پانچ ماہ کی حاملہ، پلوی گاوِت تین گھنٹے سے زیادہ وقت سے کھاٹ (چارپائی) پر درد سے کراہ رہی تھیں۔ ان کی بھابھی، ۴۵ سالہ سپنا گریل تب ان کے ساتھ تھیں، جب پلوی کی بچہ دانی ان کی اندامِ نہانی سے نکل کر باہر آ گئی تھی، جس کے اندر پانچ مہینے کا ایک بے جان نر فیٹس (جنین) تھا۔ ناقابل برداشت درد، خون اور افراز کے فرش پر ٹپکنے کے سبب پلوی بیہوش ہو گئیں۔

۲۵ جولائی، ۲۰۱۹ کو دوپہر کے ۳ بجے کا وقت تھا۔ ستپوڑا پہاڑیوں میں ۵۵ بھیل کنبوں کی ایک بستی، ہینگلا پانی میں پلوی کی کچی جھونپڑی کے اوپر بارش کا پانی زور سے گر رہا تھا۔ شمال مغربی مہاراشٹر کے نندربار ضلع کے اس دور دراز حصے میں نہ تو پکی سڑکیں ہیں، نہ ہی موبائل نیٹ ورک۔ ایمرجنسی دعوت دے کر نہیں آتی۔ وہ کبھی بھی آ سکتی ہے،‘‘ پلوی کے شوہر گریش کہتے ہیں (اس اسٹوری میں سبھی نام بدل دیے گئے ہیں)۔ ’’نیٹ ورک کوریج کے بغیر، ہم ایمبولینس یا ڈاکٹر کو بھی کیسے بلا سکتے ہیں؟‘‘

’’میں گھبرا گیاتھا،‘‘ ۳۰ سالہ گریش اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مر جائے۔‘‘ صبح سویرے ۴ بجے، اندھیرے اور بارش میں، گریش اور ان کا ایک پڑوسی پلوی کو بانس اور چادر سے ایک عارضی اسٹریچر پر لاد کر ۱۰۵ کلومیٹر دور دھڑگاؤں کی طرف لے گئے۔

ہینگلا پانی بستی اکرانی تعلقہ کے تورن مال گرام پنچایت علاقہ میں ہے۔ تورن مال دیہی اسپتال قریب ہوتا، لیکن اس رات یہ سڑک محفوظ نہیں تھی۔ ننگے پاؤں (کیچڑ کی وجہ سے چپل پہننا مشکل ہوتا ہے)، گریش اور ان کے پڑوسی کو کیچڑ بھرے راستے سے جانے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ پلاسٹک کی چادر سے ڈھکی پلوی درد سے کراہ رہی تھیں۔

تقریباً تین گھنٹے تک چڑھائی والے راستے پر چلنے کے بعد وہ تورن مال گھاٹ سڑک پر پہنچے۔ ’’تقریباً ۳۰ کلومیٹر کی چڑھائی ہے،‘‘ گریش بتاتے ہیں۔ وہاں سے، انہوں ایک ہزار روپے میں ایک جیپ کرایے پر لی، جو انہیں دھڑگاؤں تک لے گئی۔ سڑک پر پانچ گھنٹے تک سفر کرنے کے بعد، پلوی کو دھڑگاؤں کے ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا – دیہی اسپتال وہاں سے مزید ۱۰ کلومیٹر دور تھا۔ ’’مجھے جو پہلا دواخانہ [طبی مرکز] دکھایا دیا، میں اسے اسی میں لے گیا۔ یہ مہنگا تھا، لیکن کم از کم انہوں نے میری پلوی کو بچا لیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ڈاکٹر نے ان سے ۳۰۰۰ روپے لیے اور اگلے دن چھٹی دے دی۔ ’’انہوں نے کہا بھاری مقدار میں خون بہنے سے اس کی موت ہو سکتی تھی،‘‘ گریش یاد کرتے ہیں۔

In the dark and in pelting rain, Girish (also in the photo on the left is the ASHA worker), and a neighbour carried Pallavi on a makeshift stretcher up the slushy Satpuda hills
PHOTO • Zishaan A Latif
In the dark and in pelting rain, Girish (also in the photo on the left is the ASHA worker), and a neighbour carried Pallavi on a makeshift stretcher up the slushy Satpuda hills
PHOTO • Zishaan A Latif

اندھیرے اور بارش میں، گریش (تصویر میں بائیں طرف آشا کارکن بھی ہیں)، اور ایک پڑوسی پلوی کو ایک عارضی اسٹریچر پر لاد کر کیچڑ بھرے ستپوڑا پہاڑیوں کے راستے سے اوپر کی طرف لے گئے

مہینوں بعد، پلوی کو ابھی بھی روزانہ بے چینی اور درد ہوتا ہے۔ ’’میں جب بھی کوئی بھاری برتن اٹھاتی ہوں یا نیچے جھکتی ہوں، تو میرا کاٹ [بچہ دانی] میری اندام نہانی سے باہر نکل آتا ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ پلوی ۲۳ سال کی ہیں اور ان کی ایک سال کی بیٹی ہے، جس کا نام خوشی ہے۔ وہ گھر پر، ہینگلا پانی بستی میں ایک سند یافتہ سماجی صحت کارکن (آشا) کی مدد سے، محفوظ طریقے سے پیدا ہوئی تھی۔ لیکن ان کی بغیر علاج والی بچہ دانی باہر نکلنے کے سبب، انہیں اپنی بچی کی دیکھ بھال کرنے میں دقت ہوتی ہے۔

’’مجھے خوشی کو نہلانا پڑتا ہے، اسے کھانا کھلانا، دن میں کئی بار گود میں اٹھانا، اس کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے،‘‘ پلوی مجھ سے کہتی ہیں۔ ’’اتنا سارا جسمانی کام کرنے کے سبب، کبھی کبھی میرے پیٹ میں جلن، سینے میں درد اور اٹھنے بیٹھنے میں دقت ہوتی ہے۔‘‘

گریش اپنی دو گایوں کو چرانے کے لیے باہر لے جاتے ہیں، وہیں پلوی کو روزانہ پہاڑی کے نیچے بہنے والے چشمہ سے پانی لانا پڑتا ہے۔ ’’یہ دو کلومیٹر نیچے کی ڈھلان ہے۔ لیکن ہمارے لیے پانی کا یہی ایک واحد ذریعہ ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ اپریل-مئی تک وہ ذریعہ بھی خشک ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے پلوی اور بستی کی دیگر خواتین کو پانی کی تلاش میں مزید نیچے اترنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔

مانسون کے دوران وہ اور گریش دو ایکڑ میں مکئی اور جوار کی کھیتی کرتے ہیں۔ ان کھڑی ڈھلانوں پر پیداوار خراب ہوتی ہے، گریش بتاتے ہیں۔ ’’ہمیں چار یا پانچ کوئنٹل [۴۰۰-۵۰۰ کلوگرام] ملتا ہے، جن میں سے ۱-۲ کوئنٹل میں ۱۵ روپے فی کلو کے حساب سے تورن مال کی کرانے کی دکانوں پر فروخت کر دیتا ہوں۔‘‘ جب سالانہ فصل کی کٹائی کا کام ختم ہو جاتا ہے، تو گریش گنے کے کھیتوں میں کام تلاش کرنے کے لیے پڑوسی ریاست گجرات کے نوساری ضلع چلے جاتے ہیں۔ وہ سال میں تقریباً ۱۵۰ دن ۲۵۰ روپے کی یومیہ مزدوری پر کمانے کا انتظام کر لیتے ہیں۔

گھر اور کھیت کے اتنے سارے کاموں کو نمٹانے کے بعد، پلوی میں اتنی طاقت نہیں بچتی کہ وہ قریب کے ابتدائی طبی مرکز (پی ایچ سی) جا سکیں، جو وہاں سے تقریباً ۳۵ کلومیٹر دور جاپی گاؤں میں ہے – حالانکہ ان کو اکثر بخار رہتاہے، چکر آتا ہے اور وہ بیہوش بھی ہو جاتی ہیں۔ آشا کارکن انہیں کچھ دوائیں دے جاتی ہے، وہ بتاتی ہیں۔ ’’میں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتی ہوں، لیکن کیسے؟ میں بہت کمزور ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ باہر کی طرف نکلی اپنی بچہ دانی کے ساتھ، پہاڑیوں سے ہوتے ہوئے اس دوری کو پیدل طے کرنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔

'I have to bathe Khushi, feed her, lift her several times a day, play with her', says Pallavi Gavit. 'With a lot of physical activity, sometimes I have a burning sensation in my stomach, pain in the chest, and difficulty sitting and getting up'
PHOTO • Zishaan A Latif
'I have to bathe Khushi, feed her, lift her several times a day, play with her', says Pallavi Gavit. 'With a lot of physical activity, sometimes I have a burning sensation in my stomach, pain in the chest, and difficulty sitting and getting up'
PHOTO • Zishaan A Latif

’مجھے خوشی کونہلانا پڑتا ہے، اسے کھانا کھلا، دن میں کئی بار گود میں اٹھانا، اس کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے،‘ پلوی گاوِت کہتی ہیں۔ ’اتنا سارا جسمانی کام کرنے کے سبب، کبھی کبھی میرے پیٹ میں جلن، سینے میں درد اور اٹھنے بیٹھنے میں دقت ہوتی ہے‘

تورن مال گرام پنچایت کی آبادی ۲۰ ہزار ہے (جیسا کہ گرام پنچایت رکن کے ذریعے اندازہ لگایا گیا) اور یہ ۱۴ گاؤوں اور ۶۰ بستیوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان کی خدمت کے لیے جاپی میں ایک ابتدائی طبی مرکز، چھ ذیلی مرکز، اور تورن مال جون (پرانے) گاؤں میں ۳۰ بستروں والا ایک دیہی اسپتال ہے جو کنڈوم، مانع حمل گولیاں، نس بندی اور آئی یو ڈی لگانے جیسی سہولیات کے ساتھ ساتھ زچگی سے قبل اور بعد کی خدمات مہیا کرتا ہے۔ لیکن چونکہ اس مشکل علاقے میں بستیاں دور دراز مقامات پر ہیں، اس لیے اکثر خواتین گھر پر ہی بچوں کو جنم دیتی ہیں۔

’’تورن مال میں رکاوٹ والی زچگی کے معاملوں کی تعداد زیادہ ہے کیوں کہ یہاں کے آدیواسی پہاڑیوں کے اوپر رہتے ہیں، پانی کے لیے دن میں کئی بار اوپر نیچے چڑھتے ہیں، یہاں تک کہ حاملہ ہونے کے دوران بھی۔ یہ پیچیدگیوں اور وقت سے پہلے بچے کی پیدائش کا سبب بنتا ہے،‘‘ جاپی پی ایچ سی کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے، جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔ دو ڈاکٹروں، دو نرسوں اور ایک وارڈ اسسٹنٹ والے اس پی ایچ سی کو حال ہی میں، ۲۰۱۶ میں قائم کیا گیا تھا، اور یہاں ایک دن میں صرف چار سے پانچ مریض آتے ہیں۔ ’’لوگ تبھی آتے ہیں جب حالت واقعی میں خراب ہو جاتی ہے یا جب بھگت [روایتی حکیم] کا علاج ناکام ہو جاتا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

اپریل ۲۰۱۹ اور مارچ ۲۰۲۰ کے درمیان، ڈاکٹر نے بچہ دانی کے بڑھنے کے پانچ معاملوں کو دیکھا۔ ’’ان سبھی کو ۱۰۰ فیصد سرجیکل مداخلت کی ضرورت تھی۔ اس لیے ہم نے انہیں نندربار سول اسپتال میں ریفر کر دیا۔ اس طرح کے پرانے زچگی کے معاملوں کے علاج کی کوئی سہولت نہیں ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

بچہ دانی آگے کو تب نکل جاتی ہے، جب پیڑو کی سطح کے پٹھے اور رباط کھنچ جاتے ہیں یا کمزور ہو جاتے ہیں، اور بچہ دانی کو سہارا دینے کے قابل نہیں رہ جاتے۔ ’’بچہ دانی پٹھے کا ایک ڈھانچہ ہے، جو پیڑو کے اندر مختلف پٹھوں، نسیج اور رباط سے بندھا رہتا ہے،‘‘ ممبئی واقع فیڈریشن آف آبسٹیٹرک اینڈ گائنیکولاجیکل سوسائٹیز آف انڈیا کی چیئرپرسن، ڈاکٹر کومل چوہان بتاتی ہیں۔ ’’حمل، کئی بچوں کی پیدائش، لمبے وقت تک زچگی یا [زچگی کے وقت] چھیڑ چھاڑ کے سبب، کچھ عورتوں میں یہ پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں، جس سے بچہ دانی آگے کو جھک جاتی ہے۔‘‘ سنگین معاملوں میں، عورت کی عمر اور مسئلہ کی سنگینی کی بنیاد پر، کمزور پیڑو کی سطح کے نسیجوں کو دوبارہ ٹھیک کرنے کے لیے سرجری یا ہسٹیرکٹومی (عورتوں کے تولیدی عضلات کو سرجری کے ذریعے ہٹانے) کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ میں ۲۰۱۵ میں شائع، مہاراشٹر کے ناسک ضلع کی دیہی خواتین میں دیرینہ قبالتی امراض (سی او ایم) کے بارے میں ۲۰۰۶-۰۷ کے ایک مطالعہ میں پتہ چلا کہ سی او ایم کی رپورٹ کرنے والی ۱۳۶ عورتوں میں بچہ دانی کا ابھار سب سے زیادہ (۶۲ فیصد) تھا۔ بڑھتی عمر اور موٹاپا کے علاوہ، ’’زچگی سے متعلق اسباب جیسے اعلیٰ یکسانیت اور روایتی دایوں کے ذریعے کرائی جانے والی زچگی بچہ دانی کے ابھار کے ساتھ اہم طور پر جڑی ہوئی تھی،‘‘ رپورٹ نے بتایا۔

Pallavi and Girish are agricultural labourers in Nandurbar; Pallavi's untreated uterine prolapse makes it hard for her to take care of their daughter
PHOTO • Zishaan A Latif
Pallavi and Girish are agricultural labourers in Nandurbar; Pallavi's untreated uterine prolapse makes it hard for her to take care of their daughter
PHOTO • Zishaan A Latif

پلوی اور گریش نندربار میں زرعی مزدور ہیں؛ پلوی کی بغیر علاج والی بچہ دانی باہر کی طرف جھک جانے کی وجہ سے ان کے لیے اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہو گیا

نندربار سول اسپتال، جہاں پلوی اپنی بچہ دانی کے آگے جھک جانے کے لیے سرجری کے ذریعے مفت علاج حاصل کر سکتی تھیں، ان کی بستی ہینگلا پانی سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر دور ہے۔ وہاں پہنچنے کا مطلب ہے تین گھنٹے کی چڑھائی والا راستہ طے کرنا اورپھر وہاں سے چار گھنٹے کا بس سے سفر۔ ’’میں جب بیٹھتی ہوں، تو لگتا ہے کہ میں کسی چیز پر بیٹھ رہی ہوں اور مجھے درد ہوتا ہے،‘‘ پلوی کہتی ہیں۔ اس راستے پر اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کی بس دوپہر تقریباً ۱ بجے تورن مال سے آتی ہے۔ ’’کیا ڈاکٹر یہاں نہیں آ سکتے؟‘‘ وہ پوچھتی ہیں۔

ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ سڑک کے ذریعے کوئی رابطہ نہیں ہونے سے، تورن مال کے مریضوں کی رسائی ان موبائل میڈیکل اکائیوں تک بھی نہیں ہے جو دوردراز کے علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ اکرانی بلاک میں، ۳۱ گاؤوں اور کئی دیگر بستیاں سڑک کے راستے سے نہیں جڑی ہیں۔ مہاراشٹر سرکار کی نوسنجیونی یوجنا دور دراز کے علاقوں میں موبائل طبی اکائیاں فراہم کرتی ہے، جس میں ایک میڈیکل آفیسر اور ایک تربیت یافتہ نرس ہوتی ہے۔ مہاراشٹر ٹرائبل ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی ۲۰۱۸-۱۹ کے لیے سالانہ قبائلی کمپوننٹ اسکیمز کی رپورٹ کے مطابق، اکرانی تعلقہ میں ایسی دو اکائیاں سرگرم ہیں، لیکن وہ پلوی کی بستی جیسی جگہوں تک نہیں پہنچ سکتیں۔

خود جاپی پی ایچ سی میں ’’نہ تو بجلی ہے، نہ پانی اور نہ ہی ملازمین کے لیے کوئی رہائش گاہ،‘‘ وہاں کے ڈاکٹر کہتے ہیں۔ ’’میں نے اس بارے میں محکمہ صحت کو کئی خطوط لکھے ہیں، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘‘ صحت کارکنان کو روزانہ نندربار سے جاپی کا سفر کرنا ناممکن لگتا ہے۔ ’’اس لیے ہم یہاں پر ہفتہ بھر کام کرتے ہیں اور آشا کارکن کے گھر رات گزارتے ہیں۔ ہم ہفتہ کے آخر میں نندربار واقع اپنے گھر لوٹتے ہیں،‘‘ ڈاکٹر کہتے ہیں۔

اس کی وجہ سے اس علاقے کی آشا کارکنوں کا رول اور بھی اہم ہوجاتا ہے۔ لیکن انہیں بھی دواؤں اور کٹ کے محدود اسٹاک کے سبب جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ’’ہمیں حاملہ عورتوں کے لیے آئرن اور فولک ایسڈ کی گولیاں باقاعدگی سے سپلائی نہیں کی جاتی ہیں،‘‘ ہینگلا پانی کی آشا کارکن، ودیا نائک (بدلا ہوا نام) کہتی ہیں، جو ۱۰ بستیوں کی ۱۰ آشا کارکنوں کے کام کی نگرانی کرتی ہیں۔

کچھ آشا کارکنوں کو ولادت کرانے کے لیے ٹریننگ دی جاتی ہے، لیکن پیچیدہ ودلات کے لیے نہیں۔ ودیا ہر مہینے دو سے تین بچوں کی موت اور ایک یا دو ماؤں کی موت کو ریکارڈ کرتی ہیں، جو گھر پر غیر محفوظ ولادت سے ہوتی ہے۔ ’’ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے – ہمیں بس سفر کرنے کے لیے محفوظ سڑک مہیا کروا دیں، تاکہ ہم محفوظ ولادت کروا سکیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

’’ابتدائی مداخلت کے لیے زچگی سے قبل دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ، خاص طور سے مشکل جغرافیائی علاقوں میں خواتین کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، جہاں پر عورتوں کے روزمرہ کے کام بھی زیادہ چیلنج بھرے ہوتے ہیں،‘‘ ڈاکٹر چوہان کہتی ہیں۔

With no road connectivity, patients in Toranmal have no access even to the mobile medical units that provide doorstep healthcare in remote regions
PHOTO • Zishaan A Latif
With no road connectivity, patients in Toranmal have no access even to the mobile medical units that provide doorstep healthcare in remote regions
PHOTO • Zishaan A Latif

سڑک کے ذریعے کوئی رابطہ نہیں ہونے کی وجہ سے، تورن مال کے مریضوں کی رسائی ان موبائل میڈیکل اکائیوں تک بھی نہیں ہے، جو دور دراز کے علاقوں میں طبی خدمات مہیا کرتی ہیں

حالانکہ، حکومت ہند کی دیہی صحت سے متعلق شماریات ۲۰۱۸-۱۹ میں درج کیا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے عوامی صحت مراکز کے لیے ضروری ۱۴۵۶ ماہرین – ہر ایک مرکز میں چار، ایک سرجن، خواتین کے امراض کا ماہر، ڈاکٹر اور بچوں کے امراض کا ماہر سمیت – میں سے صرف ۴۸۵ ماہرین ہی ۳۱ مارچ، ۲۰۱۹ تک موجود تھے، یعنی ۹۷۱ ماہرین یا ۶۷ فیصد کی کمی تھی۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے- ۴ (این ایف ایچ ایس-۴، ۲۰۱۵-۱۶) کے مطابق دیہی نندربار میں صرف ۲۶ء۵ فیصد ووٹروں کو ولادت سے قبل پوری دیکھ بھال حاصل ہوئی، صرف ۵۲ء۵ فیصد کی ولادت اسپتالوں میں ہوئی، اور اپنے گھروں میں بچوں کو جنم دینے والی صرف ۱۰ء۴ فیصد عورتوں کو ہی ماہر صحت ملازمین کے ذریعے مدد فراہم کی گئی۔

آدیواسیوں – خاص طور سے بھیل اور پاورا – کی اکثریت والا نندربار ضلع مہاراشٹر ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس ۲۰۱۲ میں سب سے نچلے پائیدان پر ہے اور کم غذائیت اور زچہ بچہ کی خراب صحت سے نمبرد آزما ہے۔

پلوی کے گھر سے تقریباً ۴۰ کلومیٹر دور، تورن مال جنگل کے اندر ایک دیگر پہاڑی پر لیگا پانی بستی ہے۔ وہاں، اپنی کچی جھونپڑی میں، ساریکا وساوے (بدلا ہوا نام) پانی میں پلاش کے پھولوں کو ابال رہی تھیں۔ ’’میری بیٹی کو بخار ہے۔ میں اسے اس پانی سے نہلاؤں گی۔ وہ بہتر محسوس کرے گی،‘‘ ۳۰ سالہ ساریکا کہتی ہیں، جو بھیل برادری سے ہیں۔ وہ چھ ماہ کی حاملہ ہیں اور انہیں پتھر کے چولہے کے سامنے لمبے وقت تک بیٹھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ ’’میری آنکھیں جلتی ہیں۔ اور اس میں درد ہوتا ہے۔ [اپنی جانگھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے]۔ میری پیٹھ میں بھی درد ہوتا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

تھکی ہوئی اور کمزور، ساریکا کی بچہ دانی بھی باہر کو جھکی ہوئی ہے۔ لیکن وہ روزمرہ کے تمام کاموں کو انجام دینے کے لیے مجبور ہیں۔ وہ جب بھی پیشاب کرتی ہیں یا پاخانہ کرتے وقت تھوڑا زور لگاتی ہیں، تو ان کی بچہ دانی نیچے آ جاتی ہے اور اندام نہانی سے باہر نکل جاتی ہے۔ ’’میں اسے اپنی ساڑی کے کونے سے پیچھے دھکیل دیتی ہوں؛ اس میں درد ہوتا ہے،‘‘ وہ زور زور سے سانس لیتے ہوئے اور اپنے چہرے سے پسینے کو پونچھتے ہوئے کہتی ہیں۔ چولہے سے نکلنے والے دھوئیں کے غبار کی وجہ سے وہ اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیتی ہیں۔

وہ تین سال سے بچہ دانی کے باہر کی طرف جھک جانے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ۲۰۱۵ میں، جب وہ آٹھ مہینے کی حاملہ تھیں، تو انہیں رات کے ۱ بجے اچانک دردِ زہ شروع ہوا۔ ان کی ساس نے زچگی کروائی اور چھ گھنٹے کے دردِ زہ کے بعد، ساریکا کی بچہ دانی ان کی اندام نہانی سے باہر آ گئی۔ ’’مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے جسم کا ایک حصہ باہر کھینچ لیا ہو،‘‘ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں۔

PHOTO • Zishaan A Latif

چھ ماہ کی حاملہ ساریکا وساوے پلاش کے پھولوں (نیچے دائیں طرف) کو ابال رہی تھیں: ’میری بیٹی [پانچ سال کی] کو بخار ہے۔ میں اسے اس پانی سے نہلاؤں گی۔ وہ بہتر محسوس کرے گی‘

’’باہر کی طرف جھکی ہوئی بچہ دانی کا علاج نہ کروانے سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جیسے پیشاب کی نلی میں انفیکشن، ہم بستری کے بعد خون نکلنا، انفیکشن اور درد – ان سبھی سے روزانہ کے چلنے پھرنے میں پریشانی ہوتی ہے،‘‘ ڈاکٹر چوہان بتاتی ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ حالت اور بگڑ سکتی ہے، وہ کہتی ہیں۔

کسی بھی طرح کی باہر نکلی ہوئی بچہ دانی والی عورتوں کو بھاری وزن اٹھانے سے منع کیا جاتا ہے، اور قبض سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی پینے اور ریشہ دار غذا کافی مقدار میں کھانے کی صلاح دی جاتی ہے۔ لیکن ساریکا کو دن میں ایک بار پورا کھانا اور پانی پینے کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ چاہے وہ حاملہ ہوں یا نہ ہوں، انہیں پانی لانے کے لیے روزانہ پہاڑی کے نیچے ہینڈ پمپ تک آٹھ کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ واپسی میں چڑھائی دھیمی اور مشکل ہوتی ہے۔ ’’میری جانگھوں کے ساتھ کاٹ کے رگڑنے سے جلن ہونے لگتی ہے۔ کبھی کبھی خون بھی بہنے لگتا ہے،‘‘ وہ مجھے بتاتی ہیں۔ گھر پہنچتے ہی وہ باہر نکلے ہوئے حصہ کو اندر دھکیل دیتی ہیں۔

جسمانی درد کے علاوہ، اس قسم کی حالت کے سماجی اور اقتصادی نتائج بھی ہوتے ہیں۔ باہر نکلی ہوئی بچہ دانی ازدواجی رشتہ کو متاثر کر سکتی ہے، شوہر چھوڑ بھی سکتا ہے جیسا کہ ساریکا کے ساتھ ہوا۔

بچہ دانی کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد ساریکا کے شوہر سنجے (بدلا ہوا نام) نے دوسری شادی کر لی۔ سنجے دھڑگاؤں میں ہوٹلوں میں کام کرتا ہے، ۳۰۰ روپے یومیہ کے حساب سے مہینے میں چار سے پانچ دن تک کمائی کرتا ہے۔ ’’وہ اپنی دوسری بیوی اور بیٹے پر اپنی آمدنی خرچ کرتا ہے،‘‘ ساریکا بتاتی ہیں۔ وہ کھیتوں پر شاید ہی کبھی کام کرتا ہے۔ اس لیے ساریکا نے ۲۰۱۹ میں مانسون کے دوران اپنے دو ایکڑ کھیت میں اکیلے ایک کوئنٹل مکئی پیدا کی۔ ’’میرا شوہر اپنی دوسری بیوی اور بچے کے لیے ۵۰ کلوگرام لیکر چلا گیا اور باقی کو میں نے بھاکھری کے لیے پیس لیا تھا۔‘‘

آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہونے کے سبب، اکثر ساریکا چاول اور دال کے لیے آشان کارکن اور گاؤں کے کچھ لوگوں پر منحصر رہتی ہیں۔ کبھی کبھی، وہ پیسے قرض لیتی ہیں۔ ’’مجھے گاؤں کے ایک آدمی سے قرض لیے ہوئے وہ ۸۰۰ روپے واپس کرنے ہیں، جو اس نے راشن اور بیج خریدنے کے لیے جون [۲۰۱۹] میں مجھے دیے تھے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

اور کبھی کبھی ان کا شوہر انہیں پیٹتا ہے اور ہم بستری کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔ ’’وہ میری حالت [باہر کو نکلی ہوئی بچہ دانی] کو پسند نہیں کرتا۔ اس لیے اس نے دوسری شادی کر لی۔ لیکن جب نشہ میں ہوتا ہے، تو میرے پاس آتا ہے۔ میں [ہم بستری کے دوران] درد ہونے سے روتی ہوں، لیکن تب وہ مجھے پیٹتا ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

With no steady source of income, Sarika often depends on the ASHA worker and some villagers to give her rice and dal
PHOTO • Zishaan A Latif
With no steady source of income, Sarika often depends on the ASHA worker and some villagers to give her rice and dal
PHOTO • Zishaan A Latif

آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہونے کے سبب، اکثر ساریکا چاول اور دال کے لیے آشان کارکن اور گاؤں کے کچھ لوگوں پر منحصر رہتی ہیں

جس دن میں ان سے ملتی ہوں، چولہے کے پاس پکے ہوئے چاول کا ایک برتن رکھا ہوا ہے۔ یہ ان کے اور ان کی پانچ سالہ بیٹی، کرونا کے لیے دن کا واحد کھانا ہے۔ ’’گھر پر صرف ایک کلو چاول بچا ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ انہیں اپنے بی پی ایل راشن کارڈ پر جو تین کلو چاول اور آٹھ کلو گیہوں ملے تھے، اس میں سے بس یہی بچا ہے۔ ان کی تین بکریاں معاش کا واحد اضافی ذریعہ ہیں۔ ’’ایک بکری سے مجھے روزانہ ایک گلاس دودھ مل جاتا ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ اس دودھ کو بھی وہ اپنی بیٹی اور اپنے چار سال کے سوتیلے بیٹے، سدھیر کے درمیان برابر برابر تقسیم کرتی ہیں، جو اپنی ماں کے ساتھ دو کلومیٹر دور رہتا ہے۔

تورن مال کا دیہی اسپتال ساریکا کی جھونپڑی سے ۱۵ کلومیٹر دور ہے، جب کہ ذیلی طبی مرکز پانچ کلومیٹر دور ہے۔ یہ ایک کھڑی چڑھائی ہے۔ مشترکہ جیپ کم چلتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں یہ دوری پیدل ہی طے کرنی پڑتی ہے۔ ’’میں زیادہ چل نہیں سکتی۔ فوراً ہی میری سانس پھولنے لگتی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ذیلی مرکز تک اپنی زچگی سے قبل کے دورے کے دوران، وہ خون کے مرض میں بھی مبتلا ہو گئی تھیں، یہ خون کی ایک موروثی بیماری ہے جو ہیمو گلوبن کو متاثر کرتی ہے اور اینیمیا کا سبب بنتی ہے۔

۲۰۱۶ میں بنے تورن مال دیہی اسپتال میں ۳۰ بستر ہیں۔ باہری مریضوں کے شعبہ میں روزانہ ۳۰ سے ۵۰ مریض آتے ہیں، میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سوہاس پاٹل بتاتے ہیں۔ وہ بخار، سردی یا جسمانی چوٹ جیسی چھوٹی بیماریوں کے ساتھ آتے ہیں۔ آس پاس کے تقریباً ۲۵ گاؤوں سے ہر مہینے صرف ایک یا دو عورتیں ہی زچگی کے لیے آتی ہیں۔ اسپتال میں دو میڈیکل آفیسر، سات نرسیں، ایک تجربہ گاہ (لیکن کوئی ٹیکنیشین نہیں)، اور ایک لیباریٹری اسسٹنٹ ہے۔ ساریکا کے جیسے سنگین معاملوں کے علاج کے لیے زچگی اور خواتین کے امراض کے ماہر ڈاکٹر یا کسی دیگر ماہر کی کوئی پوزیشن نہیں ہے۔

’’ہمارے پاس باہر کو نکلی ہوئی بچہ دانی کے معاملے نہیں آتے۔ زیادہ تر معاملے پیڑو سے خون نکلنا اور اینیمیا جیسی خون کی بیماری کے آتے ہیں۔ اگر ہمیں ایسے معاملے ملتے بھی ہیں، تو بھی ہمارے پاس ان کے علاج کی سہولت یا مہارت نہیں ہے،‘‘ ڈاکٹر پاٹل کہتے ہیں، جو ۲۰۱۶ سے اس اسپتال میں کام کر رہے ہیں، اور اسپتال کے اسٹاف کوارٹر میں ہی رہتے ہیں۔

اگر ان کے پاس یہ سہولت اور مہارت ہوتی، تو بھی ساریکا ڈاکٹر کو شاید اپنی باہر کو نکلی ہوئی بچہ دانی کے بارے میں نہیں بتاتیں۔ ’’وہ باپیا [مرد] ڈاکٹر ہے۔ میں اسے کیسے بتا سکتی ہوں کہ میرا کاٹ باہر نکلتا رہتا ہے؟‘‘ وہ کہتی ہیں۔

کور کا خاکہ: پرینکابورار نئے میڈیا کی ایک آرٹسٹ ہیں جو معنی اور اظہار کی نئی شکلوں کو تلاش کرنے کے لیے تکنیک کا تجربہ کر رہی ہیں۔ وہ سیکھنے اور کھیلنے کے لیے تجربات کو ڈیزائن کرتی ہیں، باہم مربوط میڈیا کے ساتھ ہاتھ آزماتی ہیں، اور روایتی قلم اور کاغذ کے ساتھ بھی آسانی محسوس کرتی ہیں۔

تصویریں: ذیشان اے لطیف ممبئی میں واقع ایک آزاد فوٹوگرافر اور فلم ساز ہیں۔ ان کے کام کو دنیا بھر میں ذخیروں، نمائشوں اور اشاعتوں میں پیش کیا گیا ہے: https://zishaanalatif.com/

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گرہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی ایک سینئر رپورٹر ہیں؛ وہ اس سے پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ نیوز چینلوں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli