/media/uploads/Articles/P. Sainath/The hills of hardship/scan0008_2.jpg

/media/uploads/Articles/P. Sainath/The hills of hardship/scan0008_2.jpg

چلنے سے پہلے وہ لکڑیوں کے گٹھّر کا وزن پتہ کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، جو کہ خود ان کے جسم سے لمبا ہے، تاکہ آگے کے لمبے راستے پر وہ اس کا توازن اپنے سر پر ٹھیک ڈھنگ سے بنا سکیں


گوڈّا (بہار): دھرمی پہاڑنی چار فٹ تین انچ لمبی ہیں اور ان کا وزن ان کے سر پر لدے جلانے کی لکڑی کے گٹھر سے بھی کم ہے۔ وہ اپنے گاؤں سیرکٹّیا سے سات کلومیٹر دور، دیودان موڑ میں ہفتہ میں ایک یا دو بار لگنے والے ہاٹ (بازار) آئی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے، انھیں ۲۴ کلومیٹر پیدل چل کر جنگلوں کے اندر جانا پڑتا ہے اور پھر لکڑیاں کاٹ کر لانی پڑتی ہیں، جس میں کل ملاکر انھیں ۳۱ کلومیٹر کا سفر پیدل چل کر طے کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بدلے انھیں صرف آٹھ یا نو روپے ملیں گے۔

راستہ راج محل پہاڑیوں سے ہوکر گزرتا ہے، جو کہ مشکل گزار ہے۔ لیکن دھرمی کو زندہ رہنے کے لیے ہفتہ میں کم از کم ایک بار تو ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس کا تعلق پہاڑیہ قبیلہ سے ہے، جن کی حالت ملک میں سب سے خستہ ہے۔ یہ قبیلہ گوڈّا ضلع کے قدیم سنتھال پرگنہ ڈویژن میں پھیلا ہوا ہے، جہاں پہاڑیوں کی کل آبادی ۲۰ ہزار ہے۔ کئی دہائیوں سے ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے دعوے، پلاننگ اور ’ترقی‘ کی باتیں کی جاتی رہی ہیں، لیکن ان سب کے باوجود ان کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

دھرمی اور ان جیسے ہزاروں لوگوں کے لیے، جو مہاجنوں (پیسے قرض دینے والے یا کاروباریوں) کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں، زندہ رہنے کے لیے درختوں کو کاٹنا ضروری ہے۔ زیادہ تر پہاڑیوں کا بنیادی ذریعہ آمدنی لکڑی ہی ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ یہ کام اُن مہاجنوں کے لیے کرتے ہیں، جو ٹمبر اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ گوڈا کالج کے ڈاکٹر سمن درادھیار کے مطابق، ’’اس کی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے پہاڑی علاقوں کے بڑے حصے میں ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے۔‘‘ ڈاکٹر درادھیار کی تصنیف ’سنتھال پرگنوں میں پہاڑیہ برادری کی ایکولوجی‘ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے ’مہاجنوں کے ذریعہ ان غریبوں اور بے آسرا لوگوں کا بے رحمی سے استحصال کیا جا رہا ہے‘۔

ہاٹ میں، میں نے دھرمی سے کہا کہ میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ وہ اس بوجھ کو اپنے سر پر لاد کر یہاں تک لے آئی ہیں۔ وہاں موجود چھوٹا مجمع مجھ پر ہنستا ہے۔ درجن بھر لوگ کہتے ہیں کہ کئی عورتیں تو دھرمی سے زیادہ دوری طے کرتی ہیں۔ اس کو چیک کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اگلے دن، ہمیں مختلف علاقوں اور پہاڑیوں میں، پہاڑیہ عورتوں کے ساتھ اس دوری کو طے کرنا پڑا۔

اگلے دن صبح میں ۶ بجے تھیتھری گوڈا پہاڑ کے سفر میں آدھے راستے تک پہنچنا بہت اچھا خیال نہیں تھا۔ بعض پہاڑیہ گاؤوں میں پہنچنے کے لیے آپ کو دو یا تین پہاڑیوں کو پار کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے پہاڑی کی چڑھائی کی جانب ۸ کلومیٹر کا راستہ طے کیا۔ خواہش کے خلاف کافی دیر تک یونہی چلتے رہنے کے بعد، ہمیں پہاڑیہ عورتوں کے کچھ گروپ دکھائی دیے، جن کے ہاتھوں میں ہنسیا تھے، یہ عورتیں ایک قطار میں لکڑی والے علاقوں کی طرف رواں دواں تھیں۔ ان کی تیز اور ہموار چال کو پکڑ پانا مشکل تھا۔ لیکن ہم نے ہانپتے کانپتے ہوئے آخر ان کو پکڑ ہی لیا۔ اس کے بعد ڈھلان کے راستے پر ہم نے ایسے کئی گروپ کو دیکھا، یہ عورتیں یا تو جنگلوں کی طرف جا رہی تھیں یا اپنے گاؤوں کی جانب۔ ہر عورت کے سر پر لکڑی کا بڑا سا گٹھر تھا، ۳۰ سے ۴۰ کلو وزن کا۔

*

پہاڑیہ عورتیں دیکھنے میں تو ہٹّی کٹّی اور جسمانی طور پر کافی طاقتور ہوتی ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان میں سے چند ہی پچاس سال کی عمر تک زندہ رہ پاتی ہیں۔ گوڈا کے کئی پہاڑیہ گاؤوں میں، اس سے زیادہ عمر کے کسی مرد یا عورت کو ڈھونڈ پانا بہت مشکل ہے۔ اور بہت سی عورتیں تو ۴۵ سال کی عمر کو بھی نہیں پہنچ پاتی ہیں۔

گوہی پہاڑنی، جس دن ہاٹ جاتی ہیں، اس دن انھیں جلانے والی لکڑی کو سر پر لاد کر ۴۰ کلومیٹر کی دوری پیدل طے کرنی پڑتی ہے۔ لیکن یہ ان کی مختصر زندگی کی لمبی مسافت کا صرف ایک حصہ ہے۔ انھیں پانی لانے کے لیے دن میں چھ یا آٹھ کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔

’’پانی کا چشمہ یہاں سے بہت دور نہیں ہے،‘‘ وہ خوشگوار موڈ میں کہتی ہیں (جس سے ان کی مراد ہے دو کلومیٹر)۔ ’’لیکن میں ایک بار میں اتنا ہی لا سکتی ہوں۔ اس لیے کچھ دنوں تک مجھے یہ دوری تین یا چار بار طے کرنی پڑتی ہے۔‘‘ یہ ان کی ہفتہ میں دو بار ہاٹ جاتے وقت طے کی گئی دوری کے علاوہ ہے۔ پانی کا وہ چشمہ ’صرف‘ دو کلومیٹر دور ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بہت ہی ڈھلوان اور دشوار گزار دو کلومیٹر ہیں، جو واقعی میں جسم کو بری طرح تھکا دیتے ہیں۔

گوہی ایسا کرنے والی اکیلی نہیں ہیں۔ زیادہ تر پہاڑیہ عورتوں کو ایسا ہی کرنا پڑتا ہے۔ ہم جب اس ڈھلوان راستے سے نیچے اترتے ہیں، تو مانسون کی بارش نے انھیں اور بھی پھسلن والا بنا دیا ہے، تب جاکر ہمیں پتہ چلا کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔ گوہی جیسی پہاڑیہ عورتیں سال بھر میں چار یا پانچ دفعہ دہلی اور ممبئی کے درمیان دوری کے برابر راستہ پیدل چل کر طے کرتی ہیں۔

یہاں کے مرد پہاڑی علاقوں کے کنارے مختلف قسم کی فصل اگاتے ہوئے وقت گزارتے ہیں۔ یہ قابل استقامت ہے، اگر آپ کاشت والے پلاٹ کو دس سالوں تک اس میں جنگلاتی پیڑ پودے اُگنے کی اجازت دے کر اسے اس کی پرانی شکل میں لوٹنے کی اجازت دیں۔ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ پہلے ایسا ہی کرتے تھے۔ لیکن قرض اور زمین پر بڑھنے والے دباؤ اور زندگی سے متعلق ضروریات نے یہاں زراعت کو یہاں تباہ و برباد ہوتے اور جلتے ہوئے دیکھا، جس کی وجہ سے ان زمینوں پر دس سال سے بھی کم مدت میں جنگلات ختم ہو گئے۔ بدل بدل کر کی جانے والی کاشت کاری کے ختم ہونے سے، اب یہ جنگلی علاقے ویران پڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان زمینوں پر حد سے زیادہ کھیتی کی وجہ سے بھی پیداوار کم ہونے لگی ہے۔

یہاں پر پیدا ہونے والی بینس بامبے میں اونچی قیمتوں پر بکتی ہیں۔ لیکن، پہاڑیوں کو اس کا فائدہ نہیں ملتا۔ ’’مجھے اپنی پیداوار یا فصل مہاجن کو بیچنی پڑتی ہے، جس سے میں نے قرض لیا ہے،‘‘ چندرشیکھر پہاڑیہ بتاتے ہیں۔ لہٰذا، وہ اسے ایک روپیہ فی کلوگرام کے حساب سے بیچتے ہیں۔ پہاڑیوں کو اپنی پیداوار اپنے اوپر استعمال کرنے کا موقع کبھی نہیں ملتا۔ یہ ساری کی ساری مہاجن کو ’فروخت‘ کر دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر درادھیار کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پہاڑیوں کی ۴۶ فیصد آمدنی قرض چکانے کی رقم کی شکل میں براہِ راست مہاجن کے پاس چلی جاتی ہے۔ بقیہ ۳۹ فیصد بالواسطہ طور پر قرض دینے والے کے پاس (ضروری اشیاء اس سے خریدنے کی شکل میں) چلی جاتی ہے۔

ہم ان عورتوں کے پیچھے پیچھے اونچے نیچے پہاڑی راستوں پر چل رہے ہیں، جہاں سے بنجر اور خالی ہوچکے پہاڑی جنگلات کے نظارے ہمارے لیے تکلیف دہ ہیں۔ ہم جن گاؤوں سے گزر رہے ہیں، وہاں اسکول کے نام پر یا تو خالی عمارتیں ہیں یا پھر ان کا وجود صرف کاغذوں پر ہے۔ کسی خواندہ پہاڑی عورت کو ڈھونڈا تقریباً ناممکن ہے۔

تصویر لینے کے لیے، ان عورتوں کے آگے ۲۰ میٹرس جانا آسان کام نہیں ہے۔ جب ہمارے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ ہم اتنی شدید گرمی برداشت نہیں کر پائیں گے اور تیز رفتار کو نہیں پکڑ پائیں گے، تبھی وہ عورتیں ڈھلوان پر تھوڑی دیر سانس لینے کے لیے رکتی ہیں اور چشمہ سے پانی پینے لگتی ہیں۔ اس سے ہمیں اپنے گلے کو تر کرنے اور تصویریں کھینچنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ عورتیں پچھلے تین گھنٹوں سے لگاتار چل رہی ہیں۔

ڈاکٹر درادھیہار کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہاں کے پانی کے چشموں میں آیوڈین کی مقدار بہت کم اور ’نہایت خراب کوالٹی کی‘ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس کا وہاں کے لوگوں کی ’خراب صحت‘ سے اس کا کافی کچھ لینا دینا ہے۔

یہاں پر سپلائی کا پانی نام کا کوئی چیز نہیں ہے۔ برسوں سے اس علاقے کی اندیکھی ہو رہی ہے۔ اسی لیے پہاڑیہ لوگ پانی سے پھیلنے والی مختلف بیماریوں کے شکار ہیں۔ ان میں ڈائریا، گیس اور گردے کی خرابی سے متعلق بیماریاں شامل ہیں۔ بہت سے لوگ جان لیوا بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں، جیسے ٹی بی، گلا گھونٹو اور خون کی کمی۔ اس کے علاوہ، یہاں ملیریا کی بیماری عام ہے۔ ڈوریو گاؤں کے سب سے بزرگ آدمی، گندھے پہاڑیہ، جن کی عمر ۴۵ سال ہے، بتاتے ہیں: ’اگر کوئی یہاں بہت زیادہ بیمار پڑ جائے، تو اس کے علاج آس پاس کوئی اسپتال نہیں ہے۔ ہم کو اسے بانس پر باندھ کر، ان دشوار راستوں سے شاید ۱۵ کلومیٹر لاد کر لے جانا پڑتا ہے۔‘

عورتوں نے اب پانی پی لیا ہے اور وہ ہمارے سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہاں، عورت کی پانی لانے کی صلاحیت کا امتحان اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اپنے آئندہ ہونے والے سسرالیوں کے ساتھ چلتی ہے۔ پہاڑیوں کے درمیان، عورت کی شادی، اس کے آئندہ ہونے والے سسرالیوں کے ساتھ کافی دنوں تک چلتے رہنے کے بہت دنوں بعد ہوتی ہے۔

سبدار پہاڑیہ بلاک کے اوپر سڈلر گاؤں کے ایک بزرگ، ایٹرو پہاڑیہ بتاتے ہیں کہ پانی ایک اہم امتحان ہے۔ ’لڑکی کو صرف تب قبول کیا جاتا ہے، جب وہ ہماری شرائط کے مطابق پانی لانے کے لائق ہو جائے‘۔

سنتھال پہاڑیہ سیوا منڈل کے گریدھر ماتھر، جو اس قبیلہ کے درمیان چودہ برسوں تک کام کر چکے ہیں، کا ماننا ہے کہ ’آزمائش‘ کی بات میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے۔ وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ مردوں کی کام کرنے کی صلاحیتوں کی جانچ اسی طرح نہیں کی جاتی۔ لیکن، ماتھر یہ ضرور کہتے ہیں کہ عورت دیگر اسباب کی بنیاد پر کسی مرد کے گھر جانے کے بعد اسے خارج کر سکتی ہے۔

*

تیتھری گوڈا اور بھوڈا کھوٹا کے درمیان جو راستہ ہے، وہ ڈھلوان، پھسلن بھرا اور نوکیلے پتھروں سے بھرا ہوا ہے۔ پہاڑیہ لوگ اس کی پروا نہیں کرتے۔ ماتھر بتاتے ہیں، ’’یہاں کی سڑکیں استحصال کی علامت ہیں، ترقی کی نہیں۔‘ ان کی بات میں دَم ہے۔ میدانی علاقوں کے پاس رہنے والے پہاڑیہ لوگوں پر پہاڑی کے اوپر والے گاؤوں کے مقابلے مہاجنوں کا زیادہ کنٹرول ہے۔

یہاں پر جتنی بھی ’ترقیاتی اسکیمیں‘ آئیں، ان میں فیصلہ لینے کے عمل میں پہاڑیہ لوگوں کو کبھی شامل نہیں کیا گیا۔ ایک تجربہ یہ تھا کہ ہر پہاڑیہ فیملی کو دو گائیں دی گئیں۔ لیکن، پہاڑیہ لوگ ان گایوں سے دودھ نہیں نکالتے، ان کا ماننا ہے کہ دودھ تو بچھڑے کے لیے ہوتا ہے؟

پہاڑیہ لوگ دودھ سے بننے والی اشیاء بھی استعمال نہیں کرتے، لیکن کسی کو اس کا علم نہیں ہے۔ وہ صرف ان گایوں کا گوشت کھاتے ہیں اور کچھ لوگ قرض اسی لیے لیتے ہیں۔ دیگر نے گایوں کا استعمال قحط کے دنوں کے جانور کے طور پر کرنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے دشوار علاقوں میں ان کی موت ہو نے لگی۔ اس کے بعد ملک کے ان غریب ترین لوگوں کو قرض کے پیسے واپس ادا کرنے پڑے، وہ پیسے جو انھوں نے کبھی قرض کی شکل میں مانگے نہیں تھے۔

ماتھر کہتے ہیں کہ سرکاری فنڈ نے صرف ’ٹھیکہ داروں کی جماعت کی چربی بڑھائی‘۔ بدعنوان افسروں سے ٹھگے جانے کے بعد، پہاڑیہ لوگ مہاجنوں کے جال میں مزید پھنستے چلے گئے۔ سیاسی طور پر بیدار پہاڑیہ، مدھو سنگھ، ان تمام حالات کو ایک جملہ میں بیان کرتے ہیں۔ ’افسران ناپائیدار حقیقت ہیں۔ مہاجن پائیدار حقیقت۔‘

سیاسی تحریکوں کا بہت کم اثر ہوا۔ سی پی آئی کی قیادت والی تحریک نے ۱۹۶۰ اور ۷۰ کی دہائیوں میں مہاجن کنٹرول سے پہاڑیہ زمین آزاد کروائی۔ لیکن ریاست اس پر آگے عمل نہیں کر سکی، لہٰذا پرانی صورتِ حال دوبارہ لوٹ آئی۔ بہت سی رضاکارانہ تنظیموں نے، جن میں سے کچھ کے اچھے نام ہیں، اس خطہ میں برسوں تک کام کیا، لیکن انھیں کامیابی نہیں ملی۔

ڈاکٹر درادھیار اور ان کے معاون محقق، ڈاکٹر پی کے ورما کا ماننا ہے کہ یہ قبیلہ اب زوال کا شکار ہے۔ حکومت اس سے انکار کرتی ہے، لیکن اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ یہ خطرہ موجود ہے۔ اس کے حل کے لیے، اس نے مزید کئی پروگراموں کا اعلان کیا ہے، جن سے پہاڑیہ لوگوں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، البتہ ٹھیکہ داروں اور مہاجنوں کے لیے یہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ ’دریں اثنا،‘ مدھو سنگھ کہتے ہیں، ’ہمارے جنگلات غائب ہو رہے ہیں۔ ہماری پاس زمین کم ہے، اور ہماری تکلیفیں زیادہ۔‘

*

ہم جب پہاڑپور سے آگے ہاٹ تک پہنچتے ہیں، تو ہم وہاں سے چوبیس کلومیٹر آگے کا سفر طے کر چکے ہوتے ہیں، جہاں ہم نے پہلی بار ان عورتوں کو دیکھا تھا۔ دن بھر چلتے رہنے کے بعد اب ہم چالیس کلومیٹر کی پیدل مسافت طے کر چکے ہیں۔ کیا یہ حیران کرنے والی بات نہیں ہے کہ مجھے اگلے آٹھ دنوں تک ایسا ہی کئی بار کرنا ہوگا۔ یہ عورتیں ہمارے سامنے ۳۰ سے ۴۰ کلو وزن کے لکڑیوں کے گٹھر کو فروخت کر رہی ہیں، ہر گٹھر کو پانچ سے سات روپے میں۔

اگلی صبح، جب میرے جسم کا ہر عضو درد کر رہا ہے، میں ۱۹۴۷ میں لگائے گئے ’فریڈم پِلر‘ (آزادی کا ستون) دیکھتا ہوں۔ اس پر پہلا نام ایک پہاڑیہ کا لکھا ہوا ہے؛ درحقیقت، اس پر جتنے بھی شہیدوں کے نام درج ہیں، ان میں سے زیادہ تر پہاڑیہ ہی ہیں۔

ان کے نام، جو آزادی کے لیے مرنے والوں میں اوّل تھے، اس سے مستفید ہونے والوں میں آخری۔

پی سائی ناتھ کی کتابایوری باڈی لوز اے گڈ ڈراٹسے ماخوذ، بشکریہپینگوئن انڈیا۔

اس مضمون کوآرڈفرنٹس گریٹیسٹ رپورٹنگ آف دی ٹونٹیتھ سینچورینے بھی منتخب کرکے شائع کیا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: