بلی رام کڑپے مہاراشٹر حکومت کی تنقید کرتے ہیں۔ ’’کسانوں کو (ان کی فصلوں کے لیے، ریاست کی طرف سے) کم از کم امدادی قیمت نہیں ملتی،‘‘ وہ فکرمندی کے ساتھ کہتے ہیں۔ ’’اور ان کے لیے فصل لون لینا تکلیف دہ ہوتا ہے۔‘‘ کڑپے کا ماننا ہے کہ اگر ریاست اس بات کو یقینی بنا دے کہ مضبوط کریڈٹ سسٹم تک کسانوں کی رسائی ہو، تو انھیں ساہوکاروں کے پاس نہیں جانا پڑے گا اور ’’اس سے کسانوں کی خودکشی خود بخود رک جائے گی۔‘‘

ان کی دلیل میں دَم ہے، لیکن ایک مسئلہ ہے: کڑپے پر الزام ہے کہ وہ خود ایک ساہوکار ہیں۔ مراٹھواڑہ کے جالنا کے اشٹی قصبہ میں رہنے والے 42 سالہ کڑپے، 25 سال میں اپنے پاس پیسے کے لیے آنے والے متعدد کسانوں کی 400 ایکڑ زمین ہڑپ چکے ہیں، ایسا کہا جاتا ہے۔

60 سالہ ہری بھاؤ پوٹے کے ساتھ ان کا سودا، اس کی ایک مثال ہے۔ اشٹی کے مضافات کے رائے گاواں گاؤں کے رہنے والے کسان، پوٹے کو اپنی بیٹی کی شادی کے لیے پیسے کی ضرورت تھی۔ سال 1998 میں، انھوں نے اپنی آٹھ ایکڑ زمین میں سے تین ایکڑ کڑپے کے پاس 50000 روپے میں رہن رکھ دی۔ ’’سال 2000 میں، میں نے مزید 1.75 ایکڑ زمین 20000 روپے میں رہن پر رکھ دی،‘‘ پوٹے کہتے ہیں۔ ’’سال 2002 میں، میں نے مزید ایک ایکڑ 60000 کے بدلے رہن پر دے دی۔‘‘

پوٹے کے دو بیٹے ہیں، ایک سپاہی ہے اور دوسرا کسان۔ اس کے علاوہ ان کی پانچ بیٹیاں ہیں، جن کی شادی کے لیے انھیں قرض کی ضرورت تھی۔ انھوں نے قرض کے بدلے ساہوکار کو اپنی زمین رہن پر رکھ دی، اس کے بعد بھی وہ اس پر کھیتی کرتے رہے، اور فصل کی شکل میں قرض چکاتے رہے۔ ’’میں نے کپاس، کیلے اور گنے کی پیداوار کی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’جو کچھ کھیت پر پیدا ہوتا تھا اس میں سے بڑا حصہ کڑپے کو بھیج دیا جاتا تھا۔ کل اسٹاک آسانی سے ایک لاکھ روپے سے زیادہ تھا (ہر موسم میں)۔ میں مشکل سے ہی کچھ اپنے پاس رکھ پاتا تھا۔ زمین کو رہن پر رکھنے کے بعد، ساہوکار جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہ آپ کو کوئی بھی کام کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔‘‘

رائے گاواں گاؤں کے ہری بھاؤ پوٹے نے ساہوکار کو اپنی زمین رہن پر دے دی، اور اپنے قرض کو چکانے کے لیے ساہوکار کو کافی پیسے دیے، لیکن پولس کے پاس جانے سے ڈرتے رہے

سال 2007 میں، کڑپے نے پوٹے کو زمین سے دست بردار کر دیا اور زمین کو واپس لینے کے لیے ان سے 3 لاکھ روپے ادا کرنے کو کہا۔ ’’میں نے اگلے پانچ سالوں میں 286000 روپے ادا کیے،‘‘ پوٹے بتاتے ہیں، جو اپنے بقیہ 2.25 ایکڑ کھیت پر پہلے سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ ’’میں نے اس سے التجا کی کہ وہ بقیہ 14000 روپے کو چھوڑ دے۔ لیکن اس نے میرے کھیت کی صرف دو ایکڑ زمین ہی چھوڑی۔ تبھی سے تین ایکڑ اسی کے پاس ہے۔ وہ اس کے لیے 12 لاکھ روپے دینے کو کہہ رہا ہے۔‘‘

یہ تمام تفصیلات پولس کو بتانے میں پوٹے کو کئی سال لگ گئے۔ ’’کڑپے یہاں کا ایک طاقتور آدمی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’مجھے یہ سن کر حیرانی نہیں ہوگی کہ اشٹی کے ارد گرد کے تمام گاؤوں سے گنے پارسل کے ذریعے اس کے بنگلہ تک پہنچ گئے۔ اس نے کسی بھی دوسرے ساہوکار کو یہاں بسنے نہیں دیا۔ مجھے اس کی شکایت کرتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا۔‘‘

لیکن اس سال مئی میں، 33 سالہ مرلی دھر کیکن، جو اشٹی میں کڑپے کے بنگلہ سے دائیں طرف رہتے ہیں، نے کڑپے کے خلاف ایک ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کرائی اور ثبوت اکٹھا کرنا شروع کیا۔ انھوں نے ان 133 کسانوں کی فہرست تیار کی، جو مجموعی طور سے تقریباً 400 ایکڑ زمین کھو چکے تھے۔ ’’اس کے پاس اب بھی جو 400 ایکڑ زمین ہے، وہ متعدد کسانوں سے ڈھیر سارا پیسہ اور ان کی فصلیں لینے کے بدلے تقریباً 400 ایکڑ لوٹانے کے بعد بچی ہیں۔،‘‘ کیکن بتاتے ہیں۔ ’’اس نے میری بھی سات ایکڑ زمین اپنے قبضے میں لے رکھی ہے۔‘‘

یہ معاملہ بعد میں جالنا کرائم برانچ کے پاس پہنچا، جہاں پولس انسپکٹر راجندر سنگھ گوڑ اس کیس سے متعلق کاغذات کی چھان بین کر رہے ہیں، جیسے پراپرٹی کے پیپرس، زمین کے ریکارڈس، لون رجسٹرس، جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ سب مشکوک ہیں۔ ’’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ ساہوکار ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ان کے ذریعے زمین کی لین دین کا سودا 1000 ایکڑ سے زیادہ کا ہے۔ یہ پوری طرح سے ساہوکاری کا کیس لگتا ہے۔ جانچ چل رہی ہے؛ ہم جلد ہی چارج شیٹ فائل کریں گے۔‘‘

اس میں دھوکہ، پیسہ وصولی اور دیگر جرائم سے وابستہ قانون کی دفعات لگ سکتی ہیں، مہاراشٹر منی لینڈنگ (ریگولیشن) ایکٹ، 2014، جو شاید ہی کبھی استعمال ہوتا ہے، کے مطابق ساہوکاروں کے پاس لائیسنس ہونا چاہیے، اور دیگر اقدامات کے علاوہ اس پر سالانہ 12 فیصد کی شرح سے سود بھی لگتا ہے۔ دریں اثنا، کڑپے نے ایف آئی آر کو ختم کرانے کے لیے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

کیکن نے فوراً ہی یہ چیز نہیں بتائی کہ کڑپے ایک پرانا فیملی فرینڈ ہے اور اس کی شادی کیکن کی کزن سے ہوئی ہے۔ اور اب یہ ان کی الگ الگ سیاسی وابستگی ہے، بقول کڑپے، جس کی وجہ سے کیکن کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

کڑپے نے تقریباً تین دہائیاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ گزاریں، اس کے بعد پچھلے سال نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) میں آگئے۔ اب ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ این سی پی کے ریاستی لیجسلیٹو کونسل کے رکن، دھننجے منڈے کے قریبی ہیں۔ ’’میں ایک ’عزت دار کاروباری‘ (سمجھا جاتا) تھا اور سالوں سے ایک ’کسان لیڈر‘ تھا،‘‘ وہ اپنے شاندار بنگلہ کے گراؤنڈ فلور پر بنے ہوئے اپنے آفس میں بیٹھے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’میں جیسے ہی این سی پی میں شامل ہوا، میں ایک ’ساہوکار‘ بن گیا؟ زمین خریدنے اور بیچنے والا ہر آدمی ساہوکار نہیں بن جاتا۔ یہ ایک تجارت ہے۔‘‘

کڑپے نے تصویر کھنچوانے سے منع کر دیا۔ ’’اس کیس کو بھول جائیے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کر دوں گا۔ آپ بہت دور سے آئے ہیں۔ ایک کپ چائے پئیں۔‘‘

اشٹی قصبہ میں کڑپے کا بنگلہ اور آفس۔ ’زمین بیچنے اور خریدنے والا ہر آدمی ساہوکار نہیں بن جاتا۔ یہ تجارت ہے،‘ وہ کہتے ہیں

کڑپے سے ملنے کے بعد میں کیکن کے گھر پر گیا۔ وہ مجھے دوپہر کا کھانا پیش کرتے ہیں اور ان کاغذات کا گٹھر لے آتے ہیں جو انھوں نے کڑپے کے خلاف جمع کیا ہے۔ ان کے لیونگ روم میں ان کے والد کے ساتھ بی جے پی لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ، گوپی ناتھ منڈے کی تصویریں ہیں۔ ’’میں ایک عام آدمی ہوں جو شاید ہی اپنی زمین کو لے کر فکرمند ہو،‘‘ کیکن کہتے ہیں، اور کسی بھی سیاسی دشمنی سے انکار کرتے ہیں۔

اشٹی کے مقامی نامہ نگار سیاسی انتقام کے نظریہ کی تصدیق کرتے ہیں۔ ’’یہاں کا ہر آدمی جانتا ہے کہ کڑپے ایک ساہوکار ہیں،‘‘ ایک نامہ نگار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ ’’لیکن ہم سیاسی انتقام سے انکار نہیں کر سکتے۔ مراٹھواڑہ میں سینکڑوں ساہوکار ہیں۔ ایسے کیس شاید ہی کبھی منظر عام پر آتے ہیں۔‘‘

دراصل، اس پورے خطہ میں ساہوکار ہی قرض کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اور دیہی علاقوں میں بینکنگ ختم ہونے سے، ان کا رول صرف بڑھا ہے۔ زیادہ تر ضلع کوآپریٹو بینک، جس پر کانگریس روایتی طور پر بھروسہ کرتے رہے ہیں، مراٹھواڑہ میں بدعنوانی اور طاقتور ڈیفالٹروں کے خلاف بینکوں کے ذریعہ کوئی قدم نہ اٹھاپانے کی ہمت کی وجہ سے بیکار ہو چکے ہیں۔ پرائیویٹ بینکوں نے، جس کی طرف اخیر میں ایک کسان رخ کر سکتا ہے، کراپ لون اور ٹرم لون کو آپس میں ضم کرکے فارم لون کی شرحِ سود میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے قرض کی واپسی اب پہلے سے بہت زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے قرض معافی کا جو وعدہ کیا تھا اسے بھی پورا نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کسان نئے لون بھی نہیں لے سکتے۔

پیسے کے ان ذرائع کے بغیر، کسان اب ساہوکاروں کے پاس جانے کو مجبور ہیں، جو خوشی خوشی قرض دے دیتے ہیں، لیکن یہ ماہانہ 7-3 فیصد یا سالانہ 85-40 فیصد کے حساب سے سود لیتے ہیں۔ سود کی اتنی زیادہ شرح سے، ایک معمولی رقم بھی کسان کی قبر کھود سکتی ہے، کیوں کہ جلد ہی سود کی رقم بنیادی رقم سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ساہوکار زمین رہن رکھنے کے بدلے قرض دیتا ہے، اور جب کسان وہ پیسے واپس نہیں کر پاتا، تو وہ اپنی زمین کھو دیتا ہے۔

ہر حالت میں، کسان قرض کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور ساہوکاروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتے ہیں، جو کہ گاؤں میں کافی طاقتور ہوتے ہیں، اور جن کے انتظامیہ میں اور مقامی پولس اسٹیشن میں کافی تعلقات ہوتے ہیں۔ جب تک کہ کوئی اتنا ہی طاقتور آدمی ساہوکار کے کارناموں کو اجاگر کرنے میں اپنا کوئی ذاتی مفاد نہ رکھتا ہو، کسانوں کے لیے ظلم کے خلاف بولنا اور انصاف کی امید کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

اسی ظلم نے سنیل مُٹکولے کو پچھلے سال اگست میں خودکشی کرنے پر مجبور کیا۔ عثمان آباد کے کلمب تعلقہ کے موہا گاؤں کے 21 سالہ کسان، مُٹکولے کو صرف 1000 روپے قرض لینے کی وجہ سے بار بار ذلیل کیا گیا۔ مقامی اخباروں نے اس کیس کی رپورٹنگ کی، اور پپو مڈکے کا نام ساہوکار کے طور پر بتایا۔

PHOTO • Ravindra Keskar

بائیں: پپو مڈکے کے گھر پر ملے کاغذات سے ان کو 500 سے زیادہ کا قرض دینے والے کے نام کا پتہ چلا؛ ان میں سے ایک تھا سنیل مُٹکولے۔ دائیں: موہا گاؤں میں سنیل کا گاؤں

عثمان آباد میں لوک ستا سے وابستہ صحافی، رویندر کیسکر نے فیملی سے بات کی اور رپورٹ کیا کہ کیسے سنیل نے 2016 کے دوران مڈکے کو 22000 روپے ادا کیے تھے۔ لیکن مڈکے 20000 روپے اور مانگ رہا تھا۔ ’’اس کے بعد سنیل گاؤں سے فرار ہو گیا اور پُنے میں سیکورٹی گارڈ کی نوکری کرنے لگا،‘‘ رپورٹ میں لکھا گیا۔ ’’اس نے اپنے گھر پر والدین (جو زرعی مزدور ہیں) کے لیے کچھ پیسے بھیجے۔ ایک دن، جب وہ چند قانونی کارروائیاں پوری کرنے کے لیے گھر آیا تھا، تو مڈکے کے لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور ڈنڈوں اور پتھروں سے اسے بری طرح پیٹا۔ انھوں نے اسے ایک پبلک ٹوائلیٹ کے قریب بہہ رہے گٹر سے پانی پینے پر مجبور کیا، پورے گاؤں کے سامنے۔ وہ یہ ذلت برداشت نہیں کر سکا اور خود کو پھانسی لگا لی۔‘‘

اس واقعہ کے بعد، پولس نے مڈکے کے گھر پر چھاپے مارے، جہاں انھیں 500 سے زیادہ نام والے کاغذات ملے، جن لوگوں کو مڈکے نے 20-15 فیصد ماہانہ کی شرح سود پر پیسے دے رکھے تھے۔ خودکشی کے لیے اُکسانے کا ایک کیس اس کے خلاف درج کیا گیا، اور اس طرح اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔

تاہم، چند مہینے قبل، مڈکے کو کلمب کے تعلقہ کورٹ میں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔ ’’گواہوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا،‘‘ کیسکر کہتے ہیں۔ ’’پورا گاؤں مڈکے سے خوف کھانے لگا۔ اب سنیل کے بارے میں کوئی بھی بات نہیں کرتا۔ اور مڈکے اپنا سر اونچا کرکے گھومتا رہتا ہے۔‘‘

تصویریں: پارتھ ایم این اور رویندر کیسکر

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Parth M.N.

پارتھ ایم این ۲۰۱۷ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ’لاس اینجلیس ٹائمز‘ کے ہندوستان کے خصوصی نامہ نگار ہیں اور کئی آن لائن پورٹل پر فری لانس کام کرتے ہیں۔ انھیں کرکٹ اور سفر کرنا پسند ہے۔

Other stories by Parth M.N.