ممبئی میں چھتر پتی شیواجی کی ۳۶۰۰ کروڑ روپے کی مورتی کا افتتاح کیے وزیر اعظم نریندر مودی کو ابھی تقریباً ۲۴ گھنٹے بھی نہیں ہوئے ہیں کہ کرسمس کی صبح، مہاراشٹر کے ناسک ضلع میں، ممبئی سے ۲۰۰ کلومیٹر دور، دھونڈے گاؤں میں یشونت جی اور ہیرا بائی بینڈکلے، اپنے کھیتوں میں ٹماٹر کی بیلوں کو کاٹ کر ٹماٹر اکھاڑ رہے ہیں۔ ’’ایک مہینہ سے زیادہ دن ہوئے کہ ٹماٹر کی قیمت پوری طرح گر گئی ہے۔ اب تیار فصل کو کھیتوں میں ایسے ہی کھڑا رکھنا ہمارے لیے کسی نقصان سے کم نہیں،‘‘ یشونت جی بدبدا رہے تھے، جب یہ آدیواسی جوڑی ہمیں سمجھا رہی تھی کہ کیوں وہ اتنی اچھی فصل کاٹنے پر مجبور ہوئے ہیں، جس میں انھوں نے ۲۰ ہزار روپے اور خاندانی محنت لگائی تھی۔ صاف کی ہوئی زمین میں اب وہ گیہوں کی بوائی کریں گے۔ ’’کم از کم گرمیوں میں ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہوگا،‘‘ ہیرا بائی نے کہا۔

مودی جی کے ذریعہ ۸ نومبر کو نوٹ بندی کے اعلان کے بعد آئی نقدی کی کمی سے ٹماٹر کی قیمت پہلے سے ہی کم ہوئی تھی، اب اس میں اور بھی گراوٹ آئی ہے۔ ناسک شہر سے ۲۰ کلومیٹر کی دوری پر گرنارے منڈی میں اب قیمتوں میں ۵۰ پیسے سے ۲ روپے فی کلوگرام کی گراوٹ آئی ہے۔ یہ گراوٹ اتنی زیادہ ہے کہ کسان اپنی پیداوار کی کٹائی اور نقل و حمل کی لاگت کی وصولی بھی نہیں کر پا رہے۔ خوردہ منڈی میں ٹماٹر کی قیمت ۶ سے ۱۰ روپے فی کلوگرام کے بیچ منڈلا رہی ہے۔ ہندوستان کے مشہور باغبانی ضلعوں میں سے ایک، پورے ناسک میں، مایوس کسان، فصل کو اکھاڑ رہے ہیں، پھینک کر ڈھیر جمع کر رہے ہیں، اور مویشیوں کو سبزی کے کھیتوں میں چرانے بھیج رہے ہیں۔ ایسے تیار کھیت جس میں، اس بارش میں، کسانوں نے ۳۰ ہزار روپے یا ڈیڑھ لاکھ روپے کے بیچ پیسے کی فی ایکڑ میں سرمایہ کاری کی ہے۔


ویڈیو دیکھیں: دھونڈے گاؤں میں آدیواسی کسان ہیرا بائی اور یشونت بینڈ کلے جی اپنے کھیتوں میں ٹماٹر اکھاڑتے ہوئے


پچھلے سال ٹماٹروں کو کافی اچھی قیمت ملی تھی، فی ٹوکرا ۳۰۰ روپے سے ۷۵۰ روپے تک (ایک ٹوکرا مطلب ۲۰ کلوگرام)۔ اس لیے بڑی امید سے کسانوں نے ۲۰۱۶ کی بارش میں ٹماٹروں کی بوائی کی۔ اکتوبر تک کسان سمجھ گئے تھے کہ اس سال اچھا موسم، نہ کسی قسم کے کیڑوں کا حملہ، اور ٹماٹر کی بڑھتی پیداوار کے چلتے بہت زیادہ فصل آئے گی۔ مطلب، قیمت مناسب ہو سکتی ہے، بھلے پچھلے سال کی طرح زیادہ فائدہ نہ دے پائے۔ کئی کسانوں نے کہا کہ دشہرہ کے وقت میں قیمت اچھی تھی اور دیوالی تک بھی قیمت فی ٹوکرا ۱۳۰ روپے ہوئی۔

لیکن، ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے نوٹوں کو غیر قانونی قرار دینے سے، بھاری مقدار میں آئی ہوئی فصل کو کرنسی کی کمی سے سنگین نقصان ہوا ہے، جس سے خریداری اور قیمتوں میں بھاری گراوٹ آ گئی۔ ’’۱۱ نومبر تک قیمت کافی گر گئی، اور تب سے ابھر ہی نہ پائی،‘‘ گرنارے میں رہنے والے کسان نتن گایکر جی بتاتے ہیں۔ تب سے قیمت فی ٹوکرا ۱۰ سے ۴۰ روپے کے درمیان گھٹتے رہے۔ گایکر اس بات پر زور دے کر کہہ رہے تھے کہ کسانوں، تاجروں، مال ڈھونے والوں، زرعی اور کیمائی دواؤں کے دکاندار اور مزدور، ان سب کے درمیان ہونے والا سارا لین دین اور مکمل دیہی زرعی اقتصادیات نقدی پیسوں کے ایندھن سے ہی چلتی ہے۔


02-IMG_0362-AA&CC-Notebandi takes the sauce out of Nashik's tomatoes.jpg

۵۰۰ اور ۱۰۰۰ کے نوٹوں کو غیر قانونی قرار دینے سے، بھاری مقدار میں آئی ہوئی فصل کو کرنسی کی کمی سے بھاری نقصان ہوا ہے، جس سے خریداری اور قیمتوں میں بھاری گراوٹ آ گئی


ضلع حکام اس حالت سے بہت زیادہ فکر مند نہیں دکھائی دیتے۔ ’’یہ ایک کھلا بازار ہے، اور ہم اسے ہر دن، ہر لمحہ کنٹرول نہیں کر سکتے،‘‘ ناسک کلکٹر بی رادھا کرشنن نے کہا۔ ’’قیمتیں پوری طرح سے بازار پر مبنی سرگرمی ہے۔‘‘

لیکن دیہی گھروں میں بڑے پیمانے پر تشویش کا عالم ہے۔ ’’میں نے اپنی دو ایکڑ کی ٹماٹر کی زمین میں ۲ لاکھ روپے خرچ کیے، لیکن اب تک ۳۰ ہزار بھی وصول نہیں ہوئے،‘‘ گنیش بوبڈے نے کہا۔ ’’بہت ہی کم خریدار ہیں، اسی لیے میں نے اپنی گایوں کو ٹماٹر کے کھیتوں میں چرنے بھیج دیا،‘‘ سومناتھ تھیٹے نے کہا، ہم ان کی بڑی زمین پر چل رہے تھے اور ساتھ میں گاییں ٹماٹر کی بیلوں میں چرائی کر رہی تھیں۔


03-Somnath-Thete-Cow-AA&CC-Notebandi takes the sauce out of Nashik's tomatoes.jpg

بہت ہی کم خریدار ہونے کے سبب، سومناتھ تھیٹے نے اپنی گایوں کو ٹماٹر کی فصل چرنے کی اجازت دی


یوگیش گایکر کا غصہ صاف نظر آ رہا تھا، انھوں نے اپنے ۱۰ ایکڑ کھیت میں ٹماٹر لگائے تھے، ’’اب تک میں نے ۲۰۰ ٹوکرے بیچے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر گھاٹے میں ہی گئے۔ یہ سب اس نوٹ کے لفڑے (نوٹ بندی کی گڑبڑی) سے ہوا۔ بس جب ہمارا کچھ پیسے کمانے کا وقت آ ہی گیا، تبھی مودی نے ہمیں ٹھوکر ماری۔‘‘

اس خریف کے موسم میں پورے ملک میں بیچا گیا تقریباً ہر چوتھا ٹماٹر ناسک سے آیا تھا۔ حکومت ہند کا ڈاٹا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وزن کے مطابق، یکم ستمبر، ۲۰۱۶ اور ۲ جنوری، ۲۰۱۷ کے درمیان بیچے گئے ٹماٹروں میں سے ۲۴ فیصد ٹماٹر اس ضلع سے آئے تھے (مطلب ۱۴ لاکھ ۳ ہزار ٹن میں سے ۳ لاکھ ۴ ہزار ٹن)۔

غیر مستحکم قیمتیں، غیر محفوظ آمدنی، جدوجہد والی فروخت اور پیداوار کو پھینکنے کی نوبت آنا، یہ ساری باتیں کسانوں کے لیے نئی نہیں ہیں۔ لیکن ریاست میں اس بھاری مقدار میں کھڑی فصل کو برباد کرنے کی یہ بات پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی، مراٹھی زبان میں نکلنے والے زرعی روزنامہ ’اگرووَن‘ کے ناسک میں واقع نامہ نگار، گیانیشور اُگلے بتاتے ہیں۔ ’’فی ٹوکرا کسانوں کے لیے پیداوار لاگت اوسط ۱۰ روپے ہے۔ اگر انھیں فی ٹوکرا صرف ۱۵ سے ۴۰ روپے ملیں گے، تو ان کو کتنا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، اس کا تصور آپ کر سکتے ہیں۔‘‘

ناسک ضلع کی پانچ منڈیوں میں (زرعی پیداوار بازار) تیار فصل کی آمد پر مبنی، اُگلے جی کے ذریعہ لگائے گئے حساب کے مطابق، اب تک کسانوں کو ۱۰۰ کروڑ روپے تک کا نقصان ہوا ہے۔ اور سرکاری اعداد و شمار کا کیا؟ بھاسکر رہانے کے مطابق، جو ناسک کے زرعی آفس کے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ کے زرعی تجزیہ کار ہیں، ضلع میں ٹماٹر کا رقبہ اور پیداوار کا ان کا تخمینہ ۱۲۔۲۰۱۱ میں ختم ہوا۔ ’’کسانوں کے نقصان کو ناپنے کا کوئی بھی نظام نہیں ہے۔ جس طرح کسان اپنے دیگر اخراجات کا حساب رکھتے ہیں، اسی طرح وہ اپنی آمدنی کا بھی حساب رکھیں،‘‘ انھوں نے کہا۔


ویڈیو دیکھیں: آدیواسی کسان دتو بینڈ کلے کہتے ہیں، ’ٹماٹر کی موجودہ قیمت فصل کی کٹائی کی لاگت بھی مجھے واپس نہیں دے رہی


اس سال گرنارے منڈی کا دھول بھرا میدان، جو ایک سرفہرست ٹماٹر مرکز ہے، غیر معمولی طور پر سست پڑا ہے۔ ہر سال اس منڈی تک پہنچنے کا راستہ ٹماٹروں سے بھرے ٹریکٹروں سے جام رہتا تھا، آج وہ بدقسمتی سے خالی ہے۔ ہر سال یہاں اکتوبر سے دسمبر تک، دوسری ریاستوں سے آئے ہوئے بہت سے تاجر چھاؤنی لگا کر، ٹماٹروں کی خریداری کر اسے لے جاتے تھے۔ وہ اس بار منڈی کو جلدی چھوڑ کر چلے گئے۔

ان میں سے ایک ہیں راحت جان، جو ابھی اپنے گھر امروہہ، اترپردیش میں ہیں۔ ’’ناسک شہر میں، آئی سی آئی سی آئی بینک میں میرا کھاتہ ہے،‘‘ انھوں نے ہمیں فون پر بتایا۔ ’’لیکن انھوں نے آٹھ دنوں کے صرف ۵۰ ہزار روپے دیے۔ میرے روز کے کاروبار کے لیے مجھے ایک سے ۳ لاکھ روپے نقد کی ضرورت ہے،‘‘ جان آگے کہتے ہیں۔ ’’جب تک پرانے نوٹ کسان اور پٹرول پمپ کے ذریعے لیے جا رہے تھے، تب تک ہم نے کسی طرح کام چلایا۔ لیکن نوٹوں کی کمی کے سبب، میں نے اور ۱۵ دنوں کے لیے ٹماٹر خرید کر لائے ہوتے۔‘‘

دور کے تاجر چلے گئے، اب منڈی میں صرف آس پاس کے علاقے جیسے واشی، وِرار سے مقامی خریدار آتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ بھی کم قیمت اور نقدی کی کمی سے پریشان ہیں، جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم نے پمپل گاؤں کے تاجر کیلاش سالوے کو ۴ ہزار روپے دے کر ٹماٹر کے ۱۰۰ ٹوکرے خریدتے ہوئے دیکھا۔ ’’میرے پاس زیادہ نقدی نہیں ہے،‘‘ انھوں نے کہا، ’’اس لیے میں اور ٹوکرے نہیں لے پایا۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ وہ گجرات کے سورت میں خریداروں کی تلاش میں گئے تھے۔

’’پچھلے سال، اسی عرصے میں، ہم نے ٹماٹروں کا ۵۰ لاکھ روپے کا کاروبار کیا تھا اور ۳ لاکھ روپے کمائے تھے،‘‘ سالوے جی بتاتے ہیں۔ ’’اس سال ہم نے اب تک صرف ۱۰ لاکھ روپے تک کی پیداوار خریدی، اور اس پر بھی نقصان ہوا۔‘‘ دو دن بعد سالوے جی نے سورت کے خریدار کو ٹماٹر گھاٹے میں بیچ دیے۔

پچھلے ۱۵ سالوں میں، انگور کی قیمت اس ریاست میں امید کی فصل بن گئی ہے۔ زمین چاہے چھوٹی ہی ہو، اگر تھوڑا سرمایہ اور پانی کا ساتھ ہو تو، آدیواسی اور مراٹھا کسان (جیسے کہ بینڈ کُلے اور گایکر علی الترتیب) ٹماٹر کی ہی بوائی کرتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں، ٹماٹر کے بازار میں ڈھے جانے سے حالات بہت ہی خراب ہوئے ہیں۔ راحت جان جیسے کچھ تاجر مانتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ پیداوار کی وجہ سے بھی قیمتوں میں گراوٹ آئی۔ کسان مانتے ہیں کہ شاید یہ سچ بھی ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی بتاتے ہیں کہ سبزیوں میں بھی بھاری گراوٹیں آئی ہیں، سبزیاں تو اتنی بھاری مقدار میں بنائی نہیں گئی تھیں۔


04-AA&CC-Notebandi takes the sauce out of Nashik's tomatoes.jpg

بائیں: یوگیش گایکر نے کہا، ’بس جب ہمارا کچھ پیسے کمانے کا وقت آ ہی گیا تھا، تبھی مودی نے ہمیں ٹھوکر مار دی‘۔ دائیں: ناسک کے یشونت بینڈ کُلے جیسے کئی کسانوں کے لیے، صرف تیار فصل کو ویسے ہی کھیتوں میں کھڑا رکھنے کا مطلب بھاری نقصان ہے


’’پھول گوبھی، بینگن، دھنیا، لوکی یہ سبزیاں دیکھ لو، ایسی کون سی سبزیاں ہیں، جن کی قیمت پچھلے ہفتوں میں گری نہیں؟‘‘ نانا آچاری نے مزاحیہ انداز میں پوچھا۔ دھونڈے گاؤں کے آدیواسی، عام کسان، آچاری بینگن کے ۲۰ ٹوکرے لے کر ناسک شہر آئے تھے، لیکن کوئی بھی خریدار نہ ملنے سے واپس چلے گئے۔ اگلے دن انھوں نے سارا مال، واشی منڈی میں صرف ۵۰۰ روپے میں بیچ دیا اور ٹرانسپورٹ کی لاگت گھٹانے پر، ان کے لیے صرف ۳۰ روپے بچے۔ وڈ گاؤں کے دوسرے کسان، کیرو کسبے نے کہا کہ انھوں نے واشی منڈی میں ۷۰۰ کلو کے بینگن بیچ کر صرف ۲۰۰ روپے بنائے۔

کچھ تاجر کسانوں کو چیک کے ذریعے پیسے دے رہے ہیں۔ لیکن، مزدوروں کی ادائیگی، ڈیزل، کھاد، ان کی خریداری کے لیے نقد پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسان یا تاجر، کسی کے بھی پاس چیک جمع کرانے یا نقد نکالنے کے لیے لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ وہاں بھی ایک بار صرف ۲۰۰۰ روپے کا نیا نوٹ ملتا ہے۔ اور ویسے بھی کسان چیک پر بھروسہ نہیں رکھتے۔ ایک تاجر نے نقد نہ ہونے کے سبب، وجے کسبے کو چیک لینے پر مجبور کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اگر چیک خارج کیا گیا، تو وہ بہت بے بس ہو جائیں گے۔

 05-Shivaji-Kasbe-cheque-AA&CC-Notebandi takes the sauce out of Nashik's tomatoes.jpg

وجے کسبے کے والد کے نام پر چیک، تاجر کے پاس کرنسی نہ ہونے کے سبب، انھیں چیک لینے پر مجبور کیا گیا، لیکن اگر چیک خارج کیا گیا تو وہ بے بس ہو جائیں گے


قیمتوں میں گراوٹ اور کرنسی کی کمی کے برے نتائج سامنے آئے ہیں۔ آدیواسی مزدوروں کو اب کام نہیں مل رہے۔ اور ۲۰۰۰ روپے کا نیا نوٹ تو زخم پر نمک چھڑک رہا ہے۔ ’’کھلے پیسوں کے لیے، دکاندار چاہتے ہیں کہ ہم ۱۱۰۰ روپے خرچ کریں۔ پٹرول پمپ کے مالک کہتے ہیں، کم از کم ۳۰۰ روپے کا پٹرول بھر لو،‘‘ راجا رام بینڈ کُلے نے کہا۔ ان کی چاچی مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتی ہیں، ’’سارا پٹرول گھر لے آنا، ہم سب پیتے ہیں۔‘‘

زرعی اور کیمیائی دواؤں کے دکاندار گہری فکرمندی میں مبتلا ہیں۔ ’’میرا پورا کاروبار اس پر منحصر ہے،‘‘ آبا قدم، ایک دکاندار، منڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’میرا نقصان تو دونوں طرف سے ہے۔ کسان کھڑی فصل پوری طرح برباد کر رہے ہیں، اور مجھ سے خریداری نہیں کر رہے۔ اور اگر ان کو فصلوں کی فروخت میں خسارہ ہوگا، تو میں نے انھیں بڑھتے موسم میں جو قرض دیا، وہ بھی تو مجھے واپس نہیں مل رہا۔‘‘

نوٹ بندی کے اعلان کے بعدمودی جی نے ملک سے ۵۰ دنوں کا مطالبہ کیا تھا، جو ۳۰ دسمبر کے دن ختم ہو گیا۔ نیا سال شروع ہونے سے پہلے، امیدیں بحران اور جدوجہد کی سطح سے میل کھا رہی تھیں۔ ایک کسان کی مانگ تھی کہ ہمارے خسارے کی تلافی کے لیے مودی جی کو ہمارے کھاتوں میں پیسے جمع کرنے چاہئیں؛ دوسرے نے کہا، قرض کو معاف کرنا چاہیے؛ تیسرے کی مانگ تھی کہ فصل کے قرضے پر کم شرحِ سود ہو۔ حالانکہ، ۳۱ دسمبر کی اپنی تقریر میں مودی جی نے زرعی بحران اور نقصان کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی۔

اب سب کی نظریں، جنوری کے اخیر سے شروع ہونے والی انگور فصل کی کٹائی پر ہے۔ اچھی قیمتیں ملیں تو انگور کسان کچھ منافع کما سکیں گے۔ قدم جی جیسے دکاندار اپنی کچھ پیشگی ادائیگی حاصل کر پائیں گے۔ پھر بھی، تاجر مایوس ہیں۔ راحت جان کہتے ہیں کہ جب تک یہ کرنسی کی کمی ختم نہیں ہوتی، وہ کسانوں سے خریداری نہیں کر پائیں گے۔ اُداس سالوے کا ماننا ہے کہ انگور کی قیمتوں میں بھی گراوٹ آئے گی۔

 تصویریں اور ویڈیو: چترانگدا چودھری

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Aniket Aga

Aniket Aga is Assistant Professor at the University of Michigan, Ann Arbor.

Other stories by Aniket Aga
Chitrangada Choudhury
[email protected]

چترانگدا چودھری اڈیشہ میں رہائش پذیر ملٹی میڈیا صحافی اور ریسرچر، اور اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ کی ایک فیلو ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں:  

Other stories by Chitrangada Choudhury