وہ مقدس غسل کے اس قدیم گھاٹ، رام کُنڈ کے کنارے پوجا کی حالت میں کھڑے ہوگئے۔ گوداوری ندی کی یہ شاید سب سے مقدس جگہ ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے کولھے کو جھکائے ہوئے نیچے کی طرف گئے اور غسل کیا، ایک ٹینکر کے مقدس پانی سے۔

مہاراشٹر میں آپ کا استقبال ہے، جہاں پانی کا بحران چل رہا ہے، خاص کر اس جگہ جو کہ گوداوری ندی کا نقطۂ آغاز ہے۔

تاریخی رام کُنڈ کا نہانے والا گھاٹ ۱۳۹ برسوں میں پہلی بار، اپریل ماہ میں خشک ہوگیا۔ تب سے لے کر اب تک تقریباً دو مہینوں سے اس کُنڈ (تالاب) کو روزانہ ۶۰ سے ۹۰ ٹینکروں سے پانی لاکر زندہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ مہاراشٹر ندی میں ٹینکر کا پانی ڈال رہا ہے۔ خود گوداوری مصیبت میں ہے، کئی جگہوں پر یہ سوکھ چکی ہے، جب کہ کسی نے بھی اپنی یادداشت میں اسے پہلے کبھی خشک ہوتے نہیں دیکھا ہے۔ مئی میں اس کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ ناسک کے ترمبک قصبہ سے اوپر کے برہم گیری پہاڑ، جہاں سے یہ ندی نکلتی ہے، سے اس میں قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا تھا۔ (اس جگہ کو اکثر و بیشتر ترمبکیشور کہا جاتا ہے، کیوں کہ اسی جگہ سے ندی کا آغاز ہوتا ہے۔) یہاں کے لوگوں کو امید ہے کہ حال ہی میں شروع ہونے والا مانسون کچھ راحت لے کر آئے گا۔


02-Untitled-1-PS-the sacred waters of the tanker.jpg

ایک ٹینکر ندی میں پانی ڈال رہا ہے۔ دائیں: ایک عقیدت مند ندی کے پانی سے نہیں، بلکہ ٹینکر کے پانی سے نہا رہا ہے


’’وہ قصبہ جہاں سے اس ندی کی شروعات ہوتی ہے، خراب موسم میں پانی لینے کے لیے وہاں کے لوگ تین دن میں ایک بار نیچے آتے ہیں،‘‘ کملاکر اکولکر ہنستے ہوئے کہتے ہیں، جو مذہبی سیاحت کے مقام، ترمبک میں پریس فوٹوگرافر کے ساتھ ساتھ  پروہت (پجاری) کا بھی کام کرتے ہیں۔ اکلولکر بتاتے ہیں کہ ’’گزشتہ ۲۰ برسوں سے یہاں جنگل کی کٹائی چل رہی ہے۔ ہمارے سبزہ زار غائب ہو چکے ہیں۔ اب بے شمار سڑکیں، ہوٹل، کرایے کے مکان بن چکے ہیں، ترقی ہو رہی ہے، دنیا بھر کی تعمیرات چل رہی ہیں۔ خود اس قصبہ کی آبادی تقریباً دس ہزار ہے۔ لیکن سیاحتی مقام ہونے کی وجہ سے یہاں مختلف قسم کے لوگوں کی موجودگی رہتی ہے اور عقیدت مندوں، سامان بیچنے والوں اور دیگر لوگوں کی وجہ سے یہاں ہر وقت ۵۰ ہزار لوگوں کا مجمع رہتا ہی رہتا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں پانی کی قلت جھیلنی پڑتی ہے۔ دو دہائیوں قبل یہاں پر چار مہینے برسات کا موسم رہتا تھا، لیکن اب صرف ڈیڑھ مہینے ہی بارش ہوتی ہے۔‘‘

چند کلومیٹر نیچے آنے پر، رام کُنڈ کے بڑے پجاری، ستیش شکلا نے ہمیں بتایا کہ ’’میونسپل کارپویشن نے ہمیں برباد کر دیا۔‘‘ شکلا، جو چند سال قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارپوریٹر ہوا کرتے تھے، گوداوری پنچ کوٹی پروہت سنگھ کے صدر ہیں۔ یہ ندی سے جڑے ہوئے پجاریوں کی ۷۰ سالہ پرانی تنظیم ہے۔ ’’کارپوریشن نے صدیوں پرانے پتھر سے بنے گھاٹ کو توڑ کر اس کی جگہ کنکریٹ کا گھاٹ بنا دیا۔ میرے خیال سے انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پچھلے دو مہینوں میں اس کی وجہ سے جتنا نقصان ہوا ہے، اتنا سینکڑوں برسوں میں نہیں ہوا تھا،‘‘ شکلا نے بتایا۔ ’’ہر چیز کی اینٹ پتھر سے تعمیر ندی کو ختم کر رہی ہے۔ پرانے آب خیز مر چکے ہیں، پانی کے پرانے چشمے ختم ہو چکے ہیں۔ انھوں نے ہم پجاریوں سے ایک بار بھی مشورہ نہیں کیا۔ انھوں نے جس کو چاہا بدل دیا۔ ندری کا قدرتی بہاؤ ختم ہو چکا ہے۔ بھگوان ورون ہمارے پجاریوں کی دعا ہمیشہ قبول کر لیتے تھے، جس سے بارش ہوتی تھی۔ لیکن افسوس، اب ایسا نہیں ہوتا۔‘‘


03-Untitled-2-PS-the sacred waters of the tanker.jpg

عقیدت مندوں کا مجمع رام کُنڈ کے کنارے جمع ہو رہا ہے۔ دائیں: گوداوری پریسٹس ایسوسی ایشن کے صدر، ستیش شکلا


بھگوان ورون بھلے ہی اپنے ان پروہتوں کی آواز پر کان نہ دھرتے ہوں، لیکن حکومت نے ناسک کے کمبھ میلہ کے لیے بارش کے بھگوان کا رول ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ محکمہ آبپاشی کے افسروں نے بتایا کہ کمبھ میلہ کے لیے گوداوری پر بنے سب سے بڑے باندھ، گنگا پور اور گوداوری کی دو چھوٹی معاون ندیوں گوتمی اور کشیپی سے کل ۱۳ ہزار لاکھ کیوبک فیٹ (ٹی ایم سی) پانی چھوڑا گیا۔ اگست۔ ستمبر، ۲۰۱۵ میں ’شنی اسنان‘ (مقدس غسل) کے لیے تین دنوں تک چھوڑا گیا پانی، اس کا صرف ایک حصہ تھا۔ اس سال جنوری میں اس پروگرام کے اختتام پر بھی ڈھیر سارا پانی چھوڑا گیا۔ مقدس غسل کی وجہ سے ندی میں جو گاد (کیچڑ مٹی وغیرہ) جمع ہوا، اسے صاف کرنے کے لیے مزید پانی چھوڑنا پڑا۔

مجموعی طور پر، میلہ اور اس سے وابستہ دیگر پروگراموں کے لیے کئی مہینوں تک ۱۳ ہزار لاکھ پانی چھوڑا گیا۔ یہ سال ۱۶۔۲۰۱۵ کے لیے ناسک شہر کے سال بھر کے پانی کے کوٹہ کا تقریباً آدھا ہے۔ اس کے خلاف عدالتوں میں شکایتیں بھی درج کرائی گئی ہیں۔ یہ سب ہو سکتا ہے کہ میلہ میں آنے والے عقیدت مندوں کی دعاؤں کا نتیجہ رہا ہو، لیکن ندی کے بہاؤ کی سمت میں رہنے والے کسانوں کی کسی نے نہیں سنی۔ انھیں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گنگاپور سے پانی کے جاری ہونے کا انتظار رہتا ہے۔


04-EV SAI_1061-PS-the sacred waters of the tanker.jpg

پرشانت نمسے اس تباہی کے بارے میں تفصیل سے بتا رہے ہیں، جو کمبھ میلہ میں پانی کے رخ کو موڑ دینے سے فصل کو ہوا ہے


’’ہمیں صرف ایک بار پانی ملا، جب کہ ہمیں اس کی تین بار ضرورت پڑتی ہے۔ آپ اسے ڈیڑھ کہہ سکتے ہیں، لیکن پہلی باری وقت سے پہلے آ گئی، وہ بھی نوٹس کے بغیر،‘‘ پرشانت نمسے بتاتے ہیں۔ وہ نندور گاؤں کے ایک کسان ہیں، اس گاؤں کو گنگاپور باندھ کی بائیں جانب والی نہر سے پانی ملتا ہے۔ انگور، انجیر اور باغبانی سے وابستہ دیگر فصل اؑگانے والے کسان، نِمسے بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنی زمین پر بنے شادی کے ہال سے تھوڑی بہت کمائی کر لی، ورنہ ان کا حال برا ہوتا۔ ویڈنگ ہال کے ان کے صارفین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، کیوں کہ یہ گاؤں ناسک شہر میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ ’’میں تو بچ گیا، لیکن جو لوگ پوری طرح سے کھیتی پر منحصر ہیں، وہ برباد ہو گئے۔‘‘

’’انگور کی فصل کو ہونے والا نقصان کئی طریقے سے بڑھتا جا رہا ہے،‘‘ نچلے علاقے میں رہنے والے ایک اور کسان، وسودیو کھاٹے نے ہمیں بتایا تھا۔ ’’قحط کے دنوں میں پانی کی کمی سے فصل کی پیداوار پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ ہم اگر انگور کی اچھی پیداوار کر بھی لیں، تو اس کی کوالٹی پر اس کا برا اثر پڑتا ہے۔ یاد رکھیں کہ ہر سال ایک ایکڑ زمین پر ۱۰۰ مردوں کو روزانہ مزدوری کرنی پڑتی ہے۔ چونکہ انگور کی کھیتی ۴۰ ہزار ایکڑ زمین پر ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر یہ فصل برباد ہوئی، تو مزدوروں کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا، یعنی تقریباً ۳۰ لاکھ دنوں کے کام کا نقصان۔ یہاں پر باہر سے مزدور آتے ہیں، مراٹھواڑہ سے آتے ہیں جس میں لاتور، بیڈ، اورنگ آباد اور عثمان آباد شامل ہیں۔‘‘ کام نہ ملنے سے مراٹھواڑہ کے ہزاروں گھروں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

بارش اب اس ریاست میں چاروں طرف ہونے لگی ہے۔ پھر، بہت سے کسانوں، مزدوروں اور دیگر لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ اچھے مانسون سے ہی یہ پریشانی ختم نہیں ہوگی۔ ’’اس سے راحت تو ملے گی،‘‘ فوٹوگرافر۔پروہت اکولکر کہتے ہیں، ’’لیکن طویل مدتی بحران بڑھ رہا ہے اور یہ ختم نہیں ہوگا۔‘‘

ناسک ضلع کے محکمہ آبپاشی کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر، پی بی مسال کی اس پریشانی پر کچھ اور ہی رائے ہے۔ ’’مہاراشٹر میں ہمارے پاس ایسی کوئی ندی نہیں تھی، جس میں پانی ہمیشہ بہتا ہو،‘‘ مسال کہتے ہیں۔ ’’گزشتہ ۲۰ برسوں میں زیر زمین پانی کی سطح میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ کھیتی کے لیے زمین سے کافی پانی نکالا گیا ہے۔ ناسک شہر کی آبادی تقریباً ۲۰ لاکھ ہو چکی ہے، جس میں باہر سے آنے والی ۳ لاکھ لوگوں کی آبادی بھی شامل ہے، جو گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ زمین کے استعمال میں کافی پھیر بدل ہوا ہے۔ وہ سبزہ زار جن سے شہر گھرا ہوا تھا، ان میں بھی اب زیادہ تر عمارتیں بن گئی ہیں۔‘‘ بارش کے بارے میں وہ دیکھ رہے ہیں کہ ٹھیک ڈھنگ سے نہیں ہوتی، لیکن اعداد و شمار میں بارش کے ’’سیکولر زوال‘‘ کو وہ نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ پروفیسر مادھو گاڈگل جیسے ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں سال بھر بہنے والی ندیاں موجود تھیں۔ لیکن انھیں ’’دھیرے دھیرے موسمیاتی ندیوں میں بدل دیا گیا ہے۔‘‘

مہاراشٹر میں پانی کی شدید قلت کی سب سے بڑی وجہ یہی انسانی ایجنسی ہے۔ ترمبکیشور میں پانی کا بحران، مغربی مہاراشٹر کے ستارا ضلع میں اولڈ مہابلیشور کی کرشنا ندی کے نقطۂ آغاز سے ملتا جلتا ہے، جسے ہم نے دیکھا ہے۔ (میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مئی میں وہاں بھی گیا تھا: Source of the rivers, scams of the rulers )

’’یاد رکھیں کہ ناسک ایک بڑا صنعتی علاقہ بن چکا ہے۔ اور پانی کی تقسیم کا نظام اس خطے میں پوری طرح بدل چکا ہے،‘‘ اکولکر کہتے ہیں۔ ’’ہر علاقہ، ہر گلی محلے میں بڑے پیمانے پر پانی کی غلط تقسیم ہوتی ہے۔ اچھی بارش کا بھی اس پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ سیاحت کا مطلب یہ ہے کہ قصبہ کا ہر فٹ اب کنکریٹ ہو چکا ہے۔ یہاں پانی کے بہنے یا سانس لینے کی کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔‘‘


05-EV SAI_1043-PS-the sacred waters of the tanker.jpg

ترمبکیشور مندر کا گنگا ساگر، اپنی عام سطح سے بھی نیچے ہے، حالانکہ یہ گوداوری ندی سے جمع ہونے والے پانی کا پہلا ٹینک ہے


بہت سے چھوٹے چھوٹے جھرنے جو برہم گیری سے بہہ کر ترمبکیشور کے گنگاساگر ٹینک میں پانی جمع کر دیتے ہیں، اب خشک ہو چکے ہیں، اور پہاڑ کے کنارے سفید شکل کے نظر آتے ہیں۔ ہم ان میں سے جتنے کو بھی دیکھ سکے، سبھی کے سبھی خشک تھے۔ اب شاید ریاست میں بارش کے آ جانے سے وہ دوبارہ زندہ ہو اٹھیں۔

بڑے پیمانے پر جنگلوں کی کٹائی، ندیوں کا جگہ جگہ ختم ہونا، صنعت اور امیروں کے لیے ریزورٹ بنانے کی وجہ سے پانی کے رخ کو جس طرح تیزی سے موڑا جا رہا ہے، اسے ریاست بھر میں ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ندیوں کے نقطۂ آغاز کی جگہوں کو بھی کنکریٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ زمین کے نیچے سے بڑی مقدار میں پانی باہر نکالا جا رہا ہے، جب کہ امیروں اور غریبوں کے درمیان پانی کی تقسیم میں جانبداری برتی جا رہی ہے۔ یہ تمام چیزیں مہاراشٹر میں پانی کی شدید قلت کی ذمہ دار ہیں۔ اور اس بحران کو مانسون سے بھی ٹھیک نہیں کیا جاسکتا، بھلے ہی بارشوں کی شروعات سے میڈیا کی کوریج کیوں نہ بند ہو گئی ہو۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath