ازلان احمد، بدرنگی دیواروں والے دو منزلہ مکان کی اوپری منزل پر، اپنے کمرے کے ایک کونے میں فون کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور وہ کشمیری زبان میں اپنی ماں کو پکارتے ہیں، ’’مے گو خبر کیا [پتہ نہیں مجھے کیا ہو رہا ہے]۔‘‘ وہ سر درد اور بدن درد کی شکایت کرتے ہیں۔ ان کی والدہ، سکینہ بیگم، ایک گلاس پانی لانے کے لیے باورچی خانہ کی طرف دوڑتی ہیں۔ ازلان کے چیخنے کی آواز سن کر، ان کے والد بشیر احمد کمرے میں آتے ہیں اور انہیں دلاسہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ نشہ سے چھٹکارے کی علامت ایسی ہی ہوگی۔

سکینہ بیگم اور بشیر احمد (افشائے راز کو یقینی بنانے کے لیے سبھی نام بدل دیے گئے ہیں) نے وقت گزرنے کے ساتھ ۲۰ سالہ ازلان کو کمرے میں تالا لگا کر محفوظ رکھنا شروع کر دیا ہے، اور ان کے گھر کی ۱۰ کھڑکیاں بند رکھی جاتی ہیں۔ یہ کمرہ باورچی خانہ کے قریب ہے، جہاں سے ان کی ماں ازلان پر ہمیشہ نظر بنائے رکھ سکتی ہیں۔ ’’اپنے بیٹے کو بند رکھنا تکلیف دہ ہے، لیکن میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے،‘‘ ۵۲ سالہ سکینہ بیگم کہتی ہیں، اس خوف سے کہ ان کا بیٹا اگر گھر سے باہر نکلا، تو وہ پھر سے منشیات کا استعمال کرنے لگے گا۔

ازلان، جو کہ ایک بے روزگار ہے اور جس نے اسکول کی پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دی تھی، کو ہیروئن کی لت لگے ہوئے دو سال ہو چکے ہیں۔ اس نے چار سال پہلے جوتے کے پالش سے نشے کی شروعات کی، پھر افیم والی نشہ آور شے لینے لگا اور آخر میں اسے ہیروئن کی لت لگ گئی۔

نشے کی لت ازلان کی فیملی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، جو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے چُرسو علاقے میں رہتے ہیں۔ ’’ہمارے پاس جتنی بھی قیمتی چیزیں تھیں، منشیات خریدنے کے لیے وہ ان سبھی کو فروخت کر چکا ہے – اپنی ماں کی کان کی بالیوں سے لے کر اپنی بہن کی انگوٹھی تک،‘‘ دھان کی کھیتی کرنے والے ۵۵ سالہ کسان، بشیر احمد کہتے ہیں۔ انہیں اپنے بیٹے کی نشے کی لت کے بارے میں بہت بعد میں جاکر تب پتہ چلا، جب ازلان نے ان کا اے ٹی ایم کارڈ چُرا لیا اور ان کے کھاتے سے ۵۰ ہزار روپے نکال لیے۔ ’’جو مہمان ہمارے گھر میں قیام کرتے تھے، وہ بھی شکایت کرتے کہ ان کا پیسہ یہاں چوری ہو رہا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

لیکن مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ تب ہوا، جب کچھ ماہ قبل بشیر نے دیکھا کہ ان کا بیٹا ہیروئن خریدنے کے لیے اپنی ۳۲ سالہ بہن کی انگلی سے انگوٹھی نکال رہا ہے۔ ’’اگلے ہی دن میں اسے علاج کے لیے سرینگر کے نشے سے چھٹکارہ دلانے والے مرکز میں لے گیا۔ میں اپنے بیٹے پر آنکھ موند کر بھروسہ کرتا تھا اور کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن لوگ اسے نشہ خور کہیں گے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

Left: A young man from the Chursoo area (where Azlan Ahmad also lives) in south Kashmir’s Anantnag district, filling an empty cigarette with charas.
PHOTO • Muzamil Bhat
Right: Smoking on the banks of river Jhelum in Srinagar
PHOTO • Muzamil Bhat

بائیں: جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے چُرسو علاقے (ازلان احمد بھی یہیں رہتے ہیں) کا ایک نوجوان چرس کو ایک خالی سگریٹ میں بھر رہا ہے۔ دائیں: سرینگر میں جہلم ندی کے ساحل پر نشہ آور سگریٹ نوشی

نشہ چھڑانے کا یہ مرکز، چُرسو سے تقریباً ۵۵ کلومیٹر دور، سرینگر کے کرن نگر علاقے میں شری مہاراجا ہری سنگھ (ایس ایم ایچ ایس) اسپتال میں واقع ہے۔ کشمیر میں ازلان جیسے نشہ خوری میں مبتلا بہت سے لوگ علاج کرانے کے لیے یہیں آتے ہیں۔ اس مرکز میں ۳۰ بستر اور ایک او پی ڈی ہے، اور یہ سرینگر کے سرکاری میڈیکل کالج کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اور نیورو سائنس (آئی ایم ایچ اے این ایس) کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

انہی میں سے ایک قیصر ڈار (بدلا ہوا نام) بھی ہیں، جو شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے رہنے والے ہیں۔ جینس اور پیلی جیکٹ پہنے ۱۹ سالہ قیصر، ماہر نفسیات کو دکھانے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے سیکورٹی گارڈ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ جب اندر جانے کا وقت آتا ہے، تو ان کی مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے۔

ایک دوست کے ذریعے منشیات کا عادی بنا دیے جانے سے پہلے، قیصر مزے سے کرکٹ اور فٹ بال کھیلا کرتے تھے، تب وہ کپوڑاہ کے گورنمنٹ کالج میں ایک طالب علم تھے۔ ازلان کی طرح ہی انہوں نے بھی ہیروئن کا نشہ شروع کرنے سے پہلے مختلف نشہ آور اشیاء (منشیات) کا استعمال کیا۔ ’’میں نے کوریکس [کھانسی کا سیرپ] اور براؤن شوگر لینا شروع کر دیا تھا، اور اب یہ ہیروئن ہے،‘‘ قیصر کہتے ہیں، جن کے والد ریاستی حکومت کے ذریعے چلائے جا رہے ایک پرائمری اسکول میں ٹیچر ہیں اور تقریباً ۳۵ ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ ’’ایک خوراک لینے کے بعد مجھے خوشی محسوس ہوئی، ایسا لگا گویا مجھے تمام تکلیفوں سے نجات مل گئی ہو۔ میں مزید خوراک کے لیے ترسنے لگا۔ میں صرف دو خوراکوں میں ہی نشہ خور بن گیا۔‘‘

ہیروئن کی لت پورے کشمیر میں وبائی مرض کی طرح پھیل چکی ہے، ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے نشہ سے چھٹکارہ دلانے والے مرکز کے ماہرین نفسیات کہتے ہیں۔ ’’اس کے لیے کئی اسباب ذمہ دار ہیں – جاری جدوجہد، بے روزگاری، خاندانی ڈھانچوں کا ٹوٹنا، شہر کاری اور تناؤ اس کے کچھ عام اسباب ہیں،‘‘ آئی ایم ایچ اے این ایس کے پروفیسر، ڈاکٹر ارشد حسین بتاتے ہیں۔

اور کچھ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں منشیات کے پھیلاؤ میں تیزی ۲۰۱۶ کے بعد آئی ہے۔ ’’ہیروئن کی لت میں تیزی سے اضافہ ۲۰۱۶ کے بعد ہوا ہے، جب حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کو [۸ جولائی، ۲۰۱۶ کو سیکورٹی دستوں کے ذریعے] مار دیا گیا تھا۔ ہم نے ۲۰۱۶ میں ۴۸۹ مریضوں کو دیکھا تھا۔ اگلے سال، ۲۰۱۷ میں، او پی ڈی میں کل ۳۶۲۲ مریض آئے، جن میں سے ۵۰ فیصد ہیروئن کا نشہ کرنے والے تھے،‘‘ نشہ چھڑانے والے مرکز کے سربراہ، ڈاکٹر یاسر راتھر کہتے ہیں۔

A growing number of families are bringing their relatives to the 30-bed Drug De-addiction Centre at the Shri Mahraja Hari Singh Hospital in Srinagar
PHOTO • Muzamil Bhat
A growing number of families are bringing their relatives to the 30-bed Drug De-addiction Centre at the Shri Mahraja Hari Singh Hospital in Srinagar
PHOTO • Muzamil Bhat

سرینگر کے شری مہاراجا ہری سنگھ اسپتال میں واقع ۳۰ بستروں والے نشہ چھڑانے والے مرکز میں ایسے کنبوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، جو اپنے رشتہ داروں کو یہاں لے کر آتے ہیں

یہ تعداد ۲۰۱۸ میں ۵۱۱۳ تک پہنچ گئی تھی۔ سال ۲۰۱۹ میں، نومبر تک، اس نشہ چھڑانے والے مرکز میں کل ۴۴۱۴ مریض آئے، جن میں سے ۹۰ فیصد ہیروئن کا نشہ کرنے والے تھے، ڈاکٹر راتھر کہتے ہیں۔ لیکن، منشیات کی لت کے بڑھنے کا بنیادی سبب ہے، ’’آسانی سے دستیابی، آسانی سے دستیابی اور آسانی سے دستیابی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

نشہ عام طور پر خوشی حاصل کرنے کے لیے منشیات کے استعمال سے شروع ہوتا ہے، ڈاکٹر حسین بتاتے ہیں۔ ’’انتہائی لطف کا احساس آپ کو خوراک میں اضافہ کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ پھر ایک دن آپ خود کو منشیات پر منحصر پاتے ہیں، اور آپ یا تو اوورڈوز (حد سے زیادہ خوراک) کی وجہ سے مر جاتے ہیں یا مسائل میں گھر جاتے ہیں،‘‘ نشہ چھڑانے کے مرکز کے ایک ماہر نفسیات، ڈاکٹر سلیم یوسف اس میں اپنی بات جوڑتے ہیں۔ ’’نشہ خوروں میں مزاج کی تبدیلی، فکرمندی اور افسردگی ہو سکتی ہے، اور وہ خود کو اپنے کمرے تک ہی محدود رکھنا پسند کرتے ہیں۔‘‘

ازلان کے والدین بھی اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ سکینہ بیگم بتاتی ہیں کہ وہ ان سے بہت لڑتا تھا۔ ایک بار جب اس نے باورچی خانہ میں لگی کھڑکی کے شیشے توڑ دیے، تو ہاتھ میں ٹانکہ لگانے کے لیے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑا تھا۔ ’’نشہ کی لت ہی اس سے یہ سب کرا رہی تھی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

نشہ خوری مختلف طریقوں سے کی جا سکتی ہے – رگوں میں انجکشن دے کر جسم میں پہنچانا، پاؤڈر کی شکل میں سونگھنا، یا سگریٹ نوشی کرنا۔ حالانکہ، انجکشن سے نشہ خوری کرنے پر سب سے زیادہ نشہ ہوتا ہے۔ ہیروئن کے لمبے وقت تک استعمال سے آخرکار دماغ کا طریقہ کار بدل جاتا ہے، ڈاکٹر راتھر کہتے ہیں۔ یہ ایک مہنگی عادت بھی ہے – منشیات کا ایک گرام عام طور پر ۳۰۰۰ روپے سے زیادہ کا ہوتا ہے، اور کئی نشہ خوروں کو ایک دن میں کم از کم دو گرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس لیے کولگام ضلع کے ایک ۲۵ سالہ ٹیکسی ڈرائیور، توصیف رضا (بدلا ہوا نام) نے ہیروئن پر جب روزانہ ۶۰۰۰ روپے خرچ کرنے شروع کر دیے، تو ان کی ۲۰۰۰ روپے کی یومیہ آمدنی کم پڑنے لگی۔ انہوں نے اپنے اُن اچھے دوستوں سے قرض لینا شروع کر دیا جو اُن پر شک نہیں کرتے تھے، اور نشے کے عادی اپنے دیگر دوستوں سے یہ جھوٹ بول کر کہ انہیں سرجری کرانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ اس طرح انہوں نے جو ۱ لاکھ روپے جمع کیے تھے، اس سے وہ انجکشن کے ذریعے ہیروئن کا استعمال کرنے لگے۔

Patients arriving at the De-Addiction Centre’s OPD are evaluated by psychiatrists and given a drug test. The more severe cases are admitted to the hospital for medication and counselling
PHOTO • Muzamil Bhat

نشہ چھڑانے کے مرکز کی او پی ڈی میں آنے والے مریضوں کا معائنہ ماہرین نفسیات کے ذریعے کیا جاتا ہے اور انہیں منشیات کی جانچ کرانے کے لیے کہا جاتا ہے۔ جن کی حالت زیادہ نازک ہوتی ہے، انہیں علاج و معالجہ اور صلاح و مشورہ کے لیے اسپتال میں داخل کر لیا جاتا ہے

توصیف نے منشیات کا استعمال اس لیے شروع کر دیا تھا کیوں کہ ان کے دوست اس کا استعمال کرتے تھے۔ ’’اس لیے میں نے بھی اسے آزمانے کے بارے میں سوچا۔ جلد ہی، مجھے بھی اس نشے کی لت لگ گئی۔ جس دن مجھے نشہ آور چیزیں نہیں ملتی تھیں، اس دن میں اپنی بیوی کی پٹائی کرتا تھا،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ ’’میں نے تین سال تک ہیروئن لی، جس سے میری صحت بگڑنے لگی۔ مجھے اُلٹی جیسا محسوس ہوتا اور پُٹھّوں میں تیز درد ہونے لگا۔ میری بیوی مجھے ایس ایم ایچ ایس اسپتال لے آئی، تبھی سے میرا یہاں علاج چل رہا ہے۔‘‘

نشہ چھڑانے کے مرکز کی او پی ڈی میں آنے والے مریضوں کا معائنہ ماہرین نفسیات کے ذریعے کیا جاتا ہے اور انہیں منشیات کی جانچ کرانے کے لیے کہا جاتا ہے۔ جن کی حالت زیادہ نازک ہوتی ہے، انہیں علاج و معالجہ اور صلاح و مشورہ کے لیے اسپتال میں داخل کر لیا جاتا ہے۔ ’’ایک ہفتہ کے بعد، جب ہم علامتوں کی تجزیہ کرتے ہیں اور پاتے ہیں کہ علاج سے وہ ٹھیک ہو رہا ہے، تو ہم اسے چھٹی دے دیتے ہیں،‘‘ سرینگر کے سرکاری میڈیکل کالج میں نفسیاتی علاج کے شعبہ کی ڈاکٹر اِقرا شاہ کہتی ہیں۔

ڈاکٹر دواؤں سے نشے کی لت چھڑاتے ہیں۔ ’’ایک بار جب آپ منشیات کا استعمال کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ حد سے زیادہ پسینہ، کپکپی، متلی، نیند کا نہ آنا، پُٹھّوں اور جسم میں درد محسوس کریں گے،‘‘ ڈاکٹر یوسف کہتے ہیں۔ نشیلی دواؤں کے لت کے سبب ایسے کئی مریض جو پاگل ہو گئے تھے، انہیں آئی ایم ایچ اے این ایس میں داخل کرایا گیا ہے، ڈاکٹر حسین بتاتے ہیں۔

کشمیر میں عورتیں بھی نشے کی عادی ہیں، لیکن سرینگر کے نشے سے چھٹکارہ دلانے والے مرکز میں ان کا علاج نہیں کیا جاتا ہے۔ ’’لڑکیوں کے ذریعے ہیروئن اور دیگر منشیات کا استعمال کرنے کے بھی معاملے ہیں، لیکن ان کی تعداد کم ہے۔ چونکہ ہمارے پاس ان کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے، اس لیے ہم او پی ڈی میں ان کا علاج کرتے ہیں اور ان کے والدین کو ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کہتے ہیں،‘‘ ڈاکٹر یوسف کہتے ہیں۔ ڈاکٹر والدین کو اپنے بچے کو سنبھالنے کی صلاح دیتے ہیں، انہیں نشیلی دواؤں کے غلط استعمال کے بارے میں مشورے دیتے ہیں، اور انہیں یہ یقینی بنانے کے لیے کہتے ہیں کہ ان کا بچہ وقت پر دوائیں لے اور تنہا نہ رہے۔

دسمبر ۲۰۱۹ تک، سرینگر کا نشہ چھڑانے کا مرکز کشمیر میں واحد ایسی سہولت تھی۔ اس کا نظم و نسق آئی ایم ایچ اے این ایس سے وابستہ ۶۳ ملازمین کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس میں ۲۰ نفسی طبیب، چھ ماہرین نفسیات، ۲۱ ریزیڈنٹ ڈاکٹر اور ۱۶ نفسیات کے محقق طالب علم شامل ہیں۔ ڈاکٹر حسین کے مطابق، سرکار نے اس سال ریاست میں تین مزید نشہ چھڑانے کے مراکز شروع کیے ہیں جو بارہمولہ، کٹھوعہ اور اننت ناگ میں ہیں، اور ضلع اسپتالوں کے نفسی طبیبوں نے اپنی او پی ڈی میں نشے کی لت کے شکار لوگوں کو دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

Left: A young boy in a village on the outskirts of Srinagar using heroin.
PHOTO • Muzamil Bhat
Right: In Budgam,  a young man ingesting heroin
PHOTO • Muzamil Bhat

بائیں: سرینگر کے باہری علاقے کے ایک گاؤں میں ایک نوجوان ہیروئن کا استعمال کر رہا ہے۔ دائیں: بڈگام میں، ایک نوجوان ہیروئن کا استعمال کر رہا ہے

کشمیر میں کرائم برانچ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۶ کے بعد، لائن آف کنٹرول کے اُس پار سے چرس، براؤن شوگر اور دیگر منشیات کی زیادہ کھیپ آنے لگی۔ (کوئی بھی زیادہ کچھ نہیں بتانا چاہتا اور نہ ہی اس کے اسباب کے بارے میں ریکارڈ پر کچھ کہنے کو تیار ہے۔) نتیجتاً منشیات کو ضبط کرنے کے معاملے بڑھے ہیں۔ جموں و کشمیر پولس کے ۲۰۱۸ کے کرائم گزیٹئر میں اس بات کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اُس سال تقریباً ۲۲ کلو ہیروئن ضبط کی گئی تھی۔ ہیروئن کے علاوہ، پولس نے ۲۴۸ء۱۵۰ کلو چرس اور تقریباً ۲۰ کلو براؤن شوگر بھی ضبط کی تھی۔

پولس کے ذریعے تسلسل کے ساتھ جاری کی گئی پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہزاروں ایکڑ افیم کی فصل – افیم سے بننے والی نشیلی اشیاء اور ہیروئن کا ذریعہ – پورے کشمیر میں ختم کر دیا گیا ہے اور نشہ آور دوائیں بیچنے والے گرفتار کیے گئے ہیں۔ لیکن زمین پر مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پلوامہ ضلع کے روہمو کے ۱۷ سالہ میکینک، منیب اسماعیل (بدلا ہوا نام) کہتے ہیں، ’’میرے علاقے میں ہیروئن سگریٹ کی طرح دستیاب ہے۔ اسے حاصل کرنے میں مجھے زیادہ دقت نہیں ہوتی۔‘‘ نشہ چھڑانے والے مرکز کے دیگر نشہ خور بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ منشیات حاصل کرنا آسان ہے۔ اسے بیچنے والے، جو مقامی ہیں، زبانی طور پر لین دین کرتے ہیں۔ وہ نوجوان لڑکوں (اور عورتوں) کو پہلے مفت میں سگریٹ نوشی کراکر انہیں نشے کی لگت لگاتے ہیں اور پھر جب وہ پھنس جاتے ہیں، تو انہیں نشیلی دوائیں بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر، جنوبی کشمیر کے ایک علاقے میں نشہ خور منشیات کا استعمال کرنے کے لیے کھلے عام ایک ڈیلر کے گھر جاتے ہیں، نشہ چھڑانے والے مرکز کے ایک نفسیاتی ڈاکٹر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ ’’انہوں نے مجھے بتایا کہ پولس کو بھی اس گھر کا علم ہے، لیکن وہ کچھ نہیں کرتے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ اس طرح کے دیگر گھر پوری وادی میں موجود ہیں۔ (اوپر کے کَوَر فوٹو میں ایک آدمی سگریٹ نوشی کرنے کے بعد، بڈگام ضلع میں ایک گھر کے باہر نشے میں ٹہلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔)

حالانکہ، سرینگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولس، حسیب مغل کا کہنا ہے کہ نشہ ایک طبی مسئلہ ہے۔ ’’اس کا علاج ڈاکٹروں کے ذریعے ہی کیا جانا ہے۔ نشیلی دواؤں کے غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے کشمیر میں زیادہ سے زیادہ نشہ چھڑانے والے مراکز بننے چاہئیں،‘‘ انہوں نے اس رپورٹر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا۔

Left: A well-known ground  in downtown Srinagar where addicts come for a smoke. Right: Another spot in Srinagar where many come to seek solace in drugs
PHOTO • Muzamil Bhat
 Another spot in Srinagar where many come to seek solace in drugs
PHOTO • Muzamil Bhat

بائیں: سرینگر شہر کا ایک مشہور میدان، جہاں نشہ خور سگریٹ نوشی کرنے کے لیے آتے ہیں۔ دائیں: سرینگر کا ایک اور مقام جہاں بہت سے لوگ نشہ کرنے آتے ہیں

جون ۲۰۱۹ میں، ریاستی حکومت نے عوام کا ردِ عمل طلب کرنے کے بعد جموں و کشمیر کے لیے پہلی بار نشہ مخالف پالیسی کو آخری شکل دی۔ اسے مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں جموں و کشمیر میں نشہ آور اشیاء کے استعمال میں تیزی سے اضافہ کو نوٹ کرتے ہوئے، دستاویز میں کہا گیا ہے، ’’حالیہ برسوں میں کیے گئے مطالعوں سے اشیاء کے استعمال کے طریقوں میں خطرناک تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے، جیسے کہ خواتین نشہ خوروں کی تعداد میں اضافہ، پہلی بار استعمال کرنے والوں کی گھٹتی عمر، گھلنے والی اشیاء کا بڑھتا استعمال، انجکشن کے ذریعے افیم والی نشہ آور اشیاء کا استعمال، اور اس کے ساتھ ہی نشے سے متعلق اموات (زیادہ خوراک لینے اور حادثات کے سبب)۔‘‘

پالیسی میں منشیات کے استعمال کو قابو میں کرنے کے لیے سرکاری میڈیکل کالجوں، پولس، انٹیلی جنس وِنگ، نارکوٹکس کنٹرول بیورو، طبی خدمات کے ڈائریکٹوریٹ اور ایڈز کنٹرول سوسائٹی سمیت ۱۴ ریاستی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ نشہ کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو بھی فہرست بند کیا گیا ہے۔

اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے مذہبی تنظیموں اور اسکولوں کی شراکت داری بھی طلب کی گئی ہے۔ جون ۲۰۱۹ میں، سرینگر کے ایک بیت الخلا میں ایک نوجوان کی منشیات سے متعلق مشتبہ موت کے بعد، پولس کمشنر شاہد اقبال چودھری نے مسجدوں کے مذہبی مبلغین سے ’’بڑھتی نشہ خوری کے خلاف پرزور طریقے سے بولنے‘‘ کی اپیل کی تھی۔ اس واقعہ کے بعد، حریت لیڈر اور سرینگر کی جامع مسجد کے خطیب، میر واعظ عمر فاروق نے کہا تھا کہ بڑی تعداد میں نوجوانوں کا نشے کی جانب راغب ہونا سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ’’آسان پیسہ اور آسان دستیابی، والدین کی لا علمی اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی نا اہلی، ان سبھی کا اس میں رول ہے،‘‘ فاروق نے کہا تھا۔ ’’ہمیں اس خطرے کو دور کرنے کے لیے ان سبھی محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

لیکن ابھی کے لیے، یہ ’خطرہ‘ برقرار ہے اور ازلان، جو ابھی بھی گھر میں بند ہے، جیسے کئی خاندان اپنے بیٹوں کو پٹری پر لانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ’’میں نے جب ازلان کو وہاں داخل کرایا تھا، تب سے لے کر میں نے نشہ چھڑانے والے مرکز میں ہفتوں گزارے ہیں،‘‘ بشیر کہتے ہیں۔ ’’آج بھی مجھے گھر آکر ازلان کو دیکھنے کے لیے کام چھوڑنا پڑتا ہے۔ میں مالی اعتبار سے اور جسمانی طور پر بھی تھک چکا ہوں۔ ازلان کے نشہ نے میری پیٹھ جھکا دی ہے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Shafaq Shah

شفق شاہ سرینگر میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔

Other stories by Shafaq Shah