سرکار، جواب دے!
اے سرکار! جواب دے!
جواب دے!
حاملہ خاتون لوٹ کیوں رہی ہے،
ہزاروں کلومیٹر پیدل چلتے ہوئے
قدم در قدم، ننگے پیر
اپنی کوکھ میں بچہ لیے؟

یہ ہیں دولیشور ٹانڈی، جو گانا گا رہے ہیں۔ ’’میں نے رَیپ کے ذریعے اپنی ناراضگی اور غصے کا اظہار کیا،‘‘ وہ کہتے ہیں، اس بارے میں بتاتے ہوئے کہ کیوں انہوں نے یہ گانا ’سرکار، توئی جباب دے‘ لکھا اور گایا۔

’’ہندوستان میں جب لاک ڈاؤن نافذ ہوا، تب ملک کے غریبوں کو پریشانیاں جھیلنی پڑیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’مزدوروں کی نوکریاں چلی گئیں، وہ بے گھر ہو گئے، اور کئی دنوں تک انہیں بھوکے رہنا پڑا۔ ہزاروں لوگوں کو چلچلاتی دھوپ میں ننگے پاؤں اپنے گھروں کی طرف پیدل چلنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ سرکار یہ سب روکنے اور لوگوں کی مدد کرنے کے قابل نہیں ہے – بجائے اس کے، اس نے ہندوستان کے غریبوں کو اکیلا چھوڑ دیا۔ یہ سب دیکھ کر مجھے افسوس ہوا اور صدمہ پہنچا۔ اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں سرکار سے سوال کرنا چاہیے...‘‘

یہ گیت کوسلی (یا سمبل پوری) زبان میں ہے۔ دولیشور – سامعین انہیں رَیپَر دُلے راکر کے نام سے جانتے ہیں – ہندی اور انگریزی میں بھی گاتے ہیں۔ لیکن یہ کوسلی رَیپ ہے جو اوڈیشہ کے نوجوانوں کو متوجہ کر رہا ہے۔

ستائیس سالہ دولیشور کالا ہانڈی ضلع کے بورڈا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے اپنے گاؤں سے تقریباً ۴۵ کلومیٹر دور، بھوانی پٹنہ شہر کے سرکاری کالج سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی فیملی کا تعلق ہے ڈوم سماج سے ہے، جو کہ ایک درج فہرست ذات ہے۔ گھر پر صرف دولیشور اور ان کی ماں، پرمیل ہیں، جو کہ ایک کسان ہیں۔ وہ جلانے والی لکڑی بھی اکٹھا کرتی ہیں اور انہیں ماہانہ ۵۰۰ روپے کا پنشن بزرگ شہری ہونے کے ناطے ملتا ہے۔ ان کے والد، نیل منی ٹانڈی ایک کسان اور مقامی پولس اسٹیشن میں اسسٹنٹ (معاون) تھے، لیکن تقریباً تین سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔

ویڈیو دیکھیں: مہاجرین کے لیے رَیپ – سرکار، توئی جباب دے

’شاید سرکار راحت مہیا نہیں کرنا چاہتی – غریب کو غریب ہی رہنے دو، نہیں تو کوئی بھی سرکار کی حمایت نہیں کرے گا‘

دولیشور بتاتے ہیں کہ ان کی فیملی کے پاس دو ایکڑ زمین ہے، لیکن اسے سال ۲۰۱۴ میں ۵۰ ہزار روپے کے بدلے ایک بینک کے پاس رہن پر رکھ دیا گیا تھا، جب وشاکھا پٹنم کے ایک اسپتال میں ان کی ماں کی سرجری ہونے والی تھی۔ یہ رقم سود کے ساتھ بڑھ کر اب ایک لاکھ روپے ہو گئی ہے، وہ بتاتے ہیں۔

’’زمین رہن پر رکھی ہوئی ہے، پھر بھی ہم اس پر دھان کی کھیتی کرتے ہیں۔ ہمارے پاس بی پی ایل [خط افلاس کے نیچے] راشن کارڈ ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ پیسہ کمانے کے لیے، دولیشور بورڈا میں ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور قریب کے تعمیراتی مقامات پر کام کرتے ہیں۔

رَیپ کی شروعات انہوں نے اپنے کالج کے دنوں میں کی تھی۔ ’’میں نظموں اور افسانوں کے مقابلے میں شریک ہوتا تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں جو کچھ لکھتا اس کی تعریف سبھی لوگ کرتے اور کہتے تھے کہ میری تحریر زمین سے جڑی ہوئی ہے۔ اس سے مجھے حوصلہ ملا اور میں نے لکھنا جاری رکھا۔ میری نظمیں اور کہانیاں جب رسائل میں شائع ہوتیں، تو مجھے خوشی ملتی تھی۔ میں نے ڈرامے اور لوگوں کے لیے تفریحی پروگراموں میں بھی شرکت کی۔ اور میں نے رَیپ گیت گانا شروع کیا۔‘‘

Rapper Duleshwar Tandi: ''Many have liked my songs'
PHOTO • Duleshwar Tandi

رَیپر دولیشور ٹانڈی: ’میرے گانے کئی لوگوں نے پسند کیے ہیں‘

خود دولیشور مہاجر مزدور کے طور پر سفر کر چکے ہیں۔ گریجویشن کرنے کے بعد، وہ ۲۰۱۳ میں رائے پور گئے تھے۔ ’’کچھ دوست پہلے سے وہاں کام کرتے تھے، اس لیے میں نے بھی ایک ریستراں میں میز صاف کرنے کا کام شروع کر دیا [جس سے ۳۰۰۰ روپے ماہانہ کمائی ہوتی تھی]۔ ریستراں بند ہونے کے بعد ہمیں کھانا اور رہنے کی جگہ ملتی تھی، اس لیے میرے جیسے مہاجرین کے لیے یہ اچھا تھا۔ کچھ دنوں تک میں نے اخبار بانٹنے کا بھی کام کیا۔

دوسرے کام کرتے وقت، وہ کہتے ہیں، ’’میں نے اپنا پسندیدہ مشغلہ – رَیپ – کبھی نہیں چھوڑا۔ مجھے جب بھی وقت اور موقع ملتا، میں مشق کیا کرتا تھا۔ میں نے اپنے گانوں کے ویڈیو اپ لوڈ کرنا شروع کیا اور لوگ انہیں دیکھنے لگے۔ ایک دن [۲۰۱۴ میں] مجھے چنڈی گڑھ سے فون آیا، مجھے [رَیپ گانے کے ایک پروگرام کے لیے] مدعو کیا گیا۔ یہ میرے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔ وہاں، ہم رَیپروں کا ایک گروپ تھا، ہم نے مختلف مقامات پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا، مقابلوں میں شرکت کی – اور میں نے بہت کچھ سیکھا۔‘‘

سال ۲۰۱۵ میں، دولیشور اپنی قسمت آزمانے بھونیشور گئے۔ ’’میں نے کئی اسٹوڈیو، چینلوں کا دورہ کیا اور متعدد لوگوں سے ملا – لیکن مجھے بھگا دیا گیا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ سال ۲۰۱۹ میں، وہ اپنے گاؤں واپس آ گئے۔ یہاں، وہ اپنے خالی وقت میں رَیپ گیت لکھتے اور گاتے ہیں۔

’’لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد، جب میں نے مہاجرین کی پریشانیاں دیکھیں، تو خود ایک مہاجر کارکن کے طور پر، میں نے یہ گانا لکھا اور گایا اور فیس بک پر [۲۱ مئی کو] پوسٹ کیا، جہاں پر میں لوگوں کے ساتھ لائیو چَیٹ بھی کرتا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’کئی لوگوں نے میرے گانے پسند کیے ہیں اور مجھ سے مزید کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اوڈیشہ کے علاوہ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں کے لوگ بھی مجھ سے جڑنے لگے ہیں۔‘‘ دولیشور نے حال ہی میں یو ٹیوب پر بھی میوزک اپ لوڈ کرنا شروع کیا ہے۔

’’شاید سرکار راحت مہیا نہیں کرنا چاہتی – غریبوں کو غریب ہی رہنے دو، ورنہ کوئی بھی سرکار کی حمایت نہیں کرے گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’لیکن ہمیں طاقتور کے خَلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ یہ غریبی کے بارے میں ہے، جو کہ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔‘‘

حال ہی میں، چند مقامی اسٹوڈیو نے دولیشور کو فون کیا ہے، اور ان کا میوزک ریکارڈ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ’’میں امید کرتا ہوں کہ یہ لاک ڈاؤن کے بعد کیا جائے گا...‘‘ وہ کہتے ہیں۔

کور فوٹو: آلیکھ منگراج

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Purusottam Thakur

پرشوتم ٹھاکر ۲۰۱۵ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ایک صحافی اور دستاویزی فلم ساز ہیں۔ فی الحال، وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور سماجی تبدیلی پر اسٹوری لکھتے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur