’’میں جب بڑا ہو رہا تھا، تب اتنے ساہوکار نہیں تھے، لیکن اب بہت سے کسان قرض لے رہے ہیں کیوں کہ آج انہیں مشینوں، حشرہ کش دواؤں اور کھادوں کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے،‘‘ بڈگاؤں کے سکھ لال سُلیا کہتے ہیں۔

ہم گائے کے گوبر کا استعمال کرتے تھے، جو مٹی کے لیے اچھا تھا اور ہمیں پیسے بھی نہیں خرچ کرنے پڑتے تھے۔ لیکن تب سرکار نے یہ کہتے ہوئے یوریا اور حشرہ کش دواؤں کی تشہیر شروع کر دی کہ اس سے آپ کو زیادہ فصل ملے گی۔ اب، ۴۰ سال بعد، یہ ابھی بھی زیادہ تر کسانوں کے ذریعے استعمال کیے جاتے ہیں اور وہ کھادوں اور حشرہ کش دواؤں پر کافی خرچ کرتے ہیں، جس سے مٹی برباد ہو رہی ہے۔ اور پھر، وہ بچولیوں کے توسط سے بہت کم منافع پر انہیں بازاروں میں بیچتے ہیں، جو صارفین کو جتنے پیسے میں فروخت کرتے ہیں اس کے مقابلے بہت کم پیسے میں پیداوار خریدتے ہیں۔ اس لیے کسانوں کو بہت کم پیسے مل رہے ہیں،‘‘ وہ اداسی سے کہتے ہیں۔

ہم نے مدھیہ پردیش کے نیوالی تعلقہ کے سکڈ گاؤں میں واقع آدھار شِلا لرننگ سینٹر  کے اپنے سفر کے دوران ۸۳ سالہ کسان، سکھ لال جی سے اسی ریاست کے انجڑ تعلقہ میں ان کے گاؤں میں بات کی۔ وہ اپنے بیٹے، بدری کے ساتھ آئے تھے، جو وہاں پر ایک ٹیچر ہیں۔ ہم اس بارے میں کچھ جاننا چاہتے تھے کہ گزشتہ نصف صدی میں بچپن کیسے بدل گیا ہے۔ سکھ لال جی اپنی بھلال برادری (ایک درج فہرست قبیلہ) کی بولی، نیماڑی میں بات کر رہے تھے، جب کہ بدری ہمارے لیے ترجمہ کرنے میں مدد کر رہے تھے۔

’’بڑے ہوتے ہوئے، میری رسائی بھینس گاڑیوں یا سائیکل تک نہیں تھی؛ میں ہر جگہ پیدل جایا کرتا تھا۔ میں ۴۸ کلو وزن اٹھا کر سات کلومیٹر تک چلا ہوں۔ اس زمانے میں سائیکل دولت مند لوگوں کے پاس ہوا کرتی تھی۔ بلکہ، سائیکل سے گاؤں میں آنے والا شخص عام طور پر سرکاری افسر ہوتا تھا، جس سے ہم ڈر جاتے تھے!‘‘ سکھ لال جی ہنستے ہوئے بتاتے ہیں۔

Left: Sukhlal Suliya with his family (left to right): son Badri, Badri's sons Deepak and Vijay, and Badri's wife Devaki. Right: With a few of his 17 grandchildren
PHOTO • Ravindar Romde
Left: Sukhlal Suliya with his family (left to right): son Badri, Badri's sons Deepak and Vijay, and Badri's wife Devaki. Right: With a few of his 17 grandchildren
PHOTO • Ravindar Romde

بائیں: سکھ لال سُلیا اپنی فیملی کے ساتھ (بائیں سے دائیں): بیٹا بدری، بدری کے بیٹے دیپک اور وجے، اور بدری کی بیوی دیوکی۔ دائیں: ان کے ۱۷ پوتے/ پوتیوں میں سے کچھ

سکھ لال جی جب جوان تھے تو اپنی ۱۴ ایکڑ زمین پر کھیتی کیا کرتے تھے، اور ان کی زندگی فصلوں، مویشیوں اور موسم کے ارد گرد چکّر کاٹتی تھی۔ ان کی فیملی نے ارہر اور اڑد کی دال، باجرا، ناونے، باڈلی، سَوَریا، چنا، لوبیا، سویابین، کالا چنا، سن کے بیج، کپاس اور ککڑی سمیت کئی قسم کی فصلیں اور اناج اُگائے۔ کنبے خود پر منحصر تھے، اپنے لیے کھانے کا انتظام کر لیا کرتے تھے، وہ کہتے ہیں۔ ’’ہمارے بیج اور اناج دیسی تھے،‘‘ وہ آگے کہتے ہیں۔ اب، سکھ لال جی کے بڑے بیٹے راجا رام سمیت علاقے کے کسان بنیادی طور پر مکئی اور گیہوں اُگاتے ہیں۔

سکھ لال جی نے ۳۰ سال پہلے کھیتی کرنا بند کر دیا تھا اور اب راجا رام اور کبھی کبھی بدری کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے تین بیٹے، تین بیٹیاں، اور ۱۷ پوتے/پوتیاں ہیں۔ صرف راجا رام کھیتی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سکھ لال جی پانچ بھائیوں کے ساتھ ایک مشترکہ فیملی میں بڑے ہوئے – اُس فیملی میں ۳۰ لوگ ایک ساتھ رہتے تھے۔ ’’گھر پر، عورتیں پوری فیملی کے لیے ایک دن میں ۲۰ کلو اناج – جوار، گیہوں، مکئی یا چاول پیسا کرتیں۔ ہم مکئی کی روٹیاں اور ٹوٹے ہوئے پکے چاول [دلیا] چھاچھ کے ساتھ کھاتے، جو ہم اپنی چار بھینسوں سے ملنے والے دودھ سے بناتے تھے۔‘‘

’’تب کوئی مشین نہیں تھی، سب کچھ ہاتھ سے ہی کیا جاتا تھا،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے گنّے سے بالٹی کے سائز کا گڑ بنایا اور بھینسوں کے ذریعے گھٹّی (پتھر کی چکّی) کو گھما کر مونگ پھلی کا تیل نکالا جاتا تھا؛ بعد میں ایک تیلی (تیل کا تاجر) اس تیل کو نکالتا۔ یہ فیملی ایک بار میں تقریباً ۱۲ سے ۱۵ لیٹر تیل نکال لیا کرتا تھا۔

’’ہمارے پاس مکئی کو بھوسی سے الگ کرنے، مکئی کو سُکھانے، اسے ایک تھیلے میں بھرنے اور پھر اسے پتھر پر پٹخنے کے لیے روایتی طریقے ہوا کرتے تھے۔ یہ طریقے اگلی نسل کو نہیں بتائے گئے اور اب ان کی جگہ مشینوں نے لے لی ہے۔‘‘

As a young man, Sukhlalji cultivated his 14-acre farmland, and his life revolved around cropping cycles, cattle and the seasons
PHOTO • Ravindar Romde
As a young man, Sukhlalji cultivated his 14-acre farmland, and his life revolved around cropping cycles, cattle and the seasons
PHOTO • Ravindar Romde

سکھ لال جی جب نوجوان تھے تو اپنی ۱۴ ایکڑ زمین پر کھیتی کیا کرتے تھے، اور ان کی زندگی فصلوں، مویشیوں اور موسموں کے ارد گرد چکّر کاٹتی تھی

کپڑے برادری یا طبقہ کے ذریعے طے کیے جاتے تھے، سکھ لال جی یاد کرتے ہیں۔ ’’سرکاری اہلکار چمکیلے رنگوں والے موٹے کپاس کا استعمال کرتے تھے، جو کافی مہنگے ہوتے تھے۔ دیگر مرد عام سفید کپڑے پہنتے، جب کہ عورتوں کے سفید کپڑوں پر چمکیلا بارڈر یا ڈیزائن ہوتا تھا۔ یہ رنگائی برادری کے ذریعے کی جاتی تھی، جو اس [کام] میں ماہر تھا۔‘‘

گاؤں کے لوگ ہفتہ میں ایک بار ہاٹ یا بازار جاتے، جہاں سے وہ کپڑے یا کچھ ایسی چیزیں خریدتے، جسے وہ خود سے بنا نہیں سکتے تھے۔ ’’ہم گھی اور گُڑ بیچا کرتے تھے،‘‘ سکھ لال جی کہتے ہیں۔

’’اب، جب وہ [ان کے گاؤں کے لوگ] شہر [کام کے لیے] جاتے ہیں، تو اُن چیزوں کو پسند نہیں کرتے ہیں جو والدین آسانی سے خرید کر انہیں دے سکتے ہےیں، جیسے ہاتھ سے بنے سابن، کھانے اور تیل،‘‘ وہ آگے کہتے ہیں۔ ’’وہ صرف اسٹور سے خریدی گئی چیزیں چاہتے ہیں۔ وہ اپنے بڑوں کی صلاح نہیں لیتے ہیں۔ والدین ان کی تعلیم کے لیے بھاری قرض لیتے ہیں، لیکن [کچھ] بچے اس کا استعمال شراب پینے اور منشیات لینے میں کرتے ہیں؛ وہ اپنے والدین سے جھوٹ بولتے ہیں اور بہت سارا پیسہ طبی نگرانی اور اسپتالوں کی فیس بھرنے میں خرچ ہو جاتا ہے۔‘‘

پھر، وہ افسردہ ہوکر کہتے ہیں، ’’اگر آپ بچوں کو ٹھہرنے کے لیے کہیں، تو کیا وہ رکیں گے؟ مجھے گاؤں پسند ہے، لیکن کوئی زندگی نہیں بچی ہے۔‘‘

ہم بدری، جے شری اور امت (وہ پہلے ناموں کو ہی پسند کرتے ہیں) کو، آدھار شِلا کے ٹیچروں کو کھلے دل سے اپنا وقت دینے کے لیے، اور ہماری ٹیچر کملا مُکُندن کا ہماری مدد کرنے کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

پاری سے متاثر ہو کر، سینٹر فار لرننگ، بنگلورو کے مڈل اسکول کے دو طالب علموں نے مدھیہ پردیش کے ایک اسکول کا سفر کرنے کے دوران ایک کسان کے ساتھ اپنی ملاقات کی دستاویزکاری کی۔ پاری نے انہیں دیہی ہندوستان کے مختلف پہلوؤں اور ان کی تحقیق کو دستاویزی شکل دینے کے طریقے کے بارے میں بتایا۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Nia Chari and Akil Ravi

نیا چاری اور اکِل روی سینٹر فار لرننگ، بنگلورو میں ۹ویں کلاس کے ۱۳ سالہ طالب علم ہیں۔

Other stories by Nia Chari and Akil Ravi