’’میں اپنی زندگی میں صرف ایک بار حیرت میں پڑا ہوں،‘‘ منگل سنگھ کے پانی کے ٹربائن کا ذکر کرتے ہوئے، ۶۰ سالہ بھین کشواہا کہتے ہیں۔ اتر پردیش کے للت پور ضلع کے دشرارہ گاؤں میں یہ گرمی کی ایک دوپہر ہے۔ بھین اپنے ۱۵ ایکڑ کے کھیت کے ایک حصے میں گیہوں کے بیج چھینٹ رہے ہیں۔ ’’پہلے یہ ایک بنجر زمین تھی، لیکن تقریباً ۳۰ سال پہلے ٹربائن نے [کچھ وقت کے لیے] آبپاشی کو آسان بنا دیا۔‘‘

یہ بتانے سے پہلے وہ تھوڑا ہچکچاتے ہیں کہ ٹربائن کیسے کام کرتا ہے۔ ’’میں پڑھا لکھا نہیں ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ انھوں نے ۱۹۸۷ میں پہلی بار سجنام ندی کے پاس، اپنی زمین کے قریب، مقامی مزدوروں کے ذریعے بنائے گئے ایک چھوٹے سے چیک ڈیم میں لکڑی کا ایک پہیہ دیکھا۔ ’’پہیہ ایک ’گیئر باکس‘ سے جڑا ہوا تھا، اور پانی جب پہیہ میں داخل ہوتا تو یہ گھومنے لگتا اور پانی [تقریباً ۱-۲ کلومیٹر دور] ہمارے پاس پہنچ جاتا۔ مشین کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو شروع کرنے یا روکنے کے لیے مجھے صرف لکڑی کے ’دروازے‘ کو اندر ڈالنا ہوتا تھا۔‘‘

لیکن بھین کو مشینری سے زیادہ جس چیز نے حیرت میں ڈالا، وہ آگے ہونے والی بات چیت تھی: ’’جب میں نے پوچھا کہ اس پر کتنا خرچ آئے گا، تو انھوں نے کہا کہ یہ مفت ہے۔ ٹربائن کو پانی کی سپلائی کے لیے نہ تو ڈیزل کی ضرورت تھی نہ ہی بجلی کی۔ میں چونک گیا۔‘‘

* * * * *

۷۱ سالہ منگل سنگھ، للت پور ضلع کے بار بلاک کے بھیلونی لودھ گاؤں کے ایک خوشحال راجپوت زمیندار خاندان سے ہیں۔ کسان برادری میں پرورش و پرداخت ہونے کے سبب وہ جانتے تھے کہ پانی پر انحصار نے بندیل کھنڈ علاقے میں ان کے گاؤں اور دیگر گاؤوں میں کتنی غربت پیدا کی ہے۔ سجنام ندی پانی تو لاتی ہے، لیکن اس سے پمپ کے ذریعے پانی نکالنے میں بجلی یا ڈیزل کی ضرورت ہوتی ہے – اور اس کے لیے اچھا خاصا پیسہ لگانا پڑتا ہے۔

An (early 90s) picture of the turbine when it was operational at Kanji ghat
PHOTO • Apekshita Varshney
Mangal Singh at the unoperational water turbine at Kanji ghat
PHOTO • Apekshita Varshney

بائیں: ’پہلے یہ ایک بنجر زمین تھی، لیکن تقریباً ۳۰ سال پہلے ٹربائن نے [کچھ وقت کے لیے] آبپاشی کو آسان بنا دیا‘، بھین کشواہا کہتے ہیں۔ دائیں: خوشی لال کشواہا یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے والد ۱۹۹۰ کی دہائی کی شروعات میں اپنے کھیتوں کی سینچائی کے لیے منگل ٹربائن کا استعمال کرتے تھے

’’کسان کی بچت کا ایک بڑا حصہ ڈیزل استعمال نہ ہونے سے کم ہو گیا تھا۔ کسانوں کی مدد کرنے کی میری خواہش نے، مجھے ڈیزل یا بجلی پر انحصار کیے بغیر، ندیوں اور نہروں سے پانی نکالنے کے امکانات کے بارے میں سوچنے پر آمادہ کیا،‘‘ سنگھ کہتے ہیں۔ ’’میں بچپن میں چکری [ہوا سے گھومنے والا ایک عام کھلونا] سے کھیلتا تھا۔ ۳۰ کی دہائی میں، میرے دماغ میں ایک خیال آیا – کیا کوئی بڑی چکری، یا صرف ایک پہیہ، پانی نکالنے میں مدد کر سکتا ہے؟‘‘

۱۹۸۶ کے آس پاس، سنگھ نے ۱۲ بلیڈ (رِم میں فٹ کیے گئے لکڑی کے سیدھے لٹھے) کے ساتھ لکڑی کا ایک پہیہ بنایا (جو مقامی ببول کی لکڑی سے بنایا گیا تھا، جس کا قطر دو میٹر تھا)۔ بعد کے برسوں میں، انھوں نے لکڑی کے تختہ کو لوہے کی چادروں سے بدل دیا کیوں کہ لکڑی مہنگی تھی، جس کے پانی میں سڑنے کا امکان تھا۔ ’’اس کے بعد پہیہ کو اسٹیل کے ایک شافٹ پر لگایا گیا جو دو بیئرنگ بلاک پر ٹکا ہوا تھا۔ گھماؤ کی رفتار کو بڑھانے کے لیے شافٹ کو گیئرباکس کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ گیئرباکس کے دو کنارے تھے – ایک کنارے پر پانی کو اٹھانے اور پائپ کے ذریعے اسے دو کلومیٹر تک پہنچانے کے لیے ایک غیر مرکوز پمپ تھا، اور دوسرے کنارے پر ایک چرخی لگائی گئی تھی۔‘‘ ۱۹۹۰ کی دہائی تک، سنگھ نے اس میں اور بھی اصلاح کی اور کولہو یا چکّی جیسی زرعی مشینوں کو چلانے کے لیے چرخی کو ان کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیا۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، دہلی کے محققین نے بندیل کھنڈ کے آبی وسائل پر ۱۹۹۸ کے ایک مطالعہ میں، اس آلہ کے اپنے تجزیہ میں تعریف لائق بہت سی چیزیں دیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک ٹربائن بنانے میں ۸ء۱ لاکھ روپے کا خرچ آتا اور ’’ایک مقام پر دو ٹربائنوں میں ۲۰۰ ہیکٹیئر زمین کی سینچائی کرنے کی صلاحیت ہے‘‘ اور ’’منگل ٹربائن  کی تنصیب کے لیے... ۵۰۰ موزوں ہائڈروسائٹس کو دھیان میں رکھتے ہوئے، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ... ۲۵ میگاواٹ توانائی آسانی سے پیدا کی جا سکتی ہے۔‘‘

آلہ کی افادیت سے باخبر سنگھ نے، ۱۹۹۷ میں ہی کنٹرولر جنرل آف پیٹنٹس، ڈیزائن اینڈ ٹریڈ مارک کے ذریعے چلائے جانے والے پیٹینٹ دفتر، دہلی سے اس کا پیٹنٹ کروا لیا تھا (پیٹنٹ نمبر ۱۷۷۱۹۰، ۱۳ نومبر ۱۹۹۷)۔ لیکن اس سے ان کی ایجاد کو آگے تک لے جانے میں مدد نہیں ملی۔

* * * * *

خوشی لال کشواہا (۴۱) کو یاد ہے کہ ان کے والد ۱۹۹۰ کی دہائی کی شروعات میں اپنے کھیتوں کی سینچائی کے لیے منگل ٹربائن (جیسا کہ مقامی ہندی پریس نے اسے کہنا شروع کر دیا تھا) کا استعمال کرتے تھے۔ ’’میں اس وقت ۱۲-۱۳ سال کا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے یہاں کوئی فصل نہیں اُگتی تھی، لیکن پانی کی دستیابی کے بعد ہم لوگ کئی گُنا زیادہ گیہوں اور مٹر اُگانے لگے۔‘‘ کشواہا کو حیرانی تھی کہ بغیر کسی تکنیکی مہارت کے، سنگھ نے ٹربائن کیسے بنا لی۔ (منگل سنگھ ۱۹۶۷ میں طلبہ کے احتجاج کی وجہ سے، مدھیہ پردیش کے ٹیکم گڑھ کے گورنمنٹ ڈگری کالج سے سائنس میں گریجویٹ کی تعلیم مکمل نہیں کر سکے۔)

PHOTO • Apekshita Varshney
PHOTO • Apekshita Varshney

بائیں: ٹربائن کا ایک البم فوٹو جب یہ ۱۹۹۰ کی دہائی کی شروعات میں مقامی گھاٹ پر کام کر رہا تھا۔ دائیں: اسی گھاٹ پر اب بند پڑے ٹربائن کے پاس منگل سنگھ

’’یہ تجربہ اور خامی تھی،‘‘ سنگھ کہتے ہیں۔ ’’میں نے اپنی جیب سے اس آلہ کی لگاتار دریافت کی اور اس میں اصلاح کی۔‘‘ (انھیں یاد نہیں ہے کہ اس پر کتنا خرچ ہوا اور نہ ہی انھوں نے اس کا کوئی ریکارڈ رکھا ہے۔) اور اسی وجہ سے سینچائی کے لیے مقامی طور پر تعمیر شدہ اس ٹربائن کی فنڈنگ کے لیے انھیں دہائیوں لمبی لڑائی شروع کرنی پڑی۔

۱۹۸۶ کے آس پاس جب پہلے آلہ نے کام کرنا شروع کر دیا، تو سنگھ اس کا پرچار کرنے لگے۔ ’’میں نے اپنی ایجاد کو خطوط کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا۔ کپارٹ [دی کونسل فار ایڈوانسمینٹ آف پیپلز ایکشن اینڈ رورول ٹکنالوجی، وزارت دیہی ترقی] اس میں دلچسپی لینے والوں میں سے ایک تھا۔ کپارٹ نے ۱۹۸۸ میں، مجھے ۴۸۵۰۰ روپے کی گرانٹ دی کہ میں اپنے گاؤں، بھیلونی لودھ میں ایک اضافی ٹربائن بناکر وہاں لگاؤں۔‘‘ سنگھ نے اپنا پہلا ٹربائن تین کلومیٹر دور، دشرارہ میں بنایا تھا یہ سوچتے ہوئے کہ وہاں بہت سارے کھیت ہیں۔

دشرارہ میں ٹربائن کو دیکھنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ امنڈنے لگی۔ ان میں اُس وقت کی پلاننگ کمیشن کی صلاح کار، سرلا گوپالن بھی شامل تھیں، سنگھ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ سنگھ ان کا حمایتی خط اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، جسے وہ مجھے دکھاتے ہیں۔ آئی آئی ٹی روڑکی کے الٹرنیٹ ہائڈرو اینرجی سنٹر اور دی اینرجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، دہلی [ٹی ای آر ای] کے ذریعے بھی اس آلہ کی جانچ اور تعریف کی گئی۔ کپارٹ نے سنگھ کو کچھ اور ٹربائن بنانے کے لیے کہا۔

Patent document
PHOTO • Apekshita Varshney
Mangal Singh’s home office is overflowing with stacks of files which record his communication with government agencies
PHOTO • Apekshita Varshney

بائیں: سنگھ نے ۱۹۹۷ میں آلہ کا پیٹنٹ حاصل کیا۔ دائیں: لیکن ایک دہائی تک کاغذی کارروائی اور نوکرشاہی کی لڑائی میں پھنس گئے

لیکن جلد ہی، سنگھ کہتے ہیں، ’’بدعنوانی، ظلم اور استحصال‘‘ شروع ہو گیا۔ ’’سرکاری ایجنسیاں مجھے کم بجٹ والے پروجیکٹ دیتیں اور پھر قسطوں کو روک دیتیں۔ جب میں ٹربائن کو پورا کرنے کے لیے اپنی جیب سے پیسہ لگانا شروع کر دیتا، تو وہ ایک نگرانی ٹیم بھیجتیں اور اعتراضات جتانے لگتیں کہ کیش بُک جمع نہیں کر رہا ہے، یہ نہیں کر رہا ہے، وہ نہیں کر رہا ہے۔ میں ان سے اپیل کرتا کہ میں ایک تنہا مؤجد ہوں، کوئی این جی او نہیں اور میں متعدد ملازمین والے دفتر کی طرح کام نہیں کر سکتا... لیکن استحصال جاری رہتا۔‘‘

بہت بعد میں جا کر ۲۰۱۰-۱۱ میں، وزارتِ دیہی ترقی نے قومی دیہی ترقی اور پنچایتی راج ادارہ، گوہاٹی کے نارتھ ایسٹ ریجن سینٹر کے ایک سابق پروفیسر اور کپارٹ کے شمال مشرق اور وسطی علاقوں کے سابق رکن معاون، بی پی میتھانی کو مقرر کیا۔ انھیں سنگھ کے الزامات کی جانچ کرنے کے لیے کہا گیا۔

ان کی رپورٹ میں اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے ضلع دیہی ترقی ایجنسیوں (ڈی آر ڈی اے) کے ساتھ ساتھ کپارٹ کے ذریعے سنگھ کے لیے منظور کیے گئے پروجیکٹوں پر بحث کی گئی، اور اندیکھی اور لال فیتہ شاہی کو ریکارڈ کیا گیا۔ میتھانی لکھتے ہیں، ’’افسوس کی بات یہ تھی کہ شری منگل سنگھ اسپانسرز کے ذریعے پیسے جاری کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کے سبب ان پروجیکٹوں میں سے زیادہ تر کو پورا نہیں کر سکے۔‘‘

مثال کے طور پر، رپورٹ بتاتی ہے کہ ۱۹۹۶ میں کپارٹ نے سنگھ کو ایف اے ایس (’آگے کی مدد بند‘) کے تحت رکھ دیا، ’’اس معمولی بات پر کہ انھوں نے ۱۹۹۰ میں ایک پروجیکٹ کے لیے جاری کیے گئے ۶۴۰۰ روپے کے کل استعمال کی رپورٹ پیش نہیں کی۔‘‘

Mangal Singh’s factory where scraps of metal and machines used to build the turbine’s parts lie unused
PHOTO • Apekshita Varshney
Mangal Singh’s factory where scraps of metal and machines used to build the turbine’s parts lie unused
PHOTO • Apekshita Varshney

بھیلونی لودھ میں منگل سنگھ کا ورکشاپ، جہاں انھوں نے اور ان کے ذریعے کام پر رکھے گئے مزدوروں نے ٹربائن بنایا تھا، اب دھات اور مشینوں کے زنگ آلودہ کباڑ کے ساتھ بغیر استعمال کے پڑی ہوئی ہے

’’میں کام جاری رکھنا چاہتا تھا، لیکن اس کے لیے پیسے کا انتظام کرنا ناممکن تھا،‘‘ سنگھ بتاتے ہیں۔ ’’میں نے بے شمار خطوط لکھے اور کئی کوششوں کے بعد ہی میں خود کو ایف اے ایس زمرہ سے ہٹا پانے میں کامیاب ہو پایا۔‘‘ اس نے سنگھ کو ۲۰۰۱ میں کپارٹ کے ذریعے سجنام ندی کے کانجی گھاٹ پر پانچ ٹربائن بنانے کا ایک اور پروجیکٹ حاصل کرنے کے لیے اہل بنایا، یہ گھاٹ بھیلونی لودھ سے ساڑھے تین کلومیٹر دور واقع ہے۔ انھوں نے ۲۰۰۱ سے پہلے ہی وہاں ایک پہیہ لگا دیا تھا۔

پانچ میں سے ہر ایک کے کام میں شامل تھا ایک مناسب جگہ ڈھونڈنا، چیک ڈیم بنانا، ٹربائن بنانا اور نصب کرنا اور اس کی نگرانی کرنا۔ حالانکہ، یہ نیا پروجیکٹ بھی اسی طرح کے تنازعات میں الجھا رہے گا۔

میتھانی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پروجیکٹ کی ۸ء۱۶ لاکھ روپے کی لاگت میں سے، سنگھ کو ’’۲۰۰۳-۲۰۱۱ کے درمیان الگ الگ وقت پر‘‘ صرف ۱۲ لاکھ روپے ہی جاری کیے گئے۔ جب سنگھ نے درخواست کی کہ بقیہ رقم جاری کی جائے، تو ’’کپارٹ نے انھیں متعینہ فارمیٹ پر رسمی پروگریس رپورٹ اور آگے پیسہ جاری کرنے کے لیے شرط کے طور پر آڈٹ رپورٹ جمع کرنے کے بارے میں یاد دلایا۔‘‘

Mangal Singh at the unoperational water turbine at Kanji ghat
PHOTO • Apekshita Varshney
Umro Kushwaha in his house
PHOTO • Apekshita Varshney

بائیں: سنگھ سجنام ندی کے گھاٹ پر، پرانے ٹربائن کی جگہ پر۔ بائیں: اُمرو کشواہا کا کہنا ہے کہ ٹربائن نے ان کے کھیتوں کی سینچائی میں مدد کی؛ انھوں نے اب اپنی زمین پٹّہ پر دے دی ہے

۲۰۰۰ کی دہائی کی شروعات میں، کانجی گھاٹ (جیسا کہ مقامی طور پر اس جگہ کو کہا جاتا ہے) پر ٹربائنوں کو لگانے کا کام رک گیا، اسی لیے میتھانی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’مخالفین کے ذریعے توڑپھوڑ کی گئی... اس حد تک کہ سنگھ کے ذریعے لگایا گیا کئی ٹربائن اور پائپ لائن برباد ہو گئی تھی۔‘‘ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک آدمی، جو پہلے ’’منگل ٹربائن ورکشاپ میں سپروائزر تھا... اس نے مقامی انتظامیہ کی حمایت اور پشت پناہی سے... کانجی گھاٹ سے صرف آدھا کلومیٹر آگے خود اپنا ٹربائن لگا دیا تھا۔‘‘ اس نے اسی مقام پر زیر تعمیر منگل ٹربائن کی ملکیت کو تباہ کر دیا۔

* * * * *

۱۹۸۶ سے شروع ہونے والی تقریباً دو دہائیوں میں، سنگھ کا اندازہ ہے کہ انھوں نے تقریباً ۵۰ ٹربائنوں کو نصب کرنے میں مدد کی، ان میں سے زیادہ تر اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں اور کچھ گجرات میں۔ یہ صرف کپارٹ کے ذریعے ہی نہیں، بلکہ کچھ غیر سرکاری تنظیموں اور ضلع دیہی ترقی ایجنسیوں کے ذریعے بھی کمیشن کیے گئے تھے۔

ہر ایک ٹربائن کو رکھ رکھاؤ اور نگرانی کی ضرورت تھی۔ لیکن سنگھ کہتے ہیں کہ ان کا سارا وقت پیسے کی تلاش اور نوکرشاہی کے ساتھ لمبی لڑائی میں ضائع ہو گیا۔ ٹربائن کا نہ تو استعمال ہوا اور نہ ہی کوئی مرمت۔ اور فنڈنگ کی کمی کا مطلب تھا کہ کچھ سالوں کے بعد، کوئی بھی نیا ٹربائن نصب نہیں کیا جا سکتا۔

دشرارہ کا اصلی منگل ٹربائن تقریباً دو دہائیوں تک کام کرتا رہا، جس کے بعد یہ بھی خراب ہو گیا۔ اس کے پائپ اور حصے چوری ہو گئے۔ ’’میرے لیے مالی اعتبار سے یہ بہت مشکل وقت تھا، جس سے ٹربائن کو بنائے رکھنا ناممکن ہو گیا،‘‘ سنگھ کہتے ہیں۔ ’’میری ساری توانائی اپنے ذریعے بنیادی طور پر بنائے گئے ٹربائن کی دیکھ بھال اور اسے ٹھیک کرنے میں لگنے کے بجائے بیکار کی سرکاری کارروائیوں، رسموں کو پورا کرنے اور فنڈ حاصل کرنے میں لگتی رہی۔‘‘

گاؤں کے لوگ اس نقصان کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ’’اب میں ڈیزل پمپ سے اپنے کھیتوں کو [اکتوبر-مارچ کے زرعی موسم میں] پانی دینے کے لیے ۵۰ ہزار روپے سے زیادہ خرچ کر رہا ہوں، جب مجھے یاد آتا ہے کہ کبھی میں یہ کام مفت میں کیا کرتا تھا،‘‘ بھین کشواہا کہتے ہیں۔

Shivdayal Rajput at one of the sites where the Mangal Turbine was installed. The broken check dam can be still seen
PHOTO • Apekshita Varshney
Shivdayal Rajput at his tuck shop
PHOTO • Apekshita Varshney

بائیں: شو دیال راجپوت اُن مقامات میں سے ایک پر، جہاں منگل ٹربائن نصب کیا گیا تھا۔ دائیں: ’آج کرانے کی دکان چلانا اس سے کہیں زیادہ منافع بخش ہے،‘ وہ کہتے ہیں

ڈیزل کے استعمال سے پانی نکالنے کی قیمت (جس کی ماحولیاتی لاگت بھی ہے)، نے کسانوں کی لاگت کو بڑھا دیا ہے۔ اس نے، اور زرعی پیداوار کی کمی نے، دشرارہ اور بھیلونی لودھ کے بہت سے کسانوں کو کاشت کاری چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان میں سے ایک ۶۰ سالہ شو دیال راجپوت بھی ہیں، جن کی فیملی نے اپنے کھیت کی سینچائی کے لیے کچھ برسوں تک ٹربائن کا استعمال کیا تھا۔ ’’آج کرانے کی دکان چلانا اس سے کہیں زیادہ منافع بخش ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

اُمرو کشواہا (۶۴) کہتے ہیں کہ گیہوں، مٹر اور پھول گوبھی کے جس ۱۵ ایکڑ کھیت کی سینچائی کرنے میں انھیں پہلے ٹربائن سے مدد ملتی تھی، اب اس زمین کو انھوں نے پٹّہ پر دے دیا ہے۔ ان کی بیوی، شیام بائی کہتی ہیں، ’’صرف وہی لوگ کھیتی کر سکتے ہیں جو کوئیں کی کھدائی کا خرچ برداشت کر سکیں یا پانی کے پمپوں کے لیے ڈیزل خرید سکیں۔‘‘

سنگھ کی امیدیں اب میتھانی کی رپورٹ کے اس حصے کے ساتھ ٹکی ہوئی ہیں، جس میں سرکاری ایجنسیوں سے ’’ٹربائنوں کو بحال کرنے، ان کے خلاف الزامات واپس لینے، ان کے بینک کھاتے کو الزام سے بری کرنے اور ان کی ایجاد اور سماج کی بھلائی میں ان کے رول کے لیے انھیں انعام دینے‘‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

حالانکہ، کپارٹ نے ان سفارشوں کو ماننے سے منع کر دیا ہے۔ سنگھ کو بھیجے گئے خط میں دلیل دی گئی ہے کہ ’’میتھانی کی رپورٹ اور اس میں دی گئی سفارشیں شری منگل سنگھ کو گرانٹ کی منظوری کی شرطوں کی جانچ پر مبنی نہیں ہیں جو ان کے ذریعے قبول کی گئی تھیں...‘‘

لیکن سنگھ نے ہار نہیں مانی ہے۔ وہ کپارٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس لڑ رہے ہیں۔ دریں اثنا، بندیل کھنڈ کے خشک کھیتوں میں، ان پہیوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ ان کے گیئر سے اب پاور نہیں نکلتا – شاید یہ پہچانتے ہوئے کہ پاور کی سپلائی صرف دہلی سے ہی ہو سکتی ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Apekshita Varshney

اپیکشتا وارشنے ممبئی کی ایک آزاد مضمون نگار ہیں۔

Other stories by Apekshita Varshney