01_AK_The dance of the false-legged horse_feat_img


کلئی ممانی ٹی اے آر ناڈی راؤ، جو اَب ۷۴ سال کے ہو چکے ہیں، پوئیکل کُٹھی رائے (جس کا لفظی معنی ہے: نقلی ٹانگوں والا گھوڑا) کے زندہ اور عظیم استادوں میں سے ایک ہیں۔ اس مشہور تمل فوک ڈانس (علاقائی رقص) کی شروعات مہاراشٹر میں ہوئی۔ ناڈی راؤ تھنجاوُر، تمل ناڈو میں رہتے ہیں، اور اپنی بیوی کماچی، جو اَب ۶۷ سال کی ہو چکی ہیں، کے ساتھ رقص کرتے ہیں۔

روایتی طور پر راجاؤں کے دربار میں رقص کرنے والے پوئیکل ڈانسرز، مندروں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں مقامی دیوتاؤں کے سامنے بھی ڈانس کیا کرتے تھے۔ دورِ حاضر میں یہ رقص شادیوں میں اور سرکاری تقریبات کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ تھنجاوُر میں جتنے بھی ڈانسرز ہیں، وہ آبائی طور پر مراٹھا ہیں۔ وہ گھر پر مراٹھی بولتے ہیں، اور تُلجا بھوانی کی پوجا کرتے ہیں، یہ وہ دیوی ہیں جن کا بڑا مندر عثمان آباد، مہاراشٹر میں واقع ہے۔

پوئیکل کُٹھی رائے کے ساتھ کُنڈل وادھیم یا گونڈل ڈرم (طبلہ) بھی بجایا جاتا ہے، جو بنیادی طور پر مہاراشٹر ریاست میں بجایا جاتا ہے۔ تقریباً ۲۰ سال پہلے اس ڈانس کی کافی مانگ تھی۔ اس کی وجہ سے جہاں ایک طرف بے شمار رقص کرنے والے پیدا ہوئے، وہیں گونڈل ڈرم کو بجانے والے بھی کافی مشہور ہوئے۔ آج، آرٹ کی یہ شکل زوال پذیر ہے اور اب اسے ایک مستقل پیشہ کے طور پر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ ناڈی راؤ اور ان کی فیملی کو بھی اپنی آمدنی کا انتظام کرنے کے لیے کھیتی کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔


ایڈیٹنگ: ایم ارون پونرائے، ویڈیو ایڈیٹر، اینی میٹر اور سنیماٹوگرافر۔

کیمرہ: رائے بیناڈکٹ نوین، فوٹو گرافر، سنیماٹوگرافر اور شارٹ فلم میکر۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

اپرنا کارتی کیئن ایک آزاد ملٹی میڈیا صحافی ہیں۔ وہ تمل ناڈو کے دیہی علاقوں سے ختم ہوتے ذریعہ معاش کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں اور پیپلز آرکائیوز آف رورل انڈیا کے ساتھ بطور رضاکار کام کر رہی ہیں۔ You can contact the author here: