’’شراب کی دکانیں چائے کڈّوں [دکانوں] کی طرح بکھری پڑی ہیں۔ پہلے یہ دکانیں کافی دور ہوا کرتی تھیں، جس سے لوگوں کا وہاں تک چل کر جانا آسان نہیں ہوتا تھا۔ لیکن آج، ایک دکان یہاں سے صرف تین کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور اگر آپ وہاں تک پیدل چل کر نہیں جا سکتے، تو آٹو ڈرائیور آپ کے گھر تک پہنچا دے گا۔‘‘

اس لیے آج، ۱۸ اپریل کو جب ۳۲ سالہ ایم وی شانتنی، جو کہ ایک کٹّونائکن آدیواسی ہیں، لوک سبھا الیکشن میں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے ویران کچّی سڑک پر دو کلومیٹر چلتے ہوئے اپنے گھر سے سرکاری اسکول تک جائیں گی، تو ان کی گزارش یہی ہوگی: ’’آئندہ جس کی بھی حکومت بنے، براہِ کرم ان گھروں میں امن بحال کریں جو بوتل کی وجہ سے ٹوٹ گئے ہیں۔‘‘

شانتنی جو ۱۵-۱۷ گھروں والی بستی، مچلی کولّی میں رہتی ہیں، کہتی ہیں کہ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ الیکشن میں امیدوار کون لوگ ہیں۔ مُدوملائی ٹائیگر ریزرو کے ٹھیک بغل میں، گُڈالور بلاک کے دیورشولا نگر پنچایت میں ان کا گھر، تمل ناڈو کے نیلگری لوک سبھا حلقہ میں ہے۔ ۲۰۱۴ میں اس سیٹ پر ووٹروں (رجسٹرڈ ووٹروں) کی کل تعداد تقریباً ۱۲ لاکھ ۷۰ ہزار تھی۔

لیکن شانتی کے ذہن میں یہ بات بالکل صاف ہے کہ فاتح ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا کر سکتا ہے۔ ریاست کے کم آمدنی والے کنبوں کی کئی دیگر خواتین کی طرح ہی، شانتنی بھی حکومت کی ملکیت والی شراب کی بے شمار دکانوں سے متاثر ہیں۔ تمل ناڈو اسٹیٹ مارکیٹنگ کارپوریشن کے نام پر انھیں تسمک کہا جاتا ہے، جس کا ۲۰۰۲ کے بعد سے ریاست میں شراب کی تھوک اور خوردہ فروخت پر مکمل اختیار ہے۔

’’ہمارے شوہر، جن میں سے زیادہ تر زرعی مزدور ہیں، اپنی یومیہ اجرت پی جاتے ہیں۔ وہ جو ۲۵۰ روپے پاتے ہیں، وہ شراب خریدنے اور فیملی کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ تبھی گھر میں صورتحال پرتشدد ہو جاتی ہے،‘‘ پریشان حال شانتنی کہتی ہیں، جو اپنے تین بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں اپنا وقت گزارتی ہیں، ان میں سے سب سے بڑے بچے کی عمر ۱۰ سال ہے۔

Like many lower income women in the state, Shantini is aggrieved by the mushrooming of  government owned liquor stores or TASMACs, as they are popularly called in Tamil Nadu
PHOTO • Vishaka George
Shantini, 32 (left), is a Kattunayakan adivasi who lives with her relatives in Machikoli, a village in Devarshala taluk right next to the Mudumalai Tiger Reserve in Tamil Nadu’s mountainous Nilgiris district.
PHOTO • Vishaka George

کٹّو نائکن آدیواسی، شانتنی کہتی ہیں: ’براہِ کرم اُن گھروں میں امن پیدا کریں جو بوتل کی وجہ سے ٹوٹ گئے ہیں‘

’’آدیواسی برادری دھان، چاول اور پھلوں سے اپنی شراب خود بناتے تھے۔ لیکن سرکار کے ذریعے غیر قانونی شراب پر نکیل کسنے کے بعد، آدیواسی مرد تسمک پر منحصر رہنے لگے۔ آج، اندر کے ان علاقوں میں بھی تمسک ہیں، جو آدیواسی علاقوں کے قریب ہیں،‘‘ چنئی واقع ایک ترقیاتی کارکن اے نارائنن کہتے ہیں، جو ۱۵ برسوں سے تمل ناڈو میں شراب اور منشیات سے متعلق ایشوز پر کام کر رہے ہیں۔

تسمک سائٹ کا کہنا ہے کہ ان دکانوں سے ۲۰۱۶-۱۷ کے مالی سال کی کل مالیت ۳۱۴۱۸ کروڑ تھی۔ ’’یہ ریاست کی آمدنی میں ایک بہت ہی اچھی رقم ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اقتدار میں آنے والی کوئی بھی پارٹی پوری طرح شراب بندی نافذ کرے گی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ خوردہ دکانوں کے کاروباری گھنٹے کو کم کر دیا جائے،‘‘ مدراس ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج، جسٹس کے چندرو کہتے ہیں۔

تمل ناڈو میں، تسمک یا تو الگ علیحدہ دکانیں ہیں یا ریاست کے ذریعہ پرائیویٹ مالکوں کے لیے نیلام کی جانے والی بار کے بغل میں واقع ہیں۔ ’’بار چلانے کے لیے منظوری دینے کے معاملے میں بہت سارے لٹکے جھٹکے ہیں اور زیادہ تر بار طاقتور مقامی لیڈروں کے ذریعے چلائے جاتے ہیں،‘‘ جسٹس چندرو کہتے ہیں۔

’’نشہ کی لت اور غلط استعمال کو روکنے کے لیے ابھی تک کوئی تادیبی قدم نہیں اٹھائے جا رہے ہیں،‘‘ نارائنن کہتے ہیں۔ ’’یہ بات بالکل واضح ہے کہ تسمک سے پیدا ہونے والی مالیت کے سبب ہی سرکار اس معاملے کو لٹکائے ہوئی ہے۔ بھلے ہی شراب کی بیماری ترقی کا اہم ایشو ہو، لیکن یہ ختم نہیں ہو سکتا۔‘‘

ریاست کے ۲۰۱۹-۲۰ کے بجٹ کے مطابق، تمل ناڈو میں اب ۵۱۹۸ تسمک ہیں۔ حالانکہ یہ ہندوستان میں تعمیر کردہ غیر ملکی شراب، آئی ایف ایم ایل بیچنے والے ۷۸۹۶ خوردہ تسمکوں میں گراوٹ ہے، اور سرکار کا دعویٰ ہے کہ انھیں ریاست میں شراب کے مسئلہ کو کنٹرول کرنے کے مقصد سے بند کیا گیا ہے، لیکن جسٹس چندر دوسرے اسباب گناتے ہیں۔ ان میں سے ایک ۲۰۱۷ کا سپریم کورٹ کا وہ آرڈر تھا جس کے تحت ریاست یا قومی شاہراہ کے ۵۰۰ میٹر کے اندر بار کھولنے پر روک لگا دی گئی۔ ’’حالانکہ، ریاست نے کچھ شاہراہوں کا نام بدل کر اس حکم کو درکنار کرنے کا نیا طریقہ نکال لیا،‘‘ سابق جج کہتے ہیں۔ ’’تو حقیقت میں، کمی صرف ۱۰ فیصد کی ہوئی کیوں کہ خامیوں کے نتیجہ میں کئی دکانیں پھر سے کھل گئی ہیں۔‘‘

کچھ تسمک اسکولوں، کالجوں اور عبادت گاہوں کے قریب تھے۔ ’’انھیں بند کرنا پڑا، کیوں کہ یہ قانون کے خلاف تھا،‘‘ نارائنن کہتے ہیں۔

Shantini, 32, is a Kattunayakan adivasi who lives in Machikoli, a village in Devarshala taluk right next to the Mudumalai Tiger Reserve in Tamil Nadu’s mountainous Nilgiris district.  The route to her home is a narrow, steep and winding mud road that runs for two kilometers.
PHOTO • Vishaka George
Shantini, 32 (left), is a Kattunayakan adivasi who lives with her relatives in Machikoli, a village in Devarshala taluk right next to the Mudumalai Tiger Reserve in Tamil Nadu’s mountainous Nilgiris district.
PHOTO • Vishaka George

بائیں: مچی کولّی بستی کی طرف جاتی ویران پتلی سڑک۔ ’’ہماری زندگی ہمارے وجود کے ارد گرد مرکوز ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بھوکے نہ رہیں،‘‘ کُلّی کہتی ہیں

حقیقت میں، شانتنی جیسے دیہی باشندوں کے لیے شراب کے غلط استعمال کا معمولی ایشو اس لوک سبھا الیکشن میں امیدواروں کے لیے کوئی ایشو نہیں ہے۔ ٹی جی اسپیکٹرم گھوٹالہ میں ملزم اور پھر بری ہو چکے سابق مرکزی وزیر مواصلات اے راجہ، نیلگری سے دراوڑ مونیٹر گڑگم (ڈی ایم کے) پارٹی کے امیدوار ہیں۔ ایم تیاگ راجن آل انڈیا انا دراوڑ مونیتر کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے امیدوار ہیں۔ اشوک کمار بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار ہیں۔

اخباری رپورٹ کے مطابق، ڈی ایم کے کے انتخابی منشور میں کئی وعدے کیے گئے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہیں: خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہر ایک کنبہ کی ایک عورت کو کاروبار شروع کرنے کے لیے ۵۰ ہزار روپے دیے جائیں گے؛ ۵۰ لاکھ لوگوں کو پرائیویٹ کمپنیوں میں ۱۰ ہزار روپے ماہانہ کی نوکری دی جائے گی؛ اور منریگا کے تحت کام کے دنوں کی تعداد بڑھا کر ۱۵۰ کی جائے گی۔

اخباری رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اے آئی اے ڈی ایم کے غریبی کے خاتمہ کی اسکیم شروع کرنا چاہتی ہے، جس کے تحت خط افلاس کے نیچے کے لوگوں، بے سہارا عورتوں، بنا آمدنی والی بیواؤں، جسمانی طور سے معذور افراد، بے زمین زرعی مزدوروں، ہاتھ سے کام کرنے والے گاؤں اور شہر کے مزدوروں، بے سہارا بزرگ شہریوں اور دیگر تک، ۱۵۰۰ روپے ہر ماہ براہِ راست پہنچائے جائیں گے۔

’’پابندی پر نہ تو لوک سبھا کے امیدوار کچھ بول رہے ہیں اور نہ ہی اسمبلی کے ذیلی انتخابات [۲۲ سیٹوں کے لیے، ریاست کے دیگر حصوں میں، نیلگری میں نہیں] کے امیدوار۔ یہ درحقیقت الیکشن کا ایشو ہے ہی نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ، منتخب ہونے کے بعد ان ایشوز کو کبھی عوامی طور سے اور کبھی ایوان میں اٹھائیں،‘‘ جسٹس چندرو کہتے ہیں۔

لیکن جو لوگ شراب کے غلط استعمال کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، ان کے لیے یہ ایک ایسی مشکل ہے جس کا سامنا انھیں ہر دن کرنا پڑتا ہے۔ ’’کھانے کے لیے کافی پیسہ نہ ہونے سے ہمارے بچے اکثر بیمار پڑ جاتے ہیں، اور پھر ہم انھیں اسپتال بھی نہیں لے جا سکتے، کیوں کہ وہاں کا خرچ کون برداشت کرے گا؟‘‘ افسردہ شانتنی کہتی ہیں۔

ویڈیو دیکھیں: ’ہمارے اختیار میں صرف ووٹنگ ہے‘

شانتنی جیسے دیہی باشندوں کے لیے شراب کے غلط استعمال کا ایشو اس لوک سبھا الیکشن میں امیدواروں کے لیے کوئی ایشو ہے ہی نہیں

ان کے گاؤں سے تقریباً ۱۵ کلومیٹر دور، گڈالور شہر میں ریاست کی مدد سے نجی طور پر چلایا جا رہا اشونی ہیلتھ پروگرام آدیواسیوں کو رعایتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کی بانی، ڈاکٹر شیلجا دیوی، شانتنی کی تشویش کو صحیح بتاتی ہیں: ’’گزشتہ کچھ برسوں میں، شراب سے متعلق غلط برتاؤ کے سبب آنے والے مریضوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔‘‘ وہ بتاتی ہیں کہ یہاں آنے والی ہر تین خواتین میں سے ایک، فیملی میں شراب کے غلط استعمال سے متعلق مختلف مسائل لے کر آتی ہے، جن میں ڈِپریشن اور تناؤ بھی شامل ہیں۔ ایسے معاملوں میں اضافہ نے اسپتال کو آدیواسی برادریوں کے درمیان پدری شراب کی کھپت، زچہ کا ڈِپریشن اور بچے کی کم غذائیت کے درمیان تعلقات کے بارے میں ایک مطالعہ پر کام کرنے کے لیے آمادہ کیا ہے۔ ڈاکٹر دیوی بتاتی ہیں کہ کچھ خواتین بھی شراب پیتی ہیں، لیکن ان کی تعداد کافی کم ہے۔

’’تسمک ہر جگہ کھل رہے ہیں۔ اس کے خلاف کچھ احتجاج بھی ہوئے، لیکن ہمارا دشمن بہت مضبوط ہے،‘‘ وہ آگے کہتی ہیں۔

اُدھر مچی کولّی میں، شانتنی کی چچی کُلّی اپنے دو کمرے کے گھر کے صحن میں بیٹھی کہتی ہیں، ’’عورتیں اُس سڑک پر پرامن ہوکر نہیں چل سکتیں جہاں تسمک ہیں۔ بچے بھی نہیں چل سکتے۔ انھیں پریشان کیا جاتا ہے اور ان پر سیٹی بجائی جاتی ہے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ اگر سرکاریں آدیواسی خواتین کی زندگی کو کسی بھی طرح آسان بنانا چاہتی ہیں، تو انھیں سب سے پہلے تسمک کی دکانوں کو پھیلنے سے روکنا چاہیے۔

یہ پوچھنے پر کہ برسر اقتدار مرکزی حکومت کے بارے میں وہ کیسا محسوس کرتی ہیں، کُلّی کہتی ہیں، ’’ہم جنگلوں میں رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں کوئی ٹی وی اور کوئی اخبار نہیں پہنچ رہا ہے۔ ہم ان کے بارے میں کیا جانیں گے؟ ہماری زندگی ہمارے وجود پر مرکوز ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بھوکے نہ رہیں۔‘‘

اس اکیلی بستی میں مقامی پارٹیوں کی طرف سے کوئی ابھی تک (۱۰ اپریل تک، جب یہ اسٹوری لکھی جا رہی تھی) پرچار کرنے نہیں آیا ہے۔ ’’کوئی بھی ابھی تک یہاں نہیں آیا ہے۔ حالانکہ انھیں جلد ہی یہاں آنا چاہیے، اور جب وہ آئیں گے تو ہمیں کچھ چائے اور بسکٹ ملیں گے۔ جیسے کہ اس سے کسی کی بھی مدد ہو جاتی ہے،‘‘ کُلّی کہتی ہیں۔

سرکار سے کم امید کے باوجود، آج، ۱۸ اپریل کو شانتنی ووٹ کریں گی (کُلّی نے ووٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے)۔ یہ پوچھنے پر کہ کیوں، شانتنی تھوڑی دیر رکتی ہیں اور کہتی ہیں، ’’ہم آدیواسیوں کو حقیقت میں نہیں معلوم کہ اچھی پولنگ ہمارے لیے کیا ہوتی ہے، لیکن سال در سال ہم یہی کرتے آ رہے ہیں، اس لیے ہمیں یہ جاری رکھنا ہوگا۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Vishaka George

وِشاکا جارج بنگلورو میں مقیم صحافی ہیں جو رائٹر کے لیے بزنس کرسپانڈینٹ کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ ایشین کالج آف جرنلزم سے گریجویٹ، وشاکا عورتوں اور بچوں پر خصوصی دھیان دیتے ہوئے دیہی ہندوستان کو کور کرنا چاہتی ہیں۔

Other stories by Vishaka George