’’جب سے کورونا پھیلنا شروع ہوا ہے، تب سے کوچیا [بچولیا] نے ہمارے گاؤں میں آنا بند کر دیا ہے،‘‘ جمنا بائی منڈاوی کہتی ہیں۔ ’’اس بات کو تین ہفتے ہو گئے جب وہ پچھلی بار ٹوکریاں خریدنے آیا تھا۔ تو ہم کچھ بیچ نہیں پا رہے ہیں، اور ہمارے پاس کچھ بھی خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘

چار بچوں والی ایک بیوہ، جمنا بائی، دھمتری ضلع کے نگری بلاک کے کوہابہرا گاؤں میں رہتی ہیں۔ تقریباً ۴۰ سال کی، وہ کمار درج فہرست ذات کی آدیواسی ہیں، جسے مرکزی وزارتِ داخلہ کے ذریعے چھتیس گڑھ کی خاص طور سے کمزور قبائلی برادری (پی وی ٹی جی) میں شامل کیا گیا ہے۔ گاؤں کے اس حصہ میں ان کے جیسے اور بھی ۳۶ کمار کنبے رہتے ہیں۔ ان کی طرح، باقی سبھی لوگ آس پاس کے جنگلوں سے بانس جمع کرکے اور ٹوکریاں بُن کر روزی روٹی کماتے ہیں۔

جس ’کوچیا‘ کی وہ بات کر رہی ہیں، وہ جمنا بائی اور ٹوکریاں بُننے والے باقی لوگوں کے لیے بھی کافی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ بچولیے، یا تاجر ہیں، جو ہر ہفتہ ایک بار اس گاؤں میں ٹوکریاں خریدنے آتے ہیں، جن کو پھر وہ شہر کے بازاروں یا گاؤں کے ہاٹوں میں خوردہ فروخت کرتے ہیں۔

جلد ہی انہیں کوہابہرا آئے ہوئے ایک مہینہ ہو جائے گا – انہوں نے کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے بعد سے یہاں آنا بند کر دیا ہے۔

جمنا کے چار بچے ہیں – لالیشوری (۱۲)، جس نے ۵ویں جماعت کے بعد سے اسکول جانا بند کر دیا، تلیشوری (۸)، لیلا (۶) اور لکشمی (۴)۔ ان کے شوہر کی موت چار سال پہلے ڈائریا (دست) کی وجہ سے ہو گئی تھی، جب وہ تقریباً ۴۵ سال کے تھے اور اپنے پیچھے بیوی اور بچوں کو معاشی تنگی کی اس حالت میں چھوڑ گئے۔ یہ لاک ڈاؤن نہ صرف ٹوکریوں سے ہونے والی ان کی کمائی پر اثر ڈال رہی ہے، بلکہ دوسرے ذرائع سے ہونے والی کمائی پر بھی۔

جنگل میں یہ مہوا کے پھولوں کا موسم ہے (جس سے مقامی شراب بنتی ہے) – کساد بازاری کے وقت یہاں کے آدیواسیوں کے لیے یہ آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔

Top row: Samara Bai and others from the Kamar community depend on forest produce like wild mushrooms and  taramind. Bottom left: The families of Kauhabahra earn much of their a living by weaving baskets; even children try their hand at it
PHOTO • Purusottam Thakur

اوپر بائیں: سمری بائی (آگے کے حصہ میں) اور جمنا بائی، کوہابہرا گاؤں میں۔ اوپر دائیں: سمری بائی اپنے آنگن میں، جہاں دھوپ میں مہوا کے پھول سُکھائے جاتے ہیں۔ نیچے: جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے تب سے جمنا بائی نے ایک بھی ٹوکری نہیں بیچی ہے

’’بازار اور ہفتہ واری ہاٹ کورونا کی وجہ سے بند ہے،‘‘ جمنا بائی کہتی ہیں۔ ’’تو ہم جو مہوا کے پھول جمع کرتے ہیں، ان کو بھی [صحیح قیمت پر] نہیں فروخت کر پا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پیسے کی تنگی کے سبب اپنے لیے کچھ خرید بھی نہیں پا رہے ہیں۔‘‘

جمنا بائی بیوہ پنشن کی حقدار ہیں – چھتیس گڑھ میں ۳۵۰ روپے ماہانہ – لیکن ان کو کبھی اس اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا اور اس لیے انہیں نہیں ملتی۔

چھتیس گڑھ حکومت نے اپنے وعدہ کے مطابق، ریاست بھر کے بی پی ایل (خط افلاس سے نیچے کے) کنبوں کو دو مہینے کا چاول – پوری طرح مفت اور مکمل راشن کوٹہ – دینے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ ان سب کو مفت اور پہلے سے ہی ۷۰ کلوگرام چاول (۳۵ کلوگرام ہر ماہ کے حساب سے) مل چکے ہیں۔ ان کو نمک کے چار پیکٹ (ہر ماہ دو) بھی مفت میں دیے گئے ہیں۔ بی پی ایل کنبوں کو چینی جیسی چیزیں مالی امداد یافتہ قیمتوں (۱۷ روپے فی کلو) کے حساب سے ملتی ہیں، لیکن انہیں اس کے لیے روپے دینے پڑتے ہیں۔ انہیں سب چیزوں کی بدولت جمنا بائی کا گھر چل رہا ہے۔

لیکن آمدنی پر پوری طرح سے روک لگ گئی ہے اور باقی ضروری سامان خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ سرکار کی طرف سے آنے والی چیزوں میں سبزیاں شامل نہیں ہیں۔ اور کچھ بہت ہی زیادہ غریب کنبوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں۔ لاک ڈاؤن کی مدت بڑھ جانے کی وجہ سے اس الگ تھلگ گاؤں میں رہنے والے کمار کنبوں کے لیے چیزیں اور بھی مشکل ہوتی جائیں گی۔

جمنا بائی اور ان کی فیملی لکڑی، مٹی اور چکنی مٹی کے کھپریل سے بنے گھر میں ان کے سسرال والوں کے ساتھ رہتی ہے، جو گھر کے پیچھے کے حصہ میں رہتے ہیں (ان کا اپنا راشن کارڈ ہے)۔

’’ہم ٹوکریاں بناکر اور جنگلی پیداوار بیچ کر بھی اپنا گھر چلاتے ہیں،‘‘ سمری بائی، ان کی ساس، کہتی ہیں۔ ’’لیکن سرکاری اہلکاروں نے ہمیں کورونا کی وجہ سے جنگل میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ تو میں وہاں نہیں جا رہی ہوں، لیکن میرے شوہر پچھلے کچھ دنوں سے مہوا کے پھول اور سوکھی لکڑیاں جمع کرنے جا رہے ہیں۔‘‘

Left: Sunaram Kunjam sits alone in his mud home; he too is not receiving an old age pension. Right: Ghasiram Netam with his daughter and son; his wife was gathering mahua flowers from the forest – they are being forced to sell the mahua at very low rates
PHOTO • Purusottam Thakur

اوپر کی لائن میں: سمری بائی اور کمار قبیلہ کے باقی لوگ جنگلی پیداوار جیسے جنگلی مش روم اور املی پر منحصر رہتے ہیں۔ نیچے کی لائن: کوہا بہرا کے لوگ زیادہ تر پیسے ٹوکریاں بُن کر کماتے ہیں، بچے بھی اپنا ہاتھ آزماتے ہیں

’’اگر مہوا کو روزانہ وقت پر جمع نہ کیا جائے، تو اسے جانور کھا جائیں گے یا پھر وہ خراب اور برباد ہو سکتا ہے،‘‘ سمری بائی کہتی ہیں۔ مہوا کو ایک آدیواسی نقدی فصل مانا جاتا ہے اور اسے ہفتہ واری ہاٹوں میں بیچا جاتا ہے۔ اس برادری کو ٹوکریاں بیچنے کے علاوہ، اس سے جو بھی پیسہ ملتا ہے، وہ ان کے ذاتی اخراجات کا بہت بڑا حصہ ہے۔

’’پچھلی بار جب کوچیا آیا تھا، تب میں نے اسے ٹوکریاں بیچ کر ۳۰۰ روپے کمائے تھے۔ اور ان روپیوں کا استعمال میں نے تیل، مسالے، صابن اور دیگر چیزیں خریدنے میں کیا تھا،‘‘ سمری بائی کہتی ہیں۔ ’’لیکن جب سے کورونا پھیلا ہے، ہماری ضرورت کی چیزوں کی قیمت دو گنی ہو گئی ہے۔‘‘

سمری بائی کے چاروں بچوں – جمنا بائی کے شوہر سیا رام کو ملا کر – کا انتقال ہو چکا ہے۔ وہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے بہت جذباتی ہو جاتی ہیں۔ وہ صاف طور پر ۶۵ سال سے اوپر کی لگتی ہیں اور ان کو ۳۵۰ روپے کی بزرگی کا پنشن ملنا چاہیے تھا – لیکن اس اسکیم میں ان کا اندراج نہیں کیا گیا ہے، اس لیے ان کو نہیں ملتا۔

۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق، پورے ہندوستان میں کل ۲۶۵۳۰ ہی کمار درج فہرست ذات کے لوگ ہیں (۱۰۲۵ کے صحت مند مرد و عورت تناسب کے ساتھ)۔ ان میں سے کئی سارے، تقریباً ۸۰۰۰، بغل کی ریاست اوڈیشہ میں بھی رہتے ہیں۔ لیکن، اس ریاست میں انہیں آدیواسی بھی نہیں مانا جاتا، پی وی ٹی جی منظوری تو دور کی بات ہے۔

Left: Sunaram Kunjam sits alone in his mud home; he too is not receiving an old age pension.
PHOTO • Purusottam Thakur
Ghasiram Netam with his daughter and son; his wife was gathering mahua flowers from the forest – they are being forced to sell the mahua at very low rates
PHOTO • Purusottam Thakur

بائیں: سنا رام کنجم اپنے مٹی کے گھر میں اکیلے بیٹھے ہوئے، انہیں بزرگی کا پنشن نہیں ملتا۔ دائیں: گھاسی رام نیتم اپنی بیٹی اور بیٹے کے ساتھ؛ ان کی بیوی جنگل میں مہوا کے پھول چُن رہی تھیں – ان لوگوں کو بہت ہی کم قیمتوں میں مہوا بیچنا پڑ رہا ہے

کوہا بہرا میں ہی، ایک دوسرے بزرگ، سنا رام کُنجم، جن کی عمر ۶۵ سال سے زیادہ ہے، کہتے ہیں کہ انہیں بھی بزرگی کا پنشن نہیں ملتا ہے۔ میں بوڑھا اور کمزور ہوں اور کام کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میں اپنے بیٹے کی فیملی پر منحصر ہوں،‘‘ وہ اپنے مٹی کے گھر میں ہمیں بتاتے ہیں۔ ’’میرا بیٹا ایک یومیہ زرعی مزدور ہے، لیکن ان دنوں اسے کوئی کام نہیں مل پا رہا ہے۔ تو آج وہ اور میری بہو دونوں جنگل میں مہوا کے پھول جمع کرنے گئے ہیں۔‘‘

ان آدیواسیوں کو بہت ہی کم قیمتوں پر مہوا بیچنا پڑ رہا ہے – ایک ناگہانی فروخت۔ ’’اب ارد گرد کے گاؤوں کے لوگوں کے پاس ہماری ٹوکریاں خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، اس لیے ہم نے انہیں بنانا بند کر دیا ہے،‘‘ ۳۵ سالہ گھاسی رام نیتم کہتے ہیں۔ ’’میں اور میری بیوی دونوں مہوا جمع کرتے ہیں۔ چونکہ ابھی سارے ہاٹ بند ہیں، میں نے ۲۳ روپ فی کلوگرام کے حساب سے ۹ کلو مہوا پاس ہی کی ایک دکان میں بیچا۔‘‘ ہاٹ میں انہیں ۳۰ روپے فی کلوگرام تک مل جاتے تھے۔

گھاسی رام کے پانچ بچے ہیں، جن میں سے ایک، مایاوتی نے ۵ویں جماعت کے بعد اسکول چھوڑ دیا تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مایاوتی پڑھائی چھوڑ دے۔ ’’میں نے بہت کوشش کی، لیکن مایاوتی کو آدیواسی طلبہ کے کسی بھی رہائشی اسکول میں داخلہ نہیں مل پایا۔ اس لیے اس نے آگے پڑھنا چھوڑ دیا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ان کے جیسے اور بچوں کو بھی داخلہ نہیں مل پایا کیوں کہ وہ لوگ اپنا کاسٹ سرٹیفکٹ نہیں دکھا پائے۔

یہاں کے لوگ – پہلے سے ہی کم غذائیت کی وجہ سے کمزور، غریبی کی دلدل میں پھنسے ہوئے، کئی ساری سماجی خدمات اور فلاحی وسائل سے محروم – اس مہاماری کے دوران خاص طور سے کمزور ہیں۔ اس لاک ڈاؤن نے ان کے معاش کی کڑی کو توڑ دیا ہے، حالانکہ کئی اس کڑی کے حصوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں – وہ لوگ مہوا کے پھول ڈھونڈنے جنگل میں جا رہے ہیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Purusottam Thakur

پرشوتم ٹھاکر ایک فری لانس جرنلسٹ، فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں، جو چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور ۲۰۱۵ میں پاری فیلو رہے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur