’’اگر یہ مشینیں پہلی ہی منگوا لی گئی ہوتیں، تو میرے بچوں کے پاپا کو انھیں چھوڑنا نہیں پڑتا۔ اب وہ میرے کسی کام کی نہیں ہیں، لیکن کم از کم دیگر عورتوں کے لیے ضرور مفید ہوں گی۔ ان کے آدمی سیور میں نہیں مریں گے۔ کسی کو میری طرح مصیبت نہ جھیلنی پڑے۔‘‘ اتنا کہتے ہی، غمزدہ رانی کماری خاموش ہو گئیں۔

میں پہلی بار رانی سے جب پچھلے سال کے آخر میں ملی تھی، تو وہ صفائی کرمچاری آندولن کے ذریعہ منعقد ایک پروگرام کے دوران، دہلی کے ایک کانفرنس ہال کی سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ صفائی کرمچاری آندولن، انسانی ہاتھوں کے ذریعہ انسانی فضلوں کی صفائی کو ختم کرنے، اور سیور اور سیپٹک ٹینکوں میں صفائی ملازمین کی لگاتار موت کو روکنے کے لیے ایک ملک گیر تحریک ہے۔ اس پروگرام میں ایسے بہت سے تکنیکی حل پیش کیے گئے تھے، جن سے ہاتھوں کے ذریعہ صفائی کو بدلا جا سکتا ہے۔

سیڑھیوں پر بیٹھی ۳۶ سالہ رانی نے پلاسٹک کے تھیلے سے ایک تصویر نکالی۔ یہ ان کے شریک حیات، ۳۰ سالہ انل کمار کی تصویر تھی۔ انھوں نے اپنے جھالردار سفید دوپٹہ سے اسے پونچھا اور بے چین ہو اٹھیں، اپنے بچوں، سات سال کی لکشمی اور ۱۱ سال کے گورو کے ساتھ اوپر نیچے بھاگتے، اور ڈھائی سال کی سونم کو گود میں لے کر چکر کاٹتے ہوئے۔

جب کوئی عورت ہندوستان کے سیپٹک ٹینکوں اور سیوروں میں فیملی کے کسی رکن کو کھو دیتی ہے، تو نقصان کا خمیازہ بھگتنے کے علاوہ، اسے انصاف اور معاوضہ کے لیے لڑنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی اپنی فیملی کے وجود کی فکر بھی کرنی ہوتی ہے۔ رانی کی حالت اور بھی مشکل ہے۔ ہم کچھ اور باتیں کرتے ہیں جب میں جنوب مغربی دہلی کی ایک کالونی، ڈابری میں ان کے گھر پر جاتی ہوں۔

Rani holds her son in one hand and a frame of her and her husband on the other.
PHOTO • Bhasha Singh
PHOTO • Bhasha Singh

جب کوئی عورت ہندوستان کے سیوروں میں اپنے شوہر کو کھو دیتی ہے، تو نقصان کا خمیازہ بھگتنے کے علاوہ، اسے انصاف کے لیے لڑنا پڑتا ہے اور اپنی فیملی کے وجود کی فکر کرنی پڑتی ہے۔ رانی کی شادی انل سے قانونی طور پر نہیں ہوئی تھی، اس لیے ان کی حالت اور بھی مشکل ہے

’’میں ان کی شادی شدہ بیوی نہیں ہوں، لیکن میں ان کے لیے سب کچھ تھی۔ اور وہ میرے محبوب تھے۔ انھوں نے مجھے پیار اور عزت دی، اور میرے بچوں کو اپنا مانا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ رانی اپنے سابق شوہر، بچوں کے والد کے بارے میں زیادہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جن کے بارے میں وہ اشارہ کرتی ہیں کہ وہ کافی تشدد کرتے تھے – اس وقت کے جلے ہوئے نشان ابھی بھی ان کے بازوؤں اور پیروں پر دکھائی دے رہے ہیں – اور آخرکار دوسرے شہر چلے گئے۔ ’’انل اور میں [پچھلے ۳-۴ برسوں سے] ساتھ رہ رہے تھے، ہمارے دل ایک تھے، لیکن ہماری شادی نہیں ہوئی تھی۔ میری شادی پہلے ہی کسی اور سے ہو گئی تھی، لیکن انل اکیلے تھے۔ ہمارا رشتہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تھا، ہر کوئی جانتا تھا کہ ہم میاں بیوی کی طرح رہتے ہیں۔ میرے بچوں کو پہلی بار باپ کا پیار ملا تھا۔ ہم غریبی میں رہتے تھے، لیکن خوش تھے۔‘‘

انل کمار، جو دلت والمیکی سماج سے تھے، کی موت ۱۴ ستمبر ۲۰۱۸ کو ڈابری میں اپنے گھر سے تھوڑی دوری پر، مین روڈ پر میونسپل کارپوریشن کے ایک سیور میں ہوئی تھی۔ شام کے ۷ بج رہے تھے – مقامی پولس اسٹیشن کی ایف آئی آر میں یہی لکھا ہے۔ رانی اور ان کے پڑوسیوں نے کہا ہے کہ انل کو شام ساڑھے پانچ بجے کے بعد ایک فون آیا اور وہ کام کے لیے نکل گئے۔ ایف آئی آر میں درج ایک گواہ کے بیان کے مطابق، مقامی ٹھیکہ دار نے انل کو سیور میں صرف ایک پتلی رسی کے سہارے بھیجا۔ رسی ٹوٹ گئی۔

اس شام گھر پر انتظار کر رہیں رانی، انل کے ذریعہ فون نہ اٹھانے پر فکرمند ہو رہی تھیں۔ وہ انھیں ڈھونڈتی ہوئی سڑکوں پر نکل پڑیں۔ تب کسی نے انھیں بتایا کہ ایک آدمی سیور میں گر گیا ہے۔ وہ موقع پر پہنچیں، جہاں انھیں صرف ان کے جوتے ملے۔ انل کو اسپتال لے جایا گیا، وہ پہلے ہی مر چکے تھے۔

وہ ۱۵ برسوں سے نالوں اور سیوروں کی صفائی کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے گھر تک جانے والی گلی میں بھی نالے- سیور کی صفائی کے لیے اپنے فون نمبر کے ساتھ ایک بورڈ لگا رکھا تھا۔ ان کی موت کے بعد، پولس نے بورڈ کو ہٹا دیا۔

ویڈیو دیکھیں: ’سیور لبالب بھرا ہوا تھا۔ انل اسی میں گرے تھے‘

ایف آئی آر میں درج ایک گواہ کے بیان کے مطابق، مقامی ٹھیکہ دار نے انل کو سیور میں صرف ایک پتلی رسی کے سہارے بھیجا۔ رسی ٹوٹ گئی

اس کام کے بدلے انھیں چھوٹے نالوں کے لیے ۲۰۰-۳۰۰ روپے اور بڑے سیوروں کے لیے ۵۰۰-۱۰۰۰ روپے ملتے تھے۔ اوسطاً، انل مہینہ میں ۷۰۰۰ روپے کما لیتے تھے؛ ان کا کام عام طور پر مانسون سے پہلے کے ہفتہ میں بڑھ جاتا تھا، جس سے ان کی آمدنی میں بھی تھوڑا اضافہ ہو جاتا۔ رانی ۳-۴ گھروں میں پونچھا لگاتی تھیں، اور ہر ماہ کل ۲۵۰۰ روپے کما لیتی تھیں۔ لیکن وہ مستقل مزاج نہیں تھیں، وہ بتاتی ہیں، کیوں کہ انھیں اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر پر رہنا پڑتا تھا۔ ان کی بڑی بیٹی لکشمی کے پیر، شاید سنگین کم غذائیت کی وجہ سے، چھوٹے بڑے ہیں اور وہ ٹھیک سے بول نہیں سکتی ہیں۔ چھوٹی لکڑی، سونم، بنا مدد کے چل بھی نہیں سکتی۔ اس لیے رانی جب انل کے ساتھ رہنے لگیں، تو انھوں نے دوسروں کے گھر کام کرنے کے لیے جانا بند کر دیا۔

رانی اور انل دونوں بنیادی طور پر اتراکھنڈ میں ہریدوار کے کنکھل کے رہنے والے ہیں۔ ان کے والدین اب اس دنیا میں نہیں ہیں؛ ان کی واحد فیملی ان کے بچے ہیں، وہ کہتی ہیں۔ انل کی موت سے تقریباً ۱۰ دن پہلے، نمونیا سے رانی اور انل کے چار مہینے کے بیٹے کی موت ہو گئی تھی۔

جب انل کی موت ہوئی، تو رانی اتنی پریشان تھیں کہ وہ اپنی زندگی ختم کر لینا چاہتی تھیں۔ ’’ایک دن، میں نے سوچا کہ مجھے اس کہانی کو ختم کر دینا چاہیے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں کتنے محاذ پر لڑ سکتی ہوں؟ میرا غصہ بڑھنے لگا، میں نے گھر پر کپڑے جمع کیے اور اس میں آگ لگا دی... مکان مالک دوڑتا ہوا آیا اور اسے بجھایا۔ میں رو رہی تھی، میں غصہ میں تھی، درد میں تھی۔‘‘

پولس، انل کی موت کے لیے ذمہ دار آدمیوں کو پکڑنے کے بجائے، انہی کو کوسنے لگی کہ وہ ان کے ساتھ کیسے رہ رہی تھیں، رانی بتاتی ہیں۔ ’’وہ عجیب طرح سے ہنسے اور بولے ’کون جانتا ہے یہ کتنے مردوں کے ساتھ سوئی ہوگی، اس کے کتنے شوہر ہوں گے۔ کون بتا سکتا ہے کہ یہ کل کس کے ساتھ رہے گی؟ کون اس کی بات سنے گا؟‘ اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں؟‘‘

Children on bed
PHOTO • Bhasha Singh

رانی اور ان کے تین بچے – دو بیٹیاں اتنی کم غذائیت کی شکار ہیں کہ وہ مشکل سے چل پاتی ہیں – ڈابری میں ایک چھوٹے، اندھیرے اور سیلن بھرے کمرے میں کرایے پر رہ رہی ہیں، انل کی موت کے بعد انھیں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا

کچھ ہفتوں کے لیے، ڈابری میں ایک چھوٹے، اندھیرے اور سیلن بھرے کمرے میں کرایے پر رہ رہیں رانی اور ان کے تین بچوں کو بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کرایہ دینے لائق نہیں بچیں۔ ساہوکاروں نے انھیں پریشان کرنا شروع کر دیا – رانی اور انل نے ان سے قرض لیا تھا۔ گورو نے اسکول جانا بند کر دیا، کیوں کہ سیور والے حادثہ کے بعد وہ اپنے ہم جماعتوں کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا۔

صفائی کرمچاری آندولن کے ذریعہ ۲۰۰۳ میں دائر مفادِ عامّہ کی عرضی کی بنیاد پر، سپریم کورٹ کے ذریعہ ۲۰۱۴ میں دیا گیا حکم کہتا ہے کہ سیور کی صفائی کرتے وقت مارے گئے لوگوں کے اہل خانہ کو، معاوضہ کے طور پر ۱۰ لاکھ روپے دیے جائیں۔ ’منحصر‘ اور لیو اِن پارٹنر کے طور پر، رانی قانوناً معاوضہ کی حقدار ہیں۔ ’’شروع میں سبھی نے کہا کہ وہ مجھے ۱۰ لاکھ روپے دلوانے میں مدد کریں گے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’لیکن وہ اپنے وعدے سے منحرف ہو گئے، ہر ایک نے بہانہ کر لیا۔ میرے بچے اور میں اس نظام میں موجود نہیں ہیں۔‘‘

کیوں کہ دونوں ایک ساتھ رہتے تھے اور رانی نے اس کے بارے میں کھل کر بتا دیا تھا، وہ کہتی ہیں، ’’ہر کسی نے ہم سے دوری بنا لی‘‘ کچھ تنظیموں نے شروع میں کہا تھا کہ وہ فیملی کی مدد کریں گی، لیکن وہ بھی جھجکنے لگیں۔ تب سے، حالانکہ، کچھ خیراتی تنظیموں نے کراؤڈ فنڈنگ کے توسط سے پیسہ جمع کیا ہے اور جمع کی گئی رقم – مبینہ طور پر ۵۰ لاکھ روپے (میں اس رقم کی تصدیق نہیں کر سکتی) – گورو کے نام پر ۱۰ سال کے لیے فکسڈ ڈپوزٹ کھاتہ میں ڈال دی ہے۔ چونکہ وہ نابالغ ہے، اس لیے رانی کھاتہ چلا سکتی ہیں اور اس کے سود کے پیسے سے اپنی فیملی کا خرچ چلا سکتی ہیں۔ کچھ دیگر ذاتی عطیہ – مجموعی طور پر تقریباً ۵۰ ہزار روپے – بھی انل کی موت کے فوراً بعد کھاتہ میں جمع کر دیے گئے تھے۔

PHOTO • Bhasha Singh
At the India SaniTech Forum, women who have lost family members
PHOTO • Bhasha Singh

بائیں: رانی کے بیٹے گورو نے اسکول جانا بند کر دیا ہے، کیوں کہ وہ اپنے ہم جماعتوں کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ دائیں: انڈیا سینیٹیک فورم میں، جن عورتوں نے فیملی ممبران کو کھو دیا ہے انھوں نے مطالبہ کیا کہ سیور کی صفائی ان کے آدمیوں کے ذریعہ کرانے کی بجائے مشینیں لائی جائیں

صفائی کرمچاری آندولن کے علاوہ، برادری کے کچھ دوسرے لوگوں نے بھی مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔ انل کے ساتھی ویرندر سنگھ، بینک کی کاغذی کارروائی پوری کرنے میں رانی کی مدد کر رہے ہیں، اور آندولن کی میٹنگوں میں ان کے ساتھ جاتے ہیں۔ دہلی میں، وہ کہتے ہیں، ان کی والمیکی برادری سے کئی غیر شادی شدہ مرد ہیں – جیسے کہ انل تھے۔ ’’چونکہ ہمارے پاس کوئی مقررہ نوکری نہیں ہے، اس لیے ہم گاؤں میں بھی شادی نہیں کرتے ہیں۔ میں بھی ۳۰ سال سے اوپر کا ہو چکا ہوں اور شادی کی کوئی امید نہیں ہے۔ میں رانی اور ان کی فیملی کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، کیوں کہ سماج اور پولس انھیں ختم کر دینا چاہتے ہیں۔‘‘

ہماری بات چیت کے بعد، ڈابری میں رانی اپنے بچوں کے ساتھ گلی کے آخر تک مجھے چھوڑنے آتی ہیں۔ ’’میں نے کم عمری میں بہت سی اذیتیں برداشت کی ہیں، مجھے پیٹا گیا، لیکن انل کے ساتھ مجھے پہلی بار خوشی ملی تھی۔ ایسی خوشی ملنے کے بعد، پھر سے تکلیف دہ زندگی بسر کرنا مشکل ہے۔ تنہا عورت سماج میں جانوروں کے نشانے پر رہتی ہے۔ میں ان بچوں کے لیے جی رہی ہوں اور آگے بھی ایسا کرتی رہوں گی، چاہے مجھے جو ہو جائے۔ جب ہم [سیور کی صفائی کے لیے] مشینیں چلائیں گے، تو لوگوں کو ہماری صلاحیتوں کا احساس ہوگا۔ آپ کو یہ مشینیں جلد لانی چاہئیں...‘‘

انڈیا سینیٹیک فورم میں، جہاں میں پہلی بار سیڑھیوں پر بیٹھی رانی سے ملی، مختلف مشینوں کی نمائش کی گئی تھی۔ ان میں سے ایک ’بینڈی کوٹ‘ نامی صفائی روبوٹ بھی تھا، جسے مبینہ طور پر کیرالہ میں تجربہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ’سیور کراک‘ نامی ایک دوسری نئی مشین، کیچڑ کاٹنے کے لیے جیٹ پریشر اور کٹر کا استعمال کرتی ہے۔ پھر ایک ۳۶۰ ڈگری گھومنے والا کیمرہ ہے جو سیور کے اندر سے باہر کے کمپیوٹر میں تصویریں بھیج سکتا ہے۔ نمائش میں ایک گیس ٹیسٹر بھی تھا جو اندر کی زہریلی گیسوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، جس سے بڑی تعداد میں ٹینک اور سیور میں اموات ہوتی ہیں۔ اور اگر انسانی مداخلت بالکل ناگزیر ہو، تو کانفرنس میں ایک ’سیور سوٹ‘ بھی دکھایا گیا تھا جو اندر جانے والے صفائی ملازمین کی حفاظت کر سکتا ہے۔ ان تکنیکی حل کو متعارف کرانے کے لیے، دہلی انتظامیہ سمیت مختلف ریاستی حکومتوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔

رانی کے ساتھ ساتھ، دہلی، ہریانہ، پنجاب، راجستھان، تلنگانہ اور دیگر ریاستوں کی تقریباً ۱۰ عورتوں نے اس فورم سے بات کی۔ ان سبھی نے اپنے شوہر یا فیملی کے دوسرے رکن کی موت والے غمناک حادثات کو یاد کیا۔ انھوں نے اپنی تکلیفیں اور تشویشیں بیان کیں۔ انھوں نے کئی زبانوں میں بات کی، سبھی میں بحران کے ان کے مشترکہ سبب کے حل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تقریباً سبھی عورتوں نے تکنیکی حل کی حمایت کی اور کہا کہ وہ یہ سیکھنے کے لیے تیار ہیں کہ کیسے ان آلات کو چلایا جائے جو ملک کے سیور کو صاف کرنے میں، مردوں کے لیے نہیں، بلکہ مشینوں کے لیے ممکن ہو سکتے ہیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Bhasha Singh

بھاشا سنگھ ایک آزاد صحافی اور قلم کار ہیں۔ ہاتھ سے میلا ڈھونے کے موضوع پر ان کی کتاب ’ادرِشیہ بھارت‘، (ہندی) پینگوئن کے ذریعے ۲۰۱۲ میں شائع کی گئی (انگریزی میں یہ کتاب ’اَن سین‘ کے نام سے ۲۰۱۴ میں چھپی)۔ ان کی صحافت کا محور ہیں شمالی ہندوستان میں زرعی پریشانیاں، جوہری تنصیبات کی سیاست اور زمینی حقائق، اور دلت، صنف اور اقلیتی حقوق۔

Other stories by Bhasha Singh