ایم مدن کا ماننا ہے کہ شہد اکٹھا کرنے کے لیے ۶۰ فٹ اونچے درختوں پر چڑھنا اور خطرناک طریقے سے وہاں بیٹھنا، مُدوملائی کے گھنے جنگل میں جنگلی ہاتھیوں کے آس پاس کام کرنا، اور ایسے خطرناک جنگل میں رہنا کیا ہوتا ہے، جہاں تقریباً ۶۵ ٹائیگر اپنے شکار کی تلاش میں ہوں۔

ان میں سے کسی نے بھی انہیں خوفزدہ نہیں کیا ہے۔ ہم جب ان سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے قریب سے کتنے باگھوں کو دیکھا ہے، تو وہ ہنسنے لگتے ہیں: ’’میں نے گنتی بند کر دی!‘‘

لیکن یہ ایک الگ قسم کا سنگین خطرہ ہے، جس نے اب انہیں فکرمندی میں ڈال دیا ہے۔ مدن اور بینّے – مُدوملائی ٹائیگر ریزرو کے بفر ژون کے اندر تقریباً ۹۰ کنبوں کی سات بستیوں میں سے ایک – کے دیگر باشندوں کو جلد ہی اپنے آبائی گھروں اور زمین کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

مدن نے ہمیں جنگل میں اپنی رہائش گاہ دکھائی۔ مٹی اور چھپّر سے بنے ان کی فیملی کے گھر کے بغل میں دیوی مریمّا کا ایک مندر ہے، اور درختوں کے جھنڈ سے گھرا ایک قبرستان ہے جہاں ان کے آباء و اجداد کی نسلیں دفن ہیں۔ وہ وادی میں ایک چشمہ اور اپنی فیملی کے سبزیوں کے کھیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جسے بھوکے جانوروں سے بچانے کے لیے کانٹے دار جھاڑیوں سے گھیر دیا گیا ہے۔ ’’یہ ہمارا گھر ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

M. Madhan and other residents of Benne may soon have to leave behind their ancestral homes and land
PHOTO • Priti David
M. Madhan and other residents of Benne may soon have to leave behind their ancestral homes and land
PHOTO • Priti David

ایم مدن اور بینّے کے دیگر باشندوں کو جلد ہی اپنے پشتینی گھروں اور زمین کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے

بینّے، مدوملائی ٹائیگر ریزرو کے بفر ژون کے اندر واقع سات بستیوں (محکمہ جنگلات کی دستاویز میں درج ہے) میں سے ایک ہے۔ ان بستیوں کے تمام باشندے کٹّونائکن اور پَنیئن آدیواسی برادریوں کے ہیں۔ تمل ناڈو کے جنگلات میں ۶۸۸ مربع کلومیٹر کے ٹائیگر ریزرو کو ۲۰۰۷ میں باگھوں کی بحران زدہ پناہ گاہ کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ اور ۲۰۱۳ میں، محکمہ جنگلات نے ان لوگوں کے لیے نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) کی باز آبادکاری کی تجویز پر سرگرمی سے کام کرنا شروع کر دیا تھا، جو ۱۰ لاکھ روپے لے کر جنگل سے باہر نقل مکانی کرنے کو تیار تھے۔ این ٹی سی اے کا بازآبادکاری پروگرام، جیسا کہ اس میں ۲۰۰۶ میں ترمیم کی گئی، ’باگھوں کے تحفظ کو مستحکم کرنے‘ کی بات کہتا ہے اور مالی نقصان کی تلافی کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔

بینّے کے باشندوں نے تجویز پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ وہیں رکے رہیں گے، اپنے مندروں اور قبرستانوں سے چھیڑ چھاڑ کیے بغیر اور ان کے بالکل پاس رہتے ہوئے۔ بینّے کی ۵۰ رکنی گرام سبھا کی ۱۷ جنوری ۲۰۱۶ کو ہونے والی میٹنگ میں اتفاقِ رائے سے دو قرارداد پاس ہوئے اور ان پر دستخط کیے گئے، جن میں تمل زبان میں لکھا ہے: ’بینّے کا آدیواسی گاؤں کسی دوسرے علاقے میں منتقل نہیں ہوگا۔ ہمیں نہ تو دوسری جگہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی پیسے کی۔‘

انہیں ۲۰۰۶ کے حق جنگلات قانون سے تقویت مل رہی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ جنگل کے روایتی باشندوں کو ’جنگل کی زمین رکھنے اور ان میں رہنے کا حق ہے‘۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ لوگوں کو ان کی بستیوں اور گاؤوں سے ہٹاکر کہیں اور بسانے سے پہلے، ’مجوزہ بازآبادکاری اور پیکیج کے لیے گرام سبھا کی آزادانہ باخبر رضامندی‘ تحریری طور سے حاصل کرنا ضروری ہے۔

لیکن گرام سبھا کی تجویز کے ایک سال بعد، مدن کی فیملی نے بینّے کے ۴۴ دیگر کٹّونائکن آدیواسی کنبوں کے ساتھ اپنا ارادہ بدل لیا اور ۱۰ لاکھ روپے کے بازآبادکاری پیکیج کو قبول کر لیا۔ ’’ہمیں کوئی اختیار نہیں دیا گیا تھا،‘‘ مدن نے اکتوبر ۲۰۱۹ میں مجھ سے کہا تھا۔ ’’فاریسٹ رینجر (جنگل کا محافظ) ہم سے ذاتی طور پر ملتا اور دوبارہ غور کرنے کی درخواست کرتا۔ اس نے کہا کہ اگر ہم ابھی نہیں جاتے ہیں، تو بعد میں ہمیں جبراً باہر نکال دیا جائے گا اور پیسے بھی نہیں ملیں گے۔‘‘

Madhan's family shrine
PHOTO • Priti David
"Now I am stopped and not allowed to enter [the forest]' says  G. Appu
PHOTO • Priti David

بائیں: مدن کا خاندانی مندر۔ ’یہ میرا گھر ہے‘، وہ کہتے ہیں۔ دائیں: ’’اب مجھے روک دیا گیا ہے اور [جنگل میں] داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے،‘‘ جی اپّو کہتے ہیں

مدن کی فیملی کو جون ۲۰۱۸ میں، ۷ لاکھ روپے کی بازآبادکاری کی رقم کی پہلی قسط کے طور پر ساڑھے پانچ لاکھ روپے ملے۔ (این ٹی سی اے کی رہنما ہدایات بتاتی ہیں کہ شروع میں ۷ لاکھ روپے زمین خریدنے کے لیے دیے جائیں گے، اور بقیہ ۳ لاکھ روپے تین سال کے بعد دیے جائیں گے۔) یہ پیسہ اسی دن، رینجر کے ذریعے متعارف کرائے گئے زمیندار کو ٹرانسفر کر دیے گئے، جس نے اس فیملی کو بینّے میں اپنے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ۵۰ سینٹ زمین (آدھا ایکڑ) دینے کی پیشکش کی تھی۔ ’’ایک سال سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے اور مجھے اس زمین کا مالکانہ حق نہیں ملا ہے، اسی لیے میں یہاں سے گیا نہیں۔ میرے پاس نہ تو زمین کا کوئی مالکانہ حق ہے اور نہ ہی کوئی پیسہ،‘‘ وہ کہیں دور دیکھتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’جنگل کا محافظ زمین کے دلالوں کو لاتا اور ہم میں سے ایک ایک کو تجویز قبول کر لینے کے لیے آمادہ کرتا، جس میں اچھی زمین اور مکان کا وعدہ کیا گیا تھا،‘‘ بینّے گرام سبھا کے صدر، ۴۰ سالہ جی اپّو بتاتے ہیں۔ اپّو نے اپنے باز آبادکاری پیکیج کے پیسے کو چار دیگر کنبوں کے ساتھ مل کر جمع کیا، تاکہ ۲۵ لاکھ روپے سے دو ایکڑ زمین خریدی جا سکے۔ ’’انہوں نے [زمیندار، وکیل اور فاریسٹ رینجر] عدالت کے سامنے کے دفتر میں پیسہ ٹرانسفر کرنے کے لیے چالان بھرا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اس پیسے میں سے ۷۰ ہزار روپے اور دو جو تمہیں اگلی قسط کی شکل میں ملے ہیں، اس کے بعد ہی ہم تمہیں زمین کا مالکانہ حق دیں گے۔‘‘

بقایا رقم سے محروم کر دیا جانا اور کسی بھی وقت بے گھر ہونے کا خطرہ، اب مدن اور اپّو آمدنی کے روایتی ذرائع تک نہیں پہنچ پانے کے مسئلہ سے بھی دوچار ہیں۔ ’’میں ادویاتی پتیاں، شہد، نیلّیکائی [کروندا]، کپور اور دیگر جنگلی پیداواروں کو جمع کرتا تھا۔ اب مجھے روک دیا گیا ہے اور اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے،‘‘ اپّو کہتے ہیں۔ ’’اگر ہم جاتے ہیں، تو ہمیں پیٹا جاتا ہے،‘‘ مدن کہتے ہیں، ’’حالانکہ ہم کوئی قانون نہیں توڑ رہے ہیں۔‘‘

مدن اور اپّو کے برعکس، ۲۰۱۸ میں ان کی پڑوسن، کے اوناتی بینّے کے نئے گاؤں ضرور چلے گئے تھے (وہ اسے ’نمبر ایک‘ کہتے ہیں)، جو کہ ان کے پرانے گھر سے بمشکل ایک کلومیٹر دور ہے۔

M. Chennan, Madhan's neighbour
PHOTO • Priti David
Within a year after the gram sabha resolution, 45 Kattunayakan Adivasi families of Benne changed their mind and accepted the Rs. 10 lakhs relocation package
PHOTO • Priti David

ایم چینّن (بائیں)، مدن کے پڑوسی؛ گرام سبھا کی قرارداد کے ایک سال کے اندر، بینّے کے ۴۵ کٹّونائکن آدیواسی کنبوں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور ۱۰ لاکھ روپے کا بازآبادکاری پیکیج قبول کر لیا

میں جب وہاں پہنچی، تو اوناتی اپنے نئے گھر – سیمنٹ سے بنی دو کمرے کی عمارت، جس کا رنگ و روغن پہلے سے ہی جھڑ رہا ہے اور دروازوں میں دراڑیں دکھائی دے رہی ہیں – کے باہر ستونوں اور پلاسٹک کی چادروں سے بنے عارضی باورچی خانہ میں اپنی فیملی کے لیے صبح کا ناشتہ پکا رہی تھیں۔ اوناتی کبھی کبھی پاس کے چائے کے باغات، جہاں کام کی کمی ہے، میں ایک مزدور کے طور پر، یا پھر جنوری-فروری میں کافی اور کالی مرچ توڑنے کے موسم میں یومیہ ۱۵۰ روپے کماتی ہیں۔

اوناتی جیسے کٹّونائکن آدیواسی (تمل ناڈو میں ان کی تعداد ۲۵۰۰ کے آس پاس ہے، نیلگری میں ریاست کے ذریعے چلائے جا رہے ٹرائبل ریسرچ سینٹر کے سابق ڈائرکٹر، پروفیسر سی آر ستیہ نارائنن کہتے ہیں)، لمبے عرصے سے ٹائیگر ریزرو کے بفر ژون میں واقع کافی اور کالی مرچ کے چھوٹے باغات میں یومیہ مزدوروں کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ لیکن ۲۰۱۸ کے آس پاس جب بہت سے باغات مالکوں نے بھی بازآبادکاری پیکیج لے لیا اور یہاں سے چلے گئے، تو مزدوری کے مواقع کم ہو گئے۔

’’میں یہاں یہ سوچ کر آئی تھی کہ ہمیں کچھ پیسے [۱۰ لاکھ روپے] ملیں گے، لیکن تقریباً سبھی کچھ چھن گیا ہے،‘‘ اوناتی کہتی ہیں۔ ’’چھ لاکھ روپے اُن دلالوں اور زمین فروشوں کو چلے گئے، جنہوں نے مجھ سے ۵۰ سینٹ زمین کا وعدہ کیا تھا۔ یہ گھر پانچ سینٹ زمین پر بنا ہوا ہے، اور مجھے نہیں معلوم کہ باقی ۴۵ سینٹ کہاں ہیں۔ میرے پاس کوئی کاغذ نہیں ہے۔‘‘ فاریسٹ رینجر نے جس وکیل سے ان کا تعارف کرایا تھا، ’’اس نے اپنی فیس کے طور پر ۵۰ ہزار لے لیے، گھر بنانے کے لیے مجھے ۸۰ ہزار روپے خرچ کرنے پڑے اور بجلی کے کنکشن کے لیے انہوں نے ۴۰ ہزار روپے ادا کرنے کو کہا۔‘‘

بینّے سے تقریباً ۳۰ کلومیٹر مشرق میں، ناگم پلّی کی بستی ہے۔ یہ ٹائیگر ریزرو کے چھ کلومیٹر اندر ہے۔ فروری ۲۰۱۸ میں، ۳۲ سالہ کملاچی ایم اپنے ۳۵ سالہ شوہر مادھون، جو کہ ایک یومیہ مزدور ہیں، اپنے بچوں، اپنے والدین، ایک بیوہ بہن اور اس کے دو بچوں کے ساتھ یہاں سے ریزرو کے باہر واقع مچیکولی چلی گئی تھیں۔

'I moved here thinking we will get some money [the Rs. 10 lakhs compensation] but almost all is gone', Onathi says
PHOTO • Priti David
'I moved here thinking we will get some money [the Rs. 10 lakhs compensation] but almost all is gone', Onathi says
PHOTO • Priti David

’میں یہاں یہ سوچ کر آئی تھی کہ ہمیں کچھ پیسے [۱۰ لاکھ روپے کا معاوضہ] ملیں گے، لیکن تقریباً سب کچھ چھن چکا ہے‘، اوناتی کہتی ہیں

کملاچی نے جب یہ جگہ چھوڑی، تو انہیں تسلّی تھی کہ ۱۰ لاکھ روپے دینے کا وعدہ پورا ہوگا اور کچھ بکریاں جنہیں وہ پال رہی تھیں، اس سے ان کا کام چل جائے گا۔ بکریوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے، لیکن ان کے بازآبادکاری معاوضہ کا پیسہ جمع ہونے کے کچھ ہی منٹوں میں واپس نکال لیا گیا تھا۔ ان کی پاس بک سے پتہ چلتا ہے کہ ۲۸ نومبر، ۲۰۱۸ تک انہیں ۵ء۷۳ لاکھ روپے ملے تھے اور اسی دن ۴ء۷۳ لاکھ روپے آدھا ایکڑ زمین کی ادائیگی کے طور پر ’روسمّا‘ کو منتقل کر دیے گئے۔ حالانکہ، انہیں ابھی بھی مالکانہ حق ثابت کرنے کے لیے کوئی رجسٹرڈ دستاویز نہیں ملا ہے۔

کملاچی اپنی برادری کے تعلیم یافتہ لوگوں میں سے ایک ہیں – کٹّونائکن آدیواسیوں میں شرحِ خواندگی ۴۸ فیصد ہے۔ ان کے پاس ۱۲ویں کلاس کا سرٹیفکیٹ ہے اور انہوں نے ٹیچر بننے کی ٹریننگ بھی حاصل کی ہے (حالانکہ وہ یومیہ مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں)۔ پھر بھی، وہ یہاں پر دھمکیوں کا بھی سامنا نہیں کر سکیں۔ ’’اس نے [فاریسٹ رینجر] ادھر ادھر جاکر لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ یہاں سے نکلنا ہے اور آپ کو معاوضہ تبھی ملے گا، جب آپ ابھی نکلیں گے، بعد میں نہیں۔ ہم ناگم پلّی میں پانچ نسلوں سے زیادہ وقت سے رہتے آئے ہیں۔ اُس جگہ کو چھوڑتے ہوئے ہمیں ایسا لگا جیسے کوئی آفت آ گئی ہو، گویا ہم نے سب کچھ کھو دیا ہو۔‘‘

ناگم پلّی کے دو دیگر کٹّونائکن اور ۱۵ پنیئن کنبے بھی بغیر زمین کے مالکانہ حق کے ایسے گھروں میں چلے گئے، جہاں کوئی سہولت نہیں تھی۔ اس لیے ۲ اکتوبر، ۲۰۱۸ کو ناگم پلّی گرام سبھا نے یہ کہتے ہوئے ایک قرارداد پاس کی کہ ان میں سے کچھ کو زمین کے مالکانہ حق کے بغیر اور اونچی قیمت پر زمین بیچی گئی تھی، اور انہوں نے نیلگری کے ضلع کلکٹر سے مداخلت کرنے کی فریاد کی تھی کہ انہیں پانی، بجلی، سڑک اور قبرستان جیسی سہولیات کے ساتھ مکان دیے جائیں۔

کچھ مہینوں کے بعد، جنوری ۲۰۱۹ میں، آدیواسی مُنّیتر سنگم (اے ایم ایس) کے شری مدورئی دفتر میں مدن، اوناتی اور کملاچی کی تشویشوں پر غور کیا گیا۔ گُڈالور واقع آدیواسیوں کی اس تنظیم کا قیام ۱۹۸۶ میں ان کی زمین اور حقوق کے مدعوں کو مضبوط کرنے اور مخاطب کرنے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ گڈالور اور پنڈالور تعلقوں میں اس کے ۲۰ ہزار سے زیادہ رکن ہیں۔ انہوں نے ۲۶ جنوری، ۲۰۱۹ کو قومی درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے کمیشن، دہلی کے صدر کو ایک خط لکھا تھا۔

PHOTO • Priti David
PHOTO • Priti David

کملاچی اور ان کے والدین نے جب یہ جگہ چھوڑی، تو انہیں تسلی تھی کہ ۱۰ لاکھ روپے دینے کا وعدہ پورا ہوگا اور کچھ بکریاں جنہیں وہ پال رہی تھیں، اس سے ان کا کام چل جائے گا۔ بکریوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے، لیکن ان کی باز آبادکاری کے معاوضہ کا پیسہ جمع ہونے کے کچھ ہی منٹوں میں واپس نکال لیا گیا تھا

اے ایم ایس کے سکریٹری، کے ٹی سبرمنی، ایک مُلّوکُرومبا آدیواسی، کا کہنا ہے کہ انہوں نے ۶ مارچ، ۲۰۱۹ کو اُدگ منڈلم (اوٹی) کی کلکٹر (اِنّوسینٹ دِویہ) کو دو صفحات کی عرضی بھی دی تھی۔ عرضی میں دھوکہ دہی کا تفصیلی ذکر تھا اور ان سے کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ یہ عرضی ناگم پلّی گرام سبھا کے لیٹر ہیڈ پر تھی اور اس پر ۲۰ سے زیادہ ارکان کے دستخط تھے۔

آخر میں، ۳ ستمبر ۲۰۱۹ کو، گڈالور پولس اسٹیشن (ناگم پلّی بستی سے گڈالور شہر تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور ہے) میں درج ایک ایف آئی آر (پہلی اطلاعاتی رپورٹ) میں نو لوگوں کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس میں سریش کمار (فاریسٹ رینجر) اور سُکومارن (وکیل) کے ساتھ زمینداروں اور دلالوں کے نام بھی شامل تھے۔ ایف آئی آر میں تعزیراتِ ہند کی کئی دفعات لگائی گئی ہیں، جن میں ’مجرمانہ سازش‘ اور ’جعل سازی کی سزا‘ بھی شامل ہے۔ اس میں نو لوگوں کے خلاف درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (ظلم کے نمٹارہ کا) قانون، ۱۹۸۹ کے تحت الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

’’کیوں کہ کچھ لوگ پڑھ نہیں سکتے، اس لیے ان سے بینک چالان پر دستخط کرایا گیا اور ان کے کھاتے سے پیسے نکال لیے گئے۔ ہم نے ایف آئی آر میں انہیں نامزد کیا ہے،‘‘ اے ایم ایس کے وکیل، جی ملّئی چامی کہتے ہیں۔

اکتوبر ۲۰۱۹ میں، ایف آئی آر میں نامزد فاریسٹ رینجر سریش کمار نے مجھ سے فون پر بات کی اور الزامات کی تردید کی: ’’میں نے کسی کو مجبور نہیں کیا تھا، وہ یہاں سے جانا چاہتے تھے۔ میں نے این ٹی سی اے کی رہنما ہدایات پر عمل کیا ہے۔ جانچ چل رہی ہے۔ میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔‘‘

ایف آئی آر میں نامزد وکیل، کے سُکومارن نے بھی الزامات کو خارج کر دیا: ’’یہ جھوٹی اطلاع پر مبنی ایک جھوٹی ایف آئی آر ہے اور میں نے پیشگی ضمانت لے لی ہے [نومبر میں] کیوں کہ مجھے سماج مخالف عناصر کے ذریعے الگ تھلگ کیا جا رہا ہے۔‘‘

PHOTO • Priti David
PHOTO • Priti David

بائیں: ایڈووکیٹ جی ملّئی چامی کہتے ہیں کیوں کہ کچھ لوگ پڑھ نہیں سکتے، اس لیے ان سے بینک چالان پر دستخط کرایا گیا اور ان کے کھاتے سے پیسے نکال لیے گئے۔ دائیں: اے ایم ایس کے سکریٹری، کے ٹی سبرمنی، ایک مُلّوکُرومبا آدیواسی، کا کہنا ہے کہ انہوں نے مارچ ۲۰۱۹ میں کلکٹر کو دو صفحات کی عرضی بھی دی تھی

ٹائیگر ریزرو کے فیلڈ ڈائرکٹر کے دفتر کے ذریعے جاری ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ۷۰۱ کنبوں کو بازآبادکاری معاوضے کے لیے اہل پایا گیا تھا۔ مرحلہ ۱ اور ۲ میں، سات بستیوں کے ۴۹۰ کنبوں کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ باقی ۲۱۱ کنبوں کو فی الحال جاری مرحلہ ۳ میں منتقل کر دیا جائے گا۔ دیگر ۲۶۳ کنبوں کو منتقل کرنے کے لیے ’نا اہل‘ قرار دیا گیا ہے کیوں کہ ان کے پاس زمین کا مالکانہ حق نہیں ہے یا وہ ٹائیگر ریزرو کے باہر رہتے ہیں۔

’’این ٹی سی اے کی رہنما ہدایات کے مطابق، یہ ایک رضاکارانہ منتقلی ہے،‘‘ کے کے کوشل کہتے ہیں، جنہوں نے مارچ ۲۰۱۹ میں ایم ٹی آر کے فیلڈ ڈائرکٹر کے طور پر عہدہ سنبھالا تھا۔ ’’ہمارے ریکارڈ کے مطابق، کل ۴۸ کروڑ روپے پہلے ہی تقسیم کیے جا چکے ہیں اور ۲۰ کروڑ روپے مرحلہ ۳ کے لیے ہیں۔‘‘

دریں اثنا، کے وی راجکمار، جنہوں نے دسمبر ۲۰۱۸ میں گڈالور کے مالیاتی افسر کے طور پر عہدہ سنبھالا تھا (یہ ان کی پہلی پوسٹنگ ہے)، بازآبادکاری کے مدعے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کیس کا مطالعہ کرنے میں کئی مہینے لگائے۔ ’’دسمبر ۲۰۱۹ میں میں نے ایم ٹی آر کے ڈپٹی ڈائرکٹر کو لکھا۔ میں نے این ٹی سی اے کی رہنما ہدایات کے مطابق اثاثے کی تشکیل کو یقینی بنانے کے لیے کہا، نہ کہ صرف ۱۰ لاکھ روپے سونپنے کے لیے۔ ہمیں صرف بازآبادکاری ہی نہیں، بلکہ ذریعہ معاش کی منتقلی اور بازتعمیر کو بھی دیکھنا چاہیے۔‘‘

واپس بینّے میں، اپّو اور مدن جیسے مضبوط اور خود اعتمادی سے بھرے ہوئے گرام سبھا کے رکن اب فکرمند رہتے ہیں۔ ’’ہم باگھوں اور ہاتھیوں سے نہیں ڈرتے۔ ہم صرف کچھ انسانوں سے ڈرتے ہیں،‘‘ اپّو کہتے ہیں۔ مدن کو اپنے پیچھے مندر اور قبرستان کو چھوڑنے کی فکر ہے: ’’انہوں نے ہمیشہ ہماری حفاظت کی ہے۔ میں مستقبل سے ڈرا ہوا ہوں۔‘‘

PHOTO • Priti David

غیر یقینی صورتحال کے سبب بے گھر کنبے بینّے کی ’نئی‘ بستی میں

نامہ نگار اس اسٹوری کو جمع کرنے میں والہانہ مدد کے لیے، گڈوالور کے اے ایم کروناکرن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Priti David

پریتی ڈیوڈ ’پاری‘ کی بنگلورو میں مقیم نامہ نگار ہیں اور ’پاری‘ کے ذریعے اسکول کے بچوں کو اس سائٹ پر شائع کہانیوں کے توسط سے دیہی ہندوستان سے روبرو کرانے کے پروجیکٹ کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

Other stories by Priti David