔ اپنی عرضیاں پھر سے تیار کرو۔ انھیں مہاتما گاندھی کے نام مخاطب کرو، تب ہم اس پر غور کریں گے۔‘‘

آج تقریباً ساٹھ سال کے بعد، چمارو یہ کہانی اسی شادمانی کے ساتھ سناتے ہیں۔ وہ اب ۹۱ سال کے ہو چکے ہیں۔ ۸۱ سالہ جتیندر ان کے بغل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ پورن چندر، اب اِس دنیا میں نہیں رہے۔ یہ لوگ اب بھی اڈیشہ کے بارگڑھ ضلع کے پنی مارہ گاؤں میں ہی رہتے ہیں۔ جنگِ آزادی جس وقت پورے جوش و خروش کے ساتھ لڑی جا رہی تھی، تب اس گاؤں نے حیران کن طور پر اپنے بہت سے بیٹوں اور بیٹوں کو لڑائی میں بھیجا تھا۔ موجودہ ریکارڈ کے مطابق، صرف ۱۹۴۲ میں، اس گاؤں سے ۳۲ لوگ جیل گئے تھے۔ ان میں سے سات اب بھی زندہ ہیں، بشمول چمارو اور جتیندر۔

ایک بار تو، یہاں کی تقریباً ہر فیملی نے اپنے یہاں سے ایک ستیہ گرہی کو بھیجا تھا۔ اس گاؤں نے راج کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہاں کے اتحاد کو توڑ پانا مشکل تھا۔ یہاں کے لوگوں کا عزم مثالی بن گیا۔ جو لوگ راج سے لوہا لے رہے تھے، وہ غریب اور اَن پڑھ کسان تھے۔ چھوٹے چھوٹے کسان، جنھیں اپنا چولہا چکّی چلانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی تھی۔ زیادہ تر لوگ ایسے ہی تھے۔

لیکن، بڑی عجیب سی بات ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں ان کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ حالانکہ، ایسا نہیں ہے کہ اڈیشہ میں بھی ان کو بھُلا دیا گیا ہو۔ بارگڑھ میں، یہ اب بھی آزادی والا گاؤں کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔ ان میں سے شاید ہی ایسا کوئی ہو، جسے اس لڑائی سے ذاتی فائدہ ہوا ہو۔ اور یہ بات تو پوری طرح پکّی ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی نہ تو کوئی انعام ملا، نہ ہی کوئی عہدہ یا نوکری۔ پھر بھی انھوں نے خطرہ مول لیا۔ یہ وہ لوگ تھے، جو ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے لڑے۔

یہ آزادی کے سپاہی تھے۔ یہ ننگے پیر چلا کرتے تھے، کیوں کہ ان میں سے کسی کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا کہ وہ جوتے خرید کر پہن سکیں۔

* * *

’’عدالت میں موجود پولس حیران تھی،‘‘ چمارو مزے سے کہتے ہیں۔ ’’انھیں یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ انھوں نے جب ہمیں گرفتار کرنے کی کوشش کی، تو میں نے کہا، ’میں مجسٹریٹ ہوں۔ تمہیں ہمارا حکم ماننا پڑے گا۔ اگر تم لوگ ہندوستانی ہو، تو میری بات مانو۔ اور اگر تم انگریز ہو، تو اپنے ملک واپس چلے جاؤ‘۔‘‘


02-1001-PS-Foot Soldiers of Freedom-Panimara 1.jpg

وہ ستون، جس پر پنی مارہ کے ’سرکاری طور پر ریکارشدہ‘ ۳۲ مجاہدینِ آزادی کے نام درج ہیں


پولس اس کے بعد اصلی مجسٹریٹ کے پاس گئی، جو اُس دن اپنی رہائش گاہ پر موجود تھا۔ ’’مجسٹریٹ نے ہماری گرفتاری کے حکم نامے پر دستخط کرنے سے منع کر دیا، کیوں کہ پولس نے وارنٹس پر نام نہیں لکھے تھے،‘‘ جتیندر پردھان بتاتے ہیں۔ ’’پولس وہاں سے واپس آئی اور اس نے ہمارے نام پوچھے۔ ہم نے انھیں یہ بتانے سے منع کر دیا کہ ہم کون ہیں۔‘‘

پولس کی یہ ہکّا بکّا ٹکڑی سمبل پور کے کلکٹر کے پاس گئی۔ ’’اس نے، ان کے چہرے پر تکان کی لکیر دیکھتے ہوئے، ان سے کہا، ’کچھ لوگوں کے نام لکھ لو۔ ان بندوں کے نام ’اے‘، ’بی‘ اور ’سی‘ لکھ لو اور پھر اسی حساب سے فارم بھر لو‘۔ لہٰذا، پولس نے ویسا ہی کیا، اور اس طرح ہمیں مجرم اے، بی اور سی کے طور پر گرفتار کر لیا گیا،‘‘ چمارو بتاتے ہیں۔

اس طرح، وہ پورا دن پولس کے لیے تھکا دینے والا رہا۔ اس کے بعد چمارو ہنستے ہوئے کہتے ہیں، ’’جیل میں وارڈن نے ہمیں لینے سے منع کر دیا۔ پولس اور اس کے درمیان تکرار ہونے لگی۔ وارڈن نے ان سے پوچھا: ’تم نے مجھے گدھا سمجھ رکھا ہے؟ اگر یہ بندے کل کو بھاگ جاتے ہیں یا غائب ہو جاتے ہیں، تب کیا ہوگا؟ کیا میں رپورٹ میں یہ لکھوں گا کہ اے، بی اور سی بھاگ گئے؟ کوئی بیوقوف ہی ایسا کر سکتا ہے‘۔ وہ اپنی بات پر اَڑا رہا۔‘‘

کئی گھنٹوں تک یونہی بحث و تکرار چلتی رہی، تب کہیں جا کر پولس نے انھیں جیل سیکورٹی کے حوالے کیا۔ ’’اصلی مذاق تو تب بنا، جب ہمیں عدالت میں پیش کیا گیا،‘‘ جتیندر بتاتے ہیں۔ ’’پریشان اَردلی کو آواز لگانی پڑی: اے حاضر ہو! بی حاضر ہو! سی حاضر ہو!‘ اس کے بعد کورٹ نے ہماری سماعت کی۔‘‘

سسٹم کی اس پورے معاملے میں جو سبکی ہوئی تھی، اس کا اس نے خود ہی انتقام لیا۔ ان لوگوں کو چھ ماہ قیدِ ما مشقت کی سزا سنائی گئی اور انھیں مجرموں کی جیل میں بھیج دیا گیا۔ ’’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ ہمیں اس جگہ بھیجتے، جہاں عام طور سے سیاسی قیادیوں کو رکھا جاتا ہے،‘‘ چمارو کہتے ہیں۔ ’’لیکن اس وقت احتجاج اپنے شباب پر تھا۔ بہرحال، پولس ہمیشہ ظالم اور انتقامی رہی۔

’’اُن دنوں مہاندی پر کوئی پُل نہیں تھا۔ وہ ہمیں کشتی میں بیٹھا کر لے جاتے تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ ہم لوگ اپنی مرضی سے گرفتار ہوئے ہیں، اس لیے ہمارا بھاگنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود، انھوں نے ہمارے ہاتھ باندھ دیے، پھر ہم سبھی کو ایک دوسرے سے باندھ دیا۔ اگر کشتی غرقاب ہوتی، اور ایسا حادثہ اکثر ہوا کرتا تھا، تو ہمارے پاس اپنی جان بھی بچانے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ ویسی حالت میں ہم سبھی موت کے شکار ہو جاتے۔

’’پولس نے ہمارے گھر والوں کو بھی پریشان کرنا شروع کر دیا۔ ایک بار تو ایسا ہوا کہ میں جیل میں تھا، اور مجھ پر ۳۰ روپے کا جرمانہ بھی کیا گیا (اس وقت یہ کافی بڑی رقم تھی۔ یہ لوگ اُن دنوں جب دن بھر کام کرتے تھے، تو انھیں صرف دو آنہ کے برابر اناج مزدوری ملا کرتی تھی: پی ایس)۔ وہ لوگ میری ماں کے پاس گئے جرمانہ وصول کرنے۔ ’جرمانہ ادا کرو نہیں تو اسے اور بھی بڑی سزا ملے گی‘،‘‘ انھوں نے وارننگ دی۔

’’میری ماں نے کہا: ’وہ میرا بیٹا نہیں ہے؛ وہ اس گاؤں کا بیٹا ہے۔ وہ مجھ سے زیادہ اس گاؤں کی دیکھ بھال کرتا ہے‘۔ وہ پھر بھی نہیں مانے اور ان پر دباؤ ڈالتے رہے۔ تب انھوں نے کہا: ’اس گاؤں کے سبھی نوجوان لڑکے میرے بیٹے ہیں۔ کیا مجھے جیل میں ڈالے گئے سبھی کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا؟‘ ‘‘

پولس پریشان تھی۔ ’’انھوں نے کہا: ’ٹھیک ہے، ہمیں کوئی ایسی چیز دے دو جسے ہم برآمدگی کے طور پر دکھا سکیں۔ درانتی یا کچھ اور‘۔ انھوں نے جواب دیا: ’ہمارے پاس درانتی نہیں ہے‘۔ اور انھوں نے گوبر پانی جمع کرنا شروع کیا اور ان سے کہا کہ جس جگہ وہ کھڑے ہیں، اسے وہ پاک کرنا چاہتی ہیں۔ برائے مہربانی یہاں سے چلے جائیں؟‘‘ آخرکار وہ وہاں سے چلے گئے۔

* * *

عدالت کے کمرے میں جس وقت یہ مذاق چل رہا تھا، پنی مارہ کے ستیہ گرہیوں کی دوسری ٹکڑی اپنے کام میں مصروف تھی۔ ’’ہمیں سمبل پور بازار پر قبضہ کرنے اور برطانوی سامانوں کو برباد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی،‘‘ دیاندھی نائک بتاتے ہیں۔ وہ چمارو کے بھتیجہ ہیں اور ’’میں نے قیادت کے لیے ان کی طرف دیکھا۔ زچگی کے دوران میری ماں انتقال کر گئی تھیں، جس کے بعد چمارو نے میری پرورش کی۔‘‘

راج کے ساتھ پہلی بار جب دیانِدھی کی مڈبھیڑ ہوئی، تو اس وقت وہ صرف ۱۱ سال کے تھے۔ سال ۱۹۴۲ میں وہ ۲۱ سال کے ہو چکے تھے، اور تب تک انھیں لڑائی کی مہارت حاصل ہو چکی تھی۔ اب ان کی عمر ۸۱ سال کی ہے اور انھیں ہر واقعہ کی تفصیل اچھی طرح یاد ہے۔

’’انگریزوں کے خلاف ملک بھر میں زبردست نفرت کا ماحول تھا۔ راج کے ذریعہ ہمیں ڈرانے کی کوشش نے اس ماحول کو اور گرما دیا۔ انھوں نے اپنی مسلح ٹکڑیوں سے اس گاؤں کو گھیرنے کا حکم دیا، کئی بار، اور فلیگ مارچ نکالنے کو کہا۔ صرف ہمیں ڈرانے کے لیے۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

’’راج کے خلاف نفرت سب میں تھی، بے زمین مزدوروں سے لے کر اسکول ٹیچروں تک میں۔ ٹیچر بھی اس تحریک میں شامل تھے۔ وہ استعفیٰ نہیں دیتے تھے، بلکہ کام کرنا بند کر دیتے تھے۔ اور اس کے لیے ان کے پاس ایک بڑا بہانہ تھا۔ وہ کہتے: ’ہم انھیں اپنا استعفیٰ کیسے دے سکتے ہیں؟ ہم انگریزوں کو نہیں پہچانتے‘۔ لہٰذا وہ کام ہی نہیں کرتے تھے، یہ سلسلہ برقرار ہا۔

’’اُن دنوں ہمارا گاؤں کئی طرح سے کٹا ہوا تھا۔ گرفتاریوں اور چھاپے ماریوں کے سبب، کانگریسی کارکن کچھ دنوں تک نہیں آئے۔ مطلب یہ کہ ہمیں باہری دنیا کی خبر نہیں مل پا رہی تھی۔ اگست ۱۹۴۲ میں ایسا ہی چلتا رہا۔‘‘ اس کے بعد گاؤں نے کچھ لوگوں کو باہر بھیجا، یہ پتہ لگانے کے لیے کہ ملک میں کیا کچھ چل رہا ہے۔ ’’اس طرح تحریک کا یہ مرحلہ شروع ہوا۔ میں دوسری ٹکڑی کے ساتھ تھا۔

’’ہمارے گروپ کے سبھی پانچ لڑکے بہت چھوٹے تھے۔ سب سے پہلے، ہم کانگریس مین فقیر بہیرا کے گھر سمبل پور گئے۔ ہمیں پھول اور بازو پر باندھنے والی پٹّی دی گئی، جس پر لکھا تھا ’کرو یا مرو‘۔ ہم لوگ بازاروں میں مارچ کرتے اور ہزاروں اسکولی بچے اور دوسرے لوگ ہمارے ساتھ ساتھ چلتے۔

’’بازاروں میں ہم بھارت چھوڑو کا نعرہ لگاتے۔ جس وقت ہم نے یہ نعرہ لگائے، وہاں پر تقریباً ۳۰ مسلح پولس والوں نے ہمیں گرفتار کر لیا۔

’’لیکن، کنفیوژن یہاں بھی تھا، اس لیے انھوں نے ہم میں سے کچھ کو فوراً چھوڑ دیا۔‘‘

کیوں؟

’’ارے ہاں، ۱۱ سال کے لڑکوں کو گرفتار کرنا اور پھر ان کے ہاتھ باندھ دینا ان کے لیے مشکلیں پیدا کر رہا تھا۔ اس لیے، ہم میں سے جو لڑکے ۱۲ سال سے کم عمر کے تھے، انھیں چھوڑ دیا گیا۔ لیکن، دو ہم سے بھی چھوٹے، جوگیشور جینا اور اندرجیت پردھان نے وہاں سے جانے سے منع کر دیا۔ وہ گروپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتے تھے، لیکن ہم نے انھیں منا کر وہاں سے واپس بھیجا۔ ہم میں سے باقی لوگوں کو بارگڑھ جیل بھیج دیا گیا۔ دِبیا سندر ساہو، پربھاکر ساہو اور مجھے ۹ مہینے کی سزا ہوئی اور ہمیں جیل بھیج دیا گیا۔‘‘

* * *


03-1003-PS-Foot Soldiers of Freedom-Panimara 1.jpg

پنی مارہ کے باحیات آخری مجاہدینِ آزادی، مندر میں


مدن بھوئی، جن کی عمر ۸۰ سال ہے، اب بھی اچھی آواز میں گانا گاتے ہیں۔ ’’یہ وہ گانا ہے جو ہمارے گاؤں کے نوجوانوں کی چوتھی ٹکڑی، سمبل پور میں واقع کانگریس آفس کی طرف جاتے ہوئے گا رہی تھی۔‘‘ انگریزوں نے باغیانہ سرگرمیوں کے الزام میں اس آفس کو سیل کر دیا تھا۔

تیسرے گروپ کا ہدف تھا: سیل کیے گئے کانگریس آفس کو آزاد کرانا۔

’’میں جب بہت چھوٹا تھا، تبھی میرے والدین یہ دنیا چھوڑ گئے۔ چچا اور چچی، جن کے ساتھ میں رہتا تھا، انھیں میری زیادہ پروا نہیں تھی۔ جب میں کانگریس کی میٹنگوں میں شریک ہونے لگا، تو وہ چونکے۔ جب میں نے ستیہ گرہیوں کے ساتھ جڑنے کی کوشش کی، تو انھوں نے مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ میں نے جھوٹ بولا کہ اب میں ایسا نہیں کروں گا، میں اپنے فعل پر نادم ہوں۔ لہٰذا، انھوں نے مجھے آزاد کر دیا۔ میں کھیتوں کی طرف چلا گیا، گویا کام کرنے جا رہا ہوں۔ کُدال، ٹوکری اور دیگر سامانوں کے ساتھ۔ کھیتوں سے ہی میں بارگڑھ ستیہ گرہ کی طرف چلا گیا۔ وہاں پر میرے گاؤں کے ۱۳ لوگ اور تھے، جو سمبل پور کی طرف مارچ کرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ کھادی تو چھوڑ دیجیے، اس وقت میرے پاس پہننے کے لیے کوئی شرٹ تک نہیں تھی۔ گاندھی جی کو ۹ اگست کو ہی گرفتار کر لیا گیا تھا، لیکن ہمارے گاؤں میں یہ خبر کئی دنوں بعد پہنچی۔ اور وہ بھی تب، جب احتجاجیوں کی تین یا چار ٹکڑیوں کو گاؤں سے باہر سمبل پور بھیجنے کا پلان بنایا جا رہا تھا۔

’’پہلے قافلہ کو ۲۲ اگست کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ہم لوگ ۲۳ اگست کو گرفتار ہوئے۔ پولس ہمیں عدالت بھی لے کر نہیں گئی، کیوں کہ انھیں ایک بار پھر اسی مذاق بننے کا ڈر تھا، جو چمارو اور ان کے دوستوں کو عدالت میں پیش کرتے وقت انھیں جھیلنا پڑا تھا۔ ہمیں کانگریس آفس تک جانے کی کبھی اجازت نہیں دی گئی۔ ہم سیدھے جیل بھیج دیے گئے۔‘‘

پنی مارہ اب مشہور ہو چکا تھا۔ بھوئی فخریہ انداز میں کہتے ہیں، ’’ہمیں چاروں طرف بدمعاش گاؤں کے نام سے جانا جانے لگا۔‘‘


یہ مضمون سب سے پہلے دی ہندو  سنڈے میگزین میں ۲۰ اکتوبر، ۲۰۰۲ کو شائع ہوا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: