چھتیس گڑھ کی آدیواسی برادریوں کی موسیقی تبدیلی کی موسیقی ہے – دہائیوں سے پرتشدد تصادم میں پھنسے لوگوں کی موسیقی، جن کے گیت، اکثر ڈھول کے ساتھ، ان کی زمین، ان کے جنگلات، ان کی روزمرہ کی زندگی کی خوبصورتی اور قدرت کے احترام کے بارے میں بتاتے ہیں۔ بچوں کو بھی کم عمر میں ہی ان کے کنبوں میں یہ گانے سکھائے جاتے ہیں۔

ہم نے اگست ۲۰۱۶ میں جنوبی چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع کی بھیرم گڑھ تحصیل کے پھرسے گڑھ گاؤں کا دورہ کیا۔ بیجاپور کی تقریباً ۲۵۵۰۰۰ کی آبادی (مردم شماری ۲۰۱۱) میں سے ۸۰ فیصد لوگ درج فہرست قبائل کے ہیں۔ پھرسے گڑھ کے ۱۴۰۰ باشندے، ساتھ ہی پڑوسی گاؤں کے لوگ، زیادہ تر مُریا گونڈ ہیں۔ یہ گاؤں کئی تصادم سے متاثر ہے جس میں نکسلی دہشت گردی، ریاست اور ریاست سے حمایت یافتہ سلوا جُڈوم شامل ہیں۔ گاؤں کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ لگاتار تشدد کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

پھرسے گڑھ کی ایک خاتون، جو تصادم میں اپنے شوہر کو کھو چکی ہیں، پوچھتی ہیں، ’’اگر ایک بیٹا نکسل ہو اور دوسرے کو پولس کا حامی بنا دیا جائے تب کیا ہوگا؟ اگر وہ ایک دوسرے کو مارنے کے لیے نکل جائیں تب فیملی کیا کرے گی؟ ہم اسی حقیقت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔‘‘ وہ ۵۰ سالہ ایک کسان ہیں، جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتی تھیں۔ ’’ہم بہت زیادہ نہیں کماتے ہیں۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا ہم کل زندہ رہیں گے۔ ہم آج زندہ ہیں اور یہی سب سوچتے ہیں۔‘‘

سرکار کی بہت سی اسکیمیں پھرسے گڑھ تک نہیں پہنچتی ہیں – ریاست کی موجودگی ایک رہائشی اسکول، پولس اور سینٹرل ریزرو پولس فورس (سی آر پی ایف) کیمپ لگتی ہے۔

Toddy trees in Farsegarh village, Chhattisgarh
PHOTO • Arundhati V. ,  Shobha R.
An open book with drawings
PHOTO • Arundhati V. ,  Shobha R.

پھرسے گڑھ اور دیگر گاؤوں کے کئی آدیواسی گاؤوں میں زمین کی رسیلی خوبصورتی کا جشن منایا جاتا ہے، لیکن لوگوں کے تجربات کچھ اور بیان کرتے ہیں۔ دائیں: تصادم میں اپنے شوہر کو کھونے والی ایک آدیواسی خاتون نے تصادم کے درمیان زندگی گزارنے کے بارے میں جو کچھ بتایا تھا، اس کی ایک پیشکش (شریک کار مصنفہ اروندھتی وی کی تخلیق)

پھرسے گڑھ کی سرحد پر واقع آدیواسی بچوں کا رہائشی اسکول اچھی حالت میں نہیں ہے – بجلی رک رک کر آتی ہے، مانسون کے دوران عمارت میں پانی ٹپکتا ہے۔ طلبہ کو ہاسٹل میں کھانا پکانا اور صفائی کرنی پڑتی ہے۔ یہاں تقریباً ۵۰ آدیواسی طالب علم ہیں (جن کی عمر ۶-۱۵ سال ہے، سبھی لڑکیاں ہیں، جو قریب کے مختلف گاؤوں کی ہیں)، ایک ٹیچر-نگراں اور ایک باورچی ہے۔

ہمارے سفر کے دوران، طالبات نے اپنی برادریوں کے گانے گائے، اور ان میں سے کچھ نے ہمارے لیے گانوں کا ہندی میں ترجمہ کیا۔

گانا ۱

لڑکیاں مہوا کے درختوں کے بارے میں پیار سے گاتی ہیں، جو ان کی زندگی اور ذریعہ معاش کا اٹوٹ حصہ ہے

او مہوا کے پیڑ

او مہوا کے پیڑ

تم کتنے خوبصورت ہو،

او! مہوا کے پیڑ

مہوا کے پھول گر رہے ہیں

لال، لال پھول

بارش کی لال بوندوں کی طرح

او مہوا کے پیڑ،

او مہوا کے پیڑ

تم کتنے خوبصورت ہو،

او! مہوا کے پیڑ

 

گلوکارہ

سُشیلا منرا، پھرسے گڑھ گاؤں

گایتری ٹیلم، دھنورا گاؤں

کملا اُڈّے، سگمیتا گاؤں

 

گانا ۲

لڑکیاں گاتی ہیں اور ایک دوسرے کو چڑھاتی ہیں کہ ان کے چچیرے بھائی اور دوست کتنے خوبصورت ہیں

میرے پیارے بھائی،

تم کتنے خوبصورت ہو...

مجھے بتاؤ، تمہیں کیا پسند ہے؟

کوا کاؤں کاؤں کرتا ہے،

گاؤں کے چاروں طرف اڑتا ہے

کاؤں کاؤں کاؤں

مجھے بتاؤ کیسے،

مجھے بتاؤ کیسے؟

 

گلوکارہ

گایتری ٹیلم، دھنورا گاؤں

 

گانا ۳

لڑکیاں کپڑا پہننے اور رقص کرنے کے بارے میں خوشی سے گا رہی ہیں

لڑکیوں اپنی بالیاں پہنو، اور ہمارے ساتھ رقص کرنے آ جاؤ!

ریلا ریلا ریلا... [کورَس]

لڑکیوں اپنے چمکیلے کپڑے پہنو، اور ہمارے ساتھ رقص کرنے آ جاؤ!

ریلا ریلا ریلا... [کورَس]

لڑکیوں اپنے نئے جوتے پہنو، اور ہمارے ساتھ رقص کرنے آ جاؤ!

ریلا ریلا ریلا... [کورَس]

 

گلوکارہ

اونتیکا برسے، پھرسے گڑھ گاؤں

A chameleon lazes in the sun, at the government residential school for Adivasi children, Farsegarh village
PHOTO • Arundhati V. ,  Shobha R.
An Adivasi woman in Farsegarh village wearing traditional anklets
PHOTO • Arundhati V. ,  Shobha R.

بائیں: پھرسے گڑھ میں آدیواسی بچوں کے اسکول میں ایک گرگٹ دھوپ میں کھڑا ہے۔ ’کیا تم اس گرگٹ کی پونچھ دیکھ رہے ہو؟ اسے پکڑ لو!‘ ایک گانا کہتا ہے، چنچل پن سے۔ دائیں: مُریا گونڈ خواتین کے ذریعے پہنی جانے والی پائل؛ ایک اور گانا جسے لڑکیاں گا رہی ہیں، اس میں کپڑے پہننے اور رقص کرنے کی بات کہی گئی ہے

گانا ۴

لڑکیاں گرگٹ کے بارے میں گاتی ہیں، اور اپنی فیملی کے ساتھ گزارے گئے وقت کی یاد دلاتی ہیں

ری ریلا ریلا ریلا ریلا... [کورَس]

کیا تم اس گرگٹ کی پونچھ دیکھ رہے ہو؟ اسے پکڑ لو!

او دیدی، میرے لیے ایک گانا گاؤ، کیا گاؤگی؟

او دیدی، لا لا لا

او جیجا جی، میرے سامنے آؤ

گرگٹ کی پونچھ ہری ہے

کیا تم اسے دیکھ رہے ہو، او جیجا جی؟

 

گلوکارہ

گایتری ٹیلم، دھنورا گاؤں

 

گانا ۵

لڑکیاں ترنگا اور اپنے ملک کے بارے میں اپنے خیالات کو دھیرے دھیرے گا رہی ہیں

ری ریلا ریلا رے ریلا ریلا... [کورَس]

یہ بھگوا جھنڈا ہے، اے دوست!

یہ ایک سفید جھنڈا ہے، اے دوست!

یہ ہرا جھنڈا ہے، اے دوست!

جھنڈے کے بیچ میں ۲۴ لکیریں ہیں

ری ریلا ریلا رے ریلا ریلا... [کورَس]

 

گلوکارہ

سُشیلا منرا، پھرسے گڑھ گاؤں

سرسوتی گوٹا، بڑے کاکلر گاؤں

کملا گُڈّے، سگمیتا گاؤں

 

گانا ۶

لڑکیاں ایک میٹھا گانا گا رہی ہیں کہ ان کے ساتھ کون پیاری جوڑی بنائے گا

ریلا رے ریلا... [کورَس]

تم اور میں، ساتھ مل کر ایک پیاری جوڑی بناتے ہیں

او! پیارے لڑکے، ہم ایک پیاری جوڑی بناتے ہیں...

 

گلوکارہ

اونتیکا برسے، پھرسے گڑھ گاؤں

Sweet toddy being tapped from a tree in Farsegarh village, Chhattisgarh
PHOTO • Arundhati V. ,  Shobha R.
Girls in a residential hostel in Farsegarh singing softly with the lights switched off, after school hours
PHOTO • Arundhati V. ,  Shobha R.

بائیں: پھرسے گڑھ میں ایک درخت سے میٹھی تاڑی نکالی جا رہی ہے، گانوں میں سے ایک کہتا ہے، ’ہم تاڑی نکالیں گے، او! ہماری زمین پر آؤ‘۔ دائیں: لڑکیاں اسکول کے بعد، لائٹ بند کرکے دھیمی آواز میں گا رہی ہیں

گانا ۷

لڑکیاں گاتی ہیں اور سبھی کا استقبال کرتی ہیں کہ وہ ان کی زمین پر آئیں، بھرپور قدرت سے لطف اندوز ہوں اور دیکھیں کہ وہ اپنے کھیتوں میں کیسے کام کرتی ہیں

ریلا رے ریلا... [کورَس]

تاڑی کے پیڑ کی پتیاں دھیرے دھیرے جھوم رہی ہیں

او! ہماری زمین پر آؤ

ہم تاڑی نکالیں گے، او! ہماری زمین پر آؤ

آؤ، لمبی گھاس کاٹتے ہیں

گھاس دھیرے دھیرے جھوم رہی ہے،

یہاں اور وہاں،

یہاں اور وہاں

او! ہماری زمین پر آؤ،

ساتھ مل کر ہم کچھ گھاس کاٹ سکتے ہیں

ہماری زمین پر آؤ،

ساتھ مل کر ہم دھان کی کٹائی کر سکتے ہیں

دھان کی پتیاں جھوم رہی ہیں،

یہاں اور وہاں،

یہاں اور وہاں

 

گلوکارہ

سریتا کُسرام، سگمیتا گاؤں

سرسوتی گوٹا، بڑے کاکلکر گاؤں

سُشیلا منرا، پھرسے گڑھ گاؤں

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Arundhati V.

اروندھتی وی ایک حقوقِ انسانی کارکن، تھیٹر فنکار اور ٹرینر ہیں؛ وہ پالم پور، ہماچل پردیش کے سمبھاونا انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ حقوق اور انصاف کے ایشوز پر کام کرتی ہیں۔

Other stories by Arundhati V.
Shobha R.

شوبھا آر بنگلور میں مقیم ایک حقوقِ انسانی کارکن، تھیٹر فنکار اور ٹرینر ہیں۔ وہ بے دخلی اور جنسی انصاف کے مسائل پر اور ظلم، انصاف اور لچیلے پن کے اظہار کا موقع فراہم کرنے پر کام کرتی ہیں۔

Other stories by Shobha R.