کوڈنڈا رمی ریڈی کوئی عام کسان نہیں تھا۔ ۲۶ سال کی عمر میں اس کے پاس ایم بی اے کی ڈگری تھی اور وہ اپنے گاؤں میں استعمال ہونے والی کھیتی کی تکنیک اور طریقوں کو بدلنا چاہتا تھا۔

اس کی فیملی کے پاس مشترکہ طور پر ۲۰ ایکڑ زمین آندھرا پردیش کے اننت پور ضلع کے رایم پلّی گاؤں میں تھی۔ انھوں نے بہت سے لون (قرض) لیے ہوئے تھے، ایک بینک سے ایگریکلچرل لون، ایجوکیشن لون اور پرائیویٹ ساہوکاروں سے دوسرے متعدد قرض۔

اس کے والدین نے فیملی کی زمین کو رہن پر رکھ دیا تھا، اور رمی ریڈی اسے پرائیویٹ ساہوکاروں سے واپس لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے ان پیسوں کو ادا کرنے کی ضرورت تھی، جسے اس کی فیملی نے بینک سے بطور قرض لیا تھا۔ اس کے بعد ہی وہ اپنی دو ایکڑ زمین بیچ سکتا تھا، تاکہ ساہوکاروں سے لیے ہوئے قرض کے پیسے کو واپس کرسکے۔


01-mother kreddy-1192-RM-Suicide in Pursuit of a Passbook.jpg

رمی ریڈی کی غم زدہ ماں ۔ وہ صرف بینک سے اپنی ماں کا پاس بک واپس لینا چاہتا تھا


اپنی زمین کو بچانے کے لیے، بینک کی شرطوں پر عمل کرنا ضروری تھا اور دیگر قرضوں کو واپس بھی کرنا تھا، اس کام کو اس نے پورا کر لیا تھا۔ لیکن بینک کے اہل کاروں نے جو دباؤ ڈالا، اس نے اس کی جان لے لی۔ غصے اور درد کی حالت میں، ۲ جولائی، ۲۰۱۵ کو رمی ریڈی نے بینک کے احاطے میں زہر پی لیا۔


02-kreddy-1185-RM-Suicide in Pursuit of a Passbook.jpg

غم سے نڈھال شری نواس ریڈی (بائیں) نے کہا: ’’ساہوکاروں نے ہماری زمین پر قبضہ کر لیا ہوتا‘‘


’’وہ لڑکا صرف اپنی ماں کا پاس بک (اور زمین کی متعلقہ دستاویزیں) حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اگر یہ چیزیں اسے مل جاتیں، تو وہ اپنی زمین کے ایک ٹکڑے کو بیچ کر اسے رہن سے چھڑا سکتا تھا،‘‘ رمی ریڈی کے ایک دوست نے بتایا۔ ’’لیکن بینک منیجر نے دو ہفتوں تک کے لیے اسے پاس بک واپس دینے سے منع کر دیا۔‘‘

رمی ریڈی کئی دنوں تک اننت پور کے اُوراوکونڈا شہر میں واقع سنڈیکیٹ بینک جاتا رہا۔ بینک روزانہ جانے کی وجہ سے وہ وہاں پر ایک جانا پہنچانا چہرہ بن چکا تھا، اور بہت سے لوگوں کو اس کی پریشانی کا علم ہو تھا۔ وہ صرف پاس بک حاصل کرنا چاہتا تھا، تاکہ وہ اپنی زمین کو واپس چھڑا سکے اور کھیتی کے اس قدرتی طریقے کو شروع کر سکے، جو اس نے سیکھا تھا، حشرہ کش دواؤں اور کھادوں کا استعمال کیے بغیر۔ وہ آگے بڑھنے کے لیے بیتاب تھا۔

’’پرائیوٹ ساہوکاروں نے ہماری زمین ۳۔۶ مہینوں میں چھین لی ہوتی،‘‘رمی ریڈی کے بھائی شری نواس ریڈی نے بتایا۔ ’’ہم نے سوچا کہ ہمیں پاس بک واپس مل جائے گا، جس کے بعد ہم دو ایکڑ زمین بیچ دیں گے، اور ساہوکاروں کا پیسہ واپس کر دیں گے۔‘‘


03-kreddy-1244-RM-Suicide in Pursuit of a Passbook.jpg

شری نواس ریڈی نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا، ’’میرا بھائی زمین کے اندر جا چکا ہے اور کبھی واپس نہیں آئے گا‘‘


لہٰذا، رمی ریڈی نے اپنی ماں کے ذریعہ لیے گئے بینک کے قرض کو ۱۹ جون کو ادا کردیا تھا اور امید کر رہا تھا کہ اسے کاغذات واپس مل جائیں گے، تاکہ وہ دیگر کارروائیاں پوری کر سکے۔ لیکن بینک برانچ، جو قرضداروں سے اپنا پیسہ واپس لینے میں سختی برتنے کے لیے جانی جاتی ہے، نے اس وقت پاس بک لوٹانے سے انکار کر دیا، جب تک کہ یہ فیملی دوسرا لون، یعنی ایجوکیشن لون کا پیسہ بھی واپس نہ کردے۔

’’میرے والد نے ہماری بہن کے لیے ایجوکیشن لون کی گارنٹی لی تھی اور اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں،‘‘ شری نواس ریڈی نے بتایا۔ ’’لیکن بینک اس بنیاد پر ہمیں پاس بک لوٹانے سے منع نہیں کر سکتا کہ ہم نے ابھی تک ایجوکیشن لون کا پیسہ واپس نہیں کیا ہے۔ یہ تعلیم کے لیے تھا۔ ہمارے گاؤں میں دوسری کم از کم ۵۰ فیملیز ہیں، جنھوں نے ایجوکیشن لون کا پیسہ ابھی تک واپس نہیں کیا ہے، لیکن ان کے پاس تو پاس بک ہیں۔‘‘


04-sister_kreddy-1232-RM-Suicide in Pursuit of a Passbook.jpg

مہلوک نوجوان کسان کی بہن اور فیملی کے دیگر ممبران


رمی ریڈی بینک گیا اور مینجر سے پاس بک لوٹانے کی درخواست کرتا رہا۔ ’’پچھلے ہفتہ، بینک منیجر کے کہنے پر پولس رمی ریڈی کو پولس اسٹیشن لے گئی تھی۔ انھوں نے وہاں پر اسے پیٹا بھی تھا،‘‘ رمی ریڈی کے چچا ناگی ریڈی نے بتایا۔ ’’اس نے اچھی تعلیم پائی تھی اور کوئی جرم بھی نہیں کیا تھا۔ پولس نے جب بینک منیجر کا ساتھ دیا، تو اسے بہت غصہ آیا اور شرم بھی۔‘‘

لیکن، تب بھی رمی ریڈی نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ اپنی موت کے دن اس سے صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے اپنے چچا کو بلایا اور کہا: ’’میں نے ایک وزیر کے پرسنل اسسٹنٹ سے بات کی ہے۔ وہ ہمیں کاغذات واپس دلا دیں گے، اور ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘

’’میں نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اپنی جان دینے جا رہا ہے،‘‘ نوجوان آدمی کے چچا نے کہا۔


05-uncle_kreddy-1228.jpg

’’میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اپنی جان دینے جا رہا ہے،‘‘ نوجوان آدمی کے چچا ناگی ریڈی نے کہا


رمی ریڈی، حسب معمول ۲ جولائی کو بینک گیا اور ایک بار پھر منیجر سے پاس بک اور کاغذات لوٹانے کی درخواست کی۔ ایک بار پھر، اسے منع کر دیا گیا۔ رمی ریڈی دن میں تقریباً ایک بجے مونوکروٹوفوس (حشرہ کش دوا) کی بوتل کے ساتھ بینک واپس لوٹا۔ اس نے منیجر سے کہا کہ اگر اسے اس کے کاغذات واپس نہیں ملے، تو وہ اپنی جان لے لے گا۔

’’وہ ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گیا اور مونوکروٹوفوس پی لی،‘‘ کے آنند راؤ نے یہ بات بتائی، جو تیلگو روزنامہ ’وارتھا‘ کے اُوراواکونڈا میں مقیم صحافی ہیں۔ ’’حالانکہ بینک میں کافی بھیڑ تھی، لیکن رمی ریڈی نے جب زہر پی لیا، تو کم از کم ۲۰ منٹ تک لوگوں نے اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ اور اخیر میں جب وہ اسے لے کر اسپتال پہنچے، تو ڈاکٹر اس کی جان بچا نہیں پائے۔‘‘

رمی ریڈی کی جیب میں سوسائڈ نوٹ تھا۔ اس میں لکھا ہوا تھا: ’’شو شنکر سر سیاسی آقاؤں اور امیر لوگوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں اور وہ جان بوجھ کر مجھے پریشان کر رہے ہیں۔ سنڈیکیٹ بینک کے منیجر میری موت کے لیے ذمہ دار ہیں۔ جمعہ کی شام کو انھوں نے پولس سے مجھے مار کھلوائی۔ آپ کا کوڈنڈا رمی ریڈی، ایک کسان کا بیٹا۔‘‘


06-kreddy-1154_suicide note-RM-Suicide in Pursuit of a Passbook.jpg

سوسائڈ نوٹ دستخط شدہ تھا: ’’آپ کا، کوڈنڈا رمی ریڈی، ایک کسان کا بیٹا‘‘


رمی ریڈی ایک نوجوان آئڈیلسٹ تھا۔ وہ جیسے ہی اخبار میں کسی چیز کے بارے میں پڑھتا، فوراً اس کی تلاش میں نکل جاتا۔ وہ متجسس تھا اور پالیکر  کی زیرو بجٹ فارمنگ  سیکھنے کے لیے اس نے وشاکھاپٹنم کا سفر کیا تھا۔ وہ شمسی توانائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کرناٹک گیا تھا۔

اور اس تجسس میں اس کی فیملی پوری طرح اس کے ساتھ تھی۔ ’’مجھے اس پر ناز تھا اور ہم اسے یہ ساری چیزیں کرنے کے لیے پیسے لے جانے کی اجازت دیتے تھے،‘‘ زارو قطار روتے ہوئے شری نواس ریڈی نے بتایا۔ ’’ہائے میرا بھائی! وہ کسانوں کی زندگی کو بہتر بنانا چاہتا تھا۔ لیکن، بجائے اس کے وہ خود زمین کے اندر چلا گیا اور دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔‘‘


07-RM-Suicide in Pursuit of a Passbook.jpg

اس کی صلاحیتیں اور خواب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے


اور اس طرح ایک نوجوان کاروباری کسان، جو بڑا سوچتا تھا، مالی پریشانیوں میں پھنس کر ہار مان گیا۔ اس کی صلاحیتیں اور خواب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔

 

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Rahul M.

راہل ایم اننت پور، آندھرا پردیش میں مقیم ایک آزادی صحافی اور 2017 کے لیے پاری فیلو ہیں۔

Other stories by Rahul M.