صبح میص، ۲۴ سالہ نیہا تومر (یہ ان کا اصلی نام نہیں ہے) نے اپنے شوہر کے کام پر جانے سے پہلے ہی ان کے پیر چھوئے تھے۔ ایسا روز نہیں ہوتا تھا، بلکہ اُس دن کے لیے مقرر تھا جب انہیں کچھ اہم کرنے کے لیے اپنے گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ ’’جیسے کہ جب میں اپنے والدین کے گھر جاتی ہوں،‘‘ بھیٹوا بلاک کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) کے احاطہ میں بیٹھی نیہا نے کہا۔

نیہا امیٹھی تحصیل کے اس طبی مرکز میں اپنی ساس کے ساتھ آئی تھیں، جو نیہا کے چوتھے بچے، تین مہینے کے لڑکے کو گود میں لیے ہوئے تھی جس کا ابھی تک نام نہیں رکھا گیا ہے۔ وہ اتر پردیش کے سلطانپور ضلع کے بھیٹوا گاؤں سے آئی تھیں۔ نیہا اور ان کے شوہر آکاش (ان کا اصلی نام نہیں)، جو کہ ایک زرعی مزدور ہیں، نے آخرکار یہ طے کیا تھا کہ وہ اب اور بچے پیدا نہیں کریں گے۔ ’’اتنی تو ہماری مرضی ہونی چاہیے،‘‘ نیہا نے کہا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یکے بعد دیگرے چار بچوں کی پیدائش کے بعد میاں بیوی کا اتنا حق تو بنتا ہی ہے۔ اس شیر خوار سے پہلے ان کی دو بیٹیاں، جن کی عمر پانچ اور چار سال ہے، اور ایک ڈیڑھ سال کا بیٹا پیدا ہو چکا تھا۔ ’’یہ بھی ان کے لیے مبارک ہے،‘‘ نیہا نے کہا، دادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جن کی گود میں بچہ سو رہا تھا۔

The camp approach to sterilisation gave way to 'fixed-day services' at CHCs
PHOTO • Anubha Bhonsle

نس بندی کے لیے کیمپ کے نظریہ نے طبی مرکز میں ’متعینہ دن کی خدمات‘ کی راہ ہموار کی

ان کی شادی کے بعد کی چھ سال کی مدت میں مانع حمل یا دو بچوں کی پیدائش کے درمیان وقت میں فرق پر کبھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ ’’میری جب شادی ہوئی تھی، تو کسی نے مجھے کچھ نہیں بتایا، بس اتنا کہا کہ مجھے اپنے شوہر اور ان کے گھر والوں کی بات سننی ہے،‘‘ نیہا نے کہا۔ ابتدائی دو حمل کے بعد ہی انہیں پتہ چل پایا کہ اگر وہ جوکھم بھرے دنوں میں (انڈے کی افزائش کے دوران)، یعنی اپنا حیض شروع ہونے کے تقریباً دو ہفتے بعد مباشرت سے پرہیز کرتی ہیں، تو وہ اگلے حمل کے امکان کو کم کر سکتی ہیں۔ ’’میں پیٹ درد کا بہانہ کرتی یا رات میں کام ختم کرنے میں کافی وقت لگاتی، لیکن میری ساس کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ میں کیا کر رہی ہوں،‘‘ نیہا نے آگے بتایا۔

حمل کو روکنے کے روایتی طریقے جیسے مباشرت سے پرہیز، وقت وقت پر کنٹرول اور باقاعدگی یا محفوظ طریقے پر نظر رکھنا، جیسا کہ نیہا کر رہی تھیں، باقی ہندوستان کے مقابلے یوپی میں زیادہ عام رہے ہیں۔ ان طریقوں کا ریاست کے تمام مانع حمل طریقوں میں ۲۲ فیصد حصہ ہے، جو کہ قومی سطح پر صرف ۹ فیصد ہے، ایسا ری پروڈکٹیو ہیلتھ نامی رسالہ میں ۲۰۱۹ میں شائع ایک تحقیقی مضمون میں کہا گیا ہے، جو نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس- ۴، ۲۰۱۵-۱۶) کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ اس تحقیقی مضمون کے مطابق، یوپی میں اس وقت صرف ۵۰ فیصد شادی شدہ خواتین ہی فیملی پلاننگ کے جدید طریقوں کا استعمال کرتی ہیں، جیسے کہ کنڈوم، گولی اور نس بندی؛ قومی سطح پر ان کا اوسط استعمال ۷۲ فیصد ہے۔

ایک حادثہ میں آکاش کی ٹانگ ٹوٹ جانے کے بعد جب وہ کام کرنے اور پیسہ کمانے لائق نہیں رہے، جس کی وجہ سے پریشانیاں بڑھنے لگیں، تبھی یہ ممکن ہو پایا کہ نیہا نے ہمت جُٹائی اور اپنے شوہر سے کہا کہ وہ ’آپریشن‘ کرانا چاہتی ہیں۔ عورتوں کی نس بندی کے لیے یہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے، جس میں ان کی بیض نالی کو ٹیوب کے ذریعے بند کر دیا جاتا ہے، تاکہ وہ حاملہ نہ ہو پائیں۔ پھر بھی وہ مطمئن نہیں ہیں، نیہا کی ساس ان کے ساتھ اسپتال تک گئی تھیں، لیکن انہوں نے امید نہیں چھوڑی تھی۔ ’’بھگوان اور بچے کے بیچ میں کبھی نہیں آنا چاہیے،‘‘ وہ خود کو مخاطب کرکے بڑبڑاتی رہیں۔ یا شاید نیہا اور اُن ۲۲ دیگر خواتین کو مخاطب کرکے جو بندوئیا، نوگِروا، سنہا اور ٹِکری جیسے ارد گرد کے گاؤوں سے اس طبی مرکز میں جمع ہوئی تھیں۔

یہ نومبر کی صبح تھی اور مشکل سے ۱۰ بجے تھے۔ زیادہ تر عورتیں ۹ بجے ہی پہنچ گئی تھیں۔ دن جیسے جیسے آگے بڑھنے لگا اور بھی آتی گئیں۔ ’’عورتوں کی نس بندی کے دن تقریباً ۳۰-۴۰ آتی ہیں، خاص طور سے اکتوبر سے مارچ تک۔ وہ اِن مہینوں میں سرجری کروانا پسند کرتی ہیں۔ ٹھنڈی کا وقت ہے، ٹانکے تیزی سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، ٹانکے پکتے نہیں ہیں [انفیکشن کا امکان کم رہتا ہے]،‘‘ بھیٹوا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے چیف میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر ابھیمنیو ورما کہتے ہیں۔

'About 30-40 come in on on mahila nasbandi day'
PHOTO • Anubha Bhonsle

’عورتوں کی نس بندی کے دن تقریباً ۳۰-۴۰ آتی ہیں‘

چھتیس گڑھ کے بلاس پور ضلع کے تخت پور بلاک میں ۸ نومبر، ۲۰۱۴ کو ہونے والے سانحہ کے بعد، نس بندی کے لیے مقررہ ’کیمپ‘ کے نظریہ کے خلاف بڑے پیمانے پر ناراضگی تھی۔ اس کیمپ میں ۱۳ عورتوں کی موت ہو گئی تھی اور کئی دیگر کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا تھا

چھتیس گڑھ کے بلاس پور ضلع کے تخت پور بلاک میں ۸ نومبر، ۲۰۱۴ کو ہونے والے سانحہ کے بعد، نس بندی کے لیے مقررہ ’کیمپ‘ کے نظریہ کے خلاف بڑے پیمانے پر ناراضگی تھی۔ اس کیمپ میں ۱۳ عورتوں کی اس وقت موت ہو گئی تھی اور کئی دیگر کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا تھا، جب ضلع اسپتال کے ایک سرجن نے ایک لاوارث، بغیر جراثیم سے پاک کی گئی عمارت میں ۹۰ منٹ کے اندر ۸۳ عورتوں کی نس بندی کر دی۔ سرجن نے ایک ہی لیپروسکوپ کا استعمال کیا اور اسیپسِس کے لیے کوئی احیتاط نہیں برتی۔

یہ کوئی پہلا اجتماعی سرجری کیمپ نہیں تھا جس میں عورتوں کی صحت کو لے کر لاپروائی برتی گئی ہو۔ بہار کے ارریہ ضلع کے کُرسا کانٹا بلاک کی کپار پھوڑا بستی میں ۷ جنوری ۲۰۱۲ کو، ۵۳ عورتوں کی نس بندی ایک اسکول میں کی گئی – وہ بھی ٹارچ کی روشنی میں اوری اسی قسم کے بغیر صفائی والے ماحول میں۔

ارریہ کے واقعہ کے بعد طبی حقوق کی کارکن، دیویکا وشواس کے ذریعے ۲۰۱۲ میں دائر ایک مفادِ عامہ کی عرضی پر ۱۴ ستمبر، ۲۰۱۶ کو فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو تین سال کے اندر تمام کیمپ پر مبنی اجتماعی نس بندی کو روکنے، اور اس کے بجائے فیملی پلاننگ پروگرام کے تحت طبی سہولیات کو مضبوط کرنے اور خدمات تک رسائی میں اصلاح کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران، نس بندی کیمپوں کے دوران ٹھیک سے دیکھ بھال نہ ہونے کے ثبوت یوپی، کیرالہ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر سمیت دیگر ریاستوں سے بھی سامنے آئے تھے۔

اس کے بعد، نس بندی کے لیے کیمپ کے نظریہ نے ’متعینہ دن کی خدمات‘ کی راہ ہموار کی، جس کا مطلب یہ تھا کہ عورتیں اور مرد اگر نس بندی کرانا چاہتے ہیں، تو وہ اس مہینہ کے کسی متعینہ دن خصوصی طبی مرکز میں آ سکتے ہیں۔ توقع یہ تھی کہ یہ نظام حالات کی بہتر نگرانی اور نظم و ضبط میں معاون ہوگا۔ متعینہ دن کو وسیع پیمانے پر نس بندی کرانے کا دن مانا جاتا تھا، لیکن نس بندی کے لیے مرد شاید ہی کبھی آتے تھے، اسی لیے غیر سرکاری طور پر، اس دن کو عورتوں کی نس بندی کا دن کہا جانے لگا۔

اور عدالت کے حکم کے باوجود، مانع حمل نس بندی پر مرکوز رہا ہے – خاص طور سے عورتوں کی نس بندی پر۔

Medical supplies on a table in a CHC waiting room. The operating room had been prepared and was ready since earlier that morning
PHOTO • Anubha Bhonsle

کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے ویٹنگ روم میں میز پر رکھے طبی ساز و سامان۔ آپریشن والا کمرہ بنا دیا گیا تھا اور اس دن صبح سے ہی تیار تھا

قومی طبی مشن کی ۲۰۱۷ کی ۱۱ویں کامن ریویو مشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پورے ہندوستان میں کل نس بندی کے عمل کا ۹۳ فیصد عورتوں پر کیا گیا۔ ابھی ۲۰۱۶-۱۷ میں ہی، ہندوستان نے اپنی فیملی پلاننگ کی رقم کا ۸۵ فیصد عورتوں کی نس بندی پر خرچ کیا۔ اور ۲۰۱۹ میں ری پروڈکٹیو ہیلتھ میں شائع تحقیقی مضمون کے مطابق، یوپی میں جہاں ایک طرف اس عمل میں (۱۹۹۸-۹۹ کے مقابلے) کمی دیکھی گئی، وہیں دوسری طرف یہ عمل ترجیحی طریقہ بنا رہا، جس کے تحت ۳۳ فیصد مانع حمل استعمال کرنے والے زیادہ افزائش والے ضلعوں کے تھے اور ۴۱ فیصد استعمال کرنے والے کم افزائش والے ضلع کے، جن کی ترجیح عورتوں کی نس بندی کرانی تھی۔

سلطانپور ضلع میں، نس بندی کے عمل پر کارروائی کرنے کا پورا بوجھ دو سے تین ڈاکٹروں پر پڑا۔ وہ تحصیل یا ضلع کی سطح پر فیملی پلاننگ کوآرڈی نیٹر کے ذریعے تیار کردہ روسٹر کے مطابق کام کرتے اور ۱۲ سے ۱۵ بلاکوں میں پھیلے اسپتالوں اور طبی مراکز کا دورہ کرتے تھے۔ ہر ایک کمیونٹی ہیلتھ سینٹر موٹے طور پر مہینے میں ایک بار نس بندی کا دن منعقد کرنے میں کامیاب ہوتا، جہاں مرد و خواتین اس عمل سے گزر سکتے تھے۔

بھیٹوا کے طبی مرکز میں ایسے ہی ایک دن، یہ واضح تھا کہ عورتوں کی نس بندی کے لیے محدود دنوں کی تعداد عمل کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ شام کو ۴ بجے، جب روسٹر پر مقررہ سرجن کافی دیر سے وہاں پہنچا کیوں کہ اسے سرکاری صحت میلہ میں شریک ہونا تھا، تو اس وقت تک مریضوں کی تعداد ۳۰ تک پہنچ چکی تھی۔ دو عورتوں کو واپس جانے کے لیے کہہ دیا گیا، کیوں کہ ابتدائی جانچ کے بعد پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہیں۔

ایک کمرہ، عمارت کے دور والے کنارے پر ایک قسم کا آپریشن تھیٹر، دوپہر بھر تیار رکھا گیا تھا۔ دھوپ پتلی چادروں سے چھن کر ایک بڑی کھڑکی پر پڑ رہی تھی، لیکن ٹھنڈ تھی۔ کمرے کے درمیان میں تین ’آپریٹنگ ٹیبل‘ لائن سے لگے تھے۔ انہیں ایک طرف سے تھوڑا جھکا دیا گیا تھا، جب کہ دوسری طرف اینٹوں کی مدد سے اونچا کر دیا گیا تھا، تاکہ سرجری کے دوران ڈاکٹر کو پہنچنے میں آسانی ہو۔

An 'operation theatre' at a CHC where the sterilisation procedures will take place, with 'operating tables' tilted at an angle with the support of bricks to help surgeons get easier access during surgery
PHOTO • Anubha Bhonsle

کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں ایک ’آپریشن تھیٹر‘ جہاں نس بندی کی کارروائی کی جائے گی، جہاں ’آپریٹنگ ٹیبل‘ کو اینٹوں کے سہارے ایک طرف سے تھوڑا جھکایا گیا ہے تاکہ سرجری کے دوران ڈاکٹر کو وہاں تک پہنچنے میں آسانی ہو

’’میڈیکل اسکول میں ہم نے ٹرینڈیلن برگ کی سہولت والے آپریشن ٹیبل کے بارے میں سیکھا تھا۔ انہیں جھکایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں پانچ سال تک رہنے کے دوران میں نے ویسا ایک بھی نہیں دیکھا ہے، اس لیے ہم ایسا کرتے ہیں،‘‘ ڈاکٹر راہل گوسوامی (ان کا اصلی نام نہیں) نے اینٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’سرجری کے دوران بیٹھنے کے غلط انداز سے پریشانیاں پیدا ہو سکتی ہیں،‘‘ انہوں نے آگے کہا۔

نیہا سرجری کے لیے کمرے میں لائی جانے والی پہلی تین خواتین میں سے ایک تھیں۔ ان کی ساس کو باہر انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ تینوں خواتین میں سے کسی نے بھی مانع حمل کے کسی بھی جدید طریقے کا استعمال نہیں کیا تھا۔ نیہا کم از کم ان کے بارے میں جانتی تھیں، لیکن انہیں استعمال کرنے میں احتیاط برتتی تھیں۔ ’’میں ان کے بارے میں جانتی ہوں، لیکن گولیاں کھانے سے متلی آتی ہے اور کاپر ٹی ڈراؤنا لگتا ہے۔ یہ ایک لمبی چھڑ ہے،‘‘ انہوں نے انٹرا یوٹیرائن ٹیوائس (آئی یو ڈی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔

منظور شدہ سماجی صحت کارکن (آشا)، دیپ لتا یادو، جو دیگر خواتین کے ساتھ آئی تھیں، اس بات پر مسکرائیں۔ ’’کاپر آئی یو ڈی کے بارے میں بات کرنے پر آپ کو عام طور پر یہی سننے کو ملے گا۔ حالانکہ اندر کا آلہ کافی چھوٹا اور ٹی- کی شکل کا ہے، صرف پیکیجنگ لمبی ہے، اس لیے انہیں لگتا ہے کہ پوری چیز اندر ڈالی جائے گی،‘‘ یادو نے کہا۔ یہاں پر آج کے دن کا اُن کا کام پورا ہو چکا ہے اور اس عمل کے لیے وہ جتنی بھی خواتین کو یہاں لے کر آئی تھیں اس کے بدلے انہیں ۲۰۰ روپے فی خاتون کے حساب سے ملیں گے، لیکن یادو لمبے وقت تک رکتی ہیں، دونوں عورتوں کو بیڈ پر چڑھنے میں مدد کرتی ہیں اور اینستھیسیا (بیہوش کرنے والی دوا) کے اثر کرنے تک انتظار کرتی ہیں۔

آپریٹنگ ٹیبل پر پہنچ جانے کے بعد، آپ ایک خاتون کو دوسری سے نہیں بتا سکتے تھے۔ جس وقت ڈاکٹر ایک ایک کرکے ہر ایک میز پر جا رہا تھا، ان کے سر خوف اور تکان سے جھکے ہوئے تھے۔ اس عمل نے ان سبھی کو ایک ہی کمرے میں رہنے پر مجبور کر دیا تھا، وہ بھی بے پردگی کے ساتھ۔ لیکن اس میں سے کسی کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ ان کارروائیوں کو انجام دیتے وقت آپریشن والے کمرے کا دروازہ کئی بار کھلتا اور بند ہوتا تھا، جس سے عورتوں کی رازداری میں خلل پڑ رہا تھا۔

کمرہ ان کی سانس اور آلات کی کھنک سے بھرا ہوا تھا۔ ایک معاون نے ان کی حالت کی جانچ کی اور ان کی ساڑیوں کو ہٹایا، تاکہ ڈاکٹر ٹھیک سے چیرا لگا سکے۔

The women who have undergone the procedure rest here for 60 to 90 minutes before an ambulance drops them to their homes
PHOTO • Anubha Bhonsle

جو عورتیں اس عمل سے گزرتی ہیں، انہیں ۶۰ سے ۹۰ منٹ تک یہاں آرام کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی کوئی ایمبولینس انہیں ان کے گھروں تک پہنچاتی ہے

’’نس بندی کے عمل کے سبھی تین مراحل میں، جس میں چیرا لگانا، اسے بند کرنا اور لیپروسکوپک آلات کے ساتھ بیض نالی پر کام کرنا شامل ہے، مناسب روشنی کا انتظام ہونا ضروری ہے،‘‘ گوسوامی نے کہا۔ دوپہر کی تیز روشنی نے شام کے ڈھلتے سورج کو راہ دکھائی۔ کمرے میں روشنی ناکافی لگ رہی تھی، لیکن کسی نے بھی وہاں موجود ایمرجنسی لائٹ نہیں جلائی۔

پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں، ایک عمل پورا ہو گیا اور ڈاکٹر اگلی میز پر چلا گیا۔ ’’ہو گیا، ڈن!‘‘ انہوں نے کہا، یہ وہاں موجود معاون اور آشا کارکن کے لیے ایک اشارہ تھا کہ عورت کو میز سے نیچے اترنے میں مدد کی جائے اور اگلے گروپ کو تیار رکھا جائے۔

بغل کے کمرے میں، گدّے بچھا دیے گئے تھے۔ پیلی دیواروں پر نمی اور کائی کے داغ تھے۔ سامنے کے دروازے پر موجودہ ٹوائلیٹ سے بدبو آ رہی تھی۔ عمل پورا ہو جانے کے بعد، نیہا کو لیٹانے کے لیے لایا گیا جہاں پر ٹھیک ہوجانے کے بعد انہیں اور دیگر عورتوں کو ایک ایمبولینس سے گھر چھوڑا گیا۔ آدھے گھنٹے بعد جب وہ ایمبولینس میں سوار ہوئیں، تب بھی انہیں ہوش نہیں آیا تھا۔ جزوی طور پر اس لیے کیوں کہ یہ سب اتنی جلدی کیا گیا تھا، اور جزوی طور پر اس لیے کہ انہیں ٹھیک سے انیستھیسیا نہیں دیا گیا تھا۔

وہ جب گھر پہنچیں، ساس کے ساتھ ساتھ، تو آکاش ان کا انتظار کر رہے تھے۔ ’’مرد جب گھر لوٹتے ہیں، تو امید کرتے ہیں کہ ان کی ماں، ان کی بیوی، ان کے بچے، ان کا کتّا انتظار کرتا ہوا ملے، جب کہ دوسروں کے لیے وہ ایسا نہیں چاہتے،‘‘ ساس نے تبصرہ کیا اور سیدھے گھر کے ایک چھوٹے سے کونے میں چلی گئیں، یعنی باورچی خانہ میں نیہا کے لیے چائے بنانے۔

’’انجکشن لگنے کے بعد بھی درد ہو رہا تھا،‘‘ انہوں نے پیٹ کو پکڑے ہوئے کہا، جہاں پٹّی کا ایک چوکور ٹکڑا چیرا پر لگا دیا گیا تھا۔

دو دن بعد، نیہا باورچی خانہ میں تھیں، کولہے کے بل بیٹھ کر کھانا بنا رہی تھیں۔ پٹّی ابھی بھی لگی ہوئی تھی، تکلیف ان کے چہرے سے نظر آ رہی ہیں، اور ٹانکے کا زخم ٹھیک ہونا ابھی باقی تھا۔ ’’لیکن پریشانی ختم،‘‘ انہوں نے کہا۔

کور کا خاکہ: پرینکابورار نئے میڈیا کی ایک آرٹسٹ ہیں جو معنی اور اظہار کی نئی شکلوں کو تلاش کرنے کے لیے تکنیک کا تجربہ کر رہی ہیں۔ وہ سیکھنے اور کھیلنے کے لیے تجربات کو ڈیزائن کرتی ہیں، باہم مربوط میڈیا کے ساتھ ہاتھ آزماتی ہیں، اور روایتی قلم اور کاغذ کے ساتھ بھی آسانی محسوس کرتی ہیں۔

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گرہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

انوبھا بھونسلے ۲۰۱۵ کی پاری فیلو، ایک آزاد صحافی، آئی سی ایف جے نائٹ فیلو، اور ‘Mother, Where’s My Country?’ کی مصنفہ ہیں، یہ کتاب بحران زدہ منی پور کی تاریخ اور مسلح افواج کو حاصل خصوصی اختیارات کے قانون (ایفسپا) کے اثرات کے بارے میں ہے۔

Other stories by Anubha Bhonsle