برتن چھت کے نیچے لٹک رہا ہے۔

مجھے پورا یقین ہے کہ اس میں جڑی بوٹیاں ہوں گی، مذہبی سامان ہوں گے، یا شاید چاول ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ رجم گیری، نوجوان عورت جو کھلے آنگن میں ڈوسا بنا رہی ہیں، مجھے اس کے بارے میں بتائیں گی۔ لیکن اپنے سسر، جی سدّئیہ کے سامنے وہ نہایت ادب کے ساتھ خاموش ہیں۔

رجم اُسی ملائی گاؤں میں رہتی ہیں، جو تمل ناڈو کے ایروڈ ضلع کی خوبصورت بارگور پہاڑیوں میں واقع ہے۔ ان کا تعلق گلہ بانوں کی فیملی سے ہے۔ یہ لوگ سرخ اور سفید بارگور مویشیوں کو چراتے ہیں، جن کا نام پہاڑیوں پر پڑا ہے، جو کہ تمل ناڈو کی پانچ دیسی نسلوں میں سے ایک ہیں۔ روزانہ صبح کو مرد ان مویشیوں کو چرانے کے لیے جنگل لے جاتے ہیں۔ میں بارگور میں خاص طور سے ان کی مویشیوں کو دیکھنے آئی ہوں، کیوں کہ مجھے دیسی نسلوں پر لکھنے کا ایک کام ملا ہے۔ جس وقت میری ملاقات رجم سے ہوئی، اس وقت گھر پر صرف عورتیں، بچے اور بوڑھے ہی موجود تھے۔

اور وہ برتن جو چھت کے نیچے لٹکا ہوا ہے۔


02-IMG_6302(Crop2)-AK-Music, high on pot.jpg

لٹکا ہوا برتن، اس کا مقصد فوری طور پر معلوم نہیں ہے ۔ ۔ ۔


سدّئیہ اور سی کنجن جوٹ کی چارپائی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ سدئیہ مجھے بتاتے ہیں کہ وہ ۵۰ سال کے ہیں، لیکن تبھی ان کے دوست انھیں ٹوکتے ہیں۔ ’’تم ۶۰ سال کے ہو، ۵۰ کے نہیں،‘‘ کنجن کہتے ہیں۔ پرانے گلہ بانوں کے لیے عمر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ لیکن دونوں ہی مردوں کی عمر ۶۰ویں سال کی محسوس ہوتی ہے۔ دونوں نے ہی اپنے گلے میں چاندی کا بنا ہوا لِنگم لاکیٹ پہن رکھا ہے، یہ اس بات کی نشانی ہے کہ ان کا تعلق لِنگایت کمیونٹی سے ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ بارگور کے لِنگایت مویشی کی افزائش کرتے ہیں، پھر بھی دودھ نہیں پیتے۔ یہ سبزی خور بھی ہوتے ہیں۔ ’’دودھ صرف نہایت چھوٹے بچوں اور بوڑھوں کو دیا جاتا ہے،‘‘ ای این شیو سینا پتی بتاتے ہیں، جو بارگور ہل کیٹل بریڈرس ایسوسی ایشن کے صدر ہیں، جو مجھے اُسی ملائی لے کر گئے تھے۔


03-AK-Music, high on pot.jpg

بائیں: سی۔ کنجن اور سدئیہ آنگن میں جوٹ کی چارپائی پر بیٹھے ہوئے۔ دائیں: لنگایت کمیونٹی کے ذریعے گلے میں پہنے جانا والا چاندی کا لنگم لاکیٹ


روایت کے پابند، رجم کے سسر معافی کے انداز میں مجھ سے کہتے ہیں کہ باہری لوگوں کو پیر کے دن کھانا نہیں پروسا جاتا۔ مجھے ان کے گھر کے اندرونی حصے میں بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی، کسی بھی دن۔ میری وہاں پر موجودگی آلودگی تصور کی جائے گی۔

لیکن، وہ بتاتے ہیں، میں خوش قسمت ہوں، لکڑی کا چولہا آنگن میں ہے۔ اس لیے مجھے ایک پیالی چائے پینے کی اجازت ہے۔ چولہا عام سا ہے لیکن کارگر ہے، تین پتھر مثلث کی طرح رکھے ہوئے ہیں، لکڑی ان کے نیچے ہے، برتن اوپر ہے۔ رجم لوہے کی پائپ سے اس میں پھونکتی ہے۔ لکڑی سے دھنواں اٹھتا ہے اور آگ اوپر کو دھدھکنے لگتی ہے۔ پانی جب المونیم کے برتن میں ابلنے لگتا ہے، تو وہ اس میں چائے پتی اور چینی ڈالتی ہے اور ہمیں میٹھی وراٹو (کالی) چائے پیش کرتی ہے۔

رجم کے گھر میں ہر ایک شے پرانے فیشن کی ہے۔ دیواریں گوندھی ہوئی مٹی سے بنائی گئی ہیں اور ان کے اوپر لال اور نیلے رنگ سے پُتائی کی گئی ہے۔ ایک کمرہ چھوٹے بچھڑے کے لیے مخصوص ہے۔ آنگن میں، چولہے کے قریب، ڈوسا پیٹنے کے لیے ایک مضبوط پیسنے والا پتھر ہے، ایک پتلا لیکن بھاری موسل، اور ٹوکریاں بُننے کے لیے بید کی چھڑیاں ہیں۔


04-IMG_6318(Crop)-AK-Music, high on pot.jpg

بائیں: رجم لکڑی کے چولہے پر چائے بنا رہی ہے۔ دائیں: اپنے لیے الگ سے رکھے گئے ایک کمرے میں بارگور بچھڑے


اور پھر وہ برتن ہے جو چھت کے نیچے لٹک رہا ہے۔

رجم سے میں جب اس کے بارے میں دوبارہ پوچھتی ہوں، تو وہ ٹھہاکہ لگاتی ہے۔ وہ گھر کے اندر جاتی ہے اور کسی قسم کا میوزک سسٹم آن کر دیتی ہے۔

’’برتن میں ایک اسپیکر ہے،‘‘ وہ مجھے بتاتی ہے۔ ’’میوزک کے لیے۔‘‘

تمل فلم کا ایک گانا بجنے لگتا ہے، آواز گونجتی ہے، اور مٹی کے برتن کی دیواروں سے بڑھنے لگتی ہے۔

بچوں کا ایک چھوٹا مجمع وہاں اکٹھا ہو جاتا ہے، جو اچانک بات چیت شروع کر دیتا ہے اور میرے کچھ سوالوں کا جواب دیتا ہے۔ ان میں سے ایک رجم کی بھتیجی ہے۔ وہ مجھے بتاتی ہے کہ اس کے چیتھپا (تمل میں اس کا مطلب ہے چچا)، رجم کے دیور، نے اس برتن میں اسپیکر کو فٹ کیا تھا۔

’’کیا تم ڈانس کرنا چاہتی ہو؟‘‘ میں نے بھتیجی سے پوچھا۔ وہ ہاں میں گردن ہلاتی ہے، لیکن جلد ہی شرمانے لگتی ہے، اور نہ تو اپنا نام بتاتی ہے اور نہ ہی اپنے پسندیدہ گانے کے بارے میں کچھ کہتی ہے۔


ویڈیو دیکھیں: برتن میں کیا ہے اور اسے وہاں اوپر کس نے رکھا ہے؟


رجم اپنے گھر میں لوگوں کی دیکھ بھال کرنے چلی جاتی ہے۔ وہ گھر کے پیچھے کی طرف جلانے والی لکڑی لانے جاتی ہے۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے وہاں جاتی ہوں۔ اکیلے میں، وہ حیران کن طور پر باتونی ہے۔ وہ اپنے معمول کے بارے میں بتاتی ہے، محنت والا کام، جو صبح کے پانچ سے شروع ہو کر رات کے نو بجے تک چلتا ہے؛ لکڑی لانے سے لے کر پیسنے تک؛ ایک بچہ کو گھر میں، دوسرے کو اسپتال میں جنم دینے کے بارے میں۔ ’’میری دونوں بیٹیاں ہیں؛ یہ للیتھا ہے، دوسری جیوتھیکا ہے۔‘‘

اب مجھ سے سوال پوچھنے کی باری رجم کی ہے۔ ’’تمہارے کتنے بچے ہیں، تم کہاں رہتی ہو؟‘‘ اس کے بعد وہ شاطرانہ انداز میں پوچھتی ہے: ’’تمہاری تھلی (سونے کا منگل سوتر) کہاں ہے؟‘‘ میں اس سے کہتی ہوں کہ میں سونا نہیں پہنتی۔ ’’میرا دیکھو!‘‘ وہ کہتی ہے، اور اپنے بائیں انگوٹھے سے وہ اپنی ٹھوڑی کو اوپر کرتی ہے۔ یہ چھوٹی کالی اور سنہری موتیوں سے بنی ہوئی ہے۔ اس میں سرخ، سیاہ اور سنہرے لاکیٹ، اور چار سیفٹی پن لگے ہوئے ہیں۔ ’’تمہارے پاس سونا ہے، لیکن تم اسے پہنتی نہیں؟‘‘ رجم پوچھتی ہے، جب میں اس کا فوٹو کھینچ رہی تھی۔ اور وہ ہنستی ہے اور خوبصورت بارگور پہاڑیوں میں واقع اپنے گھر کے پچھواڑے ہنستی جاتی ہے ۔ ۔ ۔

مزید میوزیکل ساؤنڈ، جو چھت سے لٹکے برتن سے نکلنے والی آواز سے اچھی ہے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Aparna Karthikeyan

اپرنا کارتی کیئن ایک آزاد ملٹی میڈیا صحافی ہیں۔ وہ تمل ناڈو کے دیہی علاقوں سے ختم ہوتے ذریعہ معاش کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں اور پیپلز آرکائیوز آف رورل انڈیا کے ساتھ بطور رضاکار کام کر رہی ہیں۔

Other stories by Aparna Karthikeyan