’’میں رات کے جلد گزر جانے کی دعا کرتی ہوں۔ اس گاؤں میں اب شاید ہی کوئی رہتا ہے، اس لیے سانپ ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں،‘‘ کَوَلا شری دیوی کہتی ہیں۔ سرکار نے مئی ۲۰۱۶ میں جب ان کے گاؤں کی بجلی کاٹ دی تھی، تبھی سے وہ اپنی فیملی کے ساتھ پوری طرح سے اندھیرے میں اپنی راتیں گزار رہی ہیں۔

شری دیوی کی فیملی، مغربی گوداوری ضلع کے پولاورم منڈل میں، گوداوری ندی کے ٹھیک بغل میں واقع پایڈیپاکا گاؤں میں باقی بچے رہ گئے صرف ۱۰ کنبوں میں سے ایک ہے۔ جون ۲۰۱۶ میں تقریباً ۴۲۹ دیگر کنبوں کو یہاں سے جانے پر تب مجبور ہونا پڑا، جب سرکار نے آبپاشی پروجیکٹ کے لیے ان کی زمینیں تحویل میں لے لی تھیں۔ جل یَگَیم نامی ایک وسیع منصوبہ کے اس حصہ کا ۲۰۰۴ میں افتتاح ہوا تھا، جسے ۲۰۱۸ میں پورا ہو جانا چاہیے تھا، لیکن ابھی تک اس کے صرف ۶۰ فیصد حصہ کی ہی تعمیر ہو پائی ہے۔

’’بجلی کاٹنے کے ایک ماہ بعد، انہوں نے پینے کے پانی کا کنیکشن بھی کاٹ دیا،‘‘ شری دیوی بتاتی ہیں، جو اَب اپنے شوہر سوریہ چندرم کے ساتھ ان کے آٹو رکشہ سے آٹھ کلومیٹر دور، پولاورم شہر جاکر ۲۰ روپے میں ۲۰ لیٹر پانی لاتی ہیں۔

کچھ وقت کے لیے، دونوں میاں بیوی بھی اپنے تین بچوں (سب سے اوپر کَور فوٹو دیکھیں) کے ساتھ گوپال پورم منڈل کے حکم پیٹا کی باز آبادکاری کالونی چلے گئے تھے، جہاں کئی دیگر کنبے بھی چلے گئے تھے۔ لیکن تقریباً ایک مہینے بعد وہ پایڈیپاکا لوٹ آئے۔ ’’ہم نے افسروں پر بھروسہ کیا تھا، لیکن جب یہ امید ہی نہیں بچی کہ سرکار اپنے وعدے پورے کرے گی، تو ہم واپس لوٹ آئے،‘‘ شری دیوی اپنے آنسوؤں کو روکتے ہوئے بتاتی ہیں۔

Houses demolished in Pydipaka in May – June 2016
PHOTO • Rahul Maganti

پایڈیپاکا کے زیادہ تر کنبوں کو ۲۰۱۶ میں ناکافی باز رہائشی کالونیوں میں جانے پر مجبور کیا گیا؛ ان کے گھر مسمار کر دیے گئے تاکہ وہ واپس نہ لوٹ سکیں

سبھی کنبوں کو چار کالونیوں میں بسایا گیا – پولاورم اور حکم پیٹا گاؤوں میں ایک ایک اور جنگا ریڈی گوڈیم میں دو، جو پایڈیپاکا سے ۱۰ سے ۶۵ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہیں۔ سرکار نے انہیں کئی یقین دہانیاں کرائیں – کہ انہیں یہاں پر پایڈیپاکا میں اپنی زمین کے برابر زمین ملے گی، جن کنبوں کے پاس زمین نہیں تھی انہیں دو ایکڑ تک دیا جائے گا، ہر فیملی کو نوکری، پختہ گھر، ۶ء۸ لاکھ کا ایک مشت نمٹارہ پیکیج، اور فیملی کی ملکیت والے ڈھانچوں، درختوں اور جانوروں کے لیے معاوضہ ملے گا۔ ان قدموں کا ذکر تحویل اراضی بازآبادکاری اور باز رہائش (ایل اے آر آر) قانون، ۲۰۱۳ میں کیا گیا ہے۔ لیکن گاؤں والے کہتے ہیں کہ سرکار نے دو سال بعد بھی اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا ہے (اس کے بارے میں مزید اس سلسلہ کے اگلے مضمون میں)۔

شری دیوی اور سوریہ چندرم دلت ہیں؛ ان کے پاس زمین نہیں ہے اور وہ پایڈیپاکا میں زرعی مزدور کے طور پر کام کیا کرتے اور ۱۰۰-۳۰۰ روپے یومیہ مزدوری پاتے تھے۔ ’’میرے پاس اب کوئی کام نہیں ہے اور میرے شوہر گھر چلانے کے لیے پولاورم شہر میں آٹو رکشہ چلا کر ۳۰۰ روپے روزانہ کماتے ہیں،‘‘ شری دیوی کہتی ہیں۔ انہوں نے پرائیویٹ ساہوکاروں سے ۳۶ فیصد شرحِ سود پر ۱ لاکھ روپے قرض لے کر رکشہ خریدا تھا۔

ایک دوپہر کو ان کے گھر پہنچنے پر میں دیکھتا ہوں کہ ان کے تینوں بچے ۶ سالہ اسمائیلی، ۸ سالہ پرشانت اور ۱۰ سالہ بھرت اس بات سے بے خبر اپنے گھریلو کتے، اسنوپی کے ساتھ کھیل رہے ہیں کہ پولاورم پروجیکٹ سے ان کی زندگی پر کیا اثر پڑنے والا ہے۔ ’’کچھ سال پہلے تک میرے بہت سارے دوست تھے،‘‘ بھرت کہتا ہے۔ ’’وہ سبھی ایک نئی کالونی میں چلے گئے۔‘‘ وہ اور اس کے بھائی بہن اب گاؤں میں اکیلے بچّے ہیں۔ انہوں نے دو سال پہلے تب اسکول جانا بند کر دیا تھا، جب اسے اس پروجیکٹ کے اہلکاروں کے ذریعے بند اور مسمار کر دیا گیا تھا؛ ان کے والدین انہیں پولاورم شہر کے اسکول بھیجنے کا خرچ نہیں برداشت کر سکتے۔

گاؤں کے زیادہ تر گھروں کو بھی توڑ دیا گیا ہے، جس سے ان کنبوں کا لوٹنا مشکل ہو گیا ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ باز رہائشی کالونیاں ان کی امیدوں کے مطابق نہیں ہیں۔ شری دیوی کا گھر خوش قسمتی سے بچ گیا، کیوں کہ یہ گاؤں کے آخری کنارے پر واقع ایک دلت بستی میں ہے۔

Prashanth, Smiley and Bharath (Left to Right) in front of their house along with their pet, Snoopy
PHOTO • Rahul Maganti
The demolished school in Pydipaka
PHOTO • Rahul Maganti

پرشانت، اسمائیلی اور بھرت اپنے کتے، اسنوپی کے ساتھ۔ انہوں نے تب اسکول جانا بند کر دیا تھا، جب سال ۲۰۱۶ میں پروجیکٹ کے اہلکاروں کے ذریعے اسے (دائیں) مسمار کر دیا گیا

پایڈیپاکا سات گاؤوں میں سے ایک ہے – جس کی کل آبادی تقریباً ۵۵۰۰ ہے – جو پروجیکٹ کے مقام کے ٹھیک بغل میں واقع ہے، جہاں سے ۲۰۱۶ میں باشندوں کو ہٹنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔ پروجیکٹ کے اہلکار تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے اس زمین کو تحویل میں لینا چاہتے تھے۔ پولاورم منڈل میں گوداوری ندی کے شمال مغربی کنارے پر واقع ۲۲ دیگر گاؤں اور بستیاں – جن کی کل آبادی تقریباً ۱۵ ہزار ہے – بھی آخرکار بے گھر ہو جائیں گی اور ان کے گھر غرقاب ہو جائیں گے۔

پولاورم پروجیکٹ، جسے سرکاری طور پر اندرا ساگر کثیر مقاصد پروجیکٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، سے صنعتوں کو پانی اور ۵۴۰ گاؤوں میں پینے کا پانی دینے کے علاوہ ۳ لاکھ ہیکٹیئر میں آبپاشی اور ۹۶۰ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی امید ہے۔ یہ اعداد وزارت ماحولیات کی ماحولیاتی اثر کے تخمینہ کی رپورٹ کے ہیں، حالانکہ وہ مئی ۲۰۰۵ کے ریاست کے اپنے سرکاری حکم نامہ ۹۳ اور حیدرآباد میں کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے ذریعے دیے گئے بیان سے مختلف ہیں۔

پولاورم پروجیکٹ کے پوری طرح بن جانے کے بعد، آندھرا پردیش کے نو منڈلوں میں گوداوری کے ساحل پر پھیلے کم از کم ۴۶۲ گاؤوں گم ہو جائیں گے۔ ان گاؤوں میں کویا اور کونڈا ریڈی آدیواسی برادریوں کے لوگ رہتے ہیں اور آئین کے پانچویں شیڈول کے تحت آتے ہیں، جو خاص طور پر آدیواسی آبادی والے علاقوں کو اپنی زمین، جنگل اور ثقافت کے تحفظ کا خصوصی اختیار دیتا ہے۔

میرے ذریعے وزارتِ ماحولیات سے حق اطلاعات (آر ٹی آئی) قانون کے تحت حاصل کی گئی دستاویزوں کے مطابق، ۱۰ ہزار ایکڑ جنگلاتی زمین اور ۱۲۱۹۷۵ ایکڑ غیر جنگلاتی زمین سے ۳ لاکھ سے زیادہ لوگ – جن میں ڈیڑھ لاکھ آدیواسی اور ۵۰ ہزار دلت شامل ہیں – بے گھر ہو جائیں گے۔ ۷۵ ہزار ایکڑ کی دوسری زمین نہروں، ڈسٹریبیوٹریز، ٹاؤن شپ اور ’گرین بیلٹ‘ کے لیے تحویل میں لی جا رہی ہے۔

A view of River Godavari from the verandah of Sridevi’s house
PHOTO • Rahul Maganti
Houses demolished in Pydipaka in May – June 2016
PHOTO • Rahul Maganti

گوداوری ندی دلت بستی میں کَوَلا شری دیوی کے گھر کے ٹھیک سامنے بہتی ہے، جو پایڈیپاکا کے زیادہ تر گھروں کے برعکس ٹوٹنے (دائیں) سے بچ گیا تھا

گاؤں کے لوگ کہتے ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باوجود ایل اے آر آر قانون نافذ نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس لیے شری دیوی کی فیملی سمیت ۱۰ کنبوں نے پایڈیپاکا سے جانے سے منع کر دیا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ اس قانون کے خصوصی التزام – کہ جبراً ہٹائے جانے پر دلتوں کو زمین دی جائے – کو بھی نافذ کیا جائے۔

حالانکہ صرف کچھ ہی کنبے یہاں بچے رہ گئے ہیں اور اپنی لڑائی کو جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن جو چلے گئے انہوں نے بھی زبردست احتجاج کیا تھا۔ گاؤں والے کہتے ہیں کہ ریاست کے مالیہ اور پولس محکمہ نے احتجاج کر رہے کنبوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا تھا۔ بجلی اور پینے کے پانی کا کنیکشن کاٹنے کے علاوہ، ۲۰۱۶ کے مانسون کے دوران، مبینہ طور پر اہلکاروں نے مزدوروں سے پایڈیپاکا کو جا رہی سڑک پر مٹی اور ریت ڈالنے کو کہا تھا – جس سے سڑک دلدلی ہو گئی اور گاؤں کا راستہ بند ہو گیا تھا۔ ’’ہمیں گاؤں آتے جاتے وقت گھُٹنے تک بھرے دلدل کو پار کرنا پڑتا تھا،‘‘ شری دیوی کہتی ہیں۔

پایڈیپاکا میں ٹھہرے رہ گئے اور مخالفت کرنے والے گاؤں کے ایک دیگر باشندہ، ۴۲ سالہ بوٹّا تری مورتلو کہتے ہیں کہ انہیں شدید ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔ ۳۰ جون، ۲۰۱۶ کو پروجیکٹ کے اہلکار مزدوروں کو لے کر آئے، جنہوں نے ان کے ڈھائی ایکڑ کے کیلے کے کھیت میں پتھر، ریت اور مٹی ڈال دی۔ ’’فصل کی کٹائی ہونے والی تھی، میں نے ایم آر او [منڈل ریونیو افسر] سے ایک مہینے رکنے کی گزارش کی... میں نے ۴ لاکھ روپے کی فصل کھو دی۔ اس دن گاؤں میں کل ۷۵ ایکڑ کی فصل تباہ کر دی گئی تھی،‘‘ تری مورتلو بتاتے ہیں، جو تبھی سے ۱۰ کلومیٹر دور واقع تیلاورم بستی میں زرعی مزدور کے طور پر ۲۵۰ روپے یومیہ مزدوری پر کام کر رہے ہیں۔ تیلاّورم اُن ۲۲ بستیوں میں سے ایک ہے جہاں سے لوگ آخرکار، جیسے جیسے پروجیکٹ آگے بڑھے گا، بے گھر ہو جائیں گے۔

تری مورتلو کی ۳۹ سالہ بیوی، بوٹّا بھانو فیملی کی ۱۰ بھینسوں، ۲۰ بکریوں، ۴۰ بھیڑوں اور ۱۰۰ مرغیوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں۔ کچھ جانوروں کو پتھروں اور ریت کے ڈھیر کے نیچے کچل دیا گیا۔ فیملی کو ان میں سے کسی کا بھی معاوضہ نہیں ملا۔ اور انہوں نے دیگر جانوروں کو اس لیے بیچ دیا کیوں کہ ان کی دیکھ بھال کے لیے کوئی آدمی نہیں بچا تھا۔ ’’ڈیئری اور گھریلو کام کے لیے ہم اپنے گھر میں ۱۰ لوگوں کو کام پر رکھا کرتے تھے۔ اب ہمیں اپنے معاش کے لیے کسی اور کے کھیتوں میں کام کرنا پڑتا ہے،‘‘ بھانو کہتی ہیں۔

Botta Trimurthulu showing the dump in his fields
PHOTO • Rahul Maganti
Botta Bhanu (right) and her daughter Sowjanya, who dropped out of Intermediate in 2016 when all the chaos was happening, in front of their house in Pydipaka
PHOTO • Rahul Maganti

بوٹّا تری مورتلو اس ملبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جس نے مبینہ طور پر ان کی کیلے کی فصل کو برباد کر دیا تھا۔ دائیں: ان کی بیوی بوٹّا بھانو (دائیں) گھر میں اپنی بیٹی سوجنیا کے ساتھ، اسے بھی اسکول چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا تھا

وہ اپریل-جولائی ۲۰۱۶ میں پیدا کیے گئے خوف کو یاد کرتی ہیں: ’’تقریباً ۴۰-۵۰ پولس والے روزانہ آتے اور ہمیں دھمکی دیتے تھے کہ وہ ہمارے ہاتھ پیر باندھ کر پولس کی جیپ میں ڈال کر لے جائیں گے۔ کئی فیملی جانا نہیں چاہتی تھی، لیکن وہ زیادہ دباؤ کو برداشت نہیں کر سکے،‘‘ بھانو کہتی ہیں۔

اس بارے میں پوچھے جانے پر پولاورم سرکلک انسپکٹر، بالا راجو مجھے بتاتے ہیں، ’’آپ جو کہہ رہے ہیں، وہ سراسر جھوٹ ہے۔ ہم نے دراصل گاؤں والوں کو آنے جانے میں مدد کی تھی۔‘‘

منڈل کے ریونیو افسر، مُکّنٹی بھی ہر بات سے پوری طرح انکار کرتے ہیں۔ ’’لوگوں کو ہٹانے کے لیے کوئی دباؤ نہیں بنایا گیا تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ لوگ خوشی خوشی یہاں سے چلے گئے کیوں کہ انہیں پیکیج اور آر اینڈ آر کالونیوں میں اپنے نئے پختہ گھر پسند آ گئے تھے۔‘‘ تری مورتلو کے کھیت میں ملبہ ڈالنے کے بارے میں وہ کہتے ہیں، ’’ایسا کوئی واقعہ کبھی نہیں ہوا۔ یہ الزام بے بنیاد ہیں۔‘‘

دریں اثنا، پایڈیپاکا میں مخالفت کر رہے کنبے ابھی بھی مطالبہ کر رہے ہیں سرکار ایل اے آر آر قانون کو پوری طرح سے نافذ کرے۔ ’’دباؤ کے پینترے کام نہیں کریں گے۔ ہم دو سال سے اندھیرے میں رہ رہے ہیں اور عادی ہو گئے ہےیں۔ ہم تب تک اپنے گاؤں سے باہر نہیں جائیں گے، جب تک کہ ہمیں وہ نہیں دیا جاتا جس کے ہم قانونی طور پر حقدار ہیں،‘‘ تری مورتلو کہتے ہیں۔ ’’میں یہی پر مر جاؤں گی، لیکن ہم تب تک نہیں ہٹیں گے، جب تک کہ ہمیں قانون کے تحت جو ملنا چاہیے، وہ نہیں ملتا،‘‘ شری دیوی کہتی ہیں۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائڈو، پایڈیپاکا سے تقریباً ۱۷۴ کلومیٹر دور، کرشنا ندی کے ساحل پر، نچلے علاقے میں واقع اپنے گھر – ایک غیر قانونی تعمیرات، جس کی مقامی میڈیا میں بڑے پیمانے پر چرچہ ہوئی تھی – میں بیٹھ کر ہر پیر کو پولاورم پروجیکٹ کا تجزیہ کرتے ہےیں، جب کہ گوداوری کے ساحل پر واقع شری دیوی کے قانونی گھر کو کبھی بھی گرایا جا سکتا ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Rahul Maganti

راہل مگنتی آندھرا پردیش کے وجیہ واڑہ میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔

Other stories by Rahul Maganti