/media/uploads/Articles/P. Sainath/The mobile gatekeeper/train_side_ev_crop_p1020345.jpg

’لیبر ٹرین‘ پر چڑھنا ۔ اور یہ ابھی پوری طرح بھری نہیں ہے۔ جیسا کہ یہ قریب آ رہی ہے، اس کی چھت پر بھی کئی لوگ ہوں گے


جب کنہیا لال انجن ڈرائیور کے کیبن سے اپنے ہاتھوں میں لال اور ہرے رنگ کے جھنڈے کے ساتھ باہر کودے، تو ہم بھی دھیمی ہوتی ٹرین سے نیچے اتر آئے۔ ہم لوگ اسی کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم جس چیز کی توقع نہیں کر رہے تھے، وہ یہ کہ کنہیا بڑی تیزی سے ۲۰۰ میٹر تک دوڑے۔ ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے، لیکن اوبڑ کھابڑ زمین پر گرتے پڑتے ہوئے۔ کنہیا لال بغیر آدمی کے نشان والی کراسنگ پر جاکر رکے اور، اپنے لال جھنڈے کو لہراتے ہوئے، جلدی سے وہاں کے دروازے کو بند کرکے اس پر تالا لگا دیا۔ اس کے بعد وہ ٹرین کی طرف مڑے اور اسے ہری جھنڈی دکھائی۔ ٹرین آگے چلی گئی، تالا لگے ہوئے گیٹ کو پار کرتے ہوئے، اور پھر رک گئی۔ کنہیا لال نے گیٹ کھول دیا اور دوڑتے ہوئے ڈرائیور کے کیبن کی طرف بھاگے، ہم بھی ان کے پیچھے تھے۔


02- Mobile_gatekeeper_PS


وہ ایک طرف کے راستہ میں ۶۸ کلومیٹر تک کی دوری میں ایسا ۱۶ بار کر سکتے ہیں۔ ’’میں یہی کام کرتا ہوں۔ میں موبائل گیٹ کیپر ہوں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ یہ ’موبائل‘ لفظ کے مکمل، پرانے معنی کو تازہ کر دیتی ہے۔ یہ ریاست چھتیس گڑھ میں ساؤتھ ایسٹ سنٹرل ریلوے ہے۔ اور ہم لوگ ۲۳۲ ڈاؤن دھمتاری پیسنجر پر سوار ہیں، جو ’لیبر ٹرین‘ کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔ یہ کام کی تلاش میں سرگرداں ہزاروں مہاجر مزدوروں کو آس پاس کے گاؤوں سے رائے پور شہر تک پہنچاتی ہے۔ دھمتاری سے رائے پور کے تیلی باندھا تک کا سفر تین گھنٹے پانچ منٹ کا ہے، جس کے بیچ میں ۹ اسٹیشن پڑتے ہیں، جہاں ٹرین رکتی ہے۔ اور اس پورے راستے میں کل ۱۹ ’گیٹس‘ (دروازے) یا لیول کراسنگ ہیں، جن میں سے صرف دو یا تین پر آدمی تعینات ہیں۔

’’میرا کام ان دروازوں کو کھولنا اور بند کرنا ہے،‘‘ کنہیا گپتا بتاتے ہیں۔ ’’پہلے ان کراسنگس کے لیے گیٹ کیپرس ہوا کرتے تھے، لیکن اب مجھے موبائل گیٹ کیپر مقرر کیا گیا ہے۔ میں گینگ مین ہوا کرتا تھا، لیکن اب اس پوسٹ پر میرا پرموشن ہوگیا ہے، جس پر فائز ہوئے مجھے دو سال ہو چکے ہیں۔ اپنا کام کرتے ہوئے مجھے خوشی ہوتی ہے۔‘‘ یہ واقعی میں اپنے کام کے تئیں ایماندار اور محنت کش ہیں (اور ۲۰ ہزار روپے سے بھی کم ماہانہ کما رہے ہوں گے)۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/The mobile gatekeeper/p1020338.jpg


اس روٹ کے پہلے اسٹیشنوں پر، ’موبائل گیٹ کیپر‘ کسی ایک گیٹ پر ٹرین کو پاس کروانے کے بعد اس کے پچھلے ڈبّوں میں سے کسی ایک میں سوار ہو سکتا ہے۔ ٹرین چونکہ ابھی پوری طرح بھرنی ہے، اس لیے وہ آرام سے بیٹھ سکتا ہے۔ حالانکہ، ٹرین جیسے ہی رائے پور کے قریب پہنچتی ہے، اسے اندر گھُسنے کی بالکل جگہ نہیں ملتی۔ اسی لیے اسے ڈرائیور کے کیبن تک بھاگنا پڑتا ہے، جہاں وہ اگلے گیٹ کے آنے تک کھڑا رہتا ہے۔

ریلویز نے پہلے کبھی یہاں کئی لوگوں کو نوکری پر رکھا تھا۔ لیکن آج، خالی اسامیوں کی حیران کن تعداد ہے۔ کنہیا لال کی نوکری کوئی ’نئی دریافت‘ نہیں ہے۔  ایسا صرف افرادی قوت (ورک فورس) کی تعداد کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حفاظت کے لحاظ سے ان سبھی ۱۶ کراسنگس پر گیٹ کیپرس کی ضرورت ہے۔ اور، اگر ریلویز کی سرکاری سطح پر تعداد دیکھی جائے، تو پورے ملک میں اس طرح کی ۳۰ ہزار لیول کراسنگس ہیں، جن میں سے ۱۱،۵۰۰ پر کسی آدمی کو نہیں رکھا گیا ہے۔

ملک میں جتنے بھی ٹرین حادثے ہوتے ہیں، ان میں سے تقریباً ۴۰ فیصد لیول کراسنگس پر ہی ہوتے ہیں اور دو تہائی اموات ریلوے لائنوں پر ہوتی ہیں۔ جن لیول کراسنگس پر آدمی تعینات ہیں، وہاں اس قسم کا حادثہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ریلویز نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ بجائے ان جگہوں پر گیٹ کیپرس کو مقرر کرنے کے، اس نے بغیر آدمیوں والی کراسنگس کو ہی بند کرنا شروع کر دیا ہے۔ یا پھر، کئی آدمیوں کا کام ایک آدمی سے لینے کے لیے اس نے کنہیا لال جیسے ’موبائل گیٹ کیپرس‘ کا تقرر کرنا شروع کر دیا ہے۔

ویسے، ۲۳۲ ڈاؤن دھمتاری پیسنجر کے راستے میں خطرے کا امکان کم ہے۔ یہ چھوٹی لائن والی ٹرین ہے، جو ملک میں اب بہت کم بچی ہیں۔ اور یہ دھیمی رفتار سے بھی چلتی ہے، اسے یوں چلنا بھی چاہیے، کیوں کہ لوگ اس پر چاروں طرف لٹکے رہتے ہیں۔ تاہم، کنہیا لال کی نوکری کے برقرار رہنے کی وجہ ورکس فورس کی تعداد کو کم کرنا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/The mobile gatekeeper/p1020335.jpg


’’انڈین ریلویز کو ۱۳ لاکھ ۴۰ ہزار افراد کا تقرر کرنے کی اجازت حاصل ہے،‘‘ وینو پی نائر بتاتے ہیں، جو کہ نیشنل ریلوے مزدور یونین کے جنرل سکریٹری ہیں۔ ’’لیکن تقریباً ۲ لاکھ اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ اور ہر سال اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی ٹرینڈ ہے۔ ۷۰ کی دہائی میں، ہمارے پاس ۱۷ لاکھ کامگار اور ۵ لاکھ کیژول مزدور تھے۔ اور آج یہ حال ہے، جب کہ پیسنجر ٹرینوں کی تعداد لگ بھگ دو گنی ہو چکی ہے۔ اسٹیشنوں، لائنوں اور بُکنگ کاؤنٹرس کی تعداد بھی اسی حساب سے بڑھی ہے۔ پھر بھی، گزشتہ ۲۰ برسوں میں ریلوے کی نوکریوں میں بے تحاشہ کمی آئی ہے۔ یہ خطرناک اور غلط ہے۔‘‘ انڈین ریلویز ۱۲ ہزار سے زیادہ ٹرینیں چلاتی ہے، جن پر تقریباً ۲۳۰ لاکھ لوگ روزانہ سفر کرتے ہیں۔

دھمتاری کی ’لیبر ٹرین‘ میں کل سات ڈبّے ہیں، جن میں ۴۰۰ سے بھی کم لوگوں کے سفر کرنے کی گنجائش ہے۔ لیکن اس وقت ٹرین میں اس سے کہیں دو گنی تعداد میں لوگ سفر کر رہے ہیں، جو آگے پیچھے اور یہاں تک کہ دو ڈبّوں کے بیچ کی جگہ پر بھی لٹکے ہوئے ہیں۔ ’’جب ہم رائے پور کے قریب پہنچیں گے، تب آپ دیکھئے گا،‘‘ ایک ورکر کہتا ہے۔ ’’تب یہ پوری طرح سے بھر جاتی ہے، چھتوں پر بھی لوگ سوار ہو جاتے ہیں۔‘‘

ہم دونوں کے ہاتھ میں ویڈیو کیمرہ دیکھ کر، اور بغیر آدمی والی ہر لیول کراسنگ پر ہمیں کنہیا لال کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھ کر مسافر مزے لے رہے ہیں۔ ’’فلم کی شوٹنگ چل رہی ہے،‘‘ ان میں سے ایک کہتا ہے، جو کہ دو ڈبّوں کو جوڑنے والی جگہ کے بیچ میں لٹکا ہوا ہے۔ ’’یہ لوگ بالی ووڈ سے ہیں۔‘‘ ’’تو ہیرو کون ہے؟‘‘ اس کا ساتھی پوچھتا ہے۔ ’’ہیرو کو گولی مارو،‘‘ تیسرا چلّاتا ہے۔ ’’ہمیں ہیروئن دکھاؤ۔‘‘

لیکن اسٹیشنوں پر وہ ہم سے ٹھیک ڈھنگ سے بات کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک مہاجر ہے، جو شہر میں کام کی تلاش میں آیا ہے۔ یہ لوگ اس علاقے کے مختلف گاؤوں سے ہیں، جہاں زراعت تباہ ہو رہی ہے۔ آپ نے ٹرین کیوں پکڑی، ہم ان سے پوچھتے ہیں۔ اس قسم کی بھیڑ سے تو آپ رائے پور پہنچتے پہنچتے کافی تھک چکے ہوں گے۔ ’’دھمتاری سے رائے پور تک کا ٹرین ٹکٹ صرف ۲۰ روپے کا ہے۔ جب کہ اتنی ہی دوری کا بس کرایہ ۶۵ سے ۷۰ روپے ہے، جو کہ اس سے تین گنا زیادہ ہے۔ ہم دن بھر میں ۲۰۰ سے ۲۵۰ روپے کماتے ہیں، اگر ہم بس سے سفر کریں تو آنے جانے میں اس کا آدھا پیسہ ہمیں کرایے پر خرچ کرنا پڑ جائے گا۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/The mobile gatekeeper/train_back_ev_crop__p1020381.jpg

۲۳۲ ڈاؤن دھمتاری پیسنجر کے مسافر، پچھلی سیٹ پر


’’صبح کی ٹرین میں،‘‘ انجن ڈرائیور وینو گوپال سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں، ’’زیادہ تر مسافر مزدور ہوتے ہیں۔ دور دراز گاؤوں کے لوگ اس ٹرین میں چڑھتے ہیں اور روز کی مزدوری کے لیے رائے پور جاتے ہیں۔ اور شام کی ٹرین سے ہر دن واپس لوٹتے ہیں۔‘‘

’’یہ بہت مشکل ہے،‘‘ کیندری اسٹیشن پر روہت نورنگے کہتے ہیں۔ وہ ایک مزدور ہیں، جو اکثر و بیشتر اسی طرح سفر کرتے ہیں، جب کہ کیندری گاؤں میں ان کی سائیکل مرمت کی ایک چھوٹی دکان ہے۔ ’’زندگی بسر کرنے کے لیے آپ یہاں زیادہ کما نہیں سکتے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

ہم لوگ ٹرین پر واپس آ چکے ہیں، جب کہ کنہیا لال کا دھیان پوری طرح اپنے کام پر ہے، وہ اگلے گیٹ کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ ’’کھولنا اور بند کرنا،‘‘ وہ کہتے ہیں، مسکراتے ہوئے۔

اس اسٹوری کا ایک ورژن بی بی سی نیوز لائن (http://www.bbc.com/news/world-asia-india-29057792) پر انگریزی اور ہندی میں ۲۲ ستمبر، ۲۰۱۴ کو چلایا گیا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath