ویشالی ییڈے اپنے گاؤں کی گلیوں میں تیزی سے چل رہی ہیں، مسکراتے ہوئے لوگوں کا استقبال کر رہی ہیں اور ان سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ انھیں اپنی حمایت دیں۔ ’’می تُمچیچ مُلگی آہو [میں آپ کی بیٹی ہوں]،‘‘ وہ ہاتھ جوڑے مقامی ورہاڈی بولی میں ان سے کہتی ہیں۔

لوگوں کی طرف سے انھیں جو توجہ مل رہی ہے اس سے وہ خوش ہیں، لیکن ان کی درخواست کہ – ’’ماہیاور لکش اسو دیا جی‘‘ [مجھے اپنی دعاؤں اور خیالوں میں یاد رکھیں]‘‘ – یہ بھی لوگوں سے ایک اپیل ہے کہ وہ بیوہ کسانوں کو، اور ان کے شوہروں کی خودکشی کے بعد انھیں ہونے والے جذباتی اور مالی خسارے کو نہ بھولیں۔

تھوڑے تھوڑے وقفہ پر، ۲۸ سالہ ویشالی بڑوں کے پیر چھونے کے لیے نیچے جھکتی ہیں۔ نوجوان لڑکیوں سے ہاتھ ملاتی ہیں۔ اور ہینڈ پمپ سے پانی بھرتی خواتین کی طرف ہاتھ ہلاتی ہیں۔ اس کے بعد وہاں انتظار کر رہی چھ سات گاڑیوں کے کارواں میں شامل ایک کار میں بیٹھ جاتی ہیں، اور ۴۲ ڈگری کی اس شدید گرمی میں اپنا پرچار جاری رکھنے کے لیے اگلے گاؤں کی طرف روانہ ہو جاتی ہیں۔

ویشالی مشرقی مہاراشٹر کے یوتمال-واشِم لوک انتخابی حلقہ سے ۲۰۱۹ کا لوک سبھا انتخاب لڑ رہی ہیں۔ یہاں ۱۱ اپریل کو تقریباً ساڑھے ۱۷ لاکھ ووٹر اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ ویشالی، امراوتی ضلع کے اچل پور سے ۴۸ سالہ آزاد ایم ایل اے اوم پرکاش (بچو) کڈو کی قیادت والی ایک مقامی سیاسی پارٹی، پرہار جن شکتی پکش کی امیدوار ہیں۔ ان کی پارٹی دھیرے دھیرے وِدربھ میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور کسانوں اور زرعی مزدوروں کے ایشوز پر توجہ مرکوز کرکے اپنی پکڑ مضبوط بنا رہی ہے۔

Vaishali, the nominee of the Prahar Janshakti Paksha, a local political party, is campaigning in Yavatmal-Washim
PHOTO • Jaideep Hardikar
Vaishali, the nominee of the Prahar Janshakti Paksha, a local political party, is campaigning in Yavatmal-Washim
PHOTO • Jaideep Hardikar

مقامی سیاسی پارٹی، پرہار جن شکتی پکش کی امیدوار ویشالی، یوتمال – واشِم میں چناؤ پرچار کر رہی ہیں، جہاں ۱۱ اپریل کو ووٹنگ ہوگی

تقریباً دو دہائیوں سے، وِدربھ میں گہراتے زرعی بحران کے سبب یوتمال کسانوں کی خودکشی کا مرکز رہا ہے۔ بڑھتے قرض، گھٹتی آمدنی، سست دیہی اقتصادیات اور دیگر اسباب سے اس ضلع میں کپاس اور سویابین کے سینکڑوں کسانوں نے خودکشی کر لی ہے۔

’’آج ہم نے رالیگاؤں (میں پرچار) کیا،‘‘ ویشالی بتاتی ہیں۔ ’’کل ہم واشم کے لیے روانہ ہوں گے۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ اس انتخابی حلقہ کے تقریباً ۲۰۰۰ گاؤوں اور قصبوں کا دورہ کرنا ناممکن ہے، اس لیے وہ کچھ جگہوں پر عوامی ریلیاں کر رہی ہیں۔

ویشالی مشکل سے ۱۸ سال کی تھیں جب ۲۰۰۹ میں ان کی شادی سدھاکر ییڈے سے کر دی گئی، اور جب وہ ۲۰ سال کی ہوئیں تو ان کے شوہر کی موت ہو گئی۔ وہ تین ایکڑ خشک زمین کے مالک تھے اور یوتمال کی کلامب تحصیل کے ایک گاؤں، راجور میں بنیادی طور پر کپاس اور سویابین کی کھیتی کرتے تھے۔ یہ گاؤں اسی تحصیل کے ان کے اپنے گاؤں، ڈونگر کھردا سے تقریباؑ ۲۰ کلومیٹر دور ہے۔ انھوں نے ۲ اکتوبر ۲۰۱۱ کو خودکشی کر لی۔ ویشالی وقت اپنے والدین کے گھر پر تھیں۔ ان کی دوسری اولاد، جانہوی کا تبھی جنم ہوا تھا اور ان کا بیٹا کُنال تب ڈیڑھ سال کا تھا۔ ’’اُس شام خبر آئی کہ میرے شوہر نے زیر کھا لیا ہے جس سے ان کی موت ہو چکی ہے،‘‘ وہ یاد کرتی ہیں۔ ’’وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، میرے یا میرے بچوں کے بارے میں سوچا تک نہیں۔‘‘ کس چیز نے انھیں خود کشی کرنے پر مجبور کیا یہ صاف نہیں ہے، وہ کہتی ہیں، انھوں نے قرض لے رکھا تھا، اس سال فصل برباد ہو گئی تھی...

ویڈیو دیکھیں: ’اگر میں منتخب ہوتی ہوں، تو پارلیمنٹ میں غریبوں اور کسانوں کے ایشوز اٹھاؤں گی‘

یوتمال میں بحران، خودکشی اور غم کے بہت سے دوسرے واقعات کے درمیان اس المیہ پر کسی کی نظر ہی نہیں گئی۔ پچھلے سال، ویشالی کو ناگپور کے مشہور ڈرامہ نگار اور سینئر صحافی شیام پیٹھکر کے ذریعہ تحریر کردہ ایک تاریخی ڈرامہ، تیرہوا (۱۳ویں دن کی تقریب) میں اداکاری کرنے کو کہا گیا۔ ویشالی سے ان کی ملاقات پورے وِدربھ میں کسان بیواؤں کے ساتھ کام کرنے والی ایک تنظیم کے توسط سے ہوئی۔ ڈرامہ سوال کرتا ہے – ’اگر آپ کے شوہر آج زندہ ہو اٹھتے ہیں، تو آپ ان سے کیا کہیں گی؟‘ – اور اس کے بعد یہ سوال پرت در پرت پلاٹ میں آگے بڑھنے لگتا ہے۔ پیٹھکر کسان بیواؤں کی کہانیوں کو زندہ کر دیتے ہیں – تمام میں اداکاری ودربھ کے مختلف حصوں سے آنے والی حقیقی کسان بیواؤں سے کرائی جاتی ہے۔

پھر، جنوری ۲۰۱۹ میں ویشالی کو یوتمال ادبی اجلاس کے افتتاح کے لیے تب مدعو کیا گیا، جب اس پروگرام کے مقامی منتظمین نے صحافی نین تارا سہگل کا دعوت نامہ ردّ کر دیا تھا، حالانکہ پہلے انہی کو تقریب کا افتتاح کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس واقعہ نے ویشالی کو ایک نئی پہچان دلائی۔

یوتمال- واشِم واحد لوک سبھا سیٹ ہے جس پر پرہار جن شکتی پکش نے اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے، کڈو کہتے ہیں، جن کا عوامی حمایت دیہی ودربھ میں بڑھ رہی ہے۔ ’’ریاست بھر کے کسان ہمیں ویشالی تائی کی انتخابی مہم کے لیے پیسے بھیج رہے ہیں،‘‘ وہ آگے کہتے ہیں۔

کڈو اور ان کا بریگیڈ کسانوں کے ایشوز – فصلوں کی قیمتوں کے تعین سے لے کر سیاسی اندیکھی، اور تباہ کن زرعی خودکشی تک – پر ان کی مہم کی قیادت کر رہا ہے۔ سال ۲۰۱۷ میں، ان کی پرہار پارٹی نے جنوبی یوتمال کے پانڈھرکوڑا بلدیاتی انتخابات میں بھاری جیت درج کی تھی، اسے ۱۹ میں سے ۱۷ سیٹیں ملی تھیں اور اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کو حاشیہ پر دھکیل دیا تھا۔

دیگر امیدوار بھی طاقتور ہیں: شیو سینا کی چار بار کی رکن پارلیمنٹ بھاونا گولی، اور کانگریس کے مہاراشٹر لیجسلیٹو اسمبلی کے نائب صدر، مانک راؤ ٹھاکرے

ویشالی کو میدان میں اتار کر، پارٹی مورچہ یوتمال اور واشم دونوں میں، گراہم پنچایتوں، نگر پنچایتوں اور ضلع پریشدوں میں اپنے لیے جگہ بنانا چاہتا ہے۔ ویشالی کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد، جن بوتھوں پر انھیں ووٹ ملیں گے، وہ یہ طے کرے گا کہ کیا لوگ پارٹی کی حمایت کرنے کو تیار ہیں، اور انھیں مقامی بلدیاتی انتخابات میں کسے امیدوار بنانا چاہیے۔

’’میں یہ نہیں کرنا چاہتی تھی،‘‘ ویشالی کہتی ہیں، ’’لیکن جب بچو بھاؤ نے ہمیں بتایا کہ کسانوں کی خودکشیاں ختم نہیں ہو رہی ہیں اور مجھے کسانوں کے ایشوز کو اٹھانے کے لیے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے، تو میں نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں سیاست کرنے کے لیے الیکشن نہیں لڑ رہی ہوں، بلکہ سماجی کام کرنے کے لیے لڑ رہی ہوں۔‘‘

ریلیاں اور نکڑ سبھاؤں کے دوران اپنی تقریروں میں، ویشالی کسانوں سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ انھیں منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجیں، تاکہ وہ ان کے مسائل کو اٹھا سکیں، جیسے کہ فصلوں کے لیے مناسب قیمت اور خواتین زرعی مزدوروں کو مناسب مزدوری، ساتھ ہی کسان بیواؤں اور ان کے کنبوں کی تشویشیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان تشویشوں میں زرعی برادریوں میں شراب بندی کا ایشو بھی شامل ہے۔ اس لیے وہ یوتمال میں شراب پر پابندی لگانا چاہتی ہیں۔ ویشالی کہتی ہیں کہ خواتین کو تکلیف اور تشدد سے بچانے کے لیے شراب بندی ضروری ہے۔ وہ آگے کہتی ہیں کہ ان کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہوگا آدیواسی برادریوں کی ان نوجوان لڑکیوں کی بازآبادکاری جن کا جنسی استحصال ہوا اور جنہیں مردوں کے ذریعے چھوڑ دیا گیا (مقامی سطح پر ایسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں)۔

دیگر امیدوار بھی طاقتور ہیں: شیو سینا کی چار بار کی رکن پارلیمنٹ بھاونا گولی دوبارہ منتخب ہونا چاہتی ہیں۔ انھیں بنیادی طور پر مہاراشٹر لیجسلیٹو اسمبلی کے نائب صدر، کانگریس پارٹی کے مانک راؤ ٹھاکرے چنوتی دے رہے ہیں، جو مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق صدر بھی ہیں۔

Vaishali, the nominee of the Prahar Janshakti Paksha, a local political party, is campaigning in Yavatmal-Washim
PHOTO • Jaideep Hardikar
Omprakash (Bachchu) Kadu (right, addressing the crowd), an Independent MLA from Amravati, urged Vaishali to contest. His Paksha is gaining popularity in Vidarbha by focussing on agrarian issues
PHOTO • Jaideep Hardikar

امراوتی کے آزاد رکن اسمبلی، اوم پرکاش (بچو) کڈو (دائیں، مجمع سے خطاب کرتے ہوئے) نے ویشالی سے الیکشن لڑنے کی اپیل کی تھی۔ ان کا پکش زرعی مسائل پر توجہ مرکوز کرکے ودربھ میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے

’’آپ ان بڑے لیڈروں کو چنیں گے اور وہ آپ کو بھول جائیں گے،‘‘ کڈو ڈونگرکھردا میں تھوڑی دیر رکنے کے دوران وہاں جمع دیہی باشندوں سے کہتے ہیں، ’’لیکن اگر آپ اپنی بیٹی کی حمایت کرتے ہیں، تو وہ آپ کے لیے چوبیسوں گھنٹے کام کرے گی۔‘‘

ویشالی صبح میں زرعی مزدور کے طور پر، دوپہر کو راجور گاؤں کی آنگن واڑی میں معاون کے طور پر کام کرتی ہیں، اور شام کو تھوڑا اضافی آمدنی کے لیے اپنی سلائی مشین پر کپڑے کی سلائی کرتے ہیں۔ وہ ہر ماہ تقریباً ۷-۸ ہزار روپے کماتی ہیں۔ ’’پچھلے نو سال جدوجہد سے بھرے رہے ہیں،‘‘ ان کے بڑے بھائی سنجے کہتے ہیں، جو اب ان کے لیے سب سے بڑے سہارا ہیں۔

ویشالی کے سسرال والے، ییڈے راجور میں ایک بڑا خاندان ہے۔ کل ۵۰ گھر ہیں، ان کے چچیرے سسر مانک ییڈے کہتے ہیں۔ ویشالی کے والدین کا کنبہ بے زمین ہے۔ ان کے والد، مانک راؤ دھوٹے راج مستری ہیں اور ماں، چندرکلا ایک زرعی مزدور ہیں۔ سنجے اور ایک چھوٹا بھائی ونود چلتے پھرتے مزدور ہیں۔ ڈونگر کھردا میں دھوٹوں کے پاس ایک چھوٹا سا گھر ہے، جو دو حصوں میں منقسم ہے – ایک کمرے میں سنجے اپنی بیوی اور ایک بیٹے کے ساتھ رہتے ہیں، دوسرا حصہ ویشالی کے والدین، ونود، اور ان کے نو سال کے بیٹے کے لیے ہے۔ ویشالی اور ان کی بیٹی، جو اسکول میں پہلی کلاس میں ہے، اپنی ساسا پنچ پھلا شیش راؤ ییڈے کے ساتھ راجور میں رہتی ہیں۔

’’ویشالی کو امیدوار کی شکل میں دیکھنا ہمارے تصور سے پرے تھا،‘‘ ان کے والد کہتے ہیں۔ ’’مجھے پورا یقین ہے کہ اسے اچھے ووٹ ملیں گے؛ کسان اسے ووٹ دیں گے۔‘‘

Vaishali with her son Kunal, and parents Manikrao and Chandrakala Dhote at their modest home in Dongarkharda, Yavatmal.
PHOTO • Jaideep Hardikar
Vaishali with her daughter Janhavi at her in-laws house in Rajur village
PHOTO • Jaideep Hardikar

بائیں: ویشالی اپنے بیٹے کُنال، اور والدین مانک راؤ اور چندرکلا دھوٹے کے ساتھ ڈونگر کھردا، یوتمال میں اپنے گھر میں۔ دائیں: اپنی بیٹی جانہوی کے ساتھ راجور گاؤں میں اپنے سسرال میں

لیکن ان کی امیدواری نے بہتوں کو پس و پیش میں ڈال دیا ہے۔ ’’میری کیفیت عجیب ہے،‘‘ ڈونگر کھردا کے ۳۰ سالہ سرپنچ، نشچل ٹھاکرے کہتے ہیں۔ کیا انھیں جذبات کے ساتھ جانا چاہیے اور ویشالی کے لیے پرچار کرنا چاہیے کیوں کہ وہ اسی گاؤں کی ہیں، یا عملی طور پر اپنے گاؤں کی وسیع ترقی کے اہداف کی طرف دیکھنا چاہیے – جس میں سڑک، پانی کی سپلائی اور آبپاشی شامل ہے۔ ’’کیوں کہ جب میں خود الیکشن لڑوں گا تو میرے گاؤں والے مجھ سے پوچھیں گے کہ میں نے اپنے گاؤں کے لیے کیا کیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ وہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اہم امیدوار یوتمال- واشِم لوک سبھا سیٹ جیت سکتے ہیں – اور یہ مہاراشٹر کے اندر چھ مہینے میں ہونے والے اسمبلی الیکشن اور پھر مقامی بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔ ’’اگر آپ زمانے کے ساتھ چل رہے ہیں، تو ہمارے لیے گاؤں کی ترقی کے لیے پیسہ حاصل کرنا آسان ہو جائے گا،‘‘ وہ آگے کہتے ہیں۔

ٹھاکرے بی جے پی – شیو سینا کے مقامی لیڈروں کے قریب ہیں، لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ ویشالی کا تعلق کُنبی برادری کی خود ان کی ذیلی ذات – کھیرے کنبیوں سے ہے – جن کا یوتمال ضلع کے اس علاقے میں غلبہ ہے۔

بڑے اور خوشحال لوگوں کی اس لڑائی میں، ویشالی کے پاس نہ تو پیسہ ہے اور نہ ہی طاقت۔ وہ کہتی ہیں کہ الیکشن کے بعد، شاید انھیں لگاتار محنت کی زندگی میں لوٹنا ہوگا۔ لیکن ابھی وہ اپنے حلقہ انتخاب میں لوگوں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ جب تک کسان برادری کا ہی کوئی نمائندہ ان کے لیے آواز نہیں اٹھاتا، تب تک کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے، وہ کہتی ہیں۔ ’’کسانوں اور خواتین کے مسائل کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہے؟ اگر مجھے منتخب کیا جاتا ہے، تو میں اپنے لوگوں کے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھاؤں گی۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar