’’وہ نابینا ہے، پھر بھی آپ کی طرف دیکھ رہا ہے،‘‘ مدن لال مُرمو کہتے ہیں، جب کہ سرخ اور چمکدار اس کی دو گول آنکھیں، مجھے مسحور کر رہی ہیں – یہاں کے ارد گرد کے ماحول میں صرف انہی آنکھوں کا رنگ ہی گہرا ہے، باقی چیزیں گرد و غبار میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ میں اس کے قریب جاکر جلدی سے اس کی تصویر کھینچنا چاہتی ہوں، لیکن وہ دور نکل جاتا ہے۔ میں دوبارہ پاس جاتی ہوں اور اس بار تصویر کھینچنے میں کامیاب رہتی ہوں۔

مدن لال منھ سے کچھ آواز نکالتے ہیں جو ان کے لیے ایک اشارہ ہے، اور وہ اس کا جواب دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ وہ اپنے دو پالتو اُلّو سے، ہنستے ہوئے، میرا تعارف کراتے ہیں، سدّھو مُرمو اور کانہو مُرمو۔ ’’یہ فیملی کا حصہ ہی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

PHOTO • Shreya Katyayini

بہار کے بانکا ضلع میں، اسٹوریز کی تلاش میں جب میں چیہوٹیا گاؤں سے گزر رہی تھی، تو میں نے راستے میں مدن لال کو دیکھا کہ وہ زمین پر بیٹھے ہوئے جھاڑو بنانے میں مصروف ہیں۔ ہم نے تھوڑی دیر بات کی، اس کے بعد وہ مجھے اپنی بستی کے کنارے تک لے گئے، جہاں میں نے ان کے گھر کے باہر دیکھا کہ دو اُلّو میری طرف ’واپس‘ مڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ (اُلوؤں کو دن میں دکھائی نہیں دیتا، انھیں صرف رات میں ٹھیک سے دکھائی دیتا ہے)۔ 

ان پرندوں کا نام دو مشہور آدیواسی لیڈروں، سدھو-کانہو کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ان آدیواسی لیڈروں نے ۱۸۵۵ میں انگریزوں کے خلاف سنتال بغاوت کی قیادت کی تھی۔ وہ بھی مُرمو تھے – جو کہ ایک سنتال قبیلہ ہے۔ (مدن لال مجھے بتاتے ہیں کہ وہ تلک مانجھی اور ان کی زندگی سے بھی متاثر ہیں؛ مانجھی ایک آدیواسی لیڈر تھے جنہوں نے ۱۷۸۴ میں انگریزوں کے خلاف ہتھیار اٹھایا تھا، منگل پانڈے کے ذریعے ۱۸۵۷ میں بغاوت کرنے سے کئی دہائیوں قبل)۔ 

منڈل، جو کہ اپنی عمر کے ۴۰ویں سال میں ہیں، کا تعلق سنتال قبیلہ سے ہے۔ ان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے۔ وہ مٹی اور پھوس سے بنے ایک کمرہ کی جھونپڑی میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ جھونپڑی جس زمین پر بنی ہوئی ہے، وہ بھی ان کی نہیں ہے، بلکہ بہار کے بانکا ضلع کے چیہوٹیا گاؤں کے ککواڑہ ٹولہ کے قریب محکمہ جنگلات کی زمین ہے۔ 

وہ مقامی سطح پر پائی جانے والی کوشا گھاس سے جھاڑو بناتے ہیں اور اسے پاس کے گاؤوں میں ۴۰ روپے فی جھاڑو کے حساب سے بیچتے ہیں؛ وہ بوائی اور کٹائی کے موسم میں ان گاؤوں میں کھیتوں پر کام بھی کرتے ہیں۔

یہ انوکھے پرندے پرورش کے لیے انھیں کہاں سے ملے، میں نے پوچھا۔ ’’ایک دن، میں جنگل میں لکڑیاں جمع کر رہا تھا،‘‘ مدن لال نے جواب دیا۔ ’’میں نے انھیں وہاں پایا اور اپنے ساتھ گھر لے آیا۔‘‘

’’ہم ان دونوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ یہ مقدس ہیں کیوں کہ یہ دیوی لکشمی کی سواری ہیں،‘‘ مُرمو کے ایک پڑوسی کہتے ہیں، جو پاس کی جھونپڑی کے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔  مُرمو حمایت میں سر ہلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بڑے ہونے پر ان پرندوں کی قیمت کافی ملے گی۔

کانہو اور سدھو ابھی صرف ایک مہینہ کے ہوئے ہیں، جب کہ ان میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً ایک کلو ہے، مدن لال بتاتے ہیں۔ ’’یہ کافی بڑے ہو جائیں گے، ان کی خوبصورتی بڑھ جائے گی اور وزن میں بھاری بھی ہو جائیں گے،‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں، ان کی طرف خوشی سے دیکھتے ہوئے۔ یہ پرندے، حالانکہ ابھی بچے ہیں، لیکن ان کے پر کافی بڑے ہیں۔ وہ ابھی اتنے چھوٹے ہیں کہ زیادہ اڑ نہیں سکتے، اسی لیے انھیں پنجرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔ حالانکہ ان کے پیر کافی مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ 

ویڈیو دیکھیں: مرموؤں سے ملئے

مدن لال کو امید ہے کہ پوری طرح بڑا ہونے کے بعد ان کا وزن ۶۔۷ کلو تک ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو، سدھو اور کانہو کافی بڑے ہو جائیں گے، ان عام اُلوؤں سے بھی بھاری ہو جائیں گے، جن کا وزن عموماً تین کلو یا اس کے آس پاس ہوتا ہے۔

کانہو اور سدھو گوشت خور ہیں۔ ’’میں انھیں تھوڑا چاول دیتا ہوں، لیکن ان کو کیڑے پسند ہیں،‘‘ مدن لال بتاتے ہیں؛ انھیں امید ہے کہ تقریباً ایک ماہ کے اندر یہ چوہے جیسے اپنے بڑے شکار کو پکڑنے لائق ہو جائیں گے۔ 

یہ پہلی بار نہیں ہے جب گاؤں میں کسی نے اُلو پالے ہیں، مرمو کے پڑوسی بتاتے ہیں، ’بروکر‘ یا بچولیے آئے ہیں اور انھوں نے پرندے یہاں سے خریدے ہیں۔ اس بار بھی، منڈل کو امید ہے کہ کوئی نہ کوئی بروکر آئے گا اور ہر ایک پرندہ کے زیادہ سے زیادہ ۵۰ سے ۶۰ ہزار روپے ادا کرے گا۔ انھیں نہیں معلوم کہ اس کے بعد ان کا کیا ہوگا۔ ’’مجھے ٹھیک سے نہیں معلوم، وہ شاید ان کے گردے استعمال کرتے ہیں...... ڈاکٹر اُلوؤں کا استعمال پریوگ (لیباریٹری کے تجربوں) میں کرتے ہیں۔‘‘

اور اس لیے سدھو اور کانہو ایک بار پھر شکار ہوں گے۔ اس دفعہ خود اپنے ہم وطنوں کے ہاتھوں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Shreya Katyayini

شریا کاتیاینی پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی ویڈیو ایڈیٹر، اور ایک فوٹوگرافر اور فلم ساز ہیں۔ انھوں نے ۲۰۱۶ کے شروع میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز، ممبئی سے میڈیا اینڈ کلچرل اسٹڈیز میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

Other stories by Shreya Katyayini