’’میں بہت خوش تھی۔ میں نے کہا ’نمسکار‘۔ انھوں نے [صدرِ جمہوریہ نے] مجھے مبارکباد دی اور کہا، ’راشٹرپتی بھون میں آپ کا خیر مقدم ہے،‘‘ اس سال مارچ میں پدم شری حاصل کرنے کے لیے نئی دہلی کے اپنے سفر کو یاد کرتے ہوئے، کملا پُجاری کہتی ہیں۔

یہ انعام کملا جی کو بیجوں کے تحفظ کے ان کے کام کو دیکھتے ہوئے دیا گیا تھا (اوپر کے کور فوٹو کو دیکھیں)۔ ان کے لیے، یہ سفر چار دہائی پہلے شروع ہوا تھا، جب شادی کے بعد وہ اوڈیشہ کے کوراپُٹ ضلع کی پاترپُٹ بستی میں آئی تھیں۔ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس وقت گاؤں کے لوگ تقریباً ۱۵ دیسی قسموں کے دھان کی کھیتی کر رہے تھے، اور کالازیرہ، گوٹھیا، ہلدی چوڑی، اموریاچوڑی، ماچھ کانٹا، بھودیئی، ڈوڈی کابُری اور دیگر قسمیں کثرت سے تھیں۔

’’ہر فیملی دو یا تین قسم کے دھان کی کھیتی کرتی تھی، جو ایک دوسرے سے الگ ہوتا تھا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’فصل کی کٹائی کے آخر میں، لوگ آپس میں بیج اور اناجوں کا لین دین کرتے تھے۔ اس طرح، گاؤں میں بہت سی قسمیں تھیں۔‘‘

لیکن تقریباً ۲۵ سال قبل، دھان کی قسمیں کم ہونی شروع ہو گئیں۔ ’’میں نے دیسی قسموں کی کھیتی میں گراوٹ دیکھی۔ مجھے لگا کہ ان کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے،‘‘ کملا جی کہتی ہیں، جن کی عمر ۶۰ کی دہائی کے آخر میں ہے اور وہ بھومیا آدیواسی برادری سے ہیں۔

کملا جی کہتی ہیں کہ مشترکہ فیملی تقسیم ہونے کے سبب، چھوٹی خاندانی اکائیوں نے تیزی سے اعلیٰ پیداوار والے ہائبرڈ بیجوں کا استعمال کرنا شروع کر دیا۔ لیکن اس تبدیلی کو پالیسی کے ذریعے بھی فروغ حاصل ہوا۔ ’’منڈی [سرکاری خرید مرکز] میں سبھی قسموں کی خرید نہیں کی جاتی ہے، کیوں کہ وہ ان کے [’اچھی اوسط والی خصوصیات‘ کے] پیمانہ پر کھری نہیں اترتی ہیں۔،‘‘ کملا جی کے بیٹے ٹنکدھر پجاری کہتے ہیں۔ ’’کبھی کبھی منڈی میں ماچھ کانٹا جیسی قسموں کو بیچا جا سکتا ہے، جن کی کوالٹی بہت اچھی ہوتی ہے۔ لیکن زیادہ تر، ہم ماچھ کانٹا اور ہلدی چوڑی کی کھیتی گھریلو استعمال کے لیے کرتے ہیں، اور ’سرکاری دھان ۱۰۱۰‘ [ایک نئی ہائبرڈ قسم] کی کھیتی منڈی میں بیچنے کے لیے۔‘‘

Seeds storage in Nuaguda seed bank. Seeds stored in earthen pots are treated with neem and custard apple leaves to keep pests and fungus away. Seeds stored in air-tight plastic jars are labelled. Currently in the seed bank, there are 94 paddy and 16 ragi varieties
PHOTO • Harinath Rao Nagulavancha
Seeds storage in Nuaguda seed bank. Seeds stored in earthen pots are treated with neem and custard apple leaves to keep pests and fungus away. Seeds stored in air-tight plastic jars are labelled. Currently in the seed bank, there are 94 paddy and 16 ragi varieties
PHOTO • Harinath Rao Nagulavancha

کوراپُٹ ضلع سے کئی قسموں کے بیج اور دیسی قسمیں دھیرے دھیرے غائب ہوتی چلی گئیں، یا انھیں زمین کے چھوٹے ٹکڑوں پر خاص مواقع کے لیے اُگایا جاتا ہے۔ دیگر اب صرف بیج بینکوں میں پائے جاتے ہیں جیسے کہ نُواگُڈا گاؤں کا یہ بیج بینک، جس میں دھان کی ۹۴ اور راگی کی ۱۶ قسمیں ہیں

کملا جی نے جب دیسی قسموں کو غائب ہوتے دیکھا، تو انھوں نے بیج جمع کرنے کے لیے، عام طور پر پیدل چل کر، پاترپُٹ سے ۲۰ کلومیٹر کے دائرے میں گاؤوں کو چھاننا شروع کیا۔ ’’راستے سخت تھے، بہت سارا جنگل تھا،‘‘ وہ یاد کرتی ہیں۔ کبھی کبھی، ان کو انہی گاؤوں میں قیام کرنا پڑتا تھا جہاں وہ بیج جمع کرنے گئی تھیں۔

کملا جی نے جمع کیے گئے بیجوں کی ذخیرہ اندوزی اپنے گھر میں یا انھیں اپنی فیملی کے دو ایکڑ کھیت کے چھوٹے ٹکڑے پر بونا شروع کر دیا۔ وقت کے ساتھ، انھوں نے اپنی بستی سے تقریباً ۱۳ کلومیٹر دور، جیپور کی ایم ایس سوامی ناتھن ریسرچ فاؤنڈیشن (ایم ایس ایس آر ایف) شاخ کے ذریعے قائم کردہ پاترپُٹ کے ایک بیج بینک میں انھیں جمع کرنا شروع کیا۔

پڑوسی گاؤوں کے زیادہ تر کنبوں میں، ’’صرف دو قسموں [ماچھ کانٹا اور ہلڈی چوڑی] کی کھیتی ابھی بھی کی جا رہی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں جب ہم ان سے جیپور بلاک کی ڈونگورچِنچی پنچایت کے کنجیئی پاترپُٹ گاؤں سے تین کلومیٹر دور، ۱۱۹ گھروں کی بستی، پاترپُٹ میں ملتے ہیں۔ اس گاؤں کی کل آبادی ۹۶۶ ہے (اس بستی کے سبھی گھروں سمیت)، جس میں سے ۳۸۱ لوگ درج فہرست قبائل کے ہیں۔

کملا جی کے خود کے دو ایکڑ کھیت میں بھی، جس کی دیکھ بھال اب بنیادی طور پر ان کے تقریباً ۳۵ سالہ بیٹے ٹنکدھر کرتے ہیں، چھوٹے ٹکڑوں پر ماچھ کانٹا اور ہلدی چوڑی کو چھوڑ کر، فیملی اب روایتی دیسی قسمیں نہیں اُگاتی ہے۔ ٹنکدھر بتاتے ہیں کہ ایک دہائی قبل انھیں مقامی قسموں کی جگہ دھیرے دھیرے اعلیٰ پیداوار دینے والی ہائبرڈ قسموں کو اُگانا شروع کر دیا۔

Tankadhar Pujhari, Kamala Pujhari’s son, at their one-acre lowland paddy farm in Patraput hamlet
PHOTO • Harinath Rao Nagulavancha
Budra Pradhan shows the difference in two paddy varieties. While both the seeds are in dark brown color, the one on the left have [or top; depending on the photo orientation] more golden touch, from tip to the center. And the one on the right has golden color just at tip and on edges
PHOTO • Harinath Rao Nagulavancha

بائیں: ’ہماری آمدنی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کتنی پیداوار کرتے ہیں‘۔ دائیں: بُدر پردھان ہمیں دھان کی دو قسمیں دکھاتے ہیں

’’ہماری آمدنی اس بار پر منحصر ہے کہ ہم کتنی پیداوار کرتے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ایک یا دو روایتی قسموں سے پیداوار ۶-۱۰ کوئنٹل تک ہوتی ہے۔ یہ اعلیٰ پیداوار دینے والی قسموں [۱۵-۱۸ کوئنٹل] سے بہت کم ہے۔ اگر پیداوار کم ہوئی تو میں اپنی فیملی کی دیکھ بھال کیسے کروں گا؟ اس کے علاوہ، کئی کے بجائے ایک قسم کو بیچنا زیادہ آسان ہے۔‘‘

پھر بھی، اپنی فیملی کی مجبوریوں کے ساتھ، کملا جی نے بیج کے تحفظ کے اپنے کام کو جاری رکھا، جس کے لیے انھیں انعامات ملے۔ سال ۲۰۰۲ میں، انھوں نے جوہانس برگ میں جیپور کی آدیواسی برادریوں کی طرف سے ’ایکویٹر انیشی ایٹو‘ انعام حاصل کیا۔ سال ۲۰۰۹-۱۰ میں، پنچ بٹی گرامیہ اُنَّیَن سمیتی (۲۰۰۳ میں ایم ایس ایس آر ایف کی مدد سے قائم کردہ ایک دیہی ترقیاتی معاشرہ، جس کی کملا جی ماضی میں نائب صدر تھیں) کی طرف سے انھیں ’پلانٹ جینوم سیویئر کمیونٹی ایوارڈ‘ ملا، جسے پودوں کی قسموں اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ کی اتھارٹی (پی پی وی ایف آر اے) نے شروع کیا تھا۔

یہ انعام ہر سال زرعی بایو ڈائیورسٹی کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ریکارڈ کے لیے کسانوں یا سماج پر مبنی تنظیموں سے موصول درخواستوں کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ پی پی وی ایف آر اے حکومت ہند کی ایک اکائی ہے، جسے نومبر ۲۰۰۵ میں محکمہ زراعت کے تحت ۲۰۰۱ کے پی پی وی ایف آر اے قانون کو نافذ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ اتھارٹی اُن افزائشیوں اور کسانوں کو حقوق عطا کرتا ہے، جنہوں نے دیسی قسمیں محفوظ اور پیدا کی ہیں، انھیں تیار کیا یا فروغ دیا ہے۔

لیکن نہ تو پدم شری اور نہ ہی پی پی وی ایف آر اے انعام نے کملا جی کو اُن بیجوں کا حق پانے میں مدد کی ہے، جنہیں کبھی وہ اُگاتی تھیں اور اب ان کا تحفظ کر رہی ہیں۔ وہ تو پی پی وی ایف آر اے کو جانتی تک نہیں تھی اور نہ ہی انھیں یہ معلوم تھا کہ وہ ان حقوق کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کالازیرہ کے حقوق ۸ اکتوبر، ۲۰۱۳ سے اوڈیشہ کے ہری چندرپور کے جوگیندر ساہو کے پاس ہیں (اور یہ حقوق ۷ اکتوبر، ۲۰۲۸ تک ان کے پاس ہی رہیں گے)۔ کالازیرہ کے حقوق حاصل کرنے کے لیے جوگیندر کی درخواست کا اشتہار جون ۲۰۱۳ میں پلانٹ ویرائٹی جرنل آف انڈیا میں دیا گیا تھا۔ قانون کہتا ہے کہ کملا جی یا کوئی اور کسان یا برادری، جو سوچتے ہیں کہ ان کے پاس حقوق ہیں، تو انھیں تین ماہ کے اندر دعویٰ کی مخالفت درج کرانی ضروری ہے۔

Chandramma Masia at her house in Nuaguda
PHOTO • Harinath Rao Nagulavancha
Rukmani Khillo set to pack and store Machhakanta and Muktabali rice varieties for the next sowing season
PHOTO • Harinath Rao Nagulavancha

بائیں: نُواگُڈا بستی کی چندرمّا ماسیا کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی بھی دیسی دھان سے ’بہتر‘ قسم کی طرف مڑ گئی ہے۔ دائیں: رُکمنی کھِلّو مقام تہواروں کے لیے آدھا ایکڑ میں مُکتا بالی اور دو ایکڑ میں ماچھ کانٹا اُگاتی ہیں

لیکن کملا جی نے رسالہ نہیں پڑھا۔ درحقیقت، بہت سے کسانوں کو پی پی وی ایف آر اے کی جانکاری نہیں ہے یا انھیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ ان بیجوں کے حقوق کا دعویٰ کر سکتے ہیں جن کا استعمال وہ برسوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رجسٹریشن اُس شخص کے نام سے ہو جاتا ہے جو سب سے پہلے دعویٰ کرتا ہے۔ اس لیے، کالازیرہ کو اگر معاشی منافع ہوتا ہے، تو اس کا فائدہ اکیلے جوگیندر کو ملے گا، کم از کم اگلے ۹ سالوں تک تو ملے گا ہی۔ مئی ۲۰۱۹ تک پی پی وی ایف آر اے ۳۵۳۸ قسموں کے سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں – جن میں سے ۱۵۹۵ کسانوں کی قسمیں ہیں۔ باقی قسمیں پرائیویٹ بیج کمپنیوں، تحقیقی یونیورسٹیوں یا ذاتی معاشی افزائشیوں کے پاس ہیں۔

حالانکہ، زرعی کارکن بتاتے ہیں کہ کسی بھی کسان یا گروپ کے پاس تب تک حقوق نہیں ہونے چاہئیں، جب تک کہ انھوں نے نئی قسم کی پیداوار نہ کی ہو۔ ’’بیج کو کامیابی تبھی ملتی ہے، جب اسے کھیتوں میں موسم در موسم لگاتار استعمال کیا جائے، نہ کہ دوسرے طریقے سے [حقوق اور سرٹیفکیشن جیسے دوسرے طریقوں سے]،‘‘ کملا جی کہتی ہیں۔

دریں اثنا، مضبوط کھیتی نہ ہونے کے سبب، کئی قسمیں غائب ہو رہی ہے۔ کنجیئی پاترپُٹ سے تقریباً ۳۵ کلومیٹر دور، کُندورا بلاک کے لِمّا گاؤں کی نُواگُڈا بستی میں رہنے والی ایک دیگر بھومیا آدیواسی کسان، چندرَمّا ماسیا کہتی ہیں کہ ان کی فیملی بھی دیسی دھان (روایتی قسموں) سے ’بہتر‘ قسم کی جانب مڑ گیا ہے۔ ’’ہمیں اس سے [’بہتر‘ قسم سے] تقریباً ۱۸-۲۰ کوئنٹل ملا ہے۔ پیداوار کو بڑھتا دیکھ، دوسرے گاؤوں کے کسان بھی بیج کے لیے مجھ سے رابطہ کرنے لگے ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ چندرَمّا اپنی فیملی کے استعمال کے لیے، پنڈک گُرا نام کی ایک ۱۰۰ روزہ دیسی قسم آدھا ایکڑ کھیت میں اُگاتی ہیں۔

اسی طرح، پروجا برادری کی ایک آدیواسی کسان، ۴۰ سالہ رُکمنی کھِلّو، دو ایکڑ کھیت میں مُکتابالی اور ماچھ کانٹا اُگاتی ہیں۔ ’’انھیں بوائی کے دن سے ۹۰ سے ۱۰۰ دنوں کے اندر [لمبی مدت کی قسموں کے ۱۲۰-۱۴۰ دنوں کے مقابلے] کاٹا جا سکتا ہے، اور مقامی سطح پر کسانوں کے درمیان ان چھوٹی مدت کی قسموں کی اچھی مانگن ہے،‘‘ رُکمنی کہتی ہیں، جو لِمّا گاؤں کے جھولاگُڈا بستی سے ہیں۔

Raimati Ghiuria has packed Kalajira, close to 10 quintals, in a large bamboo basket, which she will open before the sowing season or during the Nuakhai festival
PHOTO • Harinath Rao Nagulavancha
“We have our first meal of year, cooked from grain produced that year, only after submitting the food to our village goddess, ‘Gaon Budhi Thakurani’,” says Damo Paroja
PHOTO • Harinath Rao Nagulavancha

بائیں: رائے متی گھِئوریا نے کالازیرہ کو بوائی اور نُواکھائی تہوار کے لیے ٹوکری میں پیک کر دیا ہے۔ دائیں: ’’ہم سال کا پہلا کھانا اُس سال پیدا کی گئی فصل کے انام سے پکاتے ہیں، اور کھانے سے پہلے اسے اپنے گاؤں کی دیوی کو چڑھاتے ہیں،‘‘ دامو پروجا کہتے ہیں

اور کملا جی کی بیٹی، ۴۲ سالہ رائے متی گھِئوریا، پاترپُٹ سے تقریباً ۳۵ کلومیٹر دور نُواگُڈا بستی میں اپنی فیملی کی چھ ایکڑ زمین پر ہی ان دیسی قسموں کی کھیتی کرتی ہیں۔ اس سال انھوں نے کالازیرہ، ماچھ کانٹا، ہلدی چوڑی، گوٹھیا، ڈنگر اور بوڈی کابُری کی کھیتی کی ہے۔ ’’چھ ایکڑ کھیت میں سے، دو ایکڑ کی پیداوار ۱۰ رکنی ہماری فیملی کے لیے کافی ہے۔ باقی اناج ہم [مقامی کسانوں کو] بیچ دیتے ہیں۔ یہ سبھی چھوٹی مدت کی قسمیں ہیں،‘‘ رائے متی کہتی ہیں۔

چھوٹی مدت کی قسمیں مقامی سطح پر بِک جاتی ہیں کیوں کہ آدیواسی تہوار، نُواکھائی میں ان کا خاص طور سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تہوار ستمبر سے اکتوبر کے آس پاس کچھ دنوں کے لیے منایا جاتا ہے۔ ’’ہم سال کا پہلا کھانا اُس سال پیدا کی گئی فصل کے اناج سے پکاتے ہیں، اور کھانے سے پہلے اسے اپنے گاؤں کی دیوی، بوڑھی ٹھکرانی کو چڑھاتے ہیں۔ اس دن ہم مشین سے پیسا ہوا اناج نہیں کھاتے بلکہ ہاتھ سے پیسا ہوا اناج کھاتے ہیں،‘‘ ۳۸ سالہ دامو پروجا کہتے ہیں، جو کہ پروجا آدیواسی برادری سے ہیں اور کُنڈورا بلاک کے کنڈورا گاؤں میں رہتے ہیں۔

دیگر سبھی دیسی قسموں کو بیج بینکوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے – پاترپُٹ، نُگوڈا اور جھولاگُڈا گاؤں میں (ایم ایس ایس آر ایف کے ذریعے قائم کردہ) سماج کے ذریعے چلائے جانے والے تین بینک ہیں۔ ’’ہمارے پاس نُواگُڈا کے بیج بینک میں دھان کی ۹۴ اور راگی کی ۱۶ قسمیں ہیں۔ ان سبھی کو ہر سال محفوظ کرنے والے ایک کھیت میں لگایا جاتا ہے۔ اس سال ہم نے مختلف مقامات سے کئی اور قسموں کو جمع کیا ہے اور دھان کی تعداد ۱۱۰ سے زیادہ کر دی ہے،‘‘ ریاستی حکومت کے اوڈیشہ ملیٹس مشن کے ایک گروہی وسائل شخص، ۲۵ سالہ بُدر پردھان کہتے ہیں۔

’’زراعت میں، بیج کو بونا، اُگانا، جمع، ذخیرہ، تقسیم کرنا پڑتا ہے۔ سبھی سرگرمیوں میں سے، مجھے لوگوں کو بیج تقسیم کرنا پسند ہے۔ میرے پاس جو کچھ ہے اگر میں اسے کھو دیتا ہوں، تو وہ کسی اور کے پاس محفوظ رہیں گے،‘‘ کملا جی کہتی ہیں۔ ’’سرکار کی حمایت سے ہمیں اپنے بیجوں کی حفاظت کرنے میں لمبا وقت لگے گا۔ میں ہمارے مستقبل کے لیے دیسی قسموں کے تحفظ میں ان کی حمایت کی اپیل کرتی ہوں۔‘‘

ان کے بیٹے ٹنکدھر کہتے ہیں، ’’اگلے سال سے، میں مقامی قسموں کی طرف لوٹنے والا ہوں۔ میرے ماں سے ملنے آنے والے بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں: آپ سرکاری کیسے اُگا سکتے ہیں جب کہ آپ کی ماں کو دیسی قسموں کے تحفظ کے لیے انعام ملا ہے۔‘‘

مضمون نگار WASSAN، کوراپُٹ، اوڈیشہ کے سوشانت شیکھر چودھری اور تریناتھ تاراپُٹیا اور ایم ایس سوامی ناتھن ریسرچ فاؤنڈیشن، کوراپُٹ، اوڈیشہ کے پرتاپ چندر جینا اور پرشانت کمار پریدا کے ممنون ہیں کہ انھوں نے معلومات فراہم کرنے اور ترجمہ کرنے میں ان کی مدد کی۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Harinath Rao Nagulavancha

ہری ناتھ راؤ ناگُل ونچا لیموں کے ایک کسان اور نلگونڈہ، تلنگانہ میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔

Other stories by Harinath Rao Nagulavancha