uploads/2th_tribal_2264536f.jpg


میں نے نیامگیری کا دورہ کبھی نہیں کیا تھا، لیکن پچھلے ہفتہ ڈونگریا کوندھ قبائلی گروپ اور اس علاقے میں کانکنی پر بضد طاقتور ملٹی نیشنل کارپوریشن ویدانتا کے درمیان مثال لڑائی نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ تو میں نے اس میں نے اس عنوان ’نیام گیری کی دوبارہ سیر‘ کیوں رکھا ہے؟ ایک تو اس لیے کہ میں نے اس کے بارے میں بہت کچھ پڑھا ہے، ساتھیوں سے بہت کچھ سنا ہے، اسی لیے ایسا محسوس ہوا کہ مجھے پہلے ہی وہاں جانا چاہیے تھا۔ ایک ایسی لڑائی جسے عالمی میڈیا نے ڈیوڈ بہ مقابلہ گولیتھ بنا دیا، کارپوریشن کو اپنا سامان پیک کرکے واپس بھیج دیا گیا، یہ ایک طرح سے پرانی داستان کی چیز تھی۔ لیکن داستانیں آسان ہو سکتی ہیں، اس لیے اس عنوان کو رکھنے کے پیچھے دوسری وجہ یہ ہے کہ پچھلے ہفتہ جب میں حقیقتاً نیامگیری پہنچا، تو میرا مقصد کانکنی مخالف لڑائی کی داستان سے ہٹ کر کچھ اور ڈھونڈنا تھا؛ خود اس داستان کی دوبارہ سیر کرنا۔

جنوب مغربی اوڈیشہ کے ڈونگریا کوندھ ہندوستان کے مبینہ ’’خصوصی طور پر ختم ہونے کے دہانے پہنچ چکا قبائلی گروپ‘‘ ہیں۔ ان کے پاس صدیوں پرانے عالمی نظریات اور فعل و عمل محفوظ ہیں، اور یہ لوگ علم کی متعدد شکلوں اور قدرت کے ساتھ اپنے رشتوں کو اب بھی بنائے رکھے ہوئے ہیں، جو دنیا کے نام نہاد ’’تہذیب یافتہ‘‘ لوگ بھول چکے ہیں۔ ان میں ہر وہ چیز موجود ہے، جسے ہندوستانی ریاست اور شہری تعلیم یافتہ لوگ ’’پس ماندہ‘‘ کہہ سکتے ہیں: یعنی خواندگی کا نہ ہونا، معمولی ٹکنالوجی کا استعمال، فصل بدل بدل کر لگانا، خون کی کمی، اسکولوں اور اسپتالوں کی کمی، ان کے گاؤوں تک کچی سڑک، بجلی کا نہ ہونا، وغیرہ وغیرہ۔ اور اس کے اوپر سے، اس قسم کے اسٹیریوٹائپ کو بیان کرتے وقت اپنا دفاع کرنا، کم از کم موجودہ وقت کے لیے۔ انھیں چیزوں نے پرائیویٹ کارپوریشن کو تمام ’’تہذیب یافتہ‘‘ طاقتوں کے ساتھ یہاں جیت دلائی ہے۔ (ہم نے سنا کہ ویدانتا کو اب بھی یہ امید ہے کہ جس فیصلہ کے تحت اسے اس علاقہ میں کانکنی کرنے سے روک دیا گیا تھا، اس فیصلہ کو پلٹ دیا جائے گا، خاص کر اب جب کہ کانگریس کی بہ نسبت دہلی میں زیادہ کارپوریٹ حامی سرکار بن چکی ہے۔) تاہم، ڈونگریا کوندھ الرٹ ہیں اور انھیں پورا یقین ہے کہ وہ کمپنی کو کسی بھی طرح کی دراندازی نہیں کرنے دیں گے۔

میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ یہ سمجھنے کے لیے نیامگیری گیا کہ ترقی اور خوشحالی کے بارے میں ڈونگریا کوندھ کے خیالات کیا ہیں۔ انھوں نے کانکنی کو خارج کر دیا تھا، لیکن کیا وہ ترقی کے نظریہ کو بھی خارج کر رہے تھے؟ کیا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ وہ جس حال میں ہیں، وہی ٹھیک ہے؟ کیا وہ ’’باہر‘‘ سے آنے والی ہر چیز کو خارج کر رہے تھے، یا ان میں سے کچھ چاہتے تھے، مثال کے طور پر سرکاری اسکیم؟ کیا خود ان کی برادری کے اندر مختلف نظریات موجود ہیں؟

ڈونگریا کوندھ کے متعدد گاؤں میں چلنے اور وہاں تحریک چلانے والے کچھ لیڈروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ کانکنی کو منع کرنے کے پیچھے وہاں ایک مضبوط روحانی اور مددل بنیاد موجود ہے۔ نیام راجا، جو کہ اس خطہ کی روحانی بنیاد ہیں، نے ضابطے بنائے ہیں، ان میں جنگلات اور ندیوں کی حفاظت، انفرادی ملکیت کے بجائے وسائل پر سب کا حق، اور مزدوری اور اس کے پھل کی سب میں تقسیم جیسی چیزیں شامل ہیں۔ اس قسم کے حالات میں، بڑی مداخلت جیسے کانکنی اور بڑی سڑکوں و فیکٹریوں کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ لڈو سیکاکا اور ددھی پوسیکا جیسے لیڈروں کا بھی واضح طور پر یہی خیال ہے کہ نیامگیری کو مُنی گڈا اور بھونیشور جیسے شہروں کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت نہیں ہے، جہاں بیمار پڑے بغیر نہ تو پانی پیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہوا میں سانس لی جا سکتی ہے، یعنی پانی اور ہوا سے بیمار پڑنا ہی پڑنا ہے، جہاں گھر سے باہر نکلنے پر تالا لگانا پڑتا ہے، اور جہاں عورتوں کو روزانہ ہراساں کیا جاتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس علاقے میں سڑک بننے سے یہاں صرف استحصال کرنے والی طاقتیں آئیں گی۔ اور اس بات کو محسوس کرنے کے بعد کہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت انفرادی طور پر پلاٹ حاصل کرنے سے انفرادیت کی حوصلہ افزائی ہوگی اور بڑے پیمانے پر جنگل کاٹے جائیں گے، کمیونٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے خطہ کو اس ایکٹ کے تحت رہائش کا حق عطا کیا جائے، اور مالکانہ حق صرف نیام راجا کے سپرد کیا جائے۔

دراندازی کی قسمیں

بدقسمتی سے، ایسی دراندازیاں پہلے ہی ہو چکی ہیں، کچھ تو اندر کے ہی لوگوں نے کی ہے۔ اچھے ارادے سے لیکن غیر مناسب ’’فلاحی‘‘ اسکیموں کے ذریعہ، ریاست نے ’’تہذیب‘‘ کا فائدہ قبیلہ کو پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ جن گاؤوں میں اسکول پہلے سے موجود تھے انھوں نے کام نہیں کیا، جس کی وجہ سے آدیواسی بچوں کو آشرم شالہ یا بورڈنگ اسکولوں میں لایا گیا، جہاں اڑیہ میں پڑھائی ہوتی ہے (حالانکہ ڈونگریا کوندھ کوی بولی بولتے ہیں)۔ آدیواسی کلچر کی جگہ وہاں کے غالب مین اسٹریم کلچر کو لانے کی کوشش کی گئی۔ بھونیشور کے ایک مشہور و معروف تعلیمی ادارہ نے، جس کے معاونین میں سیاسی اور سائنسی شعبہ کی کئی نامور ہستیاں شامل ہیں، پورے اوڈیشہ سے ہزاروں آدیواسی بچوں کو جمع کیا اور انھیں تعلیم دینے کے لیے یہاں لے کر آیا؛ لیکن اسے کئی ایسے کارپوریشنوں کی بھی فنڈنگ حاصل ہے جو ان آدیواسی علاقوں میں کان اور صنعتیں قائم کرنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے کارکنوں کو شک ہونے لگا ہے کہ آیا یہ ان بچوں کو تعلیم یافتہ بنانا ہے یا پھر یہاں ان کی ذہن سازی چل رہی ہے۔

یہاں کا بازار بھی پوری طرح ریاست کے ہی نقش قدم پر چل رہا ہے۔ حالیہ دنوں تک، ڈونگریا کوندھ کی اقتصادیات پوری طرح سے نقدی سے پاک تھی۔ لیکن اب پیسے کی ’’ضرورت‘‘ بڑھتی جا رہی ہے، کیوں کہ آدیواسی تھوڑا بہت جو بھی خریدتے ہیں، وہ مہنگا ہوتا جار ہا ہے۔ وہ اپنا جو کچھ سامان بیچنے کے لیے بازار میں لاتے ہیں، وہ بازار سے بھی نہایت کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔ ہندوستان کے آدیواسیوں کی ہر جگہ یہی حالت ہے، بازار سے ان کے ٹکراؤ کی حالت میں ہمیشہ انھیں کا نقصان ہوتا ہے۔

اخیر میں، پولس اور دیگر سیکورٹی دستے بھی دراندازی کر رہے ہیں۔ اس علاقہ کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہاں نکسلیوں کی سرگرمی رہتی ہے، جس نے ریاست کو یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ وقفہ وقفہ سے گشتی ٹکڑیوں کو یہاں بھیجے۔ وہ آدیواسی لیڈروں اور ان کے حامیوں سے پوچھ گچھ کرتے ہیں، ان پر الزامات لگاتے ہیں، جس میں دہشت گردی کا الزام بھی شامل ہے، تلاشی لیتے ہیں، اور خود انھیں ان کے گھر میں ناپسندیدہ بنا دیتے ہیں۔

ڈونگریا کوندھ ان تمام مسائل سے باخبر ہیں، لیکن اس بات کو لے کر تذبذب برقرار ہے کہ اس سے نمٹا کیسے جائے۔ ان کے گھروں پر دھات کی چھتوں کا بے محل اور تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال (دیواریں اب بھی مٹی کی ہیں) اس کنفیوژن کی علامت ہے۔ انھوں نے شکایت کی کہ اس قسم کی چھتوں سے گرمی کے دنوں میں ان کے گھر کافی گرم ہو جاتے ہیں۔ پھر کیوں، انھوں نے گھاس پھوس کی اپنی روایتی چھتوں کو بدل لیا؟ ’’کیوں کہ حکومت ہمیں دھات کی چھت دے رہی تھی۔‘‘ یہی جواب اس وقت بھی ملا جب ان سے سوال کیا گیا کہ جب ان کے پاس مقامی باجرا اور دیگر اناج موجود ہیں، تو وہ سفید چاول کیوں کھا رہے ہیں۔ لیکن ہم نے جب ان سے پوچھا کہ لین دین میں پیسے کا بڑھتا استعمال مسائل کھڑے کر سکتا ہے، تو اس کا انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ڈونگریا کوندھ کے بہت سے گھرانے اپنے بچوں کو اس امید میں مین اسٹریم اسکولوں میں بھیج رہے ہیں کہ اس سے ان کا مستقبل بہتر ہو جائے گا۔ تاہم، ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی گاؤوں کے اسکولوں میں بچوں کو بھیجنا زیادہ پسند کریں گے، جہاں ڈونگریا کوندھ ٹیچرس انھیں کوی زبان میں پڑھائیں، اور جنگل و کھیت میں رہتے ہوئے انھیں ان سب کی تعلیم دیں۔

مکمل داستان

کانکنی مخالف احتجاج کا ایک مثبت نتیجہ نیامگیری سرکشا سمیتی کی کی شکل میں نکل کر آیا ہے، جس نے ڈونگریا کوندھ کی تمام آبادیوں کو متحد کر دیا ہے۔ یہ سمیتی دیگر مسائل پر بھی غور کر رہی ہے، جیسے غیر قانونی طریقے سے شراب بنانے کے خلاف تحریک۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں سے اس قبیلہ کو درپیش دیگر سلگتے مسائل کو بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔

یہ ممکن نہیں ہے کہ چند لوگوں سے بات چیت کرکے ہم اپنے ذریعہ تیار کردہ پچیدہ سوالوں کے ساتھ انصاف کر سکیں۔ لیکن ہم اس بات کا اطمینان بخش جواب مل گیا ہے کہ نیامگیری کو ایک مقام اور داستان کے طور پر دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ڈونگریا کوندھ کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے لائق بنانے، جو ان کی اپنے ماضی اور حال کی سمجھ پر مبنی ہو، کے لیے باہر کے کسی بھی آدمی کو جو ان کے بارے میں واقعی میں بھلا سوچتا ہو، گہری سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔ ڈیوڈ بمقابلہ گولیاتھ کی داستان طاقتور ہے، جو برقرار رہے گی اور دوسروں کو آمادہ کرے گی، لیکن یہ داستان مکمل نہیں ہے۔ بازار اور ریاست نے ان لوگوں کی زندگی میں گہری دراندازی کی ہے۔ ایسے میں ڈونگریا کوندھ، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور حکومت کو اس بات کا پتہ لگانے کے لیے اچھی دیکھ بھال والی پارٹنرشپ کی ضرورت پڑے گی کہ ان کے سامنے جو مشکلیں درپیش ہیں، انھیں کیسے دور کیا جائے، تاکہ وہ بقیہ دنیا کو یہ سمجھا سکیں کہ قدرت کے ساتھ تال میل بناکر اچھی زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے۔

یہ مضمون دی ہندو میں سب سے پہلے ۲ جنوری کو شائع ہوا:

http://www.thehindu.com/opinion/op-ed/comment-on-niyamgiri-and-fight-between-dongria-kondh-tribal-group-and-vedanta/article6745650.ece

مضمون نگار: آشیش کوٹھاری

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here: