Notebandi takes the sauce out of Nashik’s tomatoes
Aniket Aga and Chitrangada Choudhury • Nashik, Maharashtra

نوٹ بندی نے چاٹ لی ناسک کے ٹماٹر کی چٹنی

۸ نومبر کی نوٹ بندی سے لگاتار کم ہوتی قیمت کے سبب، مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے کسانوں نے ہر چار ٹماٹر میں سے ایک، جہاں سے پورے ہندوستان میں جاتا ہے، بڑے پیمانے پر تیار فصل کو برباد کیا ہے

۴ جنوری، ۲۰۱۷ انِکیت آگا اور چترانگدا چودھری

نوٹ بندی کے ’قحط‘ کی وجہ سے آدھا بھوکا

آندھرا پردیش کے بوچرلا کے مہاجر مزدور سالانہ تہوار منانے کے لیے جب نومبر میں اپنے گھر لوٹے، تو نقدی کی مار کے سبب انھیں مقامی کھیتوں پر کوئی کام نہیں ملا، جس کی وجہ سے وہ تہوار کے موسم میں بھی کم کھانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے

۲۶ دسمبر، ۲۰۱۶ راہل ایم
BPL XI: they're mobile, their money isn't
P. Sainath • Aurangabad, Maharashtra

بی پی ایل گیارہ: یہ موبائل ہیں، ان کا پیسہنہیں

نوٹ بندی کی وجہ سے چونکہ منی آرڈر کی رفتار سست ہوگئی ہے، اس لیے مہاراشٹر کے مہاجر مزدور اپنے بھوکے کنبوں کے لیے گھر پر نقد پیسہ نہیں بھیج پا رہے ہیں۔ اورنگ آباد کے ادول میں، پانچ ریاستوں کے مزدور اس بینک سسٹم سے جدوجہد کر رہے ہیں، جسے نہ تو وہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی وہ ان کے لیے کام کرتا ہے

۱۹ دسمبر، ۲۰۱۶ پی سائی ناتھ
Note ban sends beedi units up in smoke
Arunava Patra • Murshidabad, West Bengal

نوٹ بندی نے بیڑی کارخانوں کو دھوئیں میں اڑادیا

نوٹ بندی کے بعد پیدا ہونے والی نقدی کی کمی نے مغربی بنگال کے جانگیر پور میں واقع بیڑی کے بڑے بڑے کارخانوں کو بند کرنے پر مجبور کر دیا، جس کی وجہ سے اپنے گھروں میں بیڑی بنانے والوں کے پاس، جن میں سے زیادہ تر عورتیں ہیں، آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں بچا ہے

۱۷ دسمبر، ۲۰۱۶ اروناوا پاترا
Bank 'Gandhigiri', cashless hara-kiri in Marathwada
P. Sainath • Osmanabad, Maharashtra

بینک ’گاندھی گیری‘، مراٹھواڑہ میں کیش لیسہارا۔ کیری

نوٹ بندی کی پریشانیاں جیسے جیسے گہرا رہی ہیں، عثمان آباد کا ایک بینک چینیی کی دو فیکٹریوں کے ذریعہ قرض لیے گئے ۳۵۲ کروڑ روپے کو واپس لینے کے لیے بہت زیادہ کوشش نہیں کر رہا ہے، لیکن اُن ۲۰ ہزار کسانوں کو ڈرا دھمکا رہا ہے اور بھری محفل میں ان کی بے عزتی کر رہا ہے، جنھوں نے اس سے ۱۸۰ کروڑ روپے اُدھار لے رکھے ہیں

۹ دسمبر، ۲۰۱۶ پی سائی ناتھ
Nepali rupees to the rescue
Arpita Chakrabarty • PIthorgarh, Uttarakhand

نیپالی روپے کا سہارا

ہند ۔ نیپال سرحد کے قریب، اتھراکھنڈ کے خوبصورت اوگلا اور سالانہ جَول جیبی میلہ میں تاجروں کو نوٹ بندی سے زبردست نقصان پہنچا ہے، جب کہ سرحد کے آخری شہر دھارچُلا میں مقامی لوگ نیپالی کرنسی سے نقدی کی کمی کو پورا کر رہے ہیں

۶ دسمبر، ۲۰۱۶ ارپیتا چکر برتی
Drinking away demonetisation
Rahul M. • Anantapur district, Andhra Pradesh

نوٹ بندی کو پینے والے

آندھرا پردیش کے اننتا پور ضلع میں تاڑی مری گاؤں کی کھاد کی دکانیں چونکہ پرانے نوٹوں کو لے رہی ہیں، اس لیے مونگ پھلی کی کھیتی کرنے والے قحط سے متاثرہ کسان بھی اپنے قرض کو چکانے کے لیے لائنوں میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں، جب کہ بے روزگار ہو چکے زرعی مزدور اپنے پاس بچے رہ گئے چند پرانے نوٹوں کو آسانی سے استعمال کرنے کے لیے وہاں کی مقامی شراب کی دکانوں سے شراب خریدنے کے لیے لائنوں میں کھڑے ہیں

۱ دسمبر، ۲۰۱۶ راہل ایم
‘Demonetisation has wrecked farmers’
Jaideep Hardikar • Amravati, Maharashtra

’نوٹبندی نے کسانوں کو تباہ کر دیا ہے‘

وِدربھ کے زرعی بازاروں میں سال کا یہ وقت مال بیچنے کا بہت اچھا وقت ہوتا۔ لیکن یہاں کے کسانوں کو بھاری نقصان برداشت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، انھیں اپنے سامان کی کم قیمت مل رہی ہے، سڑ جانے والی پیداوار کا نقصان ہو رہا ہے، یا پھر انھیں بینکوں میں نقد پیسے جمع کرانے کا خوف لاحق ہے، کیوں کہ ان بینکوں سے انھوں نے قرض لے رکھا ہے

۲۶ نومبر، ۲۰۱۶ جےدیپ ہاردیکر

نوٹ بندی اور چٹکی بھر کیڑے مار دوا سے تیارسالن

حکومت نے جب ہندوستان کی ۸۶ فیصد کرنسی کو غیر قانونی قرار دے دیا، تلنگانہ کے دھرما رام گاؤں کے رہنے والے بَلَیّا نے بڑھتے ہوئے قرض کی ادائیگی کے لیے زمین کو بیچنے کی جو امید لگا رکھی تھی، وہ جب ٹوٹ گئی تو انھوں نے خودکشی کر لی اور مرغ کے گوشت کے شوربے میں کیڑے مار دوا ملا کر اپنی پوری فیملی کو مارنے کی کوشش کی

۲۲ نومبر، ۲۰۱۶ راہل ایم
The cashless economy of Chikalthana
P. Sainath • Aurangabad, Maharashtra

چکل تھانہ کی بے نقدی اقتصادیات

مرکزی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلہ نے پورے مہاراشٹر کے کسانوں، بے زمین مزدوروں، پنشن پانے والوں، چھوٹے کاروباریوں اور اس قسم کے بے شمار لوگوں کو برباد کرکے رکھ دیا ہے

۶ نومبر، ۲۰۱۶ پی سائی ناتھ

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here: