’’ہم نے پچھلی بار کپل پاٹل کو ووٹ دیا تھا۔ لیکن کیا ہوا؟ گاؤں میں ابھی بھی کوئی پرائمری ہیلتھ سینٹر نہیں ہے۔ اور یہ سڑکیں... وہ جیتنے کے بعد ہمارے پاس واپس نہیں آئے۔ انھیں دوبارہ ووٹ کیوں دیں؟‘‘ ماروتی وِشے سوال کرتی ہیں۔

دوپہر کے وقت درجۂ حرارت ۳۸ ڈگری سیلسیس ہے اور چلچلاتی دھوپ میں ٹیمبھرے گاؤں کی سڑکیں تقریباً سُنسان ہیں۔ ۷۰ سالہ وِشے کے پکّے گھر میں چھ مرد اور تین عورتیں جمع ہوئی ہیں۔ وہ سامنے کے کمرے میں دری اور پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے ہیں، جہاں ان کے پانچ ایکڑ کھیت سے چاول کے بورے ایک کونے میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس گروپ کا ہر شخص کسان ہے، ہر ایک فیملی کے پاس دو سے پانچ ایکڑ کھیت ہیں جس میں وہ دھان اور موسمی سبزیاں اُگاتے ہیں۔ ’’ہم سبھی کو بیٹھ کر یہ غور کرنا چاہیے کہ اس بار ہمیں کسے ووٹ کرنا ہے،‘‘ ۶۰ سالہ رگھوناتھ بھوئیر کہتے ہیں۔

۵۲ سالہ مہادور بھوئیر کو یقین نہیں ہے کہ بحث سے کچھ حاصل ہوگا۔ ’’ہم نے بی جے پی کو پانچ سال دیے، لیکن انھوں نے ان سالوں کو برباد کر دیا۔ اب کانگریس کو پانچ سال اور لینے دیجئے اور وقت بھی برباد کرنے دیجئے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سبھی ایک جیسے ہیں۔‘‘

People gathered at Maruti Vishe's house to discuss their poll choices
PHOTO • Jyoti Shinoli

لوگ اپنے الیکشن کے متبادل پر بات کرنے کے لیے ماروتی وِشے کے گھر پر جمع ہوئے

بات چیت ایک گھنٹہ تک جاری رہتی ہے۔ ہر ایک کی اپنی الگ رائے، ترجیحات اور مدعے ہیں۔ یہاں جمع گروپ ٹیمبھرے گاؤں کے ان دیگر لوگوں میں شامل ہوگا، جو ۲۹ اپریل کو بھیونڈی لوک سبھا سیٹ کے لیے ووٹ کریں گے

ایک گھنٹہ تک بات چیت جاری ہے۔ ہر ایک کی اپنی رائے، ترجیحات اور مدعے ہیں۔ یہاں جمع گروپ کے لوگ مہاراشٹر کے تھانے ضلع کے شہاپور تعلقہ کے ٹیمبھرے گاؤں کے پانچ پاڑوں کے ۱۲۴۰ ووٹروں کے ساتھ ہی، ۲۹ اپریل کو بھیونڈی لوک سبھا سیٹ کے لیے ووٹ کریں گے۔

اس انتخابی حلقہ کے رکن پارلیمنٹ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کپل پاٹل، ۲۰۱۴ میں کانگریس پارٹی کے وشوناتھ پاٹل کے خلاف ۴۱۱۰۷۰ ووٹوں سے جیتے تھے۔ پاٹل نے الیکشن سے ٹھیک پہلے کانگریس چھوڑ دی تھی اور بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے۔ اس سال وہ کانگریس کے سریش تاورے کے خلاف اسی سیٹ سے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس انتخابی حلقہ کے ووٹروں کی کل تعداد ۲۰۱۴ میں تقریباً ۱۷ لاکھ تھی۔

مہاراشٹر میں پولنگ ۱۱ اپریل سے ۲۹ اپریل کے درمیان چار مراحل میں منعقد کی جائے گی، جب ریاست کے ۴۸ انتخابی حلقوں کے ۸۷۳۳۰۴۸۴ ووٹر ایک نئی قومی حکومت کا انتخاب کریں گے۔

’’وشوناتھ پاٹل ہماری کُنبی ذات [ایک او بی سی برادری] سے ہیں۔ ہمیں ان کو ووٹ دینا چاہیے۔ وہ گاؤوں میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے [بی جے پی] نوٹ بندی کے دوران غریبوں کو واقعی میں مار ڈالا۔ کپل پاٹل نے ہمارے لیے کیا کیا؟ مجھے بتائیے!‘‘ وِشے اپنے گھر میں بیٹھے گروپ سے پوچھتے ہیں۔

Yogesh Bhoir listens to his fellows discussing politics
PHOTO • Jyoti Shinoli
Neha Vishe discusses politics
PHOTO • Jyoti Shinoli

’ہمیں ذات اور پارٹی کی بنیاد پر ووٹ نہیں دینا چاہیے،‘ یوگیس بھوئیر (بائیں) کہتے ہیں۔ ’مندر پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے، کسی چھوٹے گاؤں کی ترقی کے لیے اس پیسے کو خرچ کریں،‘ نیہا وِشے (دائیں) کہتی ہیں

’’ہمیں ذات اور پارٹی کی بنیاد پر ووٹ نہیں دینا چاہیے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس آدمی نے زمین پر کیا کام کیا ہے،‘‘ ۲۵ سالہ یوگیش بھوئیر جواب دیتے ہیں۔ ’’...کیا اپوزیشن بہتر پالیسیاں اور سماجی اسکیمیں پیش کر رہا ہے؟ یہ مناسب ہوگا۔‘‘

وِشے کی بہو، ۳۰ سالہ نیہا کہتی ہیں، ’’وہ [سیاست داں] ایک دوسرے کو صرف اپنی تقریروں میں قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ وہ سماجی ترقی کی بات نہیں کرتے۔ وہ رام مندر پر بحث کرتے ہیں۔ مندر پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے، اس پیسے کو کسی چھوٹے پاڑہ یا گاؤں کی ترقی میں خرچ کریں۔‘‘

ان کی پڑوسن، ۳۵ سالہ رنجنا بھوئیر بھی رضامندی میں سر ہلاتی ہیں۔ ’’یہ صحیح ہے۔ ہمارے گاؤں میں اسکول صرف چوتھی جماعت تک ہے۔ ہمارے بچے آگے کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ۳-۴ کلومیٹر پیدل چل کر دوسرے گاؤں [تھِلے] جاتے ہیں۔ ان کے لیے نقل و حمل کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایک اسکول دیں، نہ کہ مندر۔‘‘

’’کیا آپ نے سنا ہے؟ اگر این سی پی [نیشنلسٹ کانگریس پارٹی] اقتدار میں آتی ہے، تو شرد پوار مہاراشٹر میں کسانوں کو مکمل قرض معافی کا وعدہ کر رہے ہیں۔ وہ جب وزیر زراعت تھے، تو انھوں نے کسانوں کے قرض معاف کیے تھے۔ وہ اپنے وعدے کے پکّے ہیں۔ ہمیں این سی پی کو موقع دینا چاہیے،‘‘ ۵۶ سالہ کسان بھوئیر کہتے ہیں۔

Villagers discussing upcoming elections
PHOTO • Jyoti Shinoli
Mahadu Bhoir and Jagan Mukne at their village.
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں سے دائیں: ماروتی وِشے، مہادو بھوئیر اور جگن مُکنے سبھی موجودہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ کو لے کر پس و پیش میں ہیں

ماروتی کے گھر سے کچھ قدموں کے فاصلے پر، گرام پنچایت کے ذریعہ تارکول والی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے۔ پنچایت کے رکن جگن مُکنے کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ’’یہ صرف ایک ماہ قبل شروع کیا گیا تھا۔ الیکشن ہونے والے ہیں۔ انھیں [بی جے پی کو] کچھ کام دکھانا ہوگا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ جگن کاتکری آدیواسی برادری سے ہیں، جو مہاراشٹر میں خاص طور سے کمزور قبائلی جماعت کے طور پر فہرست بند ہے۔

’’پچھلے پانچ سال سے، اندرا آواس یوجنا [اب پردھان منتری آواس یوجنا] کے تحت یہاں ایک بھی گھر کی تعمیر نہیں کی گئی ہے،‘‘ وہ آگے کہتے ہیں۔ ’’دو سال پہلے، ہم نے پنچایت کمیٹی کو ان کنبوں کی ایک فہرست سونپی تھی جنہیں گھر کی ضرورت ہے؛ وہ اس فہرست پر غور کر رہے ہیں۔ ہمیں پرانی اندرا آواس یوجنا کے تحت بنائے گئے گھروں کی مرمت کے لیے بھی پیسہ نہیں ملا ہے۔ ہم نے بی جے پی کے لیے ووٹ کرکے ایک بڑی غلطی کی تھی۔ این سی پی نے ہمارے لیے کچھ کام کیا ہے۔‘‘

ان کی باتیں سن کر، دیگر لوگ بھی وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ ’’وہ اب [ووٹ کے لیے] بھیک مانگنے آئیں گے،‘‘ ۳۰ سالہ جنا بائی مُکنے غصہ میں کہتی ہیں۔ ’’میں ابھی بھی کھیتوں پر کام کرکے ۱۵۰ روپے یومیہ کماتی ہوں – وہ بھی سال کے صرف چھ مہینے۔ پہلے بھی ایسا ہی تھا۔ چاہے وہ بی جے پی ہو، شیو سینا ہو یا کانگریس – کوئی بھی ہمارے درد کو نہیں سمجھتا ہے۔‘‘

وہاں جمع لوگوں سے ۵۷ سالہ میٹھو مُکنے کہتے ہیں: ’’یہاں بہت گرمی ہے، میرے گھر چلیں۔ وہاں بات کرتے ہیں۔‘‘ گھر کی طرف چلتے ہوئے، وہ کہتے ہیں، ’’انھوں نے (سرکار نے) اُجّولا یوجنا کے تحت گاؤں کے ۳۰ کاتکری کنبوں کو مفت گیس [ایل پی جی سیلنڈر] تقسیم کیے۔ اس کے بعد سیلنڈر کے لیے ہمیں پیسے ادا کرنے پڑے تھے۔ ایک سیلنڈر پر ہر ماہ ہم ۸۰۰ روپے کیسے خرچ کر سکتے ہیں؟ ہمیں ۱۵۰-۲۰۰ روپے یومیہ مزدوری پر سال میں بہ مشکل چھ مہینے کھیتوں پر کام ملتا ہے۔ ایسے میں ہم ۸۰۰ کا انتظام کیسے کر سکتے ہیں؟ انھیں اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘‘

Janabai Mukne at her village
PHOTO • Jyoti Shinoli
Mithu Muke at his village
PHOTO • Jyoti Shinoli

’اب وہ [ووٹ کے لیے] بھیک مانگنے آئیں گے‘، جنا بائی مُکنے (بائیں) کہتی ہیں۔ میٹو مُکنے (دائیں) نے گفتگو جاری رکھنے کے لیے سبھی کو اپنے گھر پر بلایا

ان کے مٹی اور اینٹ کے گھر میں (سب سے اوپر کور فوٹو دیکھیں)، ہر کوئی فرش پر بچھی دری پر بیٹھتا ہے – اس میں آٹھ مرد اور چھ عورتیں ہیں، سبھی کاتکری آدیواسی برادری سے ہیں، ہر کوئی بے زمین زرعی مزدور ہیں۔ ’’گاؤں میں کوئی ڈاکٹر [پرائمری ہیلتھ سینٹر] نہیں ہے۔ ہمیں ۲۰ کلومیٹر دور شیندرون گاؤں یا شہاپور شہر جانا پڑتا ہے [۳۰ کلومیٹر دور]۔ زچگی کے دوران یہ ایک بڑا مسئلہ ہے – کئی بار حاملہ عورتوں نے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اپنے بچے کو جنم دے دیا،‘‘ ۵۰ سالہ بارکی مُکنے کہتی ہیں۔

۵۸۰ ووٹروں والے گاؤں، شیندرون میں پچھلے پانچ سالوں میں بی جے پی کے ذریعہ نوکریوں کا انتظام نہ کرنے سے بہت سے لوگ ناراض ہیں۔ ایسے میں ۲۱ سالہ آکاش بھگت احسان مند ہیں کہ کئی آن لائن شاپنگ کمپنیوں نے پچھلے کچھ سالوں میں ان کے گاؤں سے تقریباً ۱۰-۱۲ کلومیٹر دور، شاہراہ کے کنارے اپنے مال گودام بنائے ہیں۔

’’نوکریاں کہاں ہیں؟ شہاپور تعلقہ کے سبھی گاؤوں میں نوجوانوں کے لیے یہی حالت ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اگر یہ مال گودام یہاں نہیں ہوتے، تو نوجوان کیا کرتے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ہم تین مہینے کے ٹھیکہ [سامان لادنے اور پیک کرنے کی شکل میں] پر کام کرتے ہیں، لیکن سال کے کم از کم پانچ چھ مہینے ہمیں کام مل جاتا ہے۔ ورنہ ہم بھوکے مر جاتے۔‘‘ آکاش قریب کے واشند شہر کے ایک کالج میں بی کام کی پڑھائی کر رہے ہیں۔

Akash Bhagat outside his house
PHOTO • Jyoti Shinoli
Young men gather at a house in Shendrun village to speak of the elections
PHOTO • Jyoti Shinoli

’نوکریاں کہاں ہیں؟‘ آکاش بھگت سوال کرتے ہیں؛ وہ اور دیگر نوجوان الیکشن پر گفتگو کرنے کے لیے شیندرون گاؤں کے ایک گھر میں جمع ہوئے

’’ہمارے گاؤں میں، ۹۰ فیصد نوجوان گریجویٹ ہیں۔ لیکن وہ مال گوداموں میں ہیلپر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ بھی ٹھیکہ پر۔ میں نے آٹوموبائل انجینئرنگ کی پڑھائی کی ہے، لیکن میں ۸۰۰۰ روپے کے لیے معاون کے طور پر کام کرتا ہوں۔ یہ وہ ایشو ہے جس پر ہمارے خاصداروں [ممبران پارلیمنٹ] کو ضرور دھیان دینا چاہیے،‘‘ ۲۶ سالہ مہیش پٹولے کہتے ہیں۔

’’پاس میں بڑی صنعتیں ہیں، لیکن وہ ہمیں روزگار نہیں دیتیں۔ انھیں بڑے حوالوں کی ضرورت ہے۔ ان کے کسی بھی شعبہ میں نوکری پانے کے بارے میں تو بھول ہی جائیے، وہ ہمیں سیکورٹی گارڈ کے طور پر بھی کام نہیں دیتے۔ یہاں کے سیاسی لیڈر ووٹ پانے کے لیے اس نکتہ پر زور دیتے ہیں، لیکن وہ اس پر کبھی بھی کارروائی نہیں کرتے،‘‘ ۲۵ سالہ جیش پٹولے کہتے ہیں، وہ بھی ایک مال گودام میں کام کرتے ہیں۔

’’جب پلوامہ میں حملہ ہوا، تو ہم نے بھی شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ لیکن ہم وہاٹس اَیپ پر ملنے والے فرقہ وارانہ پیغامات کو مٹا دیتے ہیں۔ یہ کسی کو ووٹ دینے کے مدعے نہیں ہو سکتے ہیں،‘‘ ۲۹ سالہ نکُل دانڈکر کہتے ہیں، جن کے پاس بی اے کی ڈگری ہے اور وہ ایک اسکول میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ سبھی نوجوان مرد اس گفتگو کے لیے ان کے گھر پر جمع ہوئے تھے۔

’’کپل پاٹل ’مودی لہر‘ کے سبب جیتے تھے اور اس لیے بھی کہ لوگوں نے ان پر بھروسہ کیا تھا،‘‘ ۲۴ سالہ سوپنِل وِے کہتے ہیں، جو ابھی بے روزگار ہیں۔ ’’لیکن ووٹر کے دماغ کو پڑھنا ممکن نہیں ہے۔ لوگوں کی سیاست اور ووٹ کرنے یا نہ کرنے کے اسباب کی اپنی سمجھ ہے۔ لوگ بی جے پی کو گالی دے سکتے ہیں، لیکن کون جانتا ہے کہ وہ حقیقت میں کسے اور کس بنیاد پر ووٹ دیں گے۔ اُن ایشوز کے علاوہ [جو ہمیں متاثر کرتے ہیں] دیگر اسباب، جیسے ووٹ خریدنا بھی معنی رکھتا ہے۔ آخری نتیجہ ہمیں سب کچھ بتا دے گا۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی ممبئی میں مقیم ایک صحافی اور پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی کانٹینٹ کوآر ڈی نیٹر ہیں؛ وہ اس سے پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ جیسے نیوز چینلوں کے لیے کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli