اوگلا میں آدھا درجن ڈھابے تقریباً خالی پڑے ہوئے ہیں۔ دھیرج جِموال کے ڈھابہ میں بھی، ۸ نومبر کی نوٹ بندی کے بعد دو چار جیپیں ہی آکر رکی ہیں۔ اوگلا، اتراکھنڈ میں پتھورا گڑھ اور دھار چُلا کے درمیان میں واقع ہے اور ہند ۔ نیپال سرحد سے تقریباً ۲۱ کلومیٹر دور ہے۔ اس راہ پر چلنے والی گاڑیاں ناشتے وغیرہ اور تھوڑی دیر کی راحت کے لیے عام طور سے کسی ایک ڈھابے پر رُکتی ہیں۔

’’ہم آج کل کھانا کم بناتے ہیں، کیوں کہ کم لوگ یہاں رک رہے ہیں،‘‘ جِموال بتاتے ہیں۔ ڈھابہ اور روزمرہ کی اشیاء والی ان کی دکان سے انھیں جو ماہانہ آمدنی ہوتی تھی، وہ اب ۲۰ ہزار روپے کا ایک تہائی رہ گئی ہے: ’’تقریباً ایک مہینہ پورا ہو چکا ہے اور ہم نے صرف ۷ ہزار روپے کمائے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ہم چاہتے ہوئے بھی ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے نوٹ نہیں لے سکتے، کیوں کہ چرما کا بینک آسانی سے ان نوٹوں کو بدلنے سے منع کر دیتا ہے۔ ہم جب بڑے نوٹ لے کر گئے، تو بینک نے ہمیں ایک روپے کے ۲۰۰۰  سکّے دے دیے! میرے ڈھابہ پر جو لوگ کھانے آتے ہیں، انھیں میں چینج کیسے دوں؟‘‘

02-IMG_20161124_144946150-AC-The impact of demonetisation-Nepali currency to the rescue.jpg

 ’’۔۔۔ (نوٹ بندی کے بعد) آج کل خریدار ہمارے یہاں زیادہ نہیں آتے،‘‘ اوگلا میں ڈھابہ کے مالک، دھیرج جِموال بتاتے ہیں


ہماری جیپ دھار چُلا کی جانب رواں ہے، اوگلا اور جَولجیبی سے ہوکر گزر رہی ہے۔ ڈرائیور، ہریش سنگھ، پرانے نوٹ لے رہا ہے، کیوں کہ وہ انھیں پتھورا گڑھ کے پٹرول پمپ سے جیپ میں تیل بھرواتے وقت استعمال کر سکتا ہے۔ ’’لیکن یہاں پر اب زیادہ لوگ سفر نہیں کر رہے ہیں، کیوں کہ بینک نقدی سے خالی ہو چکے ہیں،‘‘ وہ بتاتا ہے، ’’معمولی نقدی سے، پہلے اناج خریدے جائیں یا سفر کیا جائے؟‘‘

یہ صدیوں سے لگنے والے جَولجیبی میلہ کا بھی وقت ہے، جو ہندوستان اور نیپال کی سرحد کے قریب گوری اور کالی ندیوں کے سنگم کی جگہ پر لگتا ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے ۱۴ سے ۲۳ نومبر تک لگنے والا یہ میلہ کافی اہمیت رکھتا ہے۔ جَولجیبی کی شانداری تجارتی تاریخ رہی ہے۔ ہندوستان، نیپال اور یہاں تک کہ تبت کے بھی تاجر زمانۂ قدیم سے یہاں جمع ہوتے رہے ہیں اور نیچے کی وادیوں کے کسانوں سے لائے گئے اناجوں کو اپنے سامانوں سے بدلتے رہے ہیں۔ اس میلہ کی پرانی روایت اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے، لیکن تاجر اب اسے نیا رنگ دینا چاہتے ہیں اور اپنے گرم کپڑے، جوتے اور دیگر سامان لا رہے ہیں۔ بعض تو سمندر کی سطح سے ۱۸ ہزار فیٹ کی ہمالیہ کی بلندیوں سے جمع کی گئی جڑی بوٹیوں کو یہاں لا کر بیچتے ہیں؛ یہاں تک کہ کچھ لوگ نیپال سے تیز دوڑنے والے گھوڑے اور خرچ کو بیچنے کا کاروبار بھی کرتے ہیں۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ اس میلہ میں مغربی بنگال، اترپردیش اور مدھیہ پردیش جیسی دور دراز جگہوں کے تاجر بھی شامل ہونے لگے ہیں۔

تاہم، اس سال جَولجیبی میں سنّاٹا پھیلا ہوا ہے۔ دُکانیں تو ۳۵۰ لگائی گئی ہیں، لیکن خریدار دو چار ہی نظر آ رہے ہیں۔ میں اپنی فیملی کے لیے کپڑے اور دیگر سامان خریدنے کے لیے میلہ جانا چاہتا تھا۔ لیکن میرے پاس نقدی کے نام پر صرف سکے ہیں۔ ان سے میں سامان کیسے خریدوں گا؟‘‘ جِموال سوال کرتے ہیں۔


03-AC-The impact of demonetisation-Nepali currency to the rescue.jpg

جَولجیبی کے عام طور پر بھیڑ بھاڑ والے میلہ میں اس سال مشکل سے کوئی خریدار نظر آ رہا ہے۔ دائیں: اُداس اِیاسین، جو ۳۰۰ کلومیٹر دور سے یہاں آیا ہے اور امید لگائے ہوئے تھا کہ اس میلہ میں سامان بیچ کر وہ اپنے قرض چکا سکے گا


اِیا سین اتراکھنڈ کے اودھم سنگھ نگر ضلع کے باجپور شہر سے اس میلہ میں آیا ہے، جو کہ یہاں سے ۳۰۰ کلومیٹر دور ہے۔ وہ گھریلو استعمال کے سامان بیچتا ہے، جیسے چادر اور صوفا کور، اور اس ۱۰ روزہ میلہ سے ۶۰ ہزار روپے کما لیتا ہے۔ حالانکہ، اس سال کی کمائی مشکل سے ۲۰ ہزار روپے ہوئی ہے۔ ’’مجھے اپنا ایک قرض چُکانا ہے۔ اگر یہاں پر اچھا بزنس نہیں ہوا، تو میں وہ قرض کیسے چکا پاؤں گا؟‘‘ وہ اُداسی سے کہتا ہے۔

گیان سنگھ دریال، چال گاؤں سے یہاں آیا ہے، جو کہ سمندر کی سطح سے ۱۴ ہزار فیٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کی دکان پر ہمالیہ کی کئی جڑی بوٹیاں، مسالے اور اونچائی پر اُگایا جانے والا کالا پہاڑی راجما ہے۔ دریال کی فیملی نومبر سے اپریل تک دھار چُلا میں رہتی ہے؛ گرمیوں کے دن وہ چال میں گزارتے ہیں، جب وہ کھیتی کرتے ہیں اور جڑی بوٹیاں و مسالے جمع کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے کھیت پر جو کچھ بھی پیدا کرتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر اپنے کھانے میں استعمال کر لیتے ہیں۔ ’’جڑی بوٹیاں اور مسالے بیچنے سے ہمارے پاس نقدی آتی ہے،‘‘ وہ کہتا ہے۔ ’’جڑی بوٹیاں جمع کرنے میں پوری فیملی حصہ لیتی ہے اور جَولجیبی میلہ ہمارے اتنے دشوار گزار علاقے میں کڑی محنت کا پھل عطا کرتا ہے۔‘‘

اس سال، دریال کی فروخت میں کافی کمی آئی ہے۔ ’’میلہ میں زیادہ لوگ نہیں آ رہے ہیں،‘‘ وہ کہتا ہے۔ دریال کے پاس کوئی پرماننٹ دُکان نہیں ہے۔ وہ جَولجیبی، مُنسیاری اور باگیشور (سبھی اتراکھنڈ میں ہیں) میں جو دکانیں لگاتا ہے، وہی اس کی آمدنی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ لیکن، وہ کہتے ہیں کہ نوٹ بندی نے اس موقع کو ان سے چھین لیا ہے۔

اَرچنا سنگھ گُنجیوال بھی اس میلہ میں موجود ہیں۔ وہ گُنجی گاؤں کی پردھان ہیں، یہ گاؤں ۱۰۳۷۰ فیٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ وہ چین میں ۱۲۹۴۰ فیٹ کی بلندی پر واقع تکلا کوٹ منڈی سے گرم کپڑے اور جیکٹ جَولجیبی میں بیچنے کے لیے لائی ہیں۔ یہ منڈی جَولجیبی سے تقریباً ۱۹۰ کلومیٹر دور ہے، تاجر اس میں سے تقریباً آدھی دوری پیدل چل کر طے کرتے ہیں۔

’’میلہ کے ابتدائی چند دنوں میں ایسا لگا کہ ہمیں اپنا سامان آپس میں ہی ایک دوسرے کو بیچنا پڑے گا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’اس سال میری فروخت صرف ۵۰ فیصد ہوئی ہے۔‘‘ گُنجیوال کو امید ہے کہ وہ دسمبر اور جنوری ماہ میں مُنسیاری اور باگیشور کے میلوں میں اچھی کمائی کر لیں گی۔ ’’تب تک، شاید (نقدی کا) بحران کم ہو جائے۔‘‘

نیپال کے جُملہ اور ہُملہ ضلعوں کے گھوڑوں کے تاجر بھی میلہ میں آئے ہوئے ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے انھیں اپنے مویشیوں کے ساتھ ۱۰ دنوں تک پیدل چلنا پڑا۔ ان میں سے ایک گروپ نے جو ۴۰ گھوڑے اور خچر لائے ہیں، ان میں سے صرف ۲۵ ہی اب تک فروخت ہوپائے ہیں۔ پچھلے سالوں میں، وہ جتنے مویشی اس میلہ میں لاتے تھے، وہ سب کے سب بِک جاتے تھے۔ ایک گھوڑے کی قیمت ۴۰ ہزار روپے ہے، جب کہ خچر ۲۵ ہزار روپے میں ملتا ہے۔ یہ مویشی پہاڑی علاقوں میں کافی مددگار ہوتے ہیں، اسی لیے اس علاقے میں جہاں جہاں سڑکیں نہیں ہیں، وہاں کے گاؤوں میں رہنے والے لوگ ان جانوروں کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔

’’آج میلہ کا آخری دن ہے اور ہم اپنے سات گھوڑوں کو ابھی تک بیچ نہیں پائے ہیں،‘‘ نر بہادر کہتے ہیں، جن کا تعلق ہُملہ سے گھوڑے لے کر آنے والے تاجروں کے دوسرے گروپ سے ہے۔ ’’ہمیں اس نوٹ بندی کا علم نہیں تھا۔ جَولجیبی پہنچنے کے بعد ہی ہمیں اپنی قسمت کے بارے میں پتہ چل سکا۔‘‘


04-IMG-20161128-WA0005(Crop)-AC-The impact of demonetisation-Nepali currency to the rescue.jpg

میلہ میں نیپال کے گھوڑے کے تاجر: ’ہمیں اس نوٹ بندی کا علم نہیں تھا۔ جب ہم جَولجیبی پہنچے، تب ہمیں اپنی قسمت کے بارے میں پتہ چلا‘ (تصویر: کرشنا گَربیال)


پہاڑی علاقے میں اندھیرا ہونے سے پہلے ہی میں جَولجیبی سے واپس لوٹ رہی ہوں۔ اگلی صبح، دھارچُلا میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے باہر، ۹ بجے کے پہلے سے ہی الگ الگ لائنوں میں مرد و عورت، پیسے نکالنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ بینک ابھی تک کھلا نہیں ہے۔

دھارچُلا، ہند ۔  نیپال سرحد پر آخری شہر ہے۔ یہاں سے ایک راستہ تکلا کوٹ بھی جاتا ہے، جو تقریباً ۱۵۵ کلومیٹر دور، چین کے خود مختار تبتی علاقہ میں ہے۔ اس شہر میں کافی پہلے سے نیپال کے لوگوں اور وہاں کی کرنسی کو قبول کیا جاتا ہے۔ لیکن اب، پڑوسی ملک کی کرنسی کی مانگ کافی بڑھ گئی ہے، شاید اس کا استعمال فی الحال یہاں ہندوستانی کرنسی سے زیادہ ہو رہا ہے۔

’’ہمارے پاس ہندوستانی نقدی نہیں ہے۔ اس لیے جو خریدار ہمیں ہندوستانی روپے دے رہے ہیں، ہم انھیں چینج کے طور پر نیپالی کرنسی لوٹا رہے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء اور راشن خریدنے کے لیے ہم میں سے زیادہ تر لوگ نیپالی کرنسی استعمال کر رہے ہیں۔ ہم تمام لوگ منی ایکسچینج کاؤنٹر (سرحد کے پاس کے) سے کرنسی بدلوا سکتے ہیں،‘‘ ٹیکسی اسٹینڈ کے ایک دکاندار ہریش دھامی بتاتے ہیں۔

نوٹ بندی کے بعد پہلے چند دنوں میں، کافی لوگ ہندوستانی روپے کو نیپالی میں بدلوانے کے لیے، دھارچُلا کے ان کاؤنٹروں پر آئے تھے۔ ان میں سے کچھ روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے نیپالی مزدور تھے جو ہندوستان میں رہتے ہیں اور سرحد کے اس شہر میں رہنے والے کچھ ہندوستانی شہری۔ ’’ہندوستان کا ۱۰۰ روپیہ نیپالی کرنسی میں ۱۶۰ روپے ہو جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ نیپالی کرنسی کو بدل کر ہندوستانی نقدی لیتے ہیں، کیوں کہ سرحدی علاقے میں رہنے والے لوگوں کو سامان خریدنے کے لیے اکثر و بیشتر ہندوستانی بازاروں میں جانا پڑتا ہے،‘‘ کرشنا گربیال بتاتے ہیں، جو ایک مقامی صحافی ہیں اور دھارچُلا میں اَمَر اُجالا کے لیے کام کرتے ہیں۔ ’’۸ نومبر کے بعد، یہ معاملہ پلٹ گیا ہے۔‘‘

نوٹ بندی کے بعد دھارچُلا میں ۲۰۰۰ اور ۵۰۰ روپے کے نئے نوٹ چھ دنوں بعد پہنچے۔ ’’اس شہر میں صرف ۲۵ ہزار لوگ رہتے ہیں، جب کہ یہاں تین بینک ہیں، اس لیے شروع میں بہت زیادہ بھیڑ نہیں تھی،‘‘ گربیال بتاتے ہیں۔ ’’لیکن جب بینکوں اور اے ٹی ایم نے ۲ ۔ ۳ دنوں تک نقدی دینا بند کریا، تو نقدی کی اس کمی سے لوگوں کی پریشانیاں بڑھ گئیں۔ پھر یہاں پر ہمیشہ نیپالی کرنسی کا سہارا رہا۔‘‘

تصویر: ارپتا چکربرتی۔ قلم کار نے اس رپورٹ کے لیے دھارچُلا کا سفر نومبر کے اخیر میں کیا تھا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Arpita Chakrabarty

اَرپِتا چکربرتی الموڑہ، اتراکھنڈ میں مقیم فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ وہ ٹائمز آف انڈیا، ڈاؤن ٹو اَرتھ اور کانٹری بیوٹوریا کے لیے لکھتی ہیں۔ آپ اُن سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @eveningdrizzles

Other Stories by Arpita Chakrabarty