ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے کسی ڈِکینسین ناول سے ابھی ابھی باہر قدم رکھا ہے۔ خالی کیے جا چکے گھروں کی ایک قطار کے درمیان، اپنے دروازہ پر بیٹھے ۷۱ سالہ ایس کنڈاسامی اس خاموش گاؤں میں سردیوں کے اپنے دنوں کو یاد کرتے ہیں، جہاں وہ پیدا ہوئے اور بڑے ہوئے۔ میناکشی پورم میں انھیں اپنی یہ باتیں شیئر کرنے کے لیے کوئی نہیں ملا، کیوں کہ یہاں رہنے والے ۵۰ کنبوں میں سے کوئی نہیں بچا تھا۔ المیہ تو یہ ہے کہ ان میں سے آخری فیملی – جو خود ان کی اپنی فیملی تھی – وہ بھی تقریباً پانچ سال پہلے یہاں سے چلی گئی۔

اس ویران گاؤں میں ان کا اکیلا وجود، محبت اور نقصان، امید اور ناامیدی کی کہانی بیان کرتا ہے۔ میناکشی پورم کے دیگر سبھی باشندوں نے، پانی کی شدید قلت سے نمٹنے میں ناکام رہنے کے سبب اسے چھوڑ دیا۔ لیکن کنڈاسامی نے عہد کر لیا تھا کہ ’’میں اپنے آخری دن اسی کمرے میں گزاروں گا، جہاں دو عشرے قبل میری بیوی ویرا لکشمی کا انتقال ہوا تھا۔‘‘ ان کے اس عہد کو نہ تو رشتہ دار توڑ سکے اور نہ ہی دوست۔

’’دیگر سبھی کنبے میری فیملی کے جانے سے پہلے ہی چلے گئے تھے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ پانچ سال پہلے، جب ان کے دوسرے بیٹے کی شادی ہوئی اور وہ بھی گاؤں چھوڑ کر چلا گیا، تو کنڈاسامی تمل ناڈو کے توتوکڈی کے شری ویکُنٹھم تعلقہ کے اس گاؤں کے اکیلے باشندہ بن گئے۔ پانی کے شدید بحران کا سامنا کر رہے اس ضلع کے اندر، میناکشی پورم میں حالت سب سے خراب تھی۔

’’مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی فیملی بہت دور گئی ہوگی۔ تقریباً ۱۰ فیملی نے سیکّرکُّڈی گاؤں میں سکونت اختیار کی ہے۔‘‘ مشکل سے تین کلومیٹر دور واقع یہ گاؤں بھی پانی کی کمی کا شکار ہے، شاید ان کے اپنے گاؤں سے کچھ ہی کم۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ بہتر طریقے سے اس کا سامنا کر رہا ہے اور تازہ دَم نظر آ رہا ہے۔ یہ سرگرمیوں سے بھرا ہوا ہے، جب کہ میناکشی پورم خاموش ہے۔ ویران گاؤں کی طرف جانے والے راستے کے بارے میں وہاں کسی سے بھی پوچھیں، وہ یقیناً چونک جائے گا۔ ایک چائے کی دکان کے مالک خاص طور پر حیران تھے۔ ’’کیا تم وہاں کے مندر میں جا رہی ہو؟ اس گاؤں میں اور کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

Kandasamy seated on the porch of his house
PHOTO • Satheesh L.
Kandasamy's home with his two wheeler parked in front of it
PHOTO • Satheesh L.

بائیں: کنڈاسامی اپنی ڈیوڑھی پر بیٹھے ہوئے، شاید ماضی کے دنوں کو یاد کر رہے ہیں۔ دائیں: ان کا گرتا ہوا گھر اور دوپہیہ گاڑی جس کا استعمال وہ اپنی خریداری کے لیے کرتے ہیں

’’توتوکُڈی کی اوسط بارش (۷۰۸ ملی میٹر) ریاست کے اوسط (۹۴۵ ملی میٹر) سے کم ہے، لیکن یہ ضلع اپنی ضروریات کے لیے ہمیشہ تامراپرنی ندی پر منحصر رہا ہوگا۔ حالانکہ، گزشتہ چند برسوں سے اس کا پانی صنعتوں کی طرف موڑا جا رہا تھا۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ اب پوری طرح سے بند ہو گیا ہے، لیکن اس پر کچھ حد تک لگام لگایا گیا ہے اور اس سے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔ حالانکہ، دیہی علاقوں میں ابھی بھی پانی کی کمی ہے اور زیر زمین پانی آلودہ ہے،‘‘ توتوکُڈی شہر کے ایک ماہر ماحولیات، پر پربھو کہتے ہیں۔

۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق، اس گاؤں میں تقریباً ۱۱۳۵ لوگ رہتے تھے۔ نقل مکانی کے باوجود، ’’یہاں چھ سال پہلے تقریباً ۵۰ کُنبے تھے،‘‘ کنڈاسامی کہتے ہیں۔ ان کے پاس کبھی پانچ ایکڑ زمین ہوا کرتی تھی، جس پر وہ کامبو (باجرا) اور کپاس کی کھیتی کرتے تھے۔ ان کے کھیت زرخیز تھے، لیکن انھوں نے بہت پہلے اسے فروخت کر دیا: ’’اس کھیت کی وجہ سے میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے اور ان کی شادی کرنے میں کامیاب رہا۔‘‘ ان کے سبھی بچے – دو لڑکے اور دو لڑکیاں – توتوکُڈی کے خوشحال گاؤوں میں رہتے ہیں۔

’’میں نے کسی سے کوئی قرض نہیں لے رکھا ہے۔ میرے پاس جب زمین تھی، تب اس نے مجھے جو کچھ دیا اس کی وجہ سے میں جرم سے پاک ایک آدمی کے طور پر مروں گا،‘‘ کنڈاسامی کہتے ہیں۔ ’’کھیتی اگر پیداواری سرگرمی بنی رہتی، تو میں اپنی زمین کبھی نہیں بیچتا۔ لیکن دھیرے دھیرے، حالت خراب ہوتی چلی گئی۔ پانی خشک ہو گیا۔ زندہ رہنے کے لیے لوگوں کے پاس باہر نکلنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا۔‘‘

’’پانی ایک بڑا مسئلہ تھا،‘‘ ۶۱ سالہ پیرومل سامی کہتے ہیں، جو ایک دہائی پہلے گاؤں چھوڑ کر جانے والے ابتدائی باشندوں میں سے ایک ہیں۔ میناکشی پورم سے تمل ناڈو کی برسراقتدار پارٹی کے ایک سابق عہدیدار، پیرومل اب تقریباً ۴۰ کلومیٹر دور توتوکُڈی شہر میں بس گئے ہیں، جہاں وہ ایک چھوٹا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ اپنے پرانے گاؤں کے مقابلے یہاں بہتر کر رہے ہیں۔ ’’ہمیں وہاں اپنے کھیتوں سے کچھ نہیں ملا۔ معمولی آمدنی سے میں اپنی فیملی کا خرچ کیسے چلا سکتا تھا؟‘‘ ان کا گھر بھی اب سنسان پڑا ہے۔ ’’اس کا مطلب ہے، حقیقت میں کچھ بھی نہیں،‘‘ وہ گاؤں کے بارے میں کہتے ہیں۔

Meenakshipuram's abandoned houses are falling apart
PHOTO • Satheesh L.
Meenakshipuram's abandoned houses are falling apart
PHOTO • Satheesh L.

میناکشی پورم کے چھوڑے گئے گھر ٹوٹ رہے ہیں؛ پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنے میں ناکام رہنے کے سبب تمام لوگ گاؤں چھوڑ کر جا چکے ہیں

حالانکہ، کئی دیگر سابق باشندوں کے لیے اس کا کچھ مطلب تو ضرور ہے۔ دو مندر ہیں جو گاؤں اور اسے چھوڑنے والوں کے درمیان واحد رشتہ بنے ہوئے ہیں۔ میناکشی پورم کی طرف جانے والی سڑک پر ایک ویشنو مندر کا نشان ہے – کاریہ سِدّھی شرینواس پیرومل کوئل، جس کا مطلب ہے شرینواس پیرومل مندر جو منت کو پورا کرتا ہے۔ حالانکہ، خود کنڈاسامی کو ان کی دعا کا کبھی جواب نہیں ملا ہے۔ وہ اس امید پر قائم ہیں کہ جو لوگ گاؤں کو چھوڑ کر گئے ہیں، وہ ایک دن لوٹ آئیں گے۔ اگر وہ مستقل طور پر ایسا کرتے ہیں، تو یہ ایک کرشمہ ہوگا۔ لیکن، دیوتا ابھی روٹھے ہوئے ہیں۔

لیکن، شیو مندر کے تہوار – پراشکتی مری اَمّن کوئل – میں شریک ہونے کے لیے، لوگ کبھی کبھی لوٹتے ہیں۔ اس کی دیکھ بھال ان کی فیملی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس مہینے میں کچھ دن پہلے ہی، تقریباً ۶۵ لوگ اس کے سالانہ تہوار میں شریک ہونے کے لیے میناکشی پورم آئے تھے۔ ’’ہم نے یہیں پر، سبھی کے لیے کھانا بنایا،‘‘ کنڈاسامی، اب خالی پڑے باورچی خانہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’یہ اس دن مصروف تھا۔ ورنہ، میں دو یا تین دنوں میں ایک بار کھانا بناتا ہوں اور اپنے کھانا کو دوبارہ گرم کرتا ہوں۔‘‘

تو وہ اپنا گزارہ کیسے کرتے ہیں؟ اب ان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے، گھر کے علاوہ کوئی جائیداد نہیں ہے، بینک میں کوئی پیسہ نہیں ہے اور ہاتھ میں بہت کم نقدی بچی ہے۔ ۱۰۰۰ روپے کی پنشن بھی نہیں۔ تمل ناڈو کی بڑھاپا پنشن اسکیم کے تحت، وہ اس کے حقدار نہیں ہیں – کیوں کہ ان کے دو جوان بیٹے ہیں جو توتوکُڈی کے آس پاس ڈرائیوروں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ (اگر کسی امیدوار کے پاس ۵۰۰۰ روپے سے زیادہ کی کوئی جھونپڑی یا گھر ہو، تو وہ نااہل قرار دے دیا جاتا ہے)۔

ان کا چھوٹا بیٹا بالا کرشنن، ان کے پاس پابندی سے آتا ہے اور انھیں تقریباً ۱۵۰۰ روپے ماہانہ دیتا ہے۔ اس میں سے، وہ تسلیم کرتے ہیں، ’’میں روزانہ ۳۰ روپے بیڑی پر اور باقی کیرانے کے سامان پر خرچ کرتا ہوں۔‘‘ اور کچھ پیسہ وہ اکثر ایک چھوٹی سی دوپہیہ گاڑی میں تھوڑا سا پیٹرول بھروانے میں خرچ کرتے ہیں جو گاؤں چھوڑ کر جا چکے ایک دوست نے انھیں تحفہ میں دیا تھا۔ ’’ویسے میرا کوئی بڑا خرچہ نہیں ہے،‘‘ کنڈاسامی کہتے ہیں، جو ہر دو یا تین دن میں کیرانے کا سامان خریدنے کے لیے اس اسکوٹر سے سیکّرکُّڈی جاتے ہیں۔ وہ جب بھی وہاں جاتے ہیں، تو اس گاؤں میں کچھ گھنٹے ضرور گزارتے ہیں۔

Kandasamy in his room with calendar of Jayalallitha
PHOTO • Kavitha Muralidharan
The Parasakthi temple maintained by Kandasamy's family
PHOTO • Satheesh L.

بائیں: ان کے کمرے میں ایک کیلنڈر پر جے للتا کی تصویر ہے، حالانکہ وہ ایم جی آر کی بات کرتے ہیں۔ دائیں: کنڈاسامی کی فیملی کی نگرانی میں رہنے والا پراشکتی مندر

اُدھر گھر پر، ریاست کے ذریعے دیا گیا ٹیلی ویژن سیٹ ان کا ساتھ دیتا ہے۔ اور ان کے گھر میں دو شاہی لوگ ہیں جو ان کے اکیلے پن کو دور کرتے ہیں – راجا اور رانی۔ ’’یہ آوارہ کتے کچھ سال پہلے آئے تھے۔ کسی طرح انھیں لگا کہ میں یہاں اکیلا ہوں۔ میں انھیں راجا اور رانی کہتا ہوں اور ان کے لیے بھی کھانا بناتا ہوں۔ دوسری روح کے لیے کھانا بنانا اچھا ہے،‘‘ وہ مسکراتے ہیں۔

کسی زمانے میں زرخیز میناکشی پورم اور اپنے خود کے کھیتوں کی یادیں ان کے ذہن میں ابھی بھی تازہ ہیں۔ ’’چاول ان دنوں عام غذا نہیں ہوا کرتی تھی۔ ہم باجرا کھاتے تھے،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ لوگوں نے یہاں اُڑد کی دال (کالا چنا) بھی اُگائی۔ لیکن آج، اس گاؤں میں خالی زمین اور ویران گھروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

کنڈاسامی کے خود کے اپنے گھر میں زندگی کے کچھ ہی نشان ہیں، سوائے ان کی دوپہیہ گاڑی، چپل اور کپڑوں کے جو ادھر ادھر بکھرے ہوئے ہیں۔ خستہ حال دیواروں پر فیملی کی تصویریں تک نہیں ہیں۔ ان کی متوفی بیوی سمیت، وہ سبھی ان کے بیٹے بال کرشنن کے ساتھ محفوظ رکھنے کے لیے ہیں۔ دو کیلنڈر ہیں، جن میں سے ایک میں متوفی وزیر اعلیٰ جے للتا کی تصویر ہے۔ حالانکہ، وہ ان کے بارے میں نہیں، بلکہ آنجہانی ایم جی رام چندرن کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ اداکار، جو یقیناً تمل ناڈو کے سب سے مقبول وزیر اعلیٰ بنے۔ ’’میں ہمیشہ ان کا وفادار رہوں گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ اپنے اکیلے ووٹر کو لبھانے کے لیے اس سیاسی پارٹی کے کسی بھی پرچارک نے میناکشی پورم کا دورہ نہیں کیا، لیکن یہ کنڈاسامی کو ایم جی آر کے تئیں اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے ووٹ کا استعمال کرنے سے نہیں روک سکا۔

ہر ہفتے، وہ پراشکتی مندر میں باقاعدگی کے ساتھ پوجا کرتے ہیں، اس امید میں کہ کسی نہ کسی دن یہ گاؤں اپنے سنہرے دور میں لوٹے گا۔ ظاہر ہے، چیزیں اب بہتر ہیں۔ خود کنڈاسامی کے اپنے گھر میں، ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وافر پانی ہے۔ ’’پچھلے سال، ایک ٹیلی ویژن چینل کے ذریعے میرا انٹرویو لیے جانے کے بعد، افسروں کی ایک ٹیم میرے گھر پہنچی۔ انھوں نے مجھے فوراً پانی کا کنیکشن دیا اور اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ انھیں اور بھی پانی ملنے کا امکان ہے، کیوں کہ گاؤں کے باقی لوگ یہاں سے جا چکے ہیں۔

توتوکُڈی کے ضلع کلکٹر سندیپ نندوری کا کہنا ہے کہ انتظامیہ میناکشی پورم لوٹنے کے خواہش مند لوگوں کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ ’’پانی اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تب بھی، ہم لگاتار سپلائی کی سہولت فراہم کریں گے۔ میں صرف یہی اندازہ لگا سکتا ہوں کہ جس نے بھی گاؤں چھوڑا ہے، اس نے بہتر ذریعہ معاش کے لیے ایسا کیا ہے اور کہیں اور جاکر بس گیا ہے۔ وہ یقیناً اب واپس نہیں آنا چاہتے ہیں۔‘‘

اس درمیان، اپنے گھر کی ڈیوڑھی پر بیٹھے کنڈاسامی، اس کرشمہ کو پورا ہونے کی امید میں گھنٹوں خالی سڑکوں اور چھوڑے جا چکے کھیتوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Kavitha Muralidharan

کویتا مرلی دھرن چنئی میں مقیم ایک آزادی صحافی اور ترجمہ نگار ہیں۔ وہ پہلے ’انڈیا ٹوڈے‘ (تمل) کی ایڈیٹر تھیں اور اس سے پہلے ’دی ہندو‘ (تمل) کے رپورٹنگ سیکشن کی قیادت کرتی تھیں۔ وہ پاری کی رضاکار (PARI volunteer) ہیں۔

Other stories by Kavitha Muralidharan