بارش ہو رہی تھی۔ چِنّا میرے گھر کے باہر، ایک کالی چھتری کے نیچے بیڑی پی رہے تھے۔ بارش کا پانی ان کی چھتری سے ایک فوارے کی طرح زمین پر گر رہا تھا۔ ان کا چہرہ مشکل سے دکھائی دے رہا تھا۔

’’اندر آ جاؤ چنّا، بارش میں کیوں کھڑے ہو؟‘‘

انہوں نے تیزی سے تین کش لیے، بیڑی نیچے پھینکی، اور اپنی چھتری کو موڑتے ہوئے میرے برآمدے میں بیٹھ گئے۔ ان کی آنکھیں لال تھیں، شاید بیڑی پینے کی وجہ سے۔ انہوں نے کھانستے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھا اور پوچھا، ’’کیا وہ لوگوں کو اپنے گھر واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں؟‘‘

’’نہیں چِنّا، ہمیں واپس جانے کے لیے ضلع کلکٹر سے اسپیشل پاس لینا ہوگا۔‘‘

’’ایسا ہے کیا؟‘‘ انہوں نے پوچھا اور کھانسنے لگے۔

’’ہاں ایسا ہی ہے، پچھلے دن ٹرین سے کچل کر ۱۶ مہاجر مزدوروں کی موت بھی ہو چکی ہے۔‘‘

چِنّا نے میری آنکھوں میں مزید گہرائی کے ساتھ دیکھا، گویا میں نے کچھ ایسا کہہ دیا ہو جو مجھے نہیں کہنا چاہیے تھا۔

انہوں نے نیچے دیکھتے ہوئے کہا، ’’مجھے یاد ہے جب میری دادی کہانیاں سناتی تھیں کہ کیسے وہ، میرے والد کے ساتھ، تقریباً ۶۵ سال قبل نوکری کی تلاش میں تھتھوکوڈی سے ترویندرم آئی تھیں۔‘‘

’’وہ اپنے گاؤں کے باہر سفر کرنے سے ڈرتی تھیں، لیکن کسی طرح یہاں آنے میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے ہمیں صرف اچھی اچھی کہانیاں سنائیں، یا مزیدار واقعات کے بارے میں بتایا تھا، لیکن آج جاکر مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے کتنی پریشانیاں جھیلی ہوں گی۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ خوشی رہتی تھی۔‘‘

بارش اور بھی تیز ہونے لگی تھی؛ تبھی ایک ایمبولینس پانی کو چیرتی ہوئی سڑک سے گزری۔ ’’بھگوان کرے سبھی مزدور محفوظ اپنے گھروں تک پہنچ جائیں،‘‘ چِنّا نے کہا۔

سدھنوا دیش پانڈے کی آواز میں یہ نظم سنیں

Illustration: Labani Jangi, originally from a small town of West Bengal's Nadia district, is working towards a PhD degree on Bengali labour migration at the Centre for Studies in Social Sciences, Kolkata. She is a self-taught painter and loves to travel.
PHOTO • Labani Jangi

خاکہ: لبنی جنگی بنیادی طور سے بنگال کے نادیا ضلع کے ایک چھوٹے سے شہر کی رہنے والی ہیں، اور فی الحال کولکاتا کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز سے بنگالی مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ خود سے سیکھی ہوئی ایک فنکار ہیں اور سفر کرنا پسند کرتی ہیں۔

سفر کرتی روحیں

خستہ حال ریل کی پٹریوں سے ہوتے ہوئے

سفر کر رہی ہے،

بھوکی روحوں کی ایک قطار۔

ایک کے پیچھے ایک،

دھات کی چھڑ کے اندر بھری ہوئی۔

ان کی منزل دور ہے،

پھر بھی وہ چل رہی ہیں،

ان کا ہر ایک قدم،

انہیں گھر کے قریب لا رہا ہے۔

دُبلے پتلے مرد،

سکڑی ہوئی عورتیں،

سبھی ٹرین کے ڈبوں کی طرح،

پورے عزم کے ساتھ چل رہے ہیں

لوہے کی پٹریوں پر۔

ساڑی میں لپٹی کچھ روٹیوں،

پانی کی ایک بوتل،

اور مضبوط پیروں کے ساتھ

سفر کر رہی ہے

بہادر روحوں کی ایک قطار۔

سورج جیسے ہی ڈوبتا ہے،

نمودار ہوتی ہے بغیر ستاروں والی رات۔

روحیں،

تھکی ہوئی اور کمزور،

اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہیں،

چکنی پٹریوں پر۔

پھر آتی ہے ٹرین

دوڑتی ہوئی،

دھات کے پہیے،

لوہے اور گوشت پر۔

دور دراز ریل کی پٹریوں پر

مردہ پڑی ہے

بے جان روحوں کی ایک قطار،

ایک دوسرے کے بغل میں،

گھر سے چند قدم دور۔

آڈیو: سدھنوا دیش پانڈے، جن ناٹیہ منچ کے اداکار اور ہدایت کار، اور لیفٹ ورڈ بکس کے ایڈیٹر ہیں۔

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Gokul G. K.

گوکل جی کے ایشین کالج آف جرنلزم، چنئی کے ایک طالب علم ہیں۔ وہ کیرالہ کے ترواننت پورم کے رہنے والے ہیں۔

Other stories by Gokul G. K.