سانگا شیتی کرو کشی، کرو کشی؟

پوٹاچی کھلگی بھرو کشی، بھرو کشی...؟

مجھے بتائیے کھیتی کیسے کروں؟ مجھے بتائیے کیسے؟

میں اپنے پیٹ کا گڑھا کیسے بھروں؟ مجھے بتائیے کیسے؟

یہ ایسے سوال ہیں جن کا سامنا ہندوستان کے بحران زدہ کسان روزانہ کرتے ہیں۔ لیکن پوشندہ – جو دنیا کو کھلاتا ہے – کی طرف سے کون سننا چاہے گا، گلوکار اور موسیقار اجیت شیلکے پوچھتے ہیں۔

’’میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کسانوں کو کیسے اپنی فصلوں کی مناسب قیمت پانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ایم ایس پی [کم از کم امدادی قیمت] کے وعدے اور قرض معافی کا استعمال صرف سیاسی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے،‘‘ ۲۲ سالہ اجیت کہتے ہیں، جو مہاراشٹر کے سولاپور ضلع کے بارشی شہر کے انجینئرنگ کالج میں ایک طالب علم ہیں۔

Ajit Shelke or ‘Rapboss’ sings powerfully in this Marathi rap song about the acute distress of farmers

گلوکار-موسیقار اجیت شیلکے: ’جو دنیا کو کھلاتا ہے، آج وہ بھوکا سو گیا ہے‘

اجیت کی فیملی کے پاس عثمان آباد ضلع کے کلمب تعلقہ کے شیلکا-دھانورا گاؤں میں آٹھ ایکڑ زمین ہے، جس پر وہ سویابین اور چنا اُگاتے ہیں۔ بارش ہونے پر، وہ گنّے کی بھی کھیتی کرتے ہیں۔ ’’میں نے اپنے والد کو ہماری تعلیم کے لیے لیے گئے قرض کو ادا کرنے کے لیے جدوجہد کرتے دیکھا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’برسوں تک، ہم نے مشکل وقت کا سامنا کیا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ شہروں میں رہنے والے بہت سے لوگ کسانوں کی یومیہ جدوجہد کے تئیں غیر حساس ہیں۔ ’’بازار میں لوگ، سبزیاں بیچ رہے غریب مردوں اور عورتوں سے قیمت کو لے کر بحث کرنے لگتے ہیں۔ جب کہ وہی لوگ بڑے شاپنگ مال سے بغیر کسی مول بھاؤ کے مہنگے سامان خریدیں گے۔‘‘

اس ویڈیو کو بنانے والے، چیتن گروڑ، ۱۰ سال سے زیادہ عرصے تک مراٹھی تفریحی چینلوں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ انھوں نے کچھ سال پہلے اپنا خود کا پروڈکشن ہاؤس قائم کیا اور نوجوان دیہی فنکاروں کو موقع دے رہے ہیں۔ چیتن کے والدین بھی کسان ہیں۔

ویڈیو دیکھیں: ’سانگا شیتی کرو کشی – مجھے بتائیے کہ کھیتی کیسے کروں‘

सांगा शेती करु कशी?

जनता सारी झोपली का?
शेतकऱ्यावर कोपली का?
आत्महत्येची कारणे त्याच्या
सांगा तुम्ही शोधली का?

शोभली का तुम्हाला
भाकरी त्याचा कष्टाची?
दोन रूपयाच्या भाजीसाठी
वाद केला त्याच्याशी

चार घोट पानी पिऊन
खेटर घेतलं उशाशी
पोशिंदा तो जगाचा
आज झोपला रं उपाशी
 
सांगा शेती करु कशी?
करु कशी?
पोटाची खळगी भरु कशी?
भरु कशी?
 
कांद्याला भाव नाय
उसाला भाव नाय
तुरीला भाव नाय
खाऊ काय?
 
आलेल्या पैश्यात
उधारी दिली मी
सावकाराला देऊ काय?
 
पोराच्या शाळेची
फीस नाय भरली
पोराला घरीच
ठेवू काय?
 
एकच दिसतो
पर्याय आता
गळ्याला फास मी
लावू काय?
 
व्यापाऱ्याची मनमानी
सरकारची आणीबाणी
शान के साथ यांचा थाट
कष्टकऱ्याच्या डोळ्यात पानी
 
पानी कसं शेताला देऊ
वीज दिली रात्रीची
रात्रीच्या त्या काळोखात
भीती विंचू सापाची
 
सांगा शेती करु कशी?
करु कशी?
पोटाची खळगी भरु कशी?
भरु कशी?

मेहनत करुन पिकवलेल्या
मालाला आमच्या कमी भाव
सरकार जरी बदललं तरी
कागदावरच हमी भाव
 
भेगा पडल्या धरणीमायला
दुष्काळी झाली परिस्थिती
सर्वे, दौरे खोटे सगळे
प्रचारासाठीची उपस्थिती

जिवाच्या पल्याड जपलेली
माझी सर्जा-राजा उपाशी
उपाशी त्यांना ठेऊन सांगा
भाकरी मी खाऊ कशी

प्रश्न माझा, उत्तर द्या
सांगा शेती करु कशी?

सांगा शेती करु कशी?
करु कशी?
पोटाची खळगी भरु कशी?
भरु कशी?

مجھے بتائیے کھیتی کیسے کروں؟

کیا سبھی لوگ سو رہے ہیں؟
کیا وہ کسان سے ناراض ہیں؟
بتائیے، کیا آپ نے ان اسباب کو تلاش کیا ہے
جو اُن کی خودکشی کی وجہ بنے؟

کیا یہ آپ کے لیے مناسب تھا
محنت سے کمائی گئی ان کی روٹی کو چھیننا؟
جب آپ نے ان کے ساتھ بحث کی
دو روپے قیمت کی سبزیاں خریدنے کے لیے

چار گھونٹ پانی پیتے ہیں
چپّلوں پر اپنا سر رکھتے ہیں
میں اپنے پیٹ کا گڑھا کیسے بھروں؟
مجھے بتائیے کیسے؟
 
مجھے بتائیے کھیتی کیسے کروں؟
مجھے بتائیے کیسے؟
میں اپنے پیٹ کا گڑھا کیسے بھروں؟
مجھے بتائیے کیسے؟
 
پیاز کی اچھی قیمت نہیں ملتی
گنّے کی اچھی قیمت نہیں ملتی
ارہر معمولی قیمت پر فروخت ہوتی ہے
مجھے بتائیے کیا کھاؤں؟
 
تھوڑا پیسہ میں نے کمایا
اپنے لین داروں کے پاس گیا
میں پیسہ اُدھار دینے والے کو کیا دوں؟
 
اپنے بیٹے کی اسکول فیس
مجھے ادا کرنی ابھی باقی ہے
کیا میں اسے اسکول سے باہر نکال لوں
اور بس اسے گھر پر رہنے دوں؟
 
میں دیکھ رہا ہوں کہ اب
چُننے کے لیے صرف ایک ہی متبادل بچا ہے
کیا میں اپنے گلے میں
پھانسی کا پھندہ لگا لوں؟
 
تاجر کا جنون
سرکار کی ایمرجنسی
ان کا طرزِ زندگی آسائش بھرا ہے
مزدور کی آنکھوں میں آنسو ہیں
 
میں اپنے کھیت میں پانی کیسے ڈالوں؟
بجلی صرف رات کو ہی رہتی ہے
رات کے اندھیرے میں
سانپوں اور بچھوؤں کا ڈر
 
مجھے بتائیے کھیتی کیسے کروں؟
مجھے بتائیے کیسے؟
میں اپنے پیٹ کا گڑھا کیسے بھروں؟
کیسے بھروں؟

کڑی محنت سے تیار کی گئیں
ہماری فصلیں کم قیمت پر فروخت ہوتی ہیں
سرکار بدل جانے کے بعد بھی
ایم ایس پی صرف کاغذ پر ہے
 
دھرتی ماتا تپ رہی ہے، سوکھ چکی ہے
حالات قحط کے ہیں
سروے، دورہ، سب ایک دکھاوا ہے
وہ صرف انتخابی مہم ہیں

جن کی میں نے اپنی جان سے زیادہ پرواہ کی
میرے سرجا-راجا آپ بھوکے مر رہے ہیں
مجھے بتائیے، انھیں بھوکا رکھ کے
میں بھاکری کیسے کھا سکتا ہوں؟

یہ میرا سوال ہے
مجھے بتائیے کھیتی کیسے کروں؟

مجھے بتائیے کھیتی کیسے کروں؟
مجھے بتائیے کیسے؟
میں اپنے پیٹ کا گڑھا کیسے بھروں؟
مجھے بتائیے کیسے؟

اس گانے کے لیے YouTube پیج سے: या गीताचा (शेतकऱ्यांच्या भावनांचा) (یہ گانا اور کسانوں کے جذبات کا استعمال کسی بھی سیاسی پارٹی کو اپنے فائدے کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔)

اس ویڈیو کو فنکار رَیپ باس (اجیت شیلکے) اور چیتن گروڑ پروڈکشنز کے بانی چیتن گروڑ کی اجازت سے دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔

کور فوٹو: پروشوتم ٹھاکر/پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Rapboss and Chetan Garud Productions