’’ہم تبھی کھا سکتے ہیں، جب ہمیں روز کام ملے،‘‘ ۴ نومبر کو بنگلورو سے بوچرلا لوٹنے کے بعد ڈی نارائنپا نے بتایا۔ اس گاؤں کے دیگر بہت سے دلتوں کی طرح، وہ بھی سال کے کئی مہینوں تک کنسٹرکشن سائٹوں پر کام کرنے کے لیے شہر کا رخ کرتے ہیں، اور بیچ بیچ میں چند دنوں کے لیے گھر آتے رہتے ہیں۔

لیکن نومبر میں، یہ مہاجرین آندھرا پردیش ۔ کرناٹک سرحد پر واقع اننتا پور ضلع کے روڈام منڈل کے اپنے گاؤں میں ایک ماہ یا اس سے زیادہ ٹھہرتے ہیں۔ اس ماہ کے دوران، دیگر مزدوروں کی طرح نارائنپّا بھی بوچرلا کے کھیتوں پر کام کرتے رہتے ہیں، تاکہ آمدنی کا سلسلہ برقرار رہے۔ اتنے لمبے عرصے تک کام نہ کرنا کوئی آپشن نہیں ہے۔


02-Narayanappa-Bucharla-0520-RM-Staying half-hungry due to the demonetisation ‘drought’.jpg

’ہم امبیڈکر کے لوگ ہیں،‘ ڈی نارائنپّا بوچرلا کے اپنے گھر پر کہتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کیوں ان کی برادری کے لیے غیر رسمی طور پر پیسہ اُدھار لینا حد سے زیادہ مشکل ہے


نومبر کی واپسی ان مہاجرین کے لیے عام طور سے خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ وہ اپنی بچت کا پیسہ لے کر لوٹتے ہیں اور اپنا موروثی تہوار ’شانتی‘ مناتے ہیں۔ اس تہوار کے دوران، بوچرلا کی ایس سی (شیڈولڈ کاسٹ یا درج فہرست ذات) کالونی کے تقریباً ۱۵۰ دلت کنبے ان رسم و رواج کو ادا کرتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ یہ انھیں وبائی بیماری سے بچائیں گے۔ وہ پیڈمّا دیوی کے لیے بیل اور بھیڑ کی قربانی کرتے ہیں۔ ان رسم و رواج کو ادا کرنے کے بعد دن بھر کھانا پینا چلتا ہے، جس میں قربان کیے گئے جانوروں کے گوشت لوگوں کو کھلائے جاتے ہیں۔

اس سال، قربانی ۲۹ نومبر کو ہونی تھی۔ مہاجرین بھی اپنے ذریعہ بچا کر رکھی گئی رقم کے ساتھ گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے، اس انتظار میں کہ وہ جم کر تہوار منائیں گے۔ لیکن، تبھی نوٹ بندی نے انھیں مایوس کر دیا۔

گاؤں میں نقدی کی بے انتہا قلت، خراب مانسون کی وجہ سے مونگ پھلی اور شہتوت کی کم پیداوار اور تیزی سے گھٹتی بڑھتی قیمتوں نے روڈام کے کسانوں کی آمدنی ختم کردی۔ وہ اس لائق نہیں رہے کہ مزدوروں کو اپنے یہاں مسلسل کام پر رکھ  سکیں۔ گاؤں کی متعدد ذاتوں کے زرعی مزدوروں کو ان کی روزانہ کی اجرت ادا نہیں کی گئی، ۱۵۰ روپے مردوں کے لیے، ۱۰۰ روپے عورتوں کے لیے، نومبر میں ۱۵ دنوں تک کے لیے۔


03-unemployed-sc-man-rests-at-ration-shop-and-unemployment-helpline-number-of-egmm-scheme-on-the-wall-Bucharla-0572-RM-Staying half-hungry due to the demonetisation ‘drought’.jpg

نوشتۂ دیوار: ایک بے روزگار دلت مزدور بوچرلا میں راشن کی دکان کے سامنے آرام کر رہا ہے۔ المیہ دیکھئے، بے روزگاروں کے لیے سرکاری ہیلپ لائن نمبر دیوار پر پینٹ کیا ہوا ہے


پورا نومبر کام کے بغیر گزر جانا، اور شانتی کو منانے لائق بنے رہنے کی وجہ سے دلتوں نے اپنا کھانا کم کردیا۔ ’’ہمارے پاس جتنا چاول ہے، ہمیں اسے مزید کچھ دنوں کے لیے بچا کر رکھنا ہے،‘‘ ہنومکّا نام کے زرعی مزدور نے بتایا۔ نومبر میں، تقریباً ۶۰۰ دلتوں پر مشتمل ایس سی کالونی کے دیگر لوگوں کی طرح انھوں نے بھی روزانہ ایک دوقت کا کھانا کھایا، اور ہفتہ وار گوشت کھانا بند کر دیا۔

نارائنپا کی سات رکنی فیملی، جس میں ان کی بیوی، دو بیٹے اور ان کی بیویاں، اور ایک دو سال کی پوتی ہے، ہر ماہ ۹۰ کلو چاول اور ۳۰ سیر (ایک سیر وزن میں ایک کلو سے تھوڑا کم ہوتا ہے) راگی کھا جاتے ہیں۔ ’’لیکن نومبر میں ہم نے کھانے میں تقریباً ۶۰ کلو چاول اور ۱۰ سیر راگی استعمال کیا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

نارائنپّا روڈام گاؤں میں جی آر راگھویندر کی دکان سے چاول خریدتے ہیں، یہ دکان بوچرلا سے تقریباً تین کلومیٹر دور ہے، اور ۵۰ کلو چاول کے بورے کی قیمت ہے ۱۲۰۰ روپے۔ راگھویندر کا کاروبار مندا چل رہا ہے۔ ’’اکتوبر میں ہم نے ۲۰ بورے چاول بیچے، جس میں سے ہر ایک کا وزن ۲۵ کلو تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’پچھلے ماہ (نومبر میں) ہم صرف ۱۰ ۔ ۸ بورے ہی بیچ پائے۔‘‘


04-Hanumakka-on-right-with-the-rice-from-ration-shop-which-will-collect-its-december-payments-later-0571-RM-Staying half-hungry due to the demonetisation ‘drought’.jpg

جی آر راگھون (بائیں) روڈام گاؤں میں اپنی دکان میں۔ نومبر میں، وہ نقدی کی کمی ہونے سے پچھلے ماہ کی بہ نسبت آدھے سے بھی کم چاول بیچ پایا


روڈام میں روز مرہ اشیاء کی دوسری دکانوں، جہاں سے اس منڈل کے ۲۱ گاؤوں میں سامان جاتا ہے، کا بھی نوٹ بندی کی وجہ سے کاروبار کم ہوا ہے۔ ’’تمام ضروری اشیاء کی فروخت کم ہو گئی ہے،‘‘ پی اشوتھا لکشمی بتاتی ہیں، جو کہ گاؤں کی ایک دکاندار ہیں۔ ’’ہم ہر ہفتہ تین کارٹن صابن بیچ دیتے تھے۔ دسمبر کے پہلے ہفتہ میں، ہم پوری طرح ایک کارٹن بھی نہیں بیچ سکے۔‘‘

بوچرلا کی ایس سی کالونی کے باشندے راشن کی دکانوں سے اب صرف تھوڑا راشن ہی لے پاتے ہیں؛ بقیہ چیزیں وہ کم مقدار میں کم از کم مہینہ میں ایک ہی بار خریدتے ہیں۔ وہ بڑی مقدار میں سامان خریدنے کے لائق نہیں رہے۔ ’’اس دفعہ، ہم نے پیسے کی (کمی کی) وجہ سے نہیں خریدا (اور راشن کی دکانوں سے لائے گئے چاول سے ہی کام چلا لیا)،‘‘ ہنومکا کہتی ہیں، جو اَپ گھر پر ہی رہتی ہیں، کیوں کہ گاؤں میں کام ایک طرح سے غائب ہو گیا ہے۔


05-Raghavendra-in-his-grocery-shop--Roddam-0533-RM-Staying half-hungry due to the demonetisation ‘drought’.jpg

ہنومکا اور ان کی بیٹی، راشن کی دکان سے اُدھار پر لیے گئے چاول کے ساتھ، جس کا دسمبر کا پیسہ بعد میں ادا کیا جائے گا


دلت کالونی کے لوگوں کے لیے یہ کوئی نئی قلت نہیں ہے۔ یہاں کے بہت سے مرد ۱۹۹۰ کی دہائی سے پہلے خطہ کے متعدد گاؤوں میں بندھوا مزدور تھے۔ ان کے لیے، موجودہ صورتحال اس دور کی یاد دلاتی ہے۔ لیکن، وہ کہتے ہیں، یہ اس بار کہیں کم پریشانی والا ہے۔ ’’یہ قلت (نوٹ بندی کی وجہ سے) ان خشک سالوں سے کہیں بہتر ہے، جو ہم نے ۳۰ سال پہلے دیکھی تھی،‘‘ نارائنپا کہتے ہیں، جو اَپ ۴۹ سال کے ہو چکے ہیں۔ ’’جب میں ۲۰ سال کی عمر کے آس پاس کا تھا، تو ہمیں لگاتار تین چار دنوں تک بھوکا رہنا پڑتا تھا۔ ہم املی کے بیج پانی میں بھگوکر کھاتے تھے، یا پھر زندہ رہنے کے لیے ناریل کے درختوں کی جڑ کھایا کرتے تھے۔ اس وقت میں ۱۴ برسوں کے لیے جیٹھاگاڈو (بندھوا مزدور) ہوا کرتا تھا۔‘‘

اب، سابق بندھوا مزدور کام کی تلاش میں ہر سال کئی مہینے کے لیے ہجرت کرتے ہیں، خاص کر تب جب گاؤں میں زرعی کام کاج کم ہوجاتا ہے۔ نارائنپا کی فیملی کے زیادہ تر لوگ بنگلورو ہجرت کرکے چلے جاتے ہیں، اور تین چار مہینوں میں صرف چند دنوں کے لیے گھر لوٹتے ہیں۔ وہ عام طور سے شہر میں گھر بنانے کے کام میں لگے رہتے ہیں، اور جس عمارت پر کام کرتے ہیں اس کی چھتوں پر رہتے ہیں، یا پھر سڑک کے کنارے بنائی گئی ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیوں میں۔ لیکن انھیں ان کی مشقت بھرے کام کی جو مزدوری ملتی ہے، اس سے وہ پیٹ بھر کھانا کھاتے ہیں۔ ’’ہم ایک ہفتہ میں دو بار گوشت ضرور کھاتے ہیں،‘‘ نارائنپا کہتے ہیں۔ لیکن نوٹ بندی کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔

نارائنپا کی فیملی نومبر کے پہلے ہفتہ میں جب بوچرلا واپس لوٹی، اور کھیتوں پر انھیں کوئی کام نہیں ملا، تو انھیں اپنے تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے پنی بچت کو آگے مزید کچھ دنوں تک بچا کر رکھنا پڑا۔ گاؤں میں دوسری ذات کے لوگ پہلے سے جمع کرکے رکھے گئے اناج کو آپس میں بانٹ کر اپنا کام بہتر ڈھنگ سے چلا رہے ہیں یا پھر ایک دوسرے کے ذریعہ بچا کر رکھی گئی رقم کو اُدھا لے رہے ہیں۔ نارائنپا کی ذات کے لوگوں کے پاس اناج بہت کم بچا ہے اور وہ گاؤں کے دوسرے لوگوں سے اُدھار بھی نہیں لے سکتے۔

’’ہم امبیڈکر کے لوگ ہیں،‘‘ نارائنپا کہتے ہیں، یہ بتاتے ہوئے کہ وہ غیر روایتی طور پر دوسری سے اُدھار کیوں نہیں لے سکتے، یا پھر گاؤں کے دوسرے لوگوں کے ساتھ اناج شیئر کیوں نہیں کر سکتے۔ وہ اپنی ذات کا نام (مڈیگا) بتانا نہیں چاہتے، جسے کبھی تیلگو میں بے عزت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ضرورت مند بھی دکھائی دینا نہیں چاہتے۔ ’’اب ہماری کچھ عزت ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اگر کوئی ہمیں کھانا بھی دیتا ہے، تو ہم لیتے نہیں ہیں۔ ہم بھلے ہی تھوڑا کھائیں، لیکن ہم ان سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے۔‘‘

 06-Narayanappa's-home-after-they-have-left-Bucharla-0557-RM-Staying half-hungry due to the demonetisation ‘drought’.jpg

نارائنپا کا تالا لگا گھر۔ ان کی فیملی، دوسروں کے ساتھ، اپنے معمول سے کئی ہفتوں پہلے بنگلورو کے لیے روانہ ہو چکی ہے


نارائنپا کی ذات کے لوگ اپنا کھانا کم کرکے نوٹ بندی کا سامنا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کینرا بینک کی روڈام برانچ میں نقدی کی کمی نے گاؤں کی ہر فیملی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، لیکن ایس سی کالونی کے لیے یہ کوئی بڑی تشویش کی بات نہیں ہے۔ ’’ہمارے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں۔ ہم تو صرف کچھ کام چاہتے ہیں،‘‘ نارائنپا کہتے ہیں۔

پوسٹ اسکرپٹ: ایک ماہ تک آدھا بھوکا رہنے کے بعد، نارائنپا کی فیملی ۴ دسمبر کو بنگلورو کے لیے روانہ ہو گئی، جب کہ عام طور سے وہ تین ہفتے بعد وہاں جاتے۔ بہت سی دیگر دلت فیملیز بھی جا چکی ہیں، انھوں نے گھر کے بچوں کو بزرگوں کے پاس چھوڑ دیا ہے۔ بوچرلا کی ایس سی کالونی، جو تہوار منانے کی تیاری کر رہی تھی اور پچھلے ماہ لوگوں سے بھری ہوئی تھی، تہوار کے ایک ہفتہ بعد خاموش ہو گئی

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Rahul M.

راہل ایم ایک آزاد صحافی ہیں اور آندھرا پردیش کے اننت پور میں مقیم ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @twrahul

Other Stories by Rahul M.