P1010383-PS-Cattle class-native vs exotic.jpg

دنیا کا سب سے چھوٹا ویچور بچھڑا، جو تصویر کو کھینچنے سے صرف چھ گھنٹے پہلے پیدا ہوا ہے


تھریسور، کیرالہ کے پی ویم بلور گاؤں میں واقع چندرن ماسٹر کے احاطہ میں لوگ بڑی تعداد میں آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ طلبہ، ٹیچرس، محکمہ مویشی پالن میں کام کرنے والے ٹرینیز اور یہاں تک کہ سرکاری اہل کار بھی اس طرح ٹہل رہے ہیں گویا یہ کوئی عوامی جگہ ہو۔ اور ایک لحاظ سے یہ ہے بھی۔ دور دراز سے لوگ یہاں ان کی ۲۲ گایوں اور دو سانڈوں کو دیکھنے آتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر نایاب دیسی نسلیں ہیں۔ ساتھ ہی، انھوں نے کئی قسم کے آم، بانس اور مچھلیاں بھی پالی ہیں، ان میں سے زیادہ تر دیسی ہیں۔ انگریزی کے سابق استاد کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس کلاسیکی کٹھیاواڑی گھوڑے اور دیسی نسل کی مرغیاں ہیں۔ لیکن لوگوں کی توجہ کا سب سے بڑا  مرکز دنیا کی سب سے چھوٹی ویچور گائے، اور کیرالہ کے مویشیوں کی دیگر دیسی قسمیں ہیں۔

یہاں آنے والوں کی دلچسپی اس بات کی بھی عکاسی ہے کہ گھریلو قسم کی نسلوں اور دیگر مویشیوں کے مستقبل کو لے کر یہاں کے لوگوں میں تشویش کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دوسری جگہوں کی طرح یہاں بھی زیادہ زور کراس بریڈ کے مویشیوں پر ہے جو زیادہ دودھ دے سکیں، اس کی وجہ سے بھی دیسی نسل کے مویشیوں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ اب اس اپروچ کے نتائج کو لے کر لوگوں میں سنجیدہ بحث ہونے لگی ہے۔ کیرالہ میں ۱۹۹۶ سے ۲۰۰۷ کے درمیان مویشیوں کی پیداوار میں تقریباً ۴۸ فیصد کی کمی آئی ہے۔

کیرالہ کے اینیمل ہزبینڈری ڈپارٹمنٹ (اے ایچ ڈی) کے ڈائرکٹر، ڈاکٹر آر وجے کمار کہتے ہیں کہ ریاست کی نئی بریڈنگ پالیسی ’’بیرونی (جو دیسی نہ ہو) جرم پلازم کو ۵۰ فیصد مویشیوں تک محدود کرتی ہے۔ اب ہم دیسی نسلوں کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم لوگ اب دیسی سانڈوں کی منی کو مصنوعی طریقے سے گایوں میں ڈال رہے ہیں۔‘‘ اور ۱۹۹۶ سے ۲۰۰۷ کے درمیان مویشیوں کی تعداد بھلے ہی گھٹ رہی ہو، ’’ریاست کے اندر گایوں میں دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اوسطاً چھ لیٹر سے بڑھ کر ساڑھے ۸ لیٹر روزانہ، حالانکہ کیرالہ میں کراس بریڈ مویشیوں کی تعداد ۸۷ فیصد پہنچ چکی ہے۔‘‘

تاہم، کراس بریڈ میں دودھ پیداوار کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ویچور اور کسار گوڈے نسل کے دیسی مویشیوں کے کھانے پر خرچ بہت کم پڑتا ہے۔ اس نسل کی گائیں بہت کم چارہ کھاکر بڑی مقدار میں دودھ دیتی ہیں۔ کراس بریڈ مویشیوں کی دیکھ ریکھ پر کافی پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور انھیں بیماریاں جلد لگ جاتی ہیں۔ ’’اس وڈاکارا بونی گائے کو ہی دیکھ لیجئے،‘‘ چندرن ماسٹر کہتے ہیں۔ ’’مجھے اس پر روزانہ شاید ہی پانچ سے دس روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ مجھے روزانہ تین سے چار لیٹر تک دودھ دے دیتی ہے۔ لیکن اس کے دودھ کا معیار کافی اونچا ہے اور میں اس سے فی لیٹر ۵۰ روپے تک حاصل کر سکتا ہوں۔ لہٰذا، اس طرح سے بھی منافع زیادہ ہے۔ اس میں بہت اعلیٰ معیار کے چارے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ باورچی خانے کے کچرے اور بچا ہوا کھانا وغیرہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور انھیں رہنے کے لیے بھی کسی خاص جھونپڑی یا ایسی کسی دیگر مخصوص چیز کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘ تاہم، وہ دودھ نہیں بیچتے ہیں۔ البتہ وہ ہر سال ’’چند بچڑھے ضرور بیچتے ہیں، اس وقت جب ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے کہ انھیں سنبھالنا مشکل ہو رہا ہو۔‘‘

ویچور کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ صدیوں پہلے آیوروید نے اس کے دودھ میں طبی خصوصیات کی نشاندہی کی تھی۔ حالیہ زمانے میں، کیرالہ ایگریکلچرل یونیورسٹی (کے اے یو) کی تحقیق نے کراس بریڈ گایوں کے مقابلے ویچور گائے میں فیٹس اور ٹوٹل سالڈس کی فیصد مقدار کافی زیادہ بتایا ہے۔ ویچور کے دودھ میں چربی کے گلوبچے کا چھوٹا سائز اسے نوزائیدہ بچوں اور بیماروں کے لیے موزوں بناتا ہے۔

اے ایچ ڈی ڈائرکٹر، آر وجے کمار کہتے ہیں کہ دیسی نسلوں کے زوال کی کئی وجہیں تھیں۔ صرف ’’غیر معروف‘‘ قسموں کا ختنہ ہی نہیں ہوا، جو کہ کافی پہلے ہوا تھا، وہ اشارہ کرتے ہیں کہ ’’نقدی فصلوں کی طرف بڑھتا رجحان، جس کی وجہ سے مویشی پر منحصر زراعت میں کمی آئی اور کسانوں کی نوجوان نسل کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ ہی ان میں اتنا تحمل ہے کہ وہ بڑی تعداد میں جانوروں کو چرا سکیں، وہ کم چارہ کھانے والوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ زیادہ دودھ دینے کی وجہ سے کراس بریڈ میں ان کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔‘‘


P1010392-PS-Cattle class-native vs exotic.jpg

چندرن ماسٹر ویچور ماں اور بچے کے ساتھ


لیکن قیمت اور دیکھ ریکھ ایک دوسرا مسئلہ ہے۔ ’’سال ۱۹۹۴ میں جب دیسی نسلوں کی طرف متوجہ ہوا اس سے پہلے،‘‘ چندرن ماسٹر کہتے ہیں، ’’میرے پاس تین کراس بریڈس تھے، بشمول ایک سوئس براؤن۔ مجھے روزانہ ۴۰۰ روپے خرچ کرنے پڑتے تھے۔ چارہ بہت مہنگا تھا، جس پر روزانہ ۲۰۰ سے زیادہ خرچ ہوتا تھا۔ پیلیٹ فیڈ، چاول پاؤڈر، گیہوں پاؤڈر، آئل کیک، ہری گھاس، لسٹ بے شمار تھی۔ وہ ہمیشہ بیمار پڑ جاتی تھیں اور ان کے ڈاکٹر کو ہر ہفتہ یہاں آنا پڑتا تھا، ان کے آنے پر ہر بار ۱۵۰ روپے دینے پڑتے تھے، اوپر سے ان کے آنے جانے کے لیے گاڑی کا انتظام بھی کرنا پڑتا تھا۔

لیکن انھوں نے جب سے دیسی گائیں پالنی شروع کیں: ’’کسی بھی مویشی ڈاکٹر نے پچھلے ۱۷ سالوں سے میرے گھر کا دورہ نہیں کیا ہے۔ اور میں نے ان میں سے کسی ایک کا بھی انشورنس نہیں کرایا ہے۔ یہ محنتی ہیں، صحت تخلیق ہیں۔‘‘ اور بہت سے ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ ہندوستانی کے دیسی مویشی یہاں کی ماحولیات کے مطابق ڈھل گئے ہیں اور ان میں ’’بیماریاں نہیں ہوتیں، کیڑے نہیں لگتے اور بچھڑے بھی انسانی مدد کے بغیر ان سے اپنا دفاع کر لیتے ہیں۔‘‘ پروفیسر سوسما آئپ جیسے سائنس داں، جنہوں نے کے اے یو میں ویچور کے احیا میں نمایاں رول ادا کیا، وہ بھی کہتے ہیں کہ ان بونے مویشیوں میں ’’پیر اور منھ کی بیماریوں اور پستانوں کی سوزش سے لڑنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے۔ ان دونوں ہی بیماریوں کی وجہ سے کیرالہ میں کراس بریڈ مویشی بڑی تعداد میں مر گئے تھے۔ ویچور مویشی میں بھی سانس سے متعلق بیماری کے لگنے کے خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔

کیرالہ میں مویشیوں کے زیادہ تر مالک چھوٹے یا معمولی کسان ہیں یا پھر بے زمین لوگ ہیں۔ اس ریاست میں کراس بریڈ مویشیوں کی تعداد ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔ اور حالانکہ دودھ کی اوسط پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ پیداوار ڈیمانڈ سے اب بھی بہت نیچے ہے۔ کیرالہ سب سے زیادہ دودھ پیدا کرنے والی ریاستوں میں سے ایک نہیں ہے۔ فی لیٹر دودھ پر خرچ ہونے والا چارہ بھی ہندوستان میں یہاں سب سے زیادہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مویشیوں اور دیسی نسلوں کی تعداد میں بے انتہا اضافہ کو نظر انداز کرنا غلط ہے، جس نے کیرالہ کو نقصان پہنچایا ہے، یہ دہائیوں پرانی ان پالیسیوں کی وجہ سے ہے جس کے تحت کسی کسان کے لیے لائیسنس کے بغیر سانڈ رکھنا غیر قانونی ہے۔ یہ لائیسنس صرف اے ایچ ڈی کے ریاستی ڈائرکٹر کی سطح پر جاری کیا جاتا ہے۔

تکنیکی طور پر، چندرن ماسٹر اور دیگر لوگ اس قانون کو توڑ رہے ہیں۔ لیکن یہ تو یقینی ہے کہ ریاست کے پاس اس بات کو جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ کیا کوئی کسان کسی ’’غیر قانونی‘‘ سانڈ کو رکھے ہوا ہے؟ ’’ایک معاندانہ پنچایت کسی کسان کی زندگی کو دوزخ بنا سکتی ہے،‘‘ ایک ماہر کہتے ہیں۔ ’’اگر اس کسان کی دشمنی پنچایت کے حکمرانوں سے ہے، تو وہ اسے مہینوں تک عدالت میں گھسیٹ سکتے ہیں۔‘‘

ہریتھ بھومی (سبز کرۂ ارض)، جو کہ زراعت پر مبنی ایک جریدہ ہے، نے حال ہی میں کسی بھی قسم کی منظوریوں پر مبنی ریڈ ٹیپ کا خلاصہ پیش کیا ہے: مثال کے طور پر اگر کوئی کسان چھ بڑے جانوروں اور ۲۰ مرغیوں کی تعداد کو بڑھانا چاہتا ہے، چاہے تھوڑی ہی تعداد میں، تو اسے ایسا کرنے کے لیے پنچایت سے کلیئرنس لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر آپ کوٹے کو بڑھاتے ہیں، تو آپ کو آلودگی کنٹرول بورڈ کے پاس جانا ہوگا۔ آپ جیسا اسٹیبلشمنٹ بنانا چاہتے ہیں، اس کے سائز کی بنیاد پر آپ کو ڈسٹرکٹ ٹاؤن پلانر سے سرٹیفکیٹ لینا پڑے گا۔ ان تمام چیزوں کو حاصل کر لینے کے بعد آپ کو پنچایت کے لیے ایک ٹیکنیکل رپورٹ بنانی پڑے گی اور پھر ان سے تین یا چار سرٹیفکیٹ حاصل کرنے پڑیں گے۔ اس کے بعد کسان کو ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر سے کلیئرنس لینی پڑتی ہے، جس کے پاس اسے اپنے متعینہ فارم کے ۱۰۰ میٹر کے دائرے میں رہنے والے تمام باشندوں سے این او سی لے کر جمع کرانا پڑتا ہے۔

چندرن ماسٹر کے گھر پر میرے پہلے دورہ کے دوران، ایک دوسرے علاقہ کے لائیو اسٹاک انسپکٹر سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر انھوں نے مجھ سے کہا تھا: ’’میرے زیادہ تر دورے کے دوران میں کراس بریڈ کو درپیش مسائل کو دیکھتا ہوں۔ موسم کی ذرا سی تبدیلی سے وہ بیمار پڑ جاتے ہیں۔ وہ گرمی کو جھیل نہیں سکتے۔‘‘ چندر ماسٹر مزید کہتے ہیں: ’’آپ ایک رات بھی چین سے نہیں سو سکتے۔ کراس بریڈس بارش میں ۱۰ منٹ بھی نہیں ٹک سکتے۔ وہیں دیہی نسلوں کو رہنے کے لیے جھونپڑی کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘ انسپکٹر سے ہاں میں سر ہلایا: ’’اگر میں کوئی گائے رکھنا چاہوں، تو یہ ویچور ہوگی۔‘‘

(پی ایس: دی ہندو میں اس اسٹوری کے پہلے حصہ کے شائع ہونے کے بعد، کالا ہانڈی کی زراعت میں گہرائی سے مصروف کمیونٹی پر مشتمل ایک عملہ، سہہ بھاگیہ وِکاس ابھیان نے اعلان کیا ہے کہ وہ چندرن ماسٹر کو نایاب کھریار نسل کے دو بچھڑے تحفے میں دے گا۔ اب چنوتی یہ ہے کہ انھیں مغربی اڈیشہ سے کیرالہ کے تھریسور تک کیسے لے جایا جائے۔)

یہ مضمون سب سے پہلے دی ہندو میں ۶ جنوری، ۲۰۱۲ کو شائع ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other Stories by P. Sainath