’’کسان کا ۵۰۰ روپے کا نوٹ ہمیشہ کیچڑ میں بھیگا ہوا اور خراب رہتا ہے۔ یا پھر وہ مڑا ہوا ضرور ہوتا ہے،‘‘ پی اُمیش کا کہنا ہے جو کہ آندھرا پردیش کے اننتاپور ضلع کے قحط سے متاثرہ تاڑی مری منڈل میں کھاد بیچتے ہیں۔

ابھی چند دنوں سے قبل اُمیش نے اپنے صارفین کے ہاتھوں میں ۵۰۰ روپے کے کرارے نوٹ نہیں دیکھے، یہ وہ کسان ہیں جو تاڑی مری گاؤں میں واقع ان کی دکان سے بیج اور کھاد خریدتے ہیں۔ لہٰذا انھیں اس وقت چوکنا ہونا پڑا، جب ۲۳ نومبر کو ایک کسان نے پہلے خریدی گئی کھاد کے پیسے چکانے کے لیے انھیں ۵۰۰ روپے کے کرارے نوٹ دیے۔ یہ نوٹ سال ۲۰۱۴ میں چھپے تھے۔

’’اگر یہ نوٹ دو سال سے چلن میں ہوتے، تو ان کا اتنا کرارا دکھائی دینا ناممکن سا تھا،‘‘ وہ حیرانی سے بتاتے ہیں۔ اُمیش کا پہلا قیاس یہ تھا کہ یہ نقلی نوٹ ہوگا۔ حالانکہ تاڑی مری میں ۸ نومبر کی نوٹ بندی سے پہلے نقلی نوٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملے، انھوں نے اپنی دکان پر اکثر و بیشتر آنے والے خریداروں کے ذریعہ دیے گئے نوٹوں میں سے چند ایک کو ایسا پایا تھا۔ لہٰذا، اُمیش نے ان بالکل نئے نوٹوں کو چیک کرنے کے لیے انھیں اپنے منی کاؤنٹر میں رکھے نوٹوں سے ملایا۔ پتہ چلا کہ یہ نقلی نہیں ہیں۔


02_RM_Drinking away demonetisation

کھاد کی دکان کے مالک پی اُمیش اس وقت چونک گئے، جب ۲۳ نومبر کو ایک کسان نے اپنا پرانا قرض چکانے کے لیے ۵۰۰ روپے کے اچھے دکھائی دینے والے بالکل کرارے نوٹ دیے


وہ ہکا بکا تھے۔ پھر انھوں نے دیکھا کہ ان نوٹوں پر سلسلہ وار نمبر پڑے ہوئے ہیں، گویا کہ انھیں بینک نے ابھی ابھی جاری کیا ہو۔ ان کا شک ہے کہ اننتا پور میں بڑے پیمانے پر کالے دھن کا استعمال یہاں کے اور پڑوسی ضلعوں کے کاروباری یا پھر تمل ناڈو کے تاجر تاڑی مری منڈل کے ۱۱ گاؤوں کے کسانوں سے ان کی فصلیں خریدنے کے لیے کر رہے ہیں، جہاں کی ۳۲،۳۸۵ کی آبادی پوری طرح دیہی باشندوں کی ہے جو کم تعلیم یافتہ ہیں۔

اُمیش کی طرح دو چار کو چھوڑ کر، نوٹ بندی نے تاڑی مری گاؤں کے ہر ایک شخص پر برا اثر ڈالا ہے۔ اور چونکہ اُمیش پرانے نوٹ کو لے رہے ہیں (جسے وہ اپنی جائز آمدنی کے طور پر اپنے بینک کھاتہ میں جمع کر دیتے ہیں)، یہاں کے کسان بڑی تیزی سے کافی پہلے قرض پر خریدی گئی کھاد کے پیسے انھیں چکا رہے ہیں۔

دریں اثنا، کھاد کی اس دکان سے زیادہ دور نہیں، تاڑی مری گاؤں کی شراب کی دکانوں کا کاروبار بھی تیزی سے بڑھ گیا ہے، کیوں کہ ان قانونی اور غیر قانونی، دونوں ہی قسم کی دکانیں پرانے نوٹوں کو لے رہی ہیں۔

’’یہ ۵۰ روپے کے نوٹ ہیں جو ہمیں وہاں سے واپس ملے ہیں،‘‘ مدہوش چائنا گنگنّا ہمیں دکھاتے ہیں۔ انھوں نے ابھی ابھی ۱۰۰ روپے کے نوٹ سے شراب خریدی ہے، جو وہ آٹھ دیگر بے روزگار زرعی مزدوروں میں بانٹیں گے۔ پرانا ۵۰۰ روپے کا نوٹ چلانے کے لیے کم از کم ۴۰۰ روپے کی شراب خریدنی ضروری ہے۔

تاڑی مری کے زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ پرانے نوٹ کو بدلنے یا استعمال کرنے کا سب سے آسان طریقہ ہے شراب خریدنا۔ ’’میں روزانہ (کام کے بعد) ایک چوتھائی بوتل پینے کا عادی ہوں،‘‘ ایس ناگابھوشنم بتاتے ہیں، جو کسانوں کے کھیتوں پر ٹریکٹر چلاتے ہیں۔ یہاں پر ایک چوتھائی بوتل دیسی شراب کی قیمت ۶۰ سے ۸۰ روپے ہے۔ ناگابھوشنم اب اپنے روز کے کوٹہ سے ۴۔۵ گنا زیادہ شراب پیتے ہیں۔ ان کی روزانہ کی آمدنی ۵۰۰ روپے ہے، لیکن اب وہ بے روزگار ہیں، اس لیے ان کے پاس جو بھی پیسے بچے ہیں وہ پرانے نوٹوں میں ہیں۔ وہ ان سب کو شراب کی دکان پر خرچ کر رہے ہیں۔

ناگابھوشنم کی ہی طرح، تاڑی مری کے زرعی مزدوروں کو کام ڈھونڈنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ اس سال مانسون کے موسم میں کم بارش کی وجہ سے اننتاپور میں مونگ پھلی کی فصل اچھی نہیں ہوئی۔ بہت سے کسانوں کی فصلیں برباد ہو گئیں، اور زرعی مزدوروں کو روز کی اجرت پر ملنے والا کام کم ہوگیا۔

تاڑی مری منڈل کے کسان مونگ پھلی کی فصل دیوالی کے بعد، نومبر کے آس پاس کاٹتے ہیں اور اسے دسمبر تک بیچتے رہتے ہیں۔ یہ کسان اپنے کھیتوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو روزانہ یا ہفتہ پورا ہونے پر اجرت نہیں دیتے۔ ان مزدوروں کو ان کی مزدوری موسم کی فصل مکمل طور پر کاٹ لینے کے بعد ہی ایک ساتھ دی جاتی ہے۔ اس لیے یہاں کے کسانوں کو سال کے اس موسم میں بڑی تعداد میں نقدی چاہیے ہوتی ہے۔

کسان اس پیسے کا استعمال آپس میں لیے گئے قرض کو واپس چکانے کے لیے بھی کرتے ہیں، جسے وہ فی ماہ دو فیصد کی سود پر لیتے ہیں۔ ’’اگر ہم یہ پیسہ ابھی نہیں چکائیں گے، تو سود کی رقم بڑھتی رہے گی،‘‘ ٹی برہمانند ریڈی کہتے ہیں، یہ وہ کسان ہیں جن کے پاس تاڑی مری گاؤں میں ۱۶ ایکڑ زمین ہے۔

ریڈی نے مونگ پھلی کی اپنی فصل نوٹ بندی کے ایک ہفتہ بعد بیچی تھی، اور دوسرے ضلع کے تاجروں نے انھیں ۵۰۰ روپے اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹوں میں یہ پیسہ ادا کیا تھا۔ انھوں نے یہ پیسہ اپنے بینک کھاتہ میں جمع کرا دیا، لیکن انھیں اپنے قرض چکانے اور مزدوروں کو ان کی اجرت دینے کے لیے بڑی تعداد میں نئے نوٹ چاہئیں، لیکن تاڑی مری منڈل کے تین بینکوں میں اب بھی نئے نوٹوں کی کافی کمی ہے۔


03_RM_Drinking away demonetisation

تاڑی مری منڈل کے ایک بینک کے باہر لگے کسان: ٹی برہمانند ریڈی جیسے کسانوں کو بھاری مقدار میں نئے نوٹ چاہئیں تاکہ وہ اپنا قرض اور مزدوروں کی اجرت ادا کر سکیں، اور یہاں کے بینکوں میں نئے نوٹوں کی کافی کمی ہے


فصل کی کٹائی کے موسم میں ریڈی اور دوسرے کسان ہر زرعی مزدور کو روزانہ ۲۰۰ روپے بطور اجرت ادا کرتے ہیں۔ بعض دفعہ یہ اجرت ۴۵۰ روپے تک ہو سکتی ہے، جس کا انحصار کام کی نوعیت اور مزدوروں کی مانگ پر ہے۔

اب چونکہ کام بہت کم رہ گیا ہے اور قانونی کرنسی بھی غائب ہو گئی ہے، مزدور پریشان ہیں۔ ’’ہمیں تقریباً ایک ماہ سے پیسہ نہیں ملا ہے،‘‘ نارائن سوامی شکایت کرتے ہیں، جو کہ ایک زرعی مزدور ہیں اور اب بے روزگار ہیں۔

’’لیکن، جیسے ہی کوئی شراب پینے والا (یا مایوس) مزدور ہم سے پیسے مانگتا ہے، تو ہم اپنی عزت بچانے کے لیے اسے ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے نوٹ دے دیتے ہیں،‘‘ وی سدھاکر بتاتے ہیں، جو ۲۲ ایکڑ زمین کے مالک اور مونگ پھلی کی کھیتی کرنے والے کسان ہیں۔

زیادہ تر زرعی مزدور بینک جاکر لمبی لائنوں میں دیر تک کھڑے نہیں ہو سکتے، کیوں کہ وہ کام کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔ ان میں سے بہتوں کے پاس اپنے بینک کھاتے بھی نہیں ہیں۔ لہٰذا، دن میں جن مزدوروں کو کام نہیں مل پاتا، وہ اپنے ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹوں کو لے کر کسی جانی پہچانی جگہ چلے جاتے ہیں، جہاں انھیں اب بھی قبول کیا جا رہا ہے: اور وہ جگہ ہے شراب کی مقامی دکان۔


04_RM_Drinking away demonetisation

تاڑی مری میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں لگی لمبی لائن۔ بہت سے زرعی مزدور ان لمبی لائنوں میں دیر تک نہیں لگے رہ سکتے، کیوں کہ انھیں کام کی تلاش کرنی پڑتی ہے؛ بہتوں کے پاس تو اپنا بینک کھاتہ بھی نہیں ہے


’’(کھیتوں پر جسمانی مشقت کی وجہ سے) اپنے درد کو بھلانے کے لیے ہمیں پینا ہی پڑتا ہے،‘‘ سوامی کہتے ہیں، جو صبح کے ۱۰ بجے تک پہلے ہی چند گھونٹ پی چکے ہیں۔ اکثر، کسان پینے کی عادت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، کیوں کہ ان کی نظر میں ایسا کرنے سے آدمی اپنے کام کو اچھی طرح کر سکتا ہے۔

’’ہم انھیں روزانہ ۳۰ یا ۴۰ روپے دیتے ہیں، ان کی مزدوری کو چھوڑ کر (جو انھیں موسم کے اخیر میں ایک ساتھ ادا کی جاتی ہے)، تاکہ وہ اس سے اپنا روز کا (شراب کا) تین پیگ خرید سکیں،‘‘ سدھاکر بتاتے ہیں۔ اس آپسی سمجھ بوجھ سے مزدور کا اعتماد اپنے روزگار دینے والے مالک کے ساتھ بنا رہتا ہے اور اسی لیے وہ اگلی صبح کام کرنے کے لیے اس کے پاس چلا آتا ہے، حالانکہ کسان اسے اس کی اصلی اجرت نہیں دیتا۔

دریں اثنا، تاڑی مری کے مزدور جو عام طور سے اپنا کام ختم کرنے کے بعد شام کے وقت شراب پیتے ہیں، اب کام نہ ملنے کی صورت میں دن بھر شراب کی تلاش میں رہتے ہیں، جسے خریدنے کے لیے وہ اپنے ۵۰۰ روپے کے پرانے نوٹ استعمال کر رہے ہیں۔

تصویریں: راہل ایم

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Rahul M.

راہل ایم ایک آزاد صحافی ہیں اور آندھرا پردیش کے اننت پور میں مقیم ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @twrahul

Other Stories by Rahul M.