گزشتہ تین برسوں میں آپ نے کتنے اسپتالوں میں دکھایا ہے؟

اس سوال کو سنتے ہی سُشیلا دیوی اور ان کے شوہر، منوج کمار کے چہرے پر تکان اور نا امیدی کا سایہ جھلکنے لگتا ہے۔ ان دونوں کو (ان کے نام یہاں بدل دیے گئے ہیں) نمبر یاد نہیں ہے کہ جون ۲۰۱۷ میں باندیکوئی شہر کے مدھر اسپتال میں جب پہلی بار سشیلا کی نس بندی ہوئی تھی، تو اس کے بعد انہوں نے اسپتالوں کے کتنے چکر لگائے، کتنے ٹیسٹ کرائے اور کیا کیا علاج کروایا۔

شادی کے ۱۰ سال میں تین لڑکیوں کے بعد جب چوتھے بچے کی شکل میں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی، تو میاں بیوی نے ۲۷ سالہ سشیلا کی نس بندی کرانے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ اپنی اور اپنی فیملی کی زندگی کا بہتر انتظام کر سکیں۔ راجستھان کی دوسہ تحصیل میں ان کے گاؤں، ڈھانی جما سے ۲۰ کلومیٹر دور، باندیکوئی کا پرائیویٹ اسپتال ان کی پہلی پسند تھا، جب کہ ڈھانی جما سے محض تین کلومیٹر دور، کنڈل گاؤں میں ایک سرکاری پبلک ہیلتھ سنٹر (پی ایچ سی) موجود ہے۔

’’[سرکاری] طبی مراکز میں نس بندی کیمپ زیادہ تر سردیوں کے مہینے میں لگائے جاتے ہیں۔ عورتیں ٹھنڈ کے مہینوں میں نس بندی کرانا پسند کرتی ہیں کیوں کہ اس وقت ان کا زخم تیزی سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر وہ گرمی کے مہینوں میں سرجری کرانا چاہیں، تو ہم انہیں دوسہ اور باندیکوئی کے پرائیویٹ اسپتالوں میں لے جاتے ہیں،‘‘ ۳۱ سالہ سنیتا دیوی کہتی ہیں، جو ایک تسلیم شدہ سماجی طبی کارکن (آشا) ہیں۔ وہ اس جوڑے کے ساتھ ۲۵ بستروں والے ایک جنرل ہاسپٹل، مدھر اسپتال گئی تھیں۔ یہ اسپتال ریاستی فیملی ویلفیئر اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ہے، اس لیے نس بندی کے لیے سشیلا سے کوئی پیسہ نہیں لیا گیا تھا، بلکہ انہیں ۱۴۰۰ روپے بطور انسینٹو دیے گئے تھے۔

سرجری کے کچھ دنوں بعد سشیلا کو حیض آ گیا، اور اس کے ساتھ درد اور تکان کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو اگلے تین سالوں تک جاری رہا۔

’’جب پہلی بار درد شروع ہوا، تو میں نے اسے گھر پر موجود درد کی گولیاں دیں۔ اس سے تھوڑا آرام ملا۔ لیکن ہر مہینے جب اسے حیض آتا، تو وہ درد سے رونے لگتی تھی،‘‘ ۲۹ سالہ منوج بتاتے ہیں۔

’’درد بڑھتا گیا، اور حد سے زیادہ خون نکلنے سے مجھے متلی آنے لگی۔ میں ہمیشہ کمزور رہتی تھی،‘‘ سشیلا کہتی ہیں، جو ایک خاتونِ خانہ اور ۸ویں کلاس تک پڑھی ہوئی ہیں۔

تین مہینے تک جب ایسے ہی چلتا رہا، تو آخر میں میاں بیوی ہچکچاتے ہوئے کنڈل کے پی ایچ سی گئے۔

Susheela and Manoj from Dhani Jama village have been caught in a web of hospitals, tests and diagnoses since Susheela's nasbandi
PHOTO • Sanskriti Talwar
Susheela and Manoj from Dhani Jama village have been caught in a web of hospitals, tests and diagnoses since Susheela's nasbandi
PHOTO • Sanskriti Talwar

ڈھانی جما گاؤں کی سشیلا دیوی کی نس بندی کے بعد سے ہی وہ اور ان کے شوہر، منوج اسپتالوں، ٹیسٹ اور علاج کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں

’’وہاں زیادہ تر اسٹاف کہاں ہوتا ہے؟‘‘ منوج ہمیں بتاتے ہیں کہ پی ایچ سی نے سشیلا کی جانچ کیے بنا ہی ہمیں درد کی گولیاں پکڑا دیں۔

تب تک اس درد نے ان کی ازدواجی زندگی کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ نس بندی کے پانچ مہینے بعد، سشیلا باندیکوئی کے مدھر اسپتال میں اس ڈاکٹر سے دوبارہ ملنے گئیں، جس نے اس عمل کو انجام دیا تھا۔

لگاتار کئی ٹیسٹ کے بعد، جس میں پیٹ کی سونوگرافی بھی شامل تھی، ڈاکٹر نے بتایا کہ بچہ دانی میں انفیکشن ہو گیا ہے، جس کے لیے تین مہینے تک علاج کرانا ہوگا۔

’’میری بیوی کو انفیکشن کیسے ہو گیا؟ آپ نے سرجری ٹھیک سے نہیں کی تھی؟‘‘ منوج نے ڈاکٹر سے غصے میں کہا۔ میاں بیوی کو ڈاکٹر سے ملنے والا جواب آج بھی یاد ہے: ’’ہم نے اپنا کام صحیح کیا ہے،یہ تمہاری قسمت ہے،‘‘ ڈاکٹر نے جانے سے پہلے کہا تھا۔

اگلے تین مہینے تک، ہر ۱۰ دن بعد میاں بیوی صبح ۱۰ بجے اپنی موٹر سائیکل سے مدھر اسپتال کے لیے نکل جاتے تھے۔ پورا دن چیک اپ، ٹیسٹ کرانے اور تشخیص شدہ دوائیں خریدنے میں لگ جاتا تھا۔ منوج کو اپنا کام چھوڑنا پڑتا، اور ان کی بین بیٹیاں (جن کی عمر اب نو، سات اور پانچ سال ہے) اور بیٹا (اب چار سال کا)، ڈھانی جما میں اپنے دادا دادی کے پاس رہتے تھے۔ ہر سفر پر انہیں ۲-۳ ہزار روپے خرچ کرنے پڑتے تھے۔

تین مہینے تک علاج کرانے کے بعد، منوج نے اپنے رشتہ داروں سے قرض لیے گئے ۵۰ ہزار روپے میں سے زیادہ تر خرچ کر دیا تھا۔ بی اے گریجویٹ ہونے کے باوجود، منوج کو جو واحد نوکری مل پائی تھی، وہ بیلداری کرنے (تعمیراتی مقامات یا کھیتوں پر مزدوری کرنے) کی تھی، باقاعدہ کام ملنے پر وہ اس سے تقریباً ۱۰ ہزار روپے ماہانہ کما لیتے تھے۔ ایک طرف سشیلا کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آ رہی تھی، تو دوسری طرف  فیملی کا قرض بڑھتا ہی جا رہا تھا اور آمدنی ختم ہو رہی تھی۔ زندگی سیاہ ہوتی جا رہی تھی، سشیلا کہتی ہیں۔

’’میں یا تو حیض کے دوران درد سے لڑکھڑاتی تھی، یا اتنی کمزور کہ اس کے بعد کئی دنوں تک کوئی کام نہیں کر پاتی تھی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

Susheela first got a nasbandi at Madhur Hospital, Bandikui town, in June 2017
PHOTO • Sanskriti Talwar

سشیلا کی نس بندی پہلی بار جون ۲۰۱۷ میں، باندیکوئی شہر کے مدھر اسپتال میں ہوئی تھی

نومبر ۲۰۱۸ میں، منوج نے اپنی بیوی کو گاؤں سے ۲۰ کلومیٹر دور، ضلع ہیڈ کوارٹر، دوسہ کے ضلع اسپتال میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔ جس دن وہ ۲۵۰ بستروں والے اس اسپتال میں گئے، جہاں زچہ طبی خدمات کے لیے ایک الگ شعبہ ہے، اس دن اسپتال کے گلیارے میں مریضوں کی ایک لمبی قطار موجود تھی۔

’’میرا پورا دن لائن میں کھڑے رہنے میں ہی گزر جاتا۔ میں بے صبر تھا۔ اس لیے ہم نے وہاں سے دوسہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال جانے کا فیصلہ کیا،‘‘ منوج کہتے ہیں۔ تب انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اسپتال کے کبھی نہ ختم ہونے والے دورے اور ٹیسٹ کے ایک اور بھنور میں پھنس جائیں گے، پھر بھی کوئی واضح علاج نہیں ہوگا۔

دوسہ کے راجدھانی ہاسپٹل اور میٹرنٹی ہوم میں، جیسا کہ ضلع اسپتال کی قطار میں کھڑے کسی شخص نے بتایا تھا، سشیلا کی پرانی سونوگرافی رپورٹ کو خارج کر دیا گیا تھا اور نئی رپورٹ مانگی گئی تھی۔

آگے کیا کیا جائے، اس بارے میں کنفیوژ اور پس و پیش میں مبتلا منوج نے گاؤں کے کسی آدمی کی صلاح لی اور سشیلا کو کچھ ہفتے بعد دوسہ کے کھنڈیلوال نرسنگ ہوم لے گئے۔ یہاں اور ایک سونوگرافی کی گئی اور رپورٹ سے پتا چلا کہ سشیلا کی بچہ دانی میں ورم ہے۔ ایک بار پھر سے دوا دارو کا دور چلا۔

’’پرائیویٹ اسپتالوں میں کام کرنے والے لوگ جانتے ہیں کہ دیہی باشندوں کو ان چیزوں کے بارے میں کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ جو بھی کہیں گے، ہم انہیں قبول کر لیں گے،‘‘ منوج کہتے ہیں، اور اب اس بارے میں کافی الجھن میں ہیں کہ وہ ایک تیسرے پرائیویٹ اسپتال، دوسہ کے شری کرشنا اسپتال میں کیسے پہنچے، جہاں ڈاکٹر نے کچھ اور ٹیسٹ اور دوبارہ سونوگرافی کے بعد کہا کہ سشیلا کی آنت میں معمولی سوجن ہے۔

’’ایک اسپتال ہمیں بتاتا کہ نال میں سوجن ہے، دوسرا کہتا کہ انفیکشن ہے، اور تیسرا میری آنتوں کے بارے میں بات کرتا۔ ہر اسپتال اپنے حساب سے دوائیں طے کرتا۔ ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ کا چکر لگاتے لگاتے پاگل ہو جاتے، تب بھی یقین نہیں ہوتا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کیا ہو رہا ہے،‘‘ سشیلا کہتی ہیں۔ انہوں نے ہر اسپتال کے ذریعے تشخیص کردہ علاج کرایا، لیکن کسی نے ان کی علامتوں کو کم نہیں کیا۔

دوسہ کے ان تینوں پرائیویٹ اسپتالوں کا چکر لگانے سے منوج کا قرض ۲۵ ہزار روپے اور بڑھ گیا۔

جے پور میں رہنے والے ایک دور کے رشتہ دار سمیت فیملی کے سبھی لوگوں نے یہی مشورہ دیا کہ ان کے گاؤں سے ۷۶ کلومیٹر دور، ریاست کی راجدھانی کا اسپتال ہی ان کے لیے سب سے اچھا رہے گا۔

میاں بیوی نے ایک بار پھر سفر شروع کیا، پیسے خرچ کیے جو کہ ان کے پاس تھے نہیں، اور جب وہ جے پور پہنچے، تو وہاں کے ڈاکٹر سردار سنگھ میموریل ہاسپٹل میں ایک اور سونوگرافی سے پتا چلا کہ سشیلا کی بچہ دانی میں ایک ’گانٹھ‘ ہے۔

’’ڈاکٹر نے ہم سے کہا کہ یہ گانٹھ بڑھتی چلی جائے گی۔ انہوں نے بہت واضح طور پر کہا تھا کہ مجھے بچہ دانی کا آپریشن کروانا ہوگا،‘‘ سشیلا ہمیں بتاتی ہیں۔

Illustration: Labani Jangi

خاکہ: لبنی جنگی

آر ٹی آئی سے پتا چلتا ہے کہ (راجستھان کے باندیکوئی شہر کے) پانچ میں سے تین پرائیویٹ اسپتالوں کے ذریعے فراہم کی گئی جانکاری کے مطابق، ان کے یہاں اپریل سے اکتوبر ۲۰۱۰ کے درمیان جن ۳۸۵ عورتوں کی سرجری ہوئی تھی، ان میں سے ۲۸۶ عورتوں نے اپنی نس بندی کرائی تھی... ان میں سے زیادہ تر عورتوں کی عمر ۳۰ سال سے کم تھی، اور سب سے چھوٹی صرف ۱۸ سال کی تھی

اس لیے آخر میں، ۳۰ مہینے گزر جانے اور کم از کم آٹھ اسپتالوں کے چکر لگانے کے بعد، سشیلا نے ۲۷ دسمبر ۲۰۱۹ کو دوسرہ کے ایک اور پرائیویٹ اسپتال، شبھی پلس ہاسپٹل اور ٹراما سنٹر میں اپنی بچہ دانی کو نکلنے والے کے لیے سرجری کروائی۔ منوج کو اس سرجری پر ۲۰ ہزار روپے اور اس کے بعد دواؤں پر اضافی ۱۰ ہزار روپے خرچ کرنے پڑے۔

میاں بیوی کو یہ قبول کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا کہ درد اور قرض کے جال کو توڑنے کے لیے بچہ دانی نکلوانا ہی واحد طریقہ ہے۔

ہم نے منوج اور سشیلا کی کہانی اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت کے وکیل، درگا پرساد سینی کو سنائی، یہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، جس نے باندیکوئی کے پانچ پرائیویٹ اسپتالوں میں بچہ دانی نکلوانے کی جانچ کرنے کے لیے نومبر ۲۰۱۰ میں حق اطلاع قانون (آر ٹی آئی) کے تحت درخواست دی تھی۔

آر ٹی آئی سے پتا چلا کہ پانچ پرائیویٹ اسپتالوں میں سے تین سے موصول اطلاعات کے مطابق، ان اسپتالوں میں اپریل سے اکتوبر ۲۰۱۰ کے درمیان ۳۸۵ عورتوں کی سرجری ہوئی تھی، جن میں سے ۲۸۶ عورتوں نے اپنی بچہ دانی نکلوائی تھی۔ سوالیہ نشان والے عام اسپتالوں میں مدھر اسپتال (جہاں سشیلا کی نس بندی ہوئی تھی)، مدان نرسنگ ہوم، بالا جی ہاسپٹل، وجے ہاسپٹل اور کٹّا ہاسپٹل شامل تھے۔ بچہ دانی نکلوانے والی عورتوں میں سے زیادہ تر کی عمر ۳۰ سال سے کم تھی، اور سب سے چھوٹی صرف ۱۸ سال کی تھی۔ زیادہ تر عورتیں ضلع کی درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل برادریوں کی تھیں، جیسے کہ بیروا، گوجر اور مالی۔ منوج اور سشیلا کا تعلق بیروا برادری سے ہے اور ان کے گاؤں، ڈھانی جما کی ۹۷ فیصد آبادی کا تعلق درج فہرست ذات سے ہے۔

’’ہم رحم مادر میں لڑکیوں کے قتل پر گفتگو کر رہے تھے تبھی کسی نے کہا، پر کوکھ کہاں ہے،‘‘ سینی بتاتے ہیں، اسی بات سے یہ شک ہوا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔

’’ہمارا ماننا تھا کہ [بڑی تعداد میں غیر ضروری بچہ دانی کی سرجری] ڈاکٹروں، پی ایچ سی ملازمین اور آشا کارکنوں کے درمیان ساز باز کا نتیجہ ہے۔ لیکن ہم اسے ثابت نہیں کر سکے،‘‘ سینی بتاتے ہیں۔ باندیکوئی کے نتائج کو راجستھان، بہار اور چھتیس گڑھ کے پرائیویٹ اسپتالوں میں منافع خوری کے لیے ’’بچہ دانی نکلوانے کے گھوٹالے‘‘ کے خلاف ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) میں شامل کیا گیا تھا، جسے راجستھان واقع غیر منافع بخش تنظیم، پریاس کے بانی ڈاکٹر نریندر گپتا کے ذریعے ۲۰۱۳ میں سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔ عرضی میںان عورتوں کے لیے معاوضہ کا مطالبہ کیا گیا تھا جن کی سرجری ہوئی تھی، ساتھ ہی پالیسی میں مناسب تبدیلی کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔

مفاد عامہ کی عرضی میں بتایا گیا تھا کہ ’’بہار، چھتیس گڑھ اور راجستھان کی جن عورتوں سے انٹرویو لیا گیا، ان میں سے کئی کو یہ ماننے کے لیے گمراہ کیا گیا تھا کہ یہ ناگہانی حالت ہے اور سرجری کرانا ضروری ہے۔ انہیں یہ یقین کرنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ ڈاکٹروں کی صلاح نہیں ماننے پر انہیں کینسر ہو سکتا ہے۔‘‘

'We believed it [the unnecessary hysterectomies] was the result of a nexus...But we couldn’t prove it', said advocate Durga Prasad Saini
PHOTO • Sanskriti Talwar

’ہمارا ماننا تھا کہ یہ [غیر ضروری بچہ دانی کو نکالنا] ایک ساز باز کا نتیجہ ہے... لیکن ہم اسے ثابت نہیں کر سکتے‘، وکیل درگا پرساد سینی نے کہا

عرضی میں آگے کہا گیا تھا کہ ضروری معلومات – بچہ دانی نکلوانے کے خطرات اور اس کے طویل مدتی منفی اثرات سمیت – اکثر عورتوں کو نہیں دی جاتی تھی، جس سے یہ شک ہوتا ہے کہ کیا جلد بازی میں سرجری سے پہلے ان کی باخبر رضامندی لی گئی تھی۔

میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، پرائیویٹ اسپتالوں اور ڈاکٹروں نے ان الزامات کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ سرجری صرف ضروری ہونے پر ہی کی گئی تھی۔

’’دوسہ ضلع کے پرائیویٹ اسپتال اب بچہ دانی تبھی نکالتے ہیں،جب اس کی تشخیص کی جاتی ہے۔ لیکن پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ یہ بلا روک ٹوک اور تیزی سے ہوتا تھا۔ دیہی باشندوں کو ٹھگا جاتا تھا۔ جو بھی عورتیں حیض سے متعلق پیٹ کے مسائل لیکر آتی تھیں، انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیج دیا جاتا اور آخر میں بچہ دانی نکلوانے کے لیے کہہ دیا جاتا تھا۔

ڈاکٹر گپتا کی عرضی نے سرکار کو ۲۰۱۵-۱۶ کے دوران منعقد نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس- ۴) کے چوتھے دور میں بچہ دانی کو نکالے جانے کو شامل کرنے کے لیے آمادہ کیا، جس سے پتا چلا کہ ہندوستان میں ۱۵ سے ۴۹ سال کی ۳ اعشاریہ ۲ فیصد عورتوں کی بچہ دانی کو نکالا گیا تھا۔ ان میں سے ۶۷ فیصد سے زیادہ سرجری پرائیویٹ اسپتالوں میں کی گئی تھی۔ این ایف ایچ ایس- ۴ کے مطابق، راجستھان میں ۱۵ سے ۴۹ سال کی ۲ اعشاریہ ۳ فیصد عورتوں کی بچہ دانی نکالی گئی تھی۔

حقائق کا پتا لگانے والی ’پریاس‘ کی ٹیموں نے جب بچہ دانی نکلوانے والی عورتوں سے رابطہ کیا، تو ان میں سے کئی عورتوں نے بتایا کہ سرجری کے بعد بھی علامتیں جاری رہیں۔ بچہ دانی نکلوانے کے دو مہینے بعد، جب ہم سشیلا سے ان کے گھر پر ملے، تو وہ بالٹی اٹھانے کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر کام بھی کر رہی تھیں، حالانکہ سرجری سے ملے کچھ زخم اب بھی تازہ تھے اور انہیں محتاط رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔ منوج اپنے کام پر لوٹ چکے تھے اور جو کچھ کما رہے تھے، اس میں سے آدھے سے بھی زیادہ پیسے اس ایک لاکھ روپے کے قرض کو ادا کرنے میں چلے جاتے ہیں، جو انہوں نے سشیلا کا علاج کرانے کے لیے ساہوکاروں اور رشتہ داروں سے لیے تھے۔ انہوں نے سشیلا کے زیورات بھی ۲۰-۳۰ ہزار روپے میں فروخت کر دیے تھے۔

میاں بیوی گزشتہ تین برسوں کے واقعات سے اب بھی باہر نہیں نکل پائے ہیں، انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ درحقیقت لمبے وقت تک درد اور خون نکلتے رہنے کا سبب کیا تھا، اور کیا ان کا بچہ دانی نکلوانا آخرکار صحیح علاج تھا یا نہیں۔ انہیں بس اتنی راحت ملی ہے کہ سشیلا کو دوبارہ درد نہیں ہوا ہے۔

’’پیسہ لگاتے لگاتے آدمی تھک جائے، تو آخر میں یہی کر سکتا ہے،‘‘ منوج کہتے ہیں۔

کور کا خاکہ: لبنی جنگی بنیادی طور پر مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبہ کی رہنے والی ہیں، اور فی الحال کولکاتا کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز سے بنگالی مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ خود سے سیکھی ہوئی ایک مصور ہیں اور سفر کرنا پسند کرتی ہیں۔

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sanskriti Talwar

سنسکرتی تلوار نئی دہلی میں مقیم ایک آزادی صحافی ہیں۔ وہ جنسی امور پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

Other stories by Sanskriti Talwar

انوبھا بھونسلے ۲۰۱۵ کی پاری فیلو، ایک آزاد صحافی، آئی سی ایف جے نائٹ فیلو، اور ‘Mother, Where’s My Country?’ کی مصنفہ ہیں، یہ کتاب بحران زدہ منی پور کی تاریخ اور مسلح افواج کو حاصل خصوصی اختیارات کے قانون (ایفسپا) کے اثرات کے بارے میں ہے۔

Other stories by Anubha Bhonsle