سدھنوا دیش پانڈے کی آواز میں یہ نظم سنیں

Illustration: Labani Jangi, originally from a small town of West Bengal's Nadia district, is working towards a PhD degree on Bengali labour migration at the Centre for Studies in Social Sciences, Kolkata. She is a self-taught painter and loves to travel.
PHOTO • Labani Jangi

خاکہ: لبنی جنگی بنیادی طور پر مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبہ کی رہنے والی ہیں، اور فی الحال کولکاتا کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز سے بنگالی مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ خود سے سیکھی ہوئی ایک مصور ہیں اور سفر کرنا پسند کرتی ہیں۔

مزدور ہوں میں، مجبور نہیں

میں بھی انسان ہوں

فرق صرف اتنا ہے کہ میں غریب ہوں

میں نے اپنا گھر چھوڑا، تاکہ آپ کی اونچی عمارتیں کھڑی ہو سکیں

جس گھر میں آج آپ بیٹھے ہیں

انہی ہاتھوں سے میں نے، اس گھر کے لیے اینٹ پتھر اٹھائے ہیں

میں بھی ملک کی ترقی کا حصہ دار ہوں

دن رات ایک کر دیے میں نے محنت کرنے میں

کوئی ایک چیز بتائیں جو آپ نے

میری محنت کے بغیر بنتے دیکھی ہو

میٹرو ہو، بڑے آفس ہوں، یا بڑی سڑک ہو

سب میں میرے پیسنے کی مہک ہوگی

میں بھی اپنے تمام ساتھیوں جیسا با اختیار تھا

ٹھیلے پر سبزی بیچنے والا

یا سڑک کنارے موموز بیچنے والا بھیا

آپ کے گھر میں کام کرنے والی بائی بھی ہماری ہی ساتھی ہیں

غریب ہیں، مگر با اختیار ہیں

ہم سارے اپنی محنت سے پیٹ پالتے تھے

آج آپ نے ہمارے پیٹ پر لات نہیں ماری

ہماری عزت نفس پر طمانچہ مارا ہے

ہمیں آپ لوگوں نے جانے دیا

ہمیں، آپ لوگوں نے مرنے دیا

سہارا جو دینا تھا، ہمیں بے سہارا بنا دیا

میں بھوک سے نہ مر جاؤں، اس لیے گھر جانے کی سوچی

آپ نے کوئی انتظام نہیں کیا

ریل اور بسیں، سب بند کر دیں

میں نے ٹرین کی پٹری کا سہارا لیا، تاکہ گھر پہنچ جاؤں

جب میں تھک کر، تھوڑی دیر آرام کرنے کے لیے لیٹا

تو آپ نے بند ٹرین کو میری لاشوں کے اوپر ہی شروع کر دیا

ایسا کیوں کیا آپ نے؟ صرف اس لیے کہ میں غریب ہوں

آپ تو نظارہ دیکھ ہی رہے ہوں گے

میں اور میرے ساتھی، ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر ہیں

ترس تو آتا ہی ہوگا

دکھ تو ہوتا ہی ہوگا

شاید، آنکھیں بھی بھر آتی ہوں گی

مگر، گھبرائیے گا نہیں

مزدور ہوں میں، مجبور نہیں

انسان ہوں، بھلے غریب ہی سہی

جب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، تب میں واپس ضرور آؤں گا

اگر میں واپس نہیں آؤں گا، تو ترقی کیسے ہوگی

اونچی عمارتیں کیسے کھڑی ہوں گی

میٹرو سے دیش، کیسے جلدی بھاگے گا

میں آؤں گا، سڑک بناؤں گا

پل بناؤں گا، مکان بناؤں گا

اس دیش کو اپنے ہاتھوں سے آگے بڑھاؤں گا

مزدور ہوں میں، مجھے آپ بس عزت دیں

میں بھی انسان ہوں، بھلے غریب ہی سہی

آڈیو: سدھنوا دیش پانڈے جن ناٹیہ منچ کے ایک اداکار اور ڈائرکٹر، اور لیفٹ ورڈ بکس کے ایڈیٹر ہیں۔

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Anjum Ismail

انجم اسماعیل موہالی، چنڈی گڑھ میں مقیم ایک آزاد قلم کار ہیں۔

Other stories by Anjum Ismail