یہ پرانا ہے اور یہ نیا ہے۔ یہ قدیم ہے اور یہ عصری۔ عظیم تاریخی اہمیت کا، پھر بھی ایک بہت ہی جدید معنویت کے ساتھ۔ پُڈھو منڈپم مختصر شکل میں مدورئی ہے۔ ایک ۳۸۴ سال پرانا تاریخی ڈھانچہ جس میں ایک شاپنگ کامپلیکس بھی ہے، یہ اس قدیم شہر کی تلخیص کی ایک طرح سے علامت ہے، جس کی برابری کوئی دیگر حصہ نہیں کر سکتا۔ تیز، چمکیلے کپڑے پر کام کرنے والے پوشاک ساز سے لے کر روایتی برتن بیچنے والی دکانوں تک، اس مقام کے کئی رنگ ہیں۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں تمل ناڈو کے سب سے اہم ہندو مندر کے تہواروں میں سے ایک میں بڑی تعداد میں آنے والے بھکتوں کے لیے کپڑے کی سلائی ہوتی ہے۔ اور جہاں شہر کے کل ۱۵۰ پوشاک سازوں میں سے ایک تہائی سے زیادہ مسلم ہیں۔ یہ جن مذہبی لوگوں کے لیے لباس تیار کرتے ہیں، وہ زیادہ تر مدورئی کے ارد گرد کے دیہی علاقوں کے ہندو ہیں۔

پوشاک سازوں سے ان کے مسلمان ہو کر ہندو تہوار کے لیے پوشاک کی سلائی کرنے کے بارے میں پوچھنے پر، وہ ان کی اندیکھی کر دیتے ہیں۔ ’’یہ شمالی ہندوستان نہیں ہے، میڈم،‘‘ عامر جان کہتے ہیں۔ ’’ہم کئی نسلوں سے ایک ساتھ رہتے آ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے رشتہ داروں کے طور پر مخاطب کرتے ہیں۔ یہاں کچھ غلط کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

’’اس بارے میں اتنا حیران ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘ پڈھو منڈپم کے ایک اور پوشاک ساز، ۴۲ سالہ مبارک علی پوچھتے ہیں۔ ’’ہم کئی نسلوں سے ایسا کرتے آ رہے ہیں۔‘‘

Pudhu Mandapam entrance
PHOTO • People's Archive of Rural India
Pudhu Mandapam
PHOTO • People's Archive of Rural India

تقریباً چار صدی پرانا پڈھو منڈپم (بائیں: داخلی دروازہ؛ دائیں: اس کے ایک گلیارہ میں) ایک عصری شاپنگ کامپلیکس ہے

’منڈپم‘، جس کا تمل میں لفظی معنی ہے مندر کا برآمدہ، عام طور پر شادی کے ہال، یا سماجی و تہذیبی یا مذہبی سرگرمی کے لیے ستون والے ڈھانچوں کے حوالے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مدورئی کے وسط میں تاریخی میناکشی امّن مندر کے مشرقی ٹاور کے سامنے واقع ہے۔

یہ عجیب لگ سکتا ہے کہ تقریباً چار صدی پرانی اس عمارت کے نام میں ’پڈھو‘ شامل ہے، جس کا تمل میں مطلب ہے ’نیا‘۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ سال ۱۶۳۵ میں، مدورئی کے راجا تیروملائی نائیکر نے وسنت تہواروں کو منانے کے لیے اس کی تعمیر کرائی تھی۔

اس کا مذہبی و ثقافتی کردار دو صدیوں کے گہرے سیاسی پس منظر کے ساتھ آسانی سے میل کھاتا ہے، جس کے زیادہ تر وقت میں مدورئی کے کنٹرول کا مطلب تھا تمل علاقے پر کنٹرول۔ ابھی حال ہی میں – پچھلے ہفتہ ہی – مدورئی لوک سبھا انتخابی حلقہ میں ’سیاسی‘ پس منظر کی جھلک آل انڈیا دراوڑ مونیتر کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے وی وی آر راج ستین اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسوادی) کے سو وینکٹیشن کے درمیان لڑائی میں نظر آئی۔ اپنی تمام مذہبی اہمیتوں کے لیے، مدورئی سیٹ کو تین بار لیفٹسٹوں نے جیتا ہے۔

آج، ۲۲ اپریل کو، ثقافتی پروگرام کا آخری دن ہے، جسے ’اژگر تہوار‘ کہا جاتا ہے – جس میں پوشاک ساز اہم رول نبھاتے ہیں – سیاسی جشن میں ۱۸ اپریل کو ووٹنگ ختم ہونے کے ۱۰۰ گھنٹے بعد۔

Mubarak Ali at his shop
PHOTO • Kavitha Muralidharan
Amir John at his shop
PHOTO • Kavitha Muralidharan

پڈھومنڈپم کے ۱۵۰ پوشاک سازوں میں سے کم از کم ۶۰ مسلم ہیں۔ بائیں: مبارک علی اپنی دکان پر۔ دائیں: اپنے کام میں مصروف عامر جان

اژگر، جو کہ کالاژگر کا مخفف ہے، مدورئی شہر سے صرف ۲۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر، میلور بلاک میں اسی نام کی ایک بستی میں واقع اژگر کووِل (مندر) کے مقیم دیوتا ہیں۔ مقبول ثقافت میں میں یہ عقیدہ ہے کہ اژگر ویگئی ندی پار کرکے اپنی بہن میناکشی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی انھیں پتہ چلتا ہے کہ شادی تو پہلے ہی ہو چکی ہے، اچانک اور کچھ غصے میں واپس لوٹ آتے ہیں۔

میناکشی مندر جشن، جو اِس سال ۸ اپریل کو شروع ہوا، تقریباً ۱۲ دنوں تک چلتا ہے۔ اژگر جشن، جو اِس سال ۱۴ اپریل کو شروع ہوا، نو دنوں تک چلتا ہے اور آج، ۲۲ اپریل کو ختم ہوگا۔ ایک ساتھ ہونے والے ان دونوں تہواروں کو چِتھیرائی تھیرووِیژا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پہلے کا اختتام میناکشی تھیرو کلیانم (میناکشی کی مذہبی شادی) اور تھیروٹّم (رتھ کے چلنے) کے ساتھ ہوتا ہے۔

پڈھو منڈپم کی ساخت ۳۳۳ فٹ لمبی اور ۲۵ فٹ چوڑی ہے اور اس میں ۱۲۵ ستون ہیں، جن میں سے ہر ایک پر نائک راجاؤں اور دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں ہیں۔ اس کے اندر کا شاپنگ کامپلیکس شاید تمل ناڈو میں سب سے پرانا ہے، جس میں کتابوں، برتنوں، کپڑے، چوڑیوں، سستے زیورات، کھلونوں وغیرہ کی ۳۰۰ دکانیں ہیں۔ ’’جہاں تک مجھے معلوم ہے، ان دکانوں نے کم از کم دو صدیوں سے پڈھو منڈپم پر قبضہ کر لیا ہوگا۔ سب سے پرانی دکان جسے ہم جانتے ہیں – سکندر لوہے کے برتنوں کی دکان – کم از کم ۱۵۰ سال پرانی ہے،‘‘ جی موتھو پنڈی کہتے ہیں، جو ایک پوشاک ساز اور مدورئی پڈھو منڈپم ٹریڈرس اینڈ ڈریس میکرس ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔

G. Muthu Pandi at his shop
PHOTO • Kavitha Muralidharan
Festival paraphernalia
PHOTO • Kavitha Muralidharan

بائیں: مدورئی پڈھو منڈپم ٹریڈرس اینڈ ڈریس میکرس ایسوسی ایشن کے صدر جی موتھو پنڈی۔ دائیں: پوشاک سازوں کے ذریعے تیار کیے گئے تہوار کے کچھ سامان

ہر سال تمل مہینے چِتھیرئی میں – ۱۵ اپریل سے ۱۵ مئی تک – ٹیلر۔پوشاک ساز دیگر دکانداروں کے مقابلے زیادہ مصروف ہو جاتے ہیں۔ اسی مدت میں وہ مندر کے جشن میں کے حصہ کے طور پر اژگر کے لباس میں سینکڑوں عقیدت مندوں کے لیے پوشاک کی سلائی کرتے ہیں۔ عامر جان ہندو بھکتوں کے لیے رنگین کپڑے کاٹنے اور اس کی سلائی کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ وہ اس پیشہ میں اپنی فیملی کی تیسری نسل کے ایک مسلم درزی ہیں۔ وہ تحمل کے ساتھ ہمیں کپڑے دکھائے جا رہے ہیں جو عقیدت مند اپنے رول اور پوجا کے حساب سے پہنیں گے، لیکن اپنا کام کرنا بند نہیں کرتے۔ ان کی ہنرمند انگلیاں سوئی سے پیچیدہ تر کام کو اس طرح انجام دے رہی ہیں جیسے کہ یہ کوئی بچے کا کھیل ہو۔ ’’ہمارے پاس یہ دکان تقریباً ۶۰ سال سے ہے اور میں نے اپنے والد شیخ نواب جان سے یہ ہنر سیکھا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

اپنے ذریعہ چُنے گئے رول کی بنیاد پر، عقیدت مندوں کو سلّڈم (پتلون)، کچئی (کمر کے چاروں طرف باندھا جانے والا کپڑا)، مارڈی مالئی (مالا)، اُروما (ٹوپی) یا ساٹّئی (کوڑا) کی ضرورت ہوگی۔ ان میں سے کچھ لوگ تھوپّارئی (کپڑے سے بنا پانی کا ڈبہ جس میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس سے سیال کنٹرول طریقے سے باہر نکلتا ہے)، یا کپڑے کے ٹکڑوں سے بنی ’مشعل‘ بھی خرید سکتے ہیں۔

تمل ناڈو کے تیرونیل ویلی کے منون منیم سندر نگر یونیورسٹی میں تمل شعبہ کے سابق صدر، پروفیسر تھوم پرماشِون کے ذریعہ ۱۹۸۹ کی مستند کتاب اژگر کووِل کے مطابق، تہوار کے دوران عقیدت چار الگ الگ رول نبھاتے ہیں: تھیری ییدو تھادوور (آگ لے کر رقص کرنے والے)، تھیری یندری آدوور (جو لوگ بنا آگ کے رقص کرتے ہیں)، ساٹّئی آدیتھادوور (جو رقص کے دوران خود کو کوڑا مارتے ہیں) اور تھیروتھی نیر تھیلِپّور (جو لوگ بھگوان اور بھکتوں پر پانی چھڑکتے ہیں)۔

ویڈیو دیکھیں: ’آپ کو یہ سب صرف پڈھو منڈپم میں ہی ملے گا...‘

’وہ [مسلم پوشاک ساز] ہمارا ہی حصہ ہیں۔ ہم رشتہ داروں کی طرح ہیں اور ایک دوسرے کو اسی طرح بلاتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں‘

پہلے تین گروپ عام طور پر لال پتلون پہنتے ہیں، جب کہ آگے کے ساتھ رقص کرنے والے لال ٹوپی بھی پہنتے ہیں۔ پانی چھڑکنے والے جنگجوؤں کے لباس میں ہوتے ہیں، اور اروما اور مارڈی مالئی پہنتے ہیں۔ پرما شِون کہتے ہیں کہ تمام ذاتوں کے لوگ، یہاں تک کہ دلت برادری کے لوگ بھی اس طرح جشنوں میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اکثر جشنوں کی سابقہ وارداتوں سے انجان ہوتے ہیں۔ ’’ان میں سے زیادہ تر لوگ اسے منّت [یا عہد] کی شکل میں کرتے ہیں اور روایتی طور پر کرنے آ رہے ہیں،‘‘ انھوں نے کہا۔ جب کہ عورتیں شاید ہی کبھی ایسے رول نبھاتی ہیں، لیکن ان کے ایسا کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ پرماشِون کا کہنا ہے کہ میناکشی تہوار جہاں مدورئی کے شہری لوگوں کے ذریعہ زیادہ منایا جاتا ہے، وہیں اژگر پروگرام کثرت سے دیہی لوگ مناتے ہیں۔

اپنے بہت سے ہم عصروں کے برعکس، ۵۳ سالہ ابوبکر صدیق نے ۲۰۰۷ میں اژگر کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ ’’میرے پاس بنیادی طور پر پڈھو منڈپم میں ایک فینسی اسٹور تھا [جس میں مختلف قسم کے چھوٹے سامان فروخت ہوتے تھے]، لیکن اس نے میرا دل جیت لیا۔ تصور کیجئے، یہ صرف مدورئی تک ہی محدود نہیں ہے۔ پڈھو منڈپم کے پوشاک ساز ریاست بھر کے کسی بھی مندر فیسٹیول میں جشن کے لیے سامان بناتے ہیں۔‘‘

انہیں میں سے ایک ۵۹ سالہ شیخ داؤد بھی ہیں، جنہوں نے ۱۳ سال کی عمر سے ہی اژگر کے لیے کپڑے بنانا شروع کر دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں شِو راتری، کنڈا سامی مندر فیسٹیول اور دیگر کے لیے [بھی] کپڑے کی سلائی کرتا ہوں۔‘‘

عام طور پر، اژگر تہوار کو دیکھنے کے لیے ایک دن میں لاکھوں لوگ جمع ہوتے ہیں اور ویگئی ندی میں آتے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام اژگر تہوار کا بامِ عروج ہوتا ہے۔ یہی وہ دن ہوتا ہے جب عقیدت مند مختلف لباسوں والے کردار میں جلوس نکالتے ہیں۔

Sheikh Dawood at his shop
PHOTO • Kavitha Muralidharan
Siddique with his employee selvam who he refers to as nephew. Selvam is showing a sickle, various sizes of which can also be seen in the photo
PHOTO • Kavitha Muralidharan

شیخ داؤ (بائیں) کہتے ہیں، ’میں شِوراتری، کنڈاسامی مندر جشن اور دیگر کے لیے [بھی] کپڑے کی سلائی کرتا ہوں‘۔ ابوبکر صدیق (دائیں)، اپنے ملازم سیلوم کے ساتھ، جو ’درانتی‘ پکڑے ہوئے ہے، تہوار کے لیے ہاتھ سے بنے سامانوں میں سے ایک یہ بھی ہے

اژگر پوشاک کے ایک سیٹ کی قیمت ۷۵۰ روپے سے ۱۵۰۰ روپے کے درمیان ہوتی ہے، جو خریدار کی ضرورت پر منحصر ہے۔ کبھی کبھی گاہک اژگر کووِل کے گارجین دیوتا، کروپّاسامی کو چڑھانے کے لیے درانتی بھی خریدتے ہیں۔ پوشاک ساز ایک دن میں اوسطاً دو پوشاکیں بنا سکتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ تین۔ حالانکہ، تہوار کے دوران کسی بھی دن وہ ۵۰۰-۶۰۰ روپے سے کم نہیں کماتا – جو اس بات پر منحصر ہے کہ اُس دن اس نے کون سی پوشاک بنائی ہے۔ اور وہ اپنے معاونین کو ادائیگی کے بعد بچی ہوئی رقم ہوگی۔

صدیق کہتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ ایسے گاہک بھی آتے ہیں، جو یہ جاننے کے بعد کہ وہ ایک مسلم ہیں، ’’مجھے اضافی پیسے دیتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے یہاں سے سامان خریدار۔‘‘

مدوروئی پڈھومنڈپم ٹریڈرس اینڈ ڈریس میکرس ایسوسی ایشن کے صدر جی موتھو پنڈی کا اندازہ ہے کے پڈھومنڈپم کے ۱۵۰ پوشاک سازوں میں سے کم از ۶۰ مسلم ہیں، اور کہتے ہیں کہ ’’انھیں کوئی نقصان پہنچانا‘‘ تصویر سے باہر ہے۔ ’’وہ ہمارا ہی حصہ ہیں۔ ہم رشتہ داروں کی طرح ہیں اور ایک دوسرے کو اسی طرح بلاتے ہں۔ ہم ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں۔ ملک میں کہیں اور یہ الگ ہو سکتا ہے، لیکن مدورئی میں آپ ہمیں ایک دوسرے کی بانہوں میں ہاتھ ڈالے پائیں گے، ایک دوسرے کی گردن میں نہیں۔‘‘

پوشاک ساز اس بات سے متفق ہیں کہ ان کی تجارت میں کبھی گراوٹ نہیں دیکھی گئی – سوائے اس کے جب فروری ۲۰۱۸ میں میناکشی مندر میں آگ لگنے کے بعد پڈھومنڈپم کو چھ مہینے کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسے پھر سے کھول دیا گیا تھا، لیکن اہلکار اب دکانوں کو ان کی موجودہ جگہ، زیادہ بھیڑ بھاڑ والے مقام سے کہیں اور منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جسے ایک موروثی مقام کے طور پر دوبارہ تعمیر اور محفوظ کیا جائے گا۔ ’’ہم بھی پڈھومنڈپم کی تاریخی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور اسے محفوظ کرنا چاہتے ہیں،‘‘ صدیق کہتے ہیں۔ ’’انتظامیہ نے ہمیں یہاں سے صرف دو عمارت آگے، کُنّتھور چترم میں جگہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ جب یہ تیار ہو جائے گا، تو ہم شفٹ ہو جائیں گے۔‘‘ انھیں یقین ہے کہ جگہ بدلنے سے ان کی تجارت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

’’یہ شاید ایک ایسی تجارت ہے جس میں کبھی نقصان نہیں ہوا ہے،‘‘ صدیق آگے کہتے ہیں۔ ’’اس بھیڑ بھاڑ والی دنیا میں، چتھیرئی جیسے تہوار لوگوں کو سانس لینے کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔ وہ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، کئی دنوں تک ساتھ میں اچھا وقت گزارتے ہیں۔ اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ ہم کبھی کوئی نقصان نہیں اٹھاتے ہیں۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Kavitha Muralidharan

کویتا مرلی دھرن چنئی میں مقیم ایک آزادی صحافی اور ترجمہ نگار ہیں۔ وہ پہلے ’انڈیا ٹوڈے‘ (تمل) کی ایڈیٹر تھیں اور اس سے پہلے ’دی ہندو‘ (تمل) کے رپورٹنگ سیکشن کی قیادت کرتی تھیں۔ وہ پاری کی رضاکار (PARI volunteer) ہیں۔

Other stories by Kavitha Muralidharan