01-2004-PS-Foot Soldiers of Freedom-Panimara 2.jpg

پنی مارہ کے آخری باحیات مجاہد روزانہ کی پوجا کرتے ہوئے


پنی مارہ کے مجاہدینِ آزادی کو دوسرے مورچوں پر بھی لڑائیاں لڑنی پڑیں۔ ان میں سے کچھ تو انھیں اپنے گھر پر ہی لڑنی پڑیں۔

چھوا چھوت کے خلاف گاندھی جی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انھوں نے اس پر عمل کیا۔

’’ایک دن، ہم لوگ ۴۰۰ دلتوں کے ساتھ اس گاؤں کے جگن ناتھ مندر میں داخل ہو گئے،‘‘ چمارو بتاتے ہیں۔ برہمنوں کو یہ پسند نہیں آیا۔ لیکن، ان میں سے کچھ نے ہماری حمایت کی۔ شاید وہ ایسا کرنے کے لیے مجبور تھے۔ اس وقت کا ماحول ہی کچھ ایسا تھا۔ گونٹیا (گاؤں کا سربراہ) مندر کا منیجنگ ٹرسٹی تھا۔ اسے بہت غصہ آیا، اور احتجاجاً وہ گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔ لیکن، خود اس کا بیٹا ہمارے ساتھ شامل ہو گیا، اس نے نہ صرف ہماری حمایت کی، بلکہ اپنے باپ کے قدم کی مذمت بھی کی۔

’’انگریزی سامانوں کے خلاف مہم سنجیدہ تھی۔ ہم لوگ صرف کھادی پہنتے تھے۔ اپنے ہاتھوں سے ہی اسے بُنتے بھی تھے۔ آئڈیالوجی اس کا ایک حصہ تھا۔ ہم لوگ دراصل، کافی غریب تھے، اس لیے یہ ہمارے لیے اچھا تھا۔‘‘

تمام مجاہدینِ آزادی نے بعد میں اس پر دہائیوں تک عمل کیا، اُس وقت تک، جب ان کے ہاتھ کاتنے اور بُننے سے معذور نہیں ہو گئے۔ چمارو کہتے ہیں، ’’پچھلے سال، ۹۰ سال کا ہونے پر میں نے سوچا کہ اب اسے چھوڑنے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘

اس کی شروعات ۱۹۳۰ کی دہائی میں سمبل پور میں کانگریس سے متاثر ہوکر منعقد کیے جانے والے ایک ’’ٹریننگ‘‘ کیمپ سے ہوئی۔ ’’اس ٹریننگ کا نام ’سیوا‘ رکھا گیا، لیکن اس کے بجائے ہمیں جیل کی زندگی کے بارے میں بتایا گیا۔ وہاں بیت الخلاء صاف کرنے کے بارے میں، گھٹیا کھانے کے بارے میں۔ ہم سبھی جانتے تھے کہ اس ٹریننگ کا اصل مقصد آخر کیا ہے۔ گاؤں سے ہم ۹ لوگ اس کیمپ میں گئے۔

’’ہمیں پورے گاؤں نے الوداع کہا، پھول مالا، سندور اور پھل کے ساتھ۔ اس وقت لوگوں میں اس قدر جوش و ولولہ تھا۔‘‘

اس کے علاوہ، اس کے پیچھے مہاتما کا جادو بھی تھا۔ ’’انھوں نے لوگوں کو ستیہ گرہ کرنے کے لیے جو خط لکھا، اس نے ہمارے اندر جوش بھر دیا تھا۔ ہم سے کہا گیا کہ ہم غریب، اَن پڑھ لوگ اگر نافرمانی پر اُتر آئیں، تو ہم اپنی دنیا بدل سکتے ہیں۔ لیکن ہم سے تشدد اور بدتمیزی نہ کرنے کا بھی وعدہ لیا گیا۔‘‘ اس وعدہ پر پنی مارہ کے تقریباً سبھی مجاہدینِ آزادی نے تمام عمر عمل کیا۔

اس وقت انھوں نے گاندھی جی کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لیکن، لاکھوں دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی ان کی آواز پر کھڑے ہوگئے۔ ’’ہم لوگ یہاں منموہن چودھری اور دیانند ست پتھی جیسے کانگریسی لیڈروں سے متاثر تھے۔‘‘ پنی مارہ کے مجاہدین نے اگست ۱۹۴۲ سے بھی پہلے جیل کا پہلا سفر طے کر لیا تھا۔ ’’ہم نے ایک قسم کھائی تھی۔ جنگ (دوسری عالمی جنگ) میں پیسے سے یا ذاتی طور پر، کسی بھی قسم کی مدد غداری ہوگی۔ ایک گناہ۔ عدم تشدد کے جتنے بھی طریقے ہو سکتے ہیں، ان سے جنگ کی مخالفت کی جانی چاہیے۔ اس گاؤں کے ہر شخص نے اس کی حمایت کی۔

’’ہم لوگ کٹک جیل میں چھ ہفتوں کے لیے گئے۔ انگریز لوگوں کو جیل میں زیادہ دنوں تک نہیں رکھتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہزاروں لوگ ان کی جیلوں میں جانے کی رٹ لگائے ہوئے تھے۔ جیل جانے کی خواہش رکھنے والوں کی تعداد حد سے زیادہ تھی۔

’’چھوا چھوت کے خلاف مہم نے ہمارے اندر پہلا دباؤ بنایا۔ لیکن ہم نے اس پر قابو پا لیا۔‘‘ دیا ندھی کہتے ہیں، ’’آج بھی ہم اپنے زیادہ تر رسوم میں برہمنوں کا استعمال نہیں کرتے۔ اس ’مندر میں داخلہ‘ نے ان میں سے کچھ کو ناراض کر دیا تھا۔ لیکن، ظاہر ہے، ان میں سے زیادہ تر کو بھارت چھوڑو آندولن میں ہمارے ساتھ شامل ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔‘‘

ذات پات نے بھی بہت سی پریشانیاں کھڑی کیں۔ مدن بھوئی بتاتے ہیں، ’’جب بھی ہم جیل سے باہر آتے، پاس کے گاؤوں کے رشتہ دار ہر بار ہمارا ’شدھی کرن‘ کرنا چاہتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ہم نے جیل میں اچھوتوں کے ساتھ وقت گزارے۔ (دیہی اڑیسہ میں جیل میں وقت گزارنے والے اونچی ذات کے لوگوں کا ’’شدھی کرن‘‘ آج بھی کیا جاتا ہے: پی ایس)

بھوئی آگے بتاتے ہیں، ’’ایک بار میں جب جیل سے باہر آیا، تو میری نانی کی ۱۱ویں منائی جا رہی تھی۔ میرے قید کے دوران ان کی موت ہو گئی تھی۔ میرے ماما نے مجھ سے پوچھا، ’مدن، تمہارا شدھی کرن ہو گیا ہے؟‘ میں نے کہا نہیں، ہم ستیہ گرہیوں کے طور پر دوسرے لوگوں کا شدھی کرن کرتے ہیں۔ اس وقت مجھے گھر کے لوگوں سے بالکل الگ ایک کونے میں بیٹھنے کے لیے کہا گیا۔ مجھے الگ کر دیا گیا، کھانا بھی میں سب سے الگ بیٹھ کر کھاتا تھا۔

’’میرے جیل جانے سے پہلے ہی میری شادی طے کر دی گئی تھی۔ جب میں باہر آیا، تو شادی ٹوٹ گئی۔ لڑکی کا باپ جیل گئے ہوئے لڑکے کو اپنا داماد نہیں بنانا چاہتا تھا۔ حالانکہ، بعد میں مجھے سرندا پلّی گاؤں سے ایک نئی دلہن مل گئی، اس گاؤں میں کانگریس کا بہت اثر و رسوخ تھا۔

’’چمارو، جتیندر اور پورن چندر کے ساتھ اگست ۱۹۴۲ میں جیل میں قیام کے دوران کسی قسم کے شدھی کرن کی بالکل ضرورت نہیں پڑی۔

’’انھوں نے ہمیں مجرموں کی جیل میں بھیج دیا۔ ہم نے زیادہ تر وقت یہیں گزارا،‘‘ جتیندر بتاتے ہیں۔ ’’اُن دنوں، انگریز سپاہیوں کی بھرتی کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ یہ سپاہی جرمنی کے خلاف ان کی جنگ میں شریک ہوکر ان کے لیے جان دے دیں۔ لہٰذا، انھوں نے مجرموں کے طور پر لمبی قید کی سزا کاٹنے والے لوگوں سے وعدے کرنے شروع کر دیے۔ جو لوگ جنگ میں لڑنے کے لیے حامی بھر لیتے تھے، انھیں ۱۰۰ روپے دیے جاتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کی فیملی کو اس کے بدلے ۵۰۰ روپے ملتے۔ اور جنگ ختم ہونے کے بعد انھیں آزاد کر دیا جاتا تھا۔

’’ہم نے مجرم قیدیوں کے درمیان مہم چلائی۔ ان سے کہا، کیا ۵۰۰ روپے کے بدلے اِن لوگوں کے لیے جان دینا اور ان کی لڑائیوں میں شریک ہونا اچھی بات ہے؟ سب سے پہلے مرنے والوں میں آپ ہی لوگ ہوں گے، ہم نے ان سے کہا۔ ان کے نزدیک آپ لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آپ لوگ کیوں ان کے توپ کا بارود بننا چاہتے ہیں؟

’’کچھ دنوں بعد، انھیں ہماری باتوں پر بھروسہ ہونے لگا۔ (وہ ہمیں گاندھی کہہ کر پکارتے تھے، یا صرف، کانگریس)۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے انگریزوں کی اس اسکیم سے اپنا نام واپس لے لیا۔ وہ باغی ہو گئے اور جنگ میں جانے سے منع کر دیا۔ جیل کا وارڈن بہت ناراض ہوا۔ ’تم نے انھیں کیوں بہکایا؟‘ اس نے پوچھا۔ ’ابھی تک تو وہ جانے کو تیار تھے‘۔ ہم نے، پچھلی بات یاد کرتے ہوئے، اس سے کہا کہ مجرموں کے درمیان رکھے جانے سے ہم کافی خوش ہیں۔ ہم اس لائق تو ہوئے کہ انھیں یہ بتا سکیں کہ اصل میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔

’’اگلے دن ہمیں سیاسی قیدیوں والی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ ہماری سزا بدل کر چھ مہینے کر دی گئی، عام قید کے طور پر۔‘‘

برطانوی راج نے ان کے ساتھ کیا ناانصافی کی تھی، جس کی وجہ سے وہ اتنی طاقتور حکومت سے ٹکرانے کو تیار ہو گئے؟

’’یہ پوچھئے کہ برطانوی راج میں کوئی انصاف تھا بھی،‘‘ چماروں مذاق کے انداز میں کہتے ہیں۔ یہ سوال ان سے پوچھنے لائق نہیں تھا۔ ’’وہاں تو ہر جگہ ناانصافی ہی ناانصافی تھی۔

’’ہم انگریزوں کے غلام تھے۔ انھوں نے ہماری اقتصادیات کو تباہ کر دیا۔ ہمارے لوگوں کے سارے حقوق چھین لیے گئے۔ ہماری زراعت برباد کر دی گئی۔ لوگوں کو حد درجہ غریب بنا دیا گیا۔ جولائی اور ستمبر ۱۹۴۲ کے درمیان، ۴۰۰ کنبوں میں سے صرف پانچ یا سات کے پاس کھانے کا سامان بچا تھا۔ بقیہ کو بھوک اور بے عزتی برداشت کرنی پڑی۔

’’موجودہ دور کے حکمراں بھی پوری طرح بے شرم ہیں۔ وہ بھی غریبوں کو لوٹتے ہیں۔ معاف کیجیے، میں برطانوی راج سے کسی کا موازنہ نہیں کر رہا ہوں، لیکن آج کے ہمارے حکمراں بھی ویسے ہی ہیں۔‘‘

پنی مارہ کے مجاہدینِ آزادی آج بھی صبح اٹھ کر سب سے پہلے جگن ناتھ مندر جاتے ہیں۔ وہاں پر وہ ’نِسّان‘ (ڈھول) بجاتے ہیں، جیسا کہ وہ ۱۹۴۲ سے کرتے آ رہے ہیں۔ صبح سویرے تو ڈھول کی یہ آواز کئی کلومیٹر تک سنائی دیتی ہے، جیسا کہ وہ بتاتے ہیں۔

لیکن جمعہ کو یہ مجاہدینِ آزادی شام کو پانچ بج کر ۱۷ منٹ پر وہاں جمع ہونے کی کوشش کرتے ہیں، کیوں کہ ’’وہ جمعہ کا ہی دن تھا، جب مہاتما کو قتل کر دیا گیا تھا۔‘‘ شام کو ۵ بج کر ۱۷ منٹ۔ اس روایت کو گاؤں والے پچھلے ۵۴ برسوں سے تازہ رکھے ہوئے ہیں۔

آج بھی جمعہ کا دن ہے، اور ہم ان کے ساتھ مندر جا رہے ہیں۔ سات میں سے چار با حیات مجاہدینِ آزادی ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ چمارو، دیا نِدھی، مدن اور جتیندر۔ بقیہ تین، چیتنیہ، چندرشیکھر ساہو اور چندرشیکھر پریدا، فی الحال گاؤں سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

مندر کی دہلیز لوگوں سے بھری ہوئی ہے، یہ لوگ گاندھی جی کا پیارا بھجن گا رہے ہیں۔ ’’۱۹۴۸ میں،‘‘ چمارو بتاتے ہیں، ’’اس گاؤں کے بہت سے لوگوں نے اس وقت اپنے بال منڈوالیے تھے، جب انھیں مہاتما کے قتل کیے جانے کی خبر ملی تھی۔ انھیں ایسا لگا تھا کہ ان کے والد کی موت ہوگئی ہے۔ اور آج بھی جمعہ کے روز، بہت سے لوگ برت (روزہ) رکھتے ہیں۔‘‘


02-2005-PS-Foot Soldiers of Freedom-Panimara 2.jpg

جتیندر پردھان، ۸۱، اور دوسرے لوگ گاندھی جی کا پسندیدہ بھجن گا رہے ہیں


ہو سکتا ہے کہ اس مندر میں کچھ بچے بھی موجود ہوں، جو اس کو لے کر متجسس ہوں۔ لیکن، اس گاؤں کو اپنی تاریخ کا پورا احساس ہے۔ اسے اپنی شجاعت کا احساس ہے۔ یہ وہ گاؤں ہے جو آزادی کی شمع کو روشن رکھنا اپنا فریضہ سمجھتا ہے۔

پنی مارہ چھوٹے کسانوں کا ایک گاؤں ہے۔ ’’یہاں پر کُلٹا (کسانوں کی ایک ذات) کے ۱۰۰ گھرانے تھے۔ تقریباً ۸۰ اڑیسہ (یہ بھی کسان ہیں) کے۔ قریب ۵۰ گھر سورا آدیواسیوں کے، ۱۰ سوناروں کے کنبے تھے۔ کچھ گوڑ (یادو) فیملی تھی، وغیرہ وغیرہ،‘‘ دیا ندھی بتاتے ہیں۔

موٹے طور پر گاؤں کی شکل یہی ہے۔ زیادہ تر مجاہدینِ آزادی کسان ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ ’’یہ بات صحیح ہے کہ ہمارے یہاں ایک سے دوسری ذاتوں کے درمیان شادیوں کا رواج نہیں تھا۔ لیکن جدوجہد آزادی کے وقت سے ہی سبھی ذاتوں اور برادریوں کے درمیان رشتہ ہمیشہ اچھے رہے۔ یہ مندر آج بھی سبھی کے لیے کھلا رہتا ہے۔ تمام لوگوں کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔‘‘

کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جنھیں لگتا ہے کہ ان کے حقوق کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ دِبِتیا بھوئی ان میں سے ایک ہیں۔ ’’میں تب بہت چھوٹا تھا، جب ایک بار انگریزوں نے مجھے بری طرح پیٹا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ بھوئی کی عمر اس وقت ۱۳ سال تھی۔ لیکن چونکہ انھیں جیل نہیں بھیجا گیا تھا، اس لیے مجاہدینِ آزادی کی سرکاری طور پر تسلیم شدہ فہرست میں ان کا نام نہیں ہے۔ بعض دوسرے لوگوں کو بھی انگریزوں نے بری طرح پیٹا، لیکن انھیں سرکاری ریکارڈ میں اس لیے نہیں ڈالا گیا، کیوں کہ وہ جیل نہیں گئے تھے۔

مجاہدینِ آزادی کے نام ’استمبھ‘ یا ستون پر چمک رہے ہیں۔ صرف انھیں لوگوں کے نام اس میں درج ہیں، جو ۱۹۴۲ میں جیل گئے تھے۔ لیکن کسی کو بھی ان ناموں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن افسوس، ’’مجاہدینِ آزادی‘‘ کی سرکاری فہرست سازی جس طرح کی گئی، اس میں کچھ ایسے لوگوں کے نام چھوڑ دیے گئے، جو اس کے مستحق تھے۔


03-2006-PS-Foot Soldiers of Freedom-Panimara 2.jpg

ایک مہمان کو پنّی مارہ کے مجاہدین کی مکمل فہرست دکھاتے ہوئے


اگست ۲۰۰۲، یعنی ۶۰ سال کے بعد، ایک بار پھر پنی مارہ کے مجاہدینِ آزادی کو وہی راہ اختیار کرنی پڑی۔

اس دفعہ مدن بھوئی، جو ساتوں میں سب سے غریب ہیں اور جن کے پاس صرف آدھا ایکڑ زمین ہے، اپنے دوستوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دھرنا سوہیلا ٹیلی فون آفس کے باہر ہے۔ ’’تصور کیجیے،‘‘ بھوئی کہتے ہیں، ’’اتنی دہائیاں گزر گئیں، لیکن ہمارے اس گاؤں میں ایک ٹیلی فون تک نہیں ہے۔‘‘

لہٰذا، اسی مانگ کو لے کر، ’’ہم لوگ دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ایس ڈی او (سب ڈویژنل آفیسر) نے کہا کہ اس نے ہمارے گاؤں کا نام کبھی نہیں سنا،‘‘ وہ ہنستے ہیں۔ ’’اگر آپ بارگڑھ میں رہتے ہیں، تو یہ کفر ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اس بار پولس نے مداخلت کی۔‘‘

پولس، جسے معلوم تھا کہ یہ لوگ با حیات ہیرو ہیں، کو ایس ڈی او کی اندیکھی پر حیرانی ہوئی۔ پولس ۸۰ سال کی عمر پار کر چکے ان لوگوں کی حالت کے بارے میں کافی فکر مند تھی۔ ’’دھرنے پر کئی گھنٹوں تک بیٹھنے کے بعد، پولس، ایک ڈاکٹر، میڈیکل اسٹاف اور دیگر اہل کاروں نے مداخلت کی۔ اس کے بعد ٹیلی فون والوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ ۱۵ ستمبر تک ہمارے لیے ایک ٹیلی فون کا انتظام کر دیں گے۔ دیکھتے ہیں۔‘‘

پنی مارہ کے مجاہدین ایک بار پھر دوسروں کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ اپنے لیے نہیں۔ آخر انھیں اپنی اس لڑائی سے کبھی کوئی ذاتی فائدہ ہوا ہے؟

’’آزادی‘‘، چمارو جواب دیتے ہیں۔

آپ کے لیے اور میرے لیے۔


یہ مضمون (دو حصوں میں سے دوسرا) سب سے پہلے دی ہندو سنڈے میگزین میں ۲۷ اکتوبر، ۲۰۰۲ کو شائع ہوا۔ پہلا حصہ ۲۰ اکتوبر، ۲۰۰۲ کو شائع ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other Stories by P. Sainath