جس دن میں پیدا ہوئی، میرے والد نے مجھے زندہ دفن کرنے کی کوشش کی تھی،‘‘ منجو سنگھ مجھے بتاتی ہیں۔ ’’جیسے ہی انھیں پتہ چلا کہ ان کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی ہے، وہ اس بغیر کھڑی والے کمرے میں گھس آئے جہاں میری ماں نے مجھے جنم دیا تھا اور وہیں مٹی کے فرش پر گڑھا کھودنے لگے۔ نابھی کو ابھی ابھی کاٹا گیا تھا۔ یہ دیکھ کر میری نانی نے مجھے گود میں اٹھایا اور وہاں سے بھاگ نکلیں۔‘‘

ہریانہ میں اپنے گھر کے باہر بنے باورچی خانہ میں لکڑی کے چولہے کے سامنے بیٹھی ہوئی، سنگھ ناشتہ بنا رہی ہیں۔ سردیوں کا موسم ہے، صبح کے وقت ۳۵ سالہ یہ ماں پوری روانی کے ساتھ اپنی کہانی بیان کرتی جا رہی ہیں اور کسی چیز کو بیچ میں رکاوٹ نہیں بننے دے رہی ہیں۔ سال ۲۰۱۲ ہے اور حال ہی میں ہندوستان کی مردم شماری کی رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں بری خبر یہ ہے کہ ۲۰۰۱ سے ۲۰۱۱ کے درمیان لڑکوں کے مقابلہ لڑکیوں کے پیدا ہونے کی تعداد میں کمی آئی ہے اور لڑکوں کے مقابلے لڑکوں کی تعدادِ پیدائش  ۹۲۷ سے گھٹ کر ۹۱۹ ہو گئی ہے۔


02-manju-in-the-kitchen-and-cooking-the-bread-SC-Manju-fights-to-change-the-script.jpg

میں زندہ بچ گئی، یہ کسی چمتکار سے کم نہیں ہے،‘  لکڑی کے چولہے پر کھانا پکاتے ہوئے، منجو کہتی ہیں


’’میں زندہ بچ گئی، یہ کسی چمتکار سے کم نہیں ہے،‘‘ منجو کہتی ہیں۔ ’’میری ماں کو مجھے زندہ رکھنے کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ میں جب بڑی ہو رہی تھی، تب بھی میرے والد نے مجھے کئی بار مارنے کی کوشش کی۔ انھوں نے پیٹ پیٹ کر مجھے ادھ مرا کر دیا۔ پھر بھی، میں کسی طرح ان سب کو جھیل کر زندہ رہی۔ میں اتنی سخت جان تھی۔‘‘ وہ ہنستی ہیں۔

صادق پور گاؤں میں، سنگھ کی فیملی میں کئی نسلوں سے کسی بھی لڑکی کو زندہ رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ منجو جب ۱۰ سال کی تھیں، تو ان کے والد نے ایک بار ان سے کہا تھا کہ انھوں نے اپنی بہن کو اپنے والد کے ہاتھوں زندہ دفن کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ نوزائیدہ بچی کو مار دینا اس فیملی کی ’روایت‘ تھی۔ ’صرف لڑکوں‘ کو پیدا کرنے کی پالیسی پر اس گھر میں سختی سے عمل ہوتا تھا۔


03-manju's-village-milestone-SC-Manju-fights-to-change-the-script.jpg

منجو کے گاؤں، صادق پور جانے کے راستے پر لگا سنگِ میل


سنگھ کی فیملی میں جو کچھ کئی نسلوں سے چلا آ رہا تھا، وہ کوئی انوکھا یا ایسا واحد واقعہ نہیں تھا۔ ہندوستان کے کئی حصوں میں بدقسمتی سے ثقافتی و اقتصادی وجوہات کی بناپر کئی صدیوں سے بچیوں کا قتل ہوتا آیا ہے۔ اس کا طریقہ الگ الگ علاقوں میں مختلف تھا، لیکن سب ایک جیسے ہی ہیبت ناک تھے، چاہے وہ نوزائیدہ بچی کو اناج کی بھوسی کھلاکر مارنا ہو یا پھر اس کی سانس کی نلی کو کاٹ دینا، اس کے منھ میں چاول ٹھونس کر یا پھر تمباکو کا جوس پلاکر اسے زہر دینا ہو۔ اس کے علاوہ گلا گھونٹنا، بھوکا مارنا، حد سے زیادہ کھانا دے دینا یا پھر زندہ دفن کردینا، جیسا کہ منجو کے ساتھ ہوا تھا اور وہ بچ گئی تھیں، یہ ساری چیزیں بھی عام تھیں۔

اب یہ سارے طریقے شاذ و نادر ہی بچے ہیں، لیکن اب بھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈس کے اعداد و شمار کے مطابق، سال ۲۰۱۴ میں ملک بھر میں نوزائیدہ بچیوں کو قتل کرنے کے ۱۲۱ معاملے سامنے آئے۔ لیکن ہندوستان میں کسی زمانے میں لڑکیوں کو بچپن میں ہی مار دینے کے اتنے واقعات رونما ہونے لگے تھے کہ اس کے خلاف قانون بنانے کی ضرورت پڑی: اس قانون کا نام ہے فیمیل انفینٹی سائڈ پریونشن ایکٹ، ۱۹۷۰۔ اس نے صرف قاتلوں کو مزید دُزدیدہ بنا دیا، جس کی وجہ سے ان کے جرائم کا پتہ لگا پانا کافی مشکل ہو گیا۔

جس چیز نے نوزائیدوں کے قتل کو تقریباً ختم کردیا وہ چیز تھی الٹراساؤنڈ، یہ وہ ٹکنالوجی ہے جو ۱۹۸۰ کی دہائی میں ہندوستان پہنچی۔ الٹراساؤنڈ امیجنگ ٹیکنیکس سے والدین حمل کے اندر ہی اپنے بچے کی جنس کا پتہ لگا سکتے تھے۔ جنس کی شناخت اور ان کی بنیاد پر اسقاطِ حمل، وہ بھی کم پیسوں میں، یہ کاروبار پورے ہندوستان میں خوب پھلا پھولا۔ نوزائیدوں کے قتل کے واقعات میں حالانکہ گراوٹ آئی، لیکن حقیقتاً مزید لڑکیاں یونہی مرتی رہیں۔

سال ۱۹۹۴ میں، ہندوستان نے الٹراساؤنڈ کے دوران بچوں کے جنس کا پتہ لگانے کے خلاف ایک قانون بنایا، جس کا نام تھا ’پری۔کانسیپشن اینڈ پری۔نیٹل ڈائگنوسٹکس ٹیکنیکس ایکٹ‘۔ لیکن یہ قانون، ساتھ ہی ۲۰۰۳ میں اس میں کی گئی ترمیم، دونوں ہی بے اثر رہے: ہندوستان میں نوجوان لڑکوں کے مقابلے نوجوان لڑکیوں کی شرح ہر دس سال میں گھٹتی ہی جا رہی ہے۔

منجو، ہریانہ کے اپنے کونے میں اس سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ناشتہ تیار ہو چکا ہے، اب وہ پوری محنت سے آنگن میں لگے ہینڈ پمپ سے پانی بھر رہی ہیں، تاکہ فیملی کی دن بھر کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ وہ مجھے ہندوستان کے مختلف حصوں میں بچہ کشی سے متعلق روایتوں کے بارے میں بتاتی ہیں:

’’راجستھان میں ایک مشہور گانا ہے، جس میں بیٹی سے کہا جاتا ہے کہ وہ اِس زمین پر واپس نہ لوٹے۔ وہ اس گانے کو بچے کا قتل کرنے کے بعد گاتے تھے۔ اور پنجاب میں، وہ لڑکی کو مٹی کے ایک گھڑے میں گڑ کی ڈلی، تھوڑا سا چنا اور روئی کے دھاگے کے ساتھ بٹھا دیتے تھے۔ اس کے بعد وہ اس گھڑے کو دفن کرتے وقت گانا گاتے تھے ’گڑ کھانئے، پُنّی کَٹّی۔ آپ نا آئی، ویرے نو کلّی‘ (اس گڑ کو کھانا، روئی کو کاتنا۔ واپس مت آنا۔ اگلی بار، اپنے بھائی کو بھیجنا)‘۔‘‘


04-Kids-and-husband-SC-Manju-fights-to-change-the-script.jpg

منجو کے بچے اور شوہر: ’میں اپنے بیٹے کو بھی پیار کرتی ہوں، لیکن میری بیٹی اسپیشل ہے‘


منجو بتاتی ہیں: ’’گُڑ اور چنا بیٹے کی پیدائش پر جشن کے علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اور روئی کا دھاگہ وہ چیز ہے جو ایک بہن اپنے بھائی کی کلائی پر اپنی حفاظت کی درخواست کے طور پر باندھتی ہے۔ ان مردانہ علامتوں کا مطلب ہے بیٹے کی خواہش کرنا۔‘‘

سنگھ امبالہ ضلع میں اپنی برادری کے درمیان صحت اور جنسی حقوق کی علم بردار ہیں؛ وہ (ہماری ملاقات کے وقت) پنجاب کے والنٹری ہیلتھ ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ وہ گاؤوں کی عورتوں کو اس جرم کو روکنے کے لیے بیدار کرتی ہیں، جسے ان کے والد نے انجام دینے کی کوشش کی تھی۔ ’’میں عورتوں کی تشویشوں کو سمجھتی ہوں، انھیں کتنا دباؤ جھیلنا پڑتا ہے یہ بھی جانتی ہوں۔ میں انھیں سبق نہیں پڑھاتی ہوں؛ میں ان سے دوستی کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ تبدیلی لانے کا صرف یہی طریقہ ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں، اپنے گھریلو کام کر نمٹاکر اور دن کے کام کے لیے باہر جاتے ہوئے۔

ہمارا پہلا پڑاؤ، گاؤں کی ایک میٹنگ ہے۔ گاؤں کی عورتوں کا ایک مجمع اکٹھا ہو چکا ہے اور گرما گرم بحث چل رہی ہے۔ بحث کا موضوع ہے بیٹوں اور بیٹوں کے نسبتی ’فائدے‘۔ بہت سی عورتیں اپنی ترجیح کے متعدد اسباب بتاتی ہیں: ’’بیٹیوں کو پالنا کافی خرچیلا ہے۔ ہمیں ان کے جہیز کا بھی انتظام کرنا ہوتا ہے؛‘‘ ’’بیٹے پیسے کماتے ہیں، وہ جہیز لے کر آتے ہیں۔ بیٹیاں صرف اپنے گھروں سے لے جاتی ہیں؛‘‘ ’’ایک بیٹی شادی کرنے کے بعد چلی جاتی ہے لیکن بیٹا ہمیشہ آپ کے پاس رہتا ہے اور آپ کی دیکھ بھال کرتا ہے؛‘‘ ’’لڑکی کو پالنا ٹھیک ویسا ہی ہے جیسے اپنے پڑوسی کے باغ میں پانی دینا۔‘‘


05-mtg-SC-Manju-fights-to-change-the-script.jpg

منجو کے گاؤں، صادق پور جانے کے راستے پر لگا سنگِ میل


اس کے بعد ایک ادھیڑ عمر کی عورت مجمع کے پیچھے سے اپنی گردن اوپر کرکے تیز آواز میں بولتی ہے: ’’آپ میں سے وہ سبھی لوگ جنہیں صرف بیٹے چاہئیں، کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ بچے کون پیدا کرے گا؟ کیا مرد بچے پیدا کر سکتے ہیں؟ ہمیں لڑکیوں کی بھی ضرورت ہے۔ لڑکیاں عظیم ہیں! مجھ سے پوچھو، میری دو بیٹیاں ہیں۔‘‘ سارا ماحول خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ خوش ہونے کی بہت کم وجہ ہے۔ سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق، ہریانہ میں صفر سے ۶ سال کی عمر کے ۱۰۰۰ لڑکوں پر لڑکیوں کی تعداد صرف ۸۳۴ ہے۔ اس ریاست میں اتنی لڑکیاں موجود نہیں ہیں کہ نوجوان مرد ان سے شادیاں کر سکیں۔ ہریانہ کے تمام گاؤوں اب دلہنوں سے خالی ہیں۔ غیر شادی شدہ مرد پریشان ہیں، بھگوان کو خوش کرنے سے لے کر دیگر ریاستوں سے دلہنیں خریدنے اور مقامی سیاست دانوں سے ووٹ کے بدلے دلہنیں دلانے تک کا مطالبہ یہ لوگ کر رہے ہیں۔

سنگھ کہتی ہیں، ’’میری جب شادی ہوئی، تو مجھے جنس کی بنیاد پر اسقاطِ حمل کا پتہ چلا۔ میرے پاس یہ موقع تھا۔ یہ تقریباً ہر گھر میں ہو رہا تھا۔ عورتوں پر اسقاطِ حمل کرانے کے لیے بے انتہا دباؤ تھا۔ بیٹے کی خواہش میں بہت سی عورتوں کو پانچ، چھ، یہاں تک کہ ۱۰ بار اسقاطِ حمل کرانا پڑتا تھا۔ یہ ایک جسمانی اور ذہنی ایذا رسانی ہے۔ میں نے بڑی مضبوطی کے ساتھ یہ بات ٹھانی کہ مجھے دیگر عورتوں کے ساتھ مل کر اس قتل کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔ یہ میرے روح کی آواز تھی۔


06-manju's-constituency-is-women-SC-Manju-fights-to-change-the-script.jpg

مردم شماری ۲۰۱۱ کے اعداد و شمار کے مطابق، ہریانہ میں صفر سے ۶ سال کی عمر کے بچوں میں ہر ۱۰۰۰ لڑکے کے مقابلے لڑکیوں کی تعداد صرف ۸۳۴ ہے


’’اگر دوا کا بھی استعمال ٹھیک ڈھنگ سے نہ کیا جائے، تو وہ زہر بن سکتی ہے،‘‘ سنگھ مجھ سے کہتی ہیں۔ ’’الٹراساؤنڈ ٹکنالوجی کا مقصد تو یہ تھا کہ اس سے ماؤں اور بچوں کی صحت کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔ لیکن سوسائٹی نے اسے قتل کرنے والے آلہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ڈاکٹروں کا بھی یہی حال ہے۔ بچے کی جنس کے بارے میں بتانا غیر قانونی ہے اور جنس کی بنیاد پر اسقاطِ حمل بھی غیر قانونی ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ ہوتا ہے، ہر جگہ کی کلینک میں یہ کام ہوتا ہے۔ اور یہ بچہ کشی کے مقابلے اتنا آسان ہے کہ لوگ اسے برا نہیں سمجھتے۔‘‘

گاؤں گاؤں گھومنے، میٹنگوں سے خطاب کرنے، ڈاٹا جمع کرنے، حاملہ عورتوں سے بات کرنے، اور ان ماؤں سے بات کرنے کے بعد جنہوں نے حال ہی میں کسی لڑکی کو جنم دیا ہے، دن کے اخیر میں منجو کے لیے اب گھر لوٹنے کا وقت ہے۔ سورج غروب ہو رہا ہے اور سرد ہوا چل رہی ہے۔ ان کی بیٹی اسکول سے گھر آ چکی ہے اور اپنی ماں کے آنے کی تیاری میں مصروف ہے۔ گرم گرم چائے اور بسکٹ ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔


07-evening-fog-SC-Manju-fights-to-change-the-script.jpg

اس شام کو صادق پور لوٹتے وقت سرد ہوا چل رہی ہے؛ منجو کے گھر میں، ان کے بیٹی گرم گرم چائے کی پیالی کے ساتھ ہمارا انتظار کر رہی ہے


اپنی بیٹی کے بال کو سہلاتے ہوئے، سنگھ اس کے کام کی تعریف کرتی ہیں اور پھر میری طرف پلٹ کر مجھ سے پوچھتی ہیں، ’’کیا آپ کے پاس کوئی بیٹی ہے؟‘‘ ’’ہاں،‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’پھر،‘‘ وہ کہتی ہیں، ’’آپ جانتی ہوں گی کہ انھیں قیمتی کہنے سے میری کیا مراد ہے۔ جب میں پہلی بار حاملہ ہوئی تھی، تو میں نے لڑکی کے لیے دعا کی تھی۔ اور بھگوان نے میری سن لی۔ میں اپنے بیٹے سے بھی پیار کرتی ہوں، لیکن میری بیٹی اسپیشل ہے۔‘‘

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Svati Chakravarty
[email protected]

Svati Chakravarty is an independent writer, researcher and director. A communications practitioner since 1986, she has focused on issues related to social justice

Other stories by Svati Chakravarty