پرسنّا سابر گزشتہ ۳۰ برسوں سے رکشہ چلا رہے ہیں۔ یہ رکشہ اور بعض دفعہ چھتیس گڑھ کی راجدھانی، رائے پور کے ریلوے اسٹیشن کے قریب کا فٹ پاتھ، ان کا گھر بھی ہے۔ ان کے پاس کبھی اتنا پیسہ نہیں آیا کہ وہ اس شہر میں کوئی مکان کرایہ پر لے سکیں۔

ہم نے ایک دن صبح جب رائے پور اسٹیشن پر ان سے ملاقات کی، تو وہ اپنے رکشہ پر بیٹھے ہوئے مسافروں کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے انہی کی زبان کوسلی (اُڑیہ کی ایک شکل) میں بات کی، تو وہ ہمیں اپنی کہانی سنانے پر راضی ہو گئے۔

پرسنّا اڈیشہ کے نواپاڑہ ضلع کے سن مہیشور گاؤں سے آتے ہیں، جو رائے پور سے ۲۰۰ کلومیٹر دور ہے۔ کئی دہائی قبل جب پرسنّا، جن کی عمر اب ۵۰ سال ہو چکی ہے، نے رکشہ چلانے کے لیے راجدھانی میں آنا شروع کیا تھا، تب رکشہ کا روزانہ کا کرایہ ۵ روپے تھا۔ اب یہ ۴۰ روپے ہے۔ وہ جب کچھ ہزار روپے کما لیتے ہیں، تو چند دنوں کے لیے اپنے گاؤں گھر والوں سے ملنے چلے جاتے ہیں، پھر اس شہر میں لوٹ آتے ہیں۔ یہ سلسلہ گزشتہ ۳۰ سالوں سے چل رہا ہے۔

وہ روزانہ ۱۰۰ روپے سے ۳۰۰ روپے تک کما لیتے ہیں۔ اس میں سے تقریباً ۱۱۰ روپے وہ کھانے پر خرچ کردیتے ہیں۔ لہٰذا، اگر دن میں اچھی کمائی ہو گئی، تو اس میں سے ایک تہائی حصہ اور اگر کمائی ٹھیک نہیں ہوئی، تو روزانہ کی آمدنی کا ۱۰۰ فیصد انھیں خود کو زندہ رکھنے کے لیے خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس سے بھی زیادہ آمدنی ہوئی، تو وہ ۶۰ روپے کی شراب خریدتے ہیں۔ لیکن یہ ان کے لیے روز کا معمول نہیں ہے، وہ بتاتے ہیں۔ ’’چند سال قبل میری دوستی اپنے ہی جیسے دیگر مہاجرین سے ہو گئی، جن کی وجہ سے مجھے شراب اور جوا کی لت لگ گئی۔ میں بیمار پڑا اور حالت اتنی بگڑ گئی کہ میرے گھر والوں کو گاؤں کے ہی ایک آدمی سے ۳ ہزار روپے قرض لے کر میرا علاج کرانے یہاں آنا پڑا۔ مجھے سبق مل گیا تھا، اس لیے اب میں احتیاط سے کام لیتا ہوں۔‘‘

پرسناّ کی طرح ہی ہزاروں اڑیہ لوگ ریاست میں ۱۹۶۰ کی دہائی میں پڑنے والے شدید قحط کی وجہ سے رائے پور چلے آئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر، ریلوے پٹریوں کی دونوں جانب بنی جھگیوں میں اور پاس کی کچھ کالونیوں میں بس چکے ہیں۔ لیکن پرسنا اپنی آدیواسی فیملی میں پہلے شخص تھے جو اس شہر میں آئے تھے۔

ان کی فیملی میں ان کی بیوی، دو بیٹے، ایک بہو، ایک پوتا، اور ان کے بوڑھے والد موجود ہیں۔ ’’ہمارے پاس میرے والد کے نام پر صرف ۱۴ء۱ ایکڑ زمین ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’اس کے بعد میری ماں نے ۸۰ ڈِسمِل (۸۰ء ایکڑ) زمین اور خریدی۔ پیسہ کا انتظام ان لوگوں نے، جلانے والی لکڑی جمع کرکے روزانہ ۱۲ کلومیٹر پیدل چل کر پاس کے قصبہ میں بیچ کر کیا تھا۔ اب وہ زمین میرے چاچا کے پاس چلی گئی ہے۔‘‘


02-PT-Prasanna's home is his rickshaw.jpg

پرسنّا رائے پور میں چند ہزار روپے کمانے کے بعد، اڈیشہ میں اپنے گھر اور فیملی کے پاس لوٹتے ہیں اور جلد ہی چھتیس گڑھ کے اس شہر میں لوٹ آتے ہیں۔ یہ سلسلہ گزشتہ ۳۰ برسوں سے چل رہا ہے


پرسناّ جب ۱۶ سال کے تھے، تبھی ان کی شادی کر دی گئی تھی۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ بڑے بیٹے کا نام جیتو ہے، جس کی شادی ۲۳ سال کی عمر میں ہوئی تھی، جس کے اپنا بھی ایک لڑکا ہے۔ فیملی نے بچے کی ۲۱ویں پر (۲۱ دن کا ہوجانے پر ہونے والی ایک رسم) ۱۵ ہزار روپے خرچ کیے، کیوں کہ یہ ان کا پہلا پوتا تھا۔ کیا آپ اس کو پڑھانا چاہتے ہیں، ہم نے پوچھا۔ ’’بالکل،‘‘ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف جوڑتے ہوئے انھوں نے جواب دیا، ’’اگر بھگوان نے مجھے زندہ رکھا، تو میں اس کی پڑھائی کا بہتر انتظام کروں گا۔‘‘

خود پرسناّ نے پانچویں کلاس تک پڑھائی کر رکھی ہے۔ اس کے بعد ان کے والدین نے اپنے چھوٹے سے کھیت پر ان کو کام پر لگا دیا تھا۔ جس سال پرسنّا کی پیدائش ہوئی، یعنی ۱۹۶۵ میں کالا ہانڈی میں زبردست قحط پڑا، اس کے بعد ہر دوسرے سال قحط پڑنے لگا۔ پرسنّا جب چند ہفتوں کے ہی تھے، تو ان کے والدین انھیں وزیر اعظم اندرا گاندھی کو دکھانے لے گئے، جو حالات کا جائزہ لینے کے لیے کھریار آئی ہوئی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ، بھوک اور بیماری کی وجہ سے اس وقت ہزاروں لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

پرسنّا کے بیٹے بھی بہت زیادہ پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔ جیتو دسویں کلاس کا امتحان پاس نہیں کر پایا تھا اور چھوٹے والے بیٹے ربی نے، صرف ساتویں کلاس تک پڑھائی کی ہے۔ دونوں ہی ممبئی میں عمارتوں کی تعمیر سے متعلق مزدوری کا کام کرتے ہیں۔ گاؤں کے لڑکے گروپ بناکر شہر کام کرنے جاتے ہیں۔ وہ عمارتوں کی تعمیر جہاں ہورہی ہوتی ہے، وہیں رہتے ہیں اور روزانہ ۳۰۰ روپے کی مزدوری کے حساب سے کماتے ہیں۔ کچھ اووَر ٹائم کام کرتے ہیں اور مزید پیسے کما لیتے ہیں۔ وہ کچھ پیسہ جمع کرکے ۳ سے ۶ ماہ بعد گھر لوٹتے ہیں، جہاں یا تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ کچھ وقت گزارتے ہیں یا پھر کھیتوں پر کام کرتے ہیں، اور پھر واپس شہر لوٹ جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔

’’فصل کی بُوائی کے بعد، آدھا گاؤں اینٹ کی بھٹّیوں پر کام کرنے کے لیے آندھرا پردیش چلا جاتا ہے۔ لیبر کانٹریکٹر ایک پوری فیملی کو ۲۰ ہزار روپے دے کر انھیں کام کرانے کے لیے اپنے ساتھ لے کر چلا جاتا ہے۔ میں نے یہ کبھی نہیں چُنا، کیوں کہ اگر میں ممبئی میں کنسٹرکشن لیبر کے طور پر تین مہینے گزاروں، تو اپنی فیملی کے لیے ۳۰ ہزار روپے کما سکتا ہوں،‘‘ پرسنّا کہتے ہیں۔ ’’میں اپنی پوری فیملی کو اتنی مشکل زندگی میں کیوں جھونکوں؟‘‘

بھٹہّ ٹھیکہ دار ہر پتھریا کو ایڈوانس میں ۲۰ ہزار سے ۳۰ ہزار روپے دے دیتے ہیں۔ پتھریا تین لوگوں کے ایک گروپ کو کہتے ہیں، جو ایک ہی اینٹ بھٹّہ پر کام کرتا ہے۔ مقامی سردار یا ایجنٹ ان مزدوروں کو لیبر کانٹریکٹرس کو سونپتے ہیں، جو انھیں بھٹّہ مالکوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ بھٹے پر چھ مہینے گزارتے ہیں اور مانسون آنے سے پہلے، مئی اور جون کے مہینے میں اپنے گاؤں واپس آ جاتے ہیں۔

لمبا سفر، خراب معیارِ زندگی اور سخت محنت کی وجہ سے یہ لوگ اکثر بیمار پڑ جاتے ہیں۔ کئی مزدوروں کو ٹی بی کا مرض ہو جاتا ہے۔ لیکن ایڈوانس رقم انھیں اپنی جانب کھینچتی ہے۔ فیملی میں کسی کی شادی کرنی ہو، کسی کا علاج کرانا ہو، مکان بنانا ہو، بیل کے جوڑے خریدنے ہوں یا پھر قرض واپس کرنا ہو، ان سارے کاموں میں موٹی رقم کی ضرورت پڑتی ہے، لہٰذا ان کے پاس مذکورہ کام کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں بچتا۔

مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون پوری طرح سے اس ہجرت کو نہیں روک پایا ہے۔ اس کے پیسے وقت پر نہیں ملتے اور ساتھ ہی ریگولر کام ملتے رہنے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ صرف وہ لوگ جو مزدوری ملنے کا انتظار کر سکتے ہیں، وہی گاؤں میں رکتے ہیں، یہاں کھیتوں پر یا منریگا کے کام کی جگہوں پر مزدوری کرتے ہیں۔

پرسنّا کی فیملی کی پچھلے سال اپنے چھوٹے بیٹے، ربی کی شادی پر ایک لاکھ روپے خرچ کیے۔ باپ اور بیٹوں نے اپنی اپنی کمائی کے پیسے جمع کیے اور رشتہ داروں سے قرض لے کر شادی کا خرچ برداشت کیا۔ انھوں نے کھانے میں گوشت وغیرہ کا انتظام کیا، ساتھ ہی شادی کی پوری تقریب کی ویڈیوگرافی کرانے کے لیے ایک آدمی کو پیسے دے کر لے آئے۔ ’’ہمارے پاس شادی کی دو ڈی وی ڈی ہیں،‘‘ پرسنّا فخر سے کہتے ہیں۔

کیا آپ کے پاس بی پی ایل (خطِ افلاس سے نیچے کا) کارڈ ہے؟ ’’جی ہاں، میرے پاس بی پی ایل کارڈ ہے اور ایک میرے والد کے پاس بھی ہے،‘‘ پرسنّا جواب دیتے ہیں۔ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کے تحت ہر ایک کارڈ پر ایک روپیہ فی کلو کے حساب سے پوری فیملی کو ۲۵ کلو چاول ملتے ہیں۔ اس طرح اس فیملی کو ہر ماہ ۵۰ روپے میں ۵۰ کلو چاول اور ۷۰ روپے میں چار لیٹر مٹی کا تیل مل جاتا ہے۔

پرسناّ جیسی فیملی کے لیے سبسڈی پر ملنے والا چاول کافی مددگار ثابت ہوتا ہے، اس سے انھیں بھوکوں نہیں مرنا پڑتا۔ پہلے، لوگ تھوڑا سا اناج حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی کام کرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔ اب پی ڈی ایس نے انھیں کچھ حد تک اچھی زندگی بسر کرنے لائق بنایا ہے، اور اس کے نتیجہ میں مزدوری بھی کچھ حد بڑھی ہے۔ سبسڈی سے لوگ اب کھانے کے علاوہ دوسری چیزوں کے بارے میں بھی سوچنے لگے ہیں، جیسے اپنی صحت اور تعلیم کے بارے میں۔

پرسنّا کے والد کو بڑھاپے کا پنشن بھی ملتا ہے۔ یہ پنشن ۶۰ روپے سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ہر ماہ ۳۰۰ روپے اور ۸۰ سے زیادہ کی عمر والوں کو ۵۰۰ روپے ماہانہ ملتا ہے۔ پی ڈی ایس اور بڑھاپے یا بیوہ کا پنشن ان بزرگوں کو بھی اپنی فیملی کی مدد کرنے کے لائق بناتا ہے، جس سے فیملی میں ان کا وقار بھی بڑھا ہے۔

فلاحی اسکیموں نے یہاں کی کئی برادریوں کو سیکورٹی ضرور فراہم کی ہے، لیکن وہ ان گاؤوں سے ہجرت کو نہیں روک پائیں ہیں۔ اسی لیے پرسنّا اور ان جیسے دوسرے لوگ کام کی تلاش میں اب بھی شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔

 

 

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پرشوتم ٹھاکر ایک فری لانس جرنلسٹ، فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں، جو چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور ۲۰۱۵ میں پاری فیلو رہے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur