01-IMGP0980-JH-A bad tomato gamble with demonetisation as the dice.jpg

اس سال بارش اچھی ہوئی تھی، موسم بھی خوشگوار تھا اور پیداوار بھی خوب ہوئی۔ ۲۸ سال کے سندیپ تھاوکر جی نے سوچا، ان کے ٹماٹر انھیں بہت اچھی رقم دلا دیں گے۔

ناگپور سے ۶۵ کلومیٹر دور وِرکھنڈی گاؤں میں اپنے پڑوسی کو پچھلے سال ٹماٹر میں ہوا اچھا منافع دیکھ، سندیپ جی نے اپنے چار ایکڑ کھیت میں سے ڈیڑھ ایکڑ میں ٹماٹر لگانے کی جوکھم اٹھانے کا فیصلہ کیا، حالانکہ، روایتی طور پر وہ سویابین اور کپاس کی کھیتی کرتے ہیں۔

دسمبر کے وسط میں، مقامی قسم کے ٹماٹروں کی کٹائی شروع ہونے سے پہلے ہی قیمتوں میں گراوٹ آئی۔ جنوری کے پہلے ہفتہ میں، ٹماٹروں کے ۲۵ بکسوں نے، ہر بکسے میں ۲۵ کلو کی سبزیاں، سندیپ جی کو صرف ۱ روپیہ ۲۰ پیسے فی کلو کے حساب سے دلائے۔

اس قیمت پر، انھوں نے کہا، گاڑی اور ٹرانسپورٹ، اور ساتھ میں ایجنٹ کا کمیشن تو بہت ہی دور کی بات، مزدوروں کے خرچ کی بھی وصولی نہیں کر سکتا۔ انھوں نے، صرف کی گئی لاگت اور اپنی فیملی کی محنت کا تو ذکر بھی نہیں کیا۔

۲۷ دسمبر کو گھر لوٹنے کے بعد، سندیپ جی نے اپنے چچیرے بھائی، سچن سے ٹریکٹر اُدھار لیا۔ اس ٹریکٹر کو انھوں نے ٹماٹر کے بھرے کھیتوں میں چلا کر ٹماٹر کی فصل برباد کردی۔ جی ہاں! وہی ٹماٹر کے کھیت، جس میں سندیپ جی، ان کی بیوی، ان کی بڑی بہن اور چاچی جی نے مل کر چار مہینے، بوائی، چھنٹائی، پانی دینا، کیڑوں سے فصل کو بچانا وغیرہ کام کرکے دن رات محنت کی تھی۔


02-IMGP0982-JH-A bad tomato gamble with demonetisation as the dice.jpg

سندیپ تھاوکر اپنے گھر کے کھیتوں پر (بائیں سے دائیں) اپنی بڑی بہن پشپا تجارے، چاچی ہیم لتا تھاوکر اور بیوی منجوشا کے ساتھ


ان کا ٹماٹر کے کھیت برباد کرنے کا سبب جیسے مایوسی تھا، اسی طرح کچھ حد تک آگے دکھائی دیتے ہوئے نقصان کو گھٹانا بھی تھا۔ ’’ٹماٹر کی مارچ تک کٹائی کی جاتی ہے۔ میں نے پہلے سے ہی ۵۰ ہزار روپے خرچ کیے ہیں۔ حشرہ کش اور باقی کی فصل بچائے رکھنے کی خاطر مزدوروں کے لیے مزید ۲۰ ہزار روپے خرچ کرنے کی ضرورت تھی،‘‘ سندیپ جی نے کہا۔

’’اس کا مطلب اور بھی نقصان ہوتا۔ اب تو یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ، قیمتوں میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ اس سے اچھا، میرا نقصان کچھ حد تک کم کرنے کے لیے میں کسی اور فصل کی بوائی کرکے مارچ۔ اپریل تک اس کی کٹائی کروں،‘‘ انھوں نے کہا۔

سندیپ، جو مانتے ہیں کہ فی کلو ۱۰ روپے سے کم از کم نقصان کے بغیر کاروبار ہو جاتا، پختگی سے یہ بھی بتاتے ہیں کہ ۸ نومبر کے نوٹ بندی کے اعلان کے بعد قیمتوں میں بھاری گراوٹ آنی شروع ہوئی۔

لیکن وِرکھنڈی گاؤں سے دونوں طرف ۲۰ کلومیٹر دوری پر آباد بھیواپور اور اُمریڈ شہر کے مقامی کاروباری، اس صورتحال کے لیے نوٹ بندی کو قصوروار نہیں مانتے۔

’’ضرورت سے زیادہ ہوئی لبالب پیداوار کے نتیجہ میں قیمتوں میں گراوٹ آئی،‘‘ ۳۸ سال کے اُمریڈ منڈی کے بنٹی چاکولے نے بتایا۔ ’’ہرسال نومبر۔دسمبر۔جنوری میں سبزیوں کی قیمتیں کم ہوتی ہیں، اور اس سال ٹماٹر کی بھاری مقدار میں پیداوار ہوئی ہے۔‘‘

لیکن انھوں نے قبول کیا کہ ۸ نومبر کے بعد قیمتوں میں بھاری گراوٹ آئی۔ ’’ایک بات ضرور ہے کہ میرے ۲۰ سال کے کریئر میں، میں نے اتنی بری حالت کبھی نہیں دیکھی۔‘‘

’’سبزیوں کی قیمت سال کے اس وقت موسم کی وجہ سے کم ہوجاتی ہے، لیکن چلن کی کمی شاید اس کے لیے ایک اضافی وجہ بن گئی ہے،‘‘ یہ ماننا ہے کہ حکومت ہند کے سابق چیف ایکنامک ایڈوائزر، ڈاکٹر اشوک کمار لاہری جی کا۔ ان کے حال ہی میں نوٹ بندی پر لکھے گئے مضامین کا کچھ حصہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فائننس اینڈ پالیسی نے شائع کیا ہے۔

ناگپور کی زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹی کا ڈاٹا، نوٹ بندی سے پہلے اور بعد میں قیمتوں میں آئے فرق کو صاف صاف دکھاتا ہے۔

ناگپور سے ۵۰ کلومیٹر کی دوری پر، چچولی کے بنڈو گھورمڈیجی نے ۸ نومبر سے پہلے ٹماٹر ۸ روپے فی کلو کے حساب سے بیچے تھے، پیداوار تب زیادہ ہونے سے قیمتیں کم ہوئی تھیں۔ آج فی کلو قیمت ایک روپیہ ہو گئی ہے۔


03-IMGP0976-JH-A bad tomato gamble with demonetisation as the dice.jpg

وِرکھنڈی گاؤں کے دوسرے کسان، پنڈت تھاوکر، اپنی بیوی شانتا بائی اور اپنے کھیت میں ابھی ابھی پکے ہوئے، تازے ٹماٹروں کے ساتھ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سال ان کے ذریعے لگایا ہوا کوئی بھی پیسہ انھیں واپس نہیں مل پائے گا، کیوں کہ پاس کے بھیواپور کی منڈی میں تھوک قیمتوں میں ایک روپیہ سے بھی کم گراوٹ آئی ہے


قومی باغبانی بورڈ کی مانیں تو، ۲۰۱۵ میں، دسمبر ۔ جنوری میں دیسی قسم کے ٹماٹر کی اوسط قیمت ۱۵ روپے فی کلو اور ایکسپورٹ (ہائبرڈ) قسم کے ٹماٹر کی اوسط قیمت ۳۷ روپے ۵ پیسے تھی۔ لیکن پچھلے سال یکم نومبر اور ۲۵ دسمبر کے درمیان ۲۹ بڑے بازاروں میں ہائبرڈ کی قیمتوں میں اوسط ۲۹ روپے سے ۵ روپے ۵۰ پیسے فی کلو تک گراوٹ آئی۔

رائے پور میں فی کلو ٹماٹر کی قیمت میں ۴ روپے کی گراوٹ آئی۔ چھتیس گڑھ کے جسپور ضلع میں دیسی قسم کے ٹماٹر ۵۰ پیسے فی کلو سے بیچے گئے، جس کے نتیجہ میں، کسانوں نے ناکامی کے سبب شاہراہوں پر کئی ٹماٹر پھینک دیے۔

ناگپور سے ۵۰ کلومیٹر دور، وردھا شہر میں کسان پرمون رنت جی نے مصروف چوراہے کے بیچ، ۲۷ دسمبر کو اپنا ٹماٹر سے بھرا ٹرک کھڑا کر، چار گھنٹے میں ۴۰۰ کلو ٹماٹر مفت میں بانٹ دیے۔

ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر دو گنی آمدنی واپس ملنے کی امید پر انھوں نے اپنے ۹ ایکڑ کھیت میں سے تین ایکڑ میں ٹماٹر کی بوائی کی تھی۔ لیکن جب تاجروں نے فی کلو ایک روپے پیش کیے، تب انھوں نے تاجروں کو ٹماٹر بیچنے سے اچھا عطیہ کے توسط سے دعا پانے کا فیصلہ کیا۔

۲ جنوری کے دن، نیوز ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ ہے کہ رائے پور میں نوٹ بندی کے خلاف احتجاج درج کرانے کے لیے کسانوں کے ایک گروپ، یوا پرگتی شیل کسان سنگھ کے ارکان نے ٹماٹر سمیت ایک لاکھ کلو کی سبزیاں لوگوں میں مفت تقسیم کردیں۔

وِرکھنڈی میں، سندیپ اپنی بے بس زمین میں، جو ابھی ابھی ٹریکٹر سے برابر کی گئی ہے، سوچتے ہیں کہ کس فصل کی بوائی کی جائے؟ گوار، یا دیسی گول لوکی (ٹنڈے) یا بھنڈی؟ جو بھی ہو، اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اس میں فائدہ ملے گا ہی؟

’’مجھے پہلے بازار میں قیمتوں کی جانچ کر اس کے بعد جوا کھیلنے کی ضرورت ہے،‘‘ وہ اداسی سے مسکراتے ہیں۔

تصویر: جے دیپ ہاردیکر

یہ مضمون (جس میں یہاں تھوڑی ترمیم کی گئی ہے) سب سے پہلے ٹیلی گراف، کولکاتا میں ۷ جنوری، ۲۰۱۷ کو شائع ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

جے دیپ ہاردیکر ایک صحافی، مصنف، محقق، کرکٹ شائق اور ’پاری‘ والنٹیئر ہیں۔ وہ انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلی گراف‘ کے وسطی ہندوستان کے خصوصی نامہ نگار اور ’اے وِلیج اویٹس ڈومس ڈے‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @journohardy You can contact the author here: