’’میرے دو بڑے بیٹوں نے دو دنوں تک پاٹل [کھیت مالک] کے لیے کام کیا اور ہر ایک نے ۱۵۰ روپے کمائے تھے۔ انہوں نے اس پیسے کا استعمال اس سے کنیا (ٹوٹا ہوا چاول) خریدنے میں کیا تھا،‘‘ ونیتا بھوئیرے نے کہا۔ انہوں نے پلاسٹک کا ایک پیلا ڈبہ کھولا اور مجھے دکھانے کے لیے اس میں سے چاول کے کچھ ٹکڑے باہر نکالے۔ یہ تب جمع کیے جاتے ہیں جب کٹائی کے بعد دھان سے بھوسا نکالنے کے لیے اسے کوٹا جاتا ہے، اور یہ چاول کے دانے سے سستا ہوتا ہے۔ چاول کے ان ٹکڑوں کے ساتھ، ۵۲ سالہ ونیتا کی کچی جھونپڑی میں ایک ہفتہ کے لیے نمک، مرچ اور ہلدی پاؤڈر، کھانا پکانے کا تیل اور کچھ آلو تھے۔ اس فیملی کو یہ تمام غذائی اشیا بھی مقامی سماجی کارکنوں سے حاصل ہوئی تھیں۔

’’جن کے پاس راشن کارڈ ہے، انہیں سرکار اناج دیتی ہے۔ انہیں [ہر مہینے، مارچ میں جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے] مفت میں چاول بھی ملے۔ لیکن میرے پاس راشن کارڈ نہیں ہے۔ میری فیملی کیا کرے؟‘‘ ونیتا کے شوہر، ۵۵ سالہ نوسو بھوئیر پوچھتے ہیں۔ ’’سرکار میری مدد نہیں کرتی۔ ہمارا کام بھی بند ہو گیا ہے۔ ہم کیا کھائیں؟‘‘

نوسو نے راشن کارڈ کے لیے کبھی درخواست نہیں دی کیوں کہ، وہ کہتے ہیں، ’’ہم ہر سال کام کی تلاش میں مہاجرت کرتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے لیے درخواست کیسی کرنی ہے۔‘‘ وہ ناخواندہ ہیں؛ ان کے تین بچوں نے دھیرے دھیرے اسکول چھوڑ دیا – ۱۸ سالہ آنند اور ۱۲ سالہ شیوا نے کلاس ۳ کے بعد، اور ۱۶ سالہ رام داس نے کلاس ۴ کے بعد۔ ان کے دو چھوٹے بچے ابھی اسکول میں ہیں – ۸ سالہ کرشنا کلاس ۲ میں ہے اور سب سے چھوٹی بیٹی، ۴ سالہ سنگیتا مقامی آنگن واڑی میں جاتی ہے۔

بھوئیر فیملی پالگھر ضلع کے واڈا شہر سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور، بورانڈا گاؤں میں رہتی ہے۔ وہ کاتکری آدیواسی برادری کی تقریباً ۸ جھونپڑیوں والے محلہ میں رہتے ہیں۔

پچھلے سال نومبر میں، مزدوروں کی فیملی بھیونڈی تعلقہ کے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے چلی گئی تھی۔ بھٹے پر کام کرنے کا مطلب ہے رات دن محنت کرنا۔ بھٹہ مالک سے انہیں ہفتہ میں ایک بار ۴۰۰-۵۰۰ روپے خرچی (خرچے) کے طور پر ملتے تھے، جس سے وہ راشن اور دیگر ضروری اشیا خریدتے تھے۔ بھٹہ پر کام کے مہینوں کے آخر میں، جب ان کی مزدوری جوڑی جاتی ہے، تو یہ خرچے ان کی کل کمائی سے کاٹ لیے جاتے ہیں۔ اگر فیملی کے اوپر کوئی قرض نہیں ہے، تو نومبر سے مئی تک، سات مہینے کام کرنے کے بعد ان کے ہاتھ میں تقریباً ۱۰-۱۲ ہزار روپے آ جاتے ہیں۔

Vanita Bhoir had a week's stock of food for her family (here with her daughter Sangeeta and son Krishna) in her straw-and-mud hut
PHOTO • Mamata Pared
Vanita Bhoir had a week's stock of food for her family (here with her daughter Sangeeta and son Krishna) in her straw-and-mud hut
PHOTO • Mamata Pared

یہاں کچی جھونپڑی میں ونیتا بھوئیر کے پاس ان کی فیملی کے لیے (یہاں اپنی بیٹی سنگیتا اور بیٹے کرشنا کے ساتھ) ایک ہفتہ کا غذائی سامان موجود تھا

وہ اس پیسے کا استعمال مانسون کے مہینوں کے لیے سامان خریدنے میں کرتے ہیں۔ گھر کی مرمت کے لیے بھی کچھ پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور بچوں کی تعلیم پر بھی خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ہر وقت ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن اگر غیر ادا کردہ قرض ’بڑا‘ ہے، تو ان کے ہاتھ میں ایک روپیہ بھی نہیں ملتا۔ بلکہ، انہیں مزید قرض لینا پڑتا ہے – اگلے کچھ مہینوں تک کام چلانے کے لیے انہیں اینٹ بھٹہ مالک سے مزید پیسے قرض لینے پڑتے ہیں۔ ان سبھی کو واپس چکانے کے لیے، ان کے پاس اگلی بار پھر سے مہاجرت کرنے اور اسی ساہوکار کے لیے کام کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں بچتا۔

یہ کام، جو ہر سال مئی تک چلتا ہے، کووڈ- ۱۹ کی وجہ سے اس سال مارچ میں ہی رک گیا۔ ونیتا، نوسو اور ان کے بچے گھر لوٹ آئے۔ ’’ہم کام کے شروعاتی مہینوں میں [بھٹے پر] جو پیسہ کماتے ہیں، وہ ہفتہ واری ضرورتوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ بعد کے مہینوں سے ہونے والی آمدنی سے کچھ پیسے ہمارے ہاتھ میں آتے ہیں۔ لیکن اس سال، کام پہلے ہی بند ہو گیا اور جب ہم وہاں سے چلنے لگے، تو سیٹھ نے ہمیں صرف ۲۰۰۰ روپے ہی دیے۔ وہ کتنے دن چلے گا؟ اس میں سے اب کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ واپس آنے کے بعد ہم نے جھونپڑی کی مرمت کی – بارش کا پانی روکنے کے لیے اس کی چھت پلاسٹک سے ڈھکی ہوئی ہے۔ کچھ پیسے سفر [ٹیمپو سے گاؤں واپس آنے] پر خرچ ہو گئے تھے،‘‘ ونیتا بتاتی ہیں۔

مارچ کے آخر میں جب وہ بورانڈا لوٹنے کے لیے اینٹ بھٹہ کو چھوڑ رہے تھے، تو ٹھیکہ دار نے ان کی ساری کمائی اور خرچ کو جوڑا نہیں تھا۔ اس لیے انہیں معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے کتنا کمایا اور ان کا کتنا پیسہ ابھی باقی ہے۔ اور ونیتا اور نوسو فکرمند ہیں – انہیں اپنی فیملی کے سات ممبران – میاں بیوی اور پانچ بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا ہے۔ ان کے پاس زمین نہیں ہے اور وہ مزدوری کرکے مشکل سے اپنا گزارہ چلاتے ہیں، اور ان کے پاس کام کی تلاش کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ لیکن اس مدت میں وہ کیا کام کریں – یہی فکر بھوئیر فیملی کو پریشان کر رہی ہے۔

ان کے گاؤں میں اور اس کے آس پاس زرعی کام مشکل سے ملتا ہے – کسانوں کے پاس زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ بوائی اور کٹائی کے وقت، ۱۵۰ روپے کی یومیہ مزدوری پر صرف دو ہفتے کا کام مہیا کرا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی، اگر کسی کو جنگل سے جلاؤ لکڑی منگوانے کی ضرورت پڑی، تو بھوئیروں اور دیگر کو ۱۵۰ روپے اضافی مل سکتے ہیں۔ اگر وہ خوش قسمت ہوئے، تو انہیں پاس کے تعمیراتی مقامات پر ۲۵۰ روپے یومیہ پر کام مل سکتا ہے – لیکن کبھی کبھی ہی۔

In Boranda, a group sat talking about the present situation. The annual market, where some of the Katkaris sell mahua (right), was cancelled due to the lockdown
PHOTO • Mamata Pared
In Boranda, a group sat talking about the present situation. The annual market, where some of the Katkaris sell mahua (right), was cancelled due to the lockdown
PHOTO • Mamata Pared

بورانڈا میں، چند لوگوں کا ایک گروپ بیٹھا ہوا موجودہ حالات کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ سالانہ بازار، جہاں کچھ کاتکری مہوا (دائیں) بیچتے ہیں، لاک ڈاؤن کے سبب اسے ردّ کر دیا گیا

عام طور پر، بحران کے وقت، ان کے جیسے کنبے سیٹھ سے قرض لیتے ہیں۔ لیکن اس سال، سبھی اینٹ بھٹہ مالکوں نے ان سے کہا تھا کہ پیسے صرف کیے گئے کام کے ہی دیے جائیں گے۔ اس لیے قرض ملنے کی ان کی امید بھی ٹوٹ گئی۔

بورانڈا میں، میرے وہاں جانے کے وقت، کچھ جھونپڑیوں کے سامنے ۸-۱۰ عورتیں اور مرد بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے۔ دوپہر کے تقریباً ۲ بج رہے تھے۔ ’’سرکار نے [لاک ڈاؤن کے بعد] کئی کنبوں کو چاول دیا۔ ہم نے سنا ہے کہ ۲۰۰۰ روپے ان کے بینک کھاتوں میں بھی بھیجے گئے ہیں۔ لوگ ہمیں یہی بتا رہے ہیں۔ لیکن ہمیں اس کے لیے [قریبی بینک، بورانڈا سے چار کلومیٹر دور] کھاری ولی گاؤں جانا ہوگا۔ اوپر سے یہ بیماری ہے۔ کیا کریں؟ ہم وہاں کیسے جا سکتے ہیں؟ کوئی گاڑی بھی نہیں چل رہی ہے،‘‘ ۶۵ سالہ بائی جی بھوئیر، جو کہ ونیتا کے بغل میں رہتی ہیں، اپنے ساتھ بیٹھے دیگر لوگوں سے کہہ رہی تھیں۔

کچھ جھونپڑیوں کے باہر، اس دن مہوا کے پھول سوکھنے کے لیے زمین پر پھیلاکر رکھے ہوئے تھے۔ ان سوکھے ہوئے مہوا کے پھولوں کا وہ کیا کریں گے، میں نے پوچھا تھا۔ ’’برسات کے موسم سے پہلے، اوروس منعقد کیا جاتا ہے۔ ہم ان پھولوں کو بیچیں گے اور جو پیسہ ملے گا اس سے  پیاز، آلو خریدیں گے،‘‘ ایک عورت نے جواب دیا۔

اوروس ایک بڑا بازار ہے، جو مانسون کی شروعات سے پہلے، مئی کے مہینہ میں ۱۰-۱۲ دنوں کے لیے لگتا ہے۔ اس سال لاک ڈاؤن اور کووڈ- ۱۹ کے پھیلنے کے ڈر سے اوروس کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔

دیگر برسوں میں، یہاں اناج، مصالحہ، پیاز، آلو، مچھلی، گھریلو استعمال کے لیے پلاسٹک کی چیزیں وغیرہ فروخت کی جاتی ہیں۔ بورانڈا سے تقریباً ۳۵ کلومیٹر دور – واڈا تعلقہ کے کدوس شہر کے اس بازار میں کئی گاؤوں کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ آدیواسی کنبے یہاں مہوا کے پھول اور ڈِنکا (قدرتی گوند) فروخت کرتے ہیں اور مانسون کے موسم کے لیے، جب زیادہ کام ملنے کا امکان نہیں ہوتا، کچھ ضروری سامان خریدتے ہیں۔ وہ ان دنوں میں اسی اناج سے اپنا کام چلاتے ہیں۔

ونیتا اور نوسو نے بھی اس سال یہی امید باندھ رکھی تھی – کہ جمع کی گئی غذائی اشیا سے اگلے کچھ مہینوں تک کام چلا لیں گے۔ لیکن ان کی جھونپڑی میں اناج تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Mamata Pared

ممتا پارید ۲۰۱۸ کی پاری انٹرن ہیں؛ وہ پونہ کے آباصاحب گروارے کالج سے جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔

Other stories by Mamata Pared