ویڈیو دیکھیں: ’ہم اب پیچھے نہیں ہٹیں گے‘

۲۰ فروری، ۲۰۱۹ کو مہاراشٹر بھر کے گاؤوں کے کسان ممبئی تک مارچ کرنے کے لیے ناسک شہر میں جمع ہوئے۔ ناسک ضلع کے ڈنڈوری گاؤں کے ساتھ ساتھ دیگر گاؤوں میں بھی احتجاجیوں نے اس مارچ کے لیے ہفتوں پہلے تیاری کر لی تھی۔ انھوں نے اناج جمع کر لیے تھے اور کھانا پکانے کے لیے بڑے برتن، پانی جمع کرنے کے لیے ڈرم، جلانے کے لیے لکڑی، اور سونے کے لیے ترپال اور گدے رکھ لیے تھے۔

ڈنڈوری گاؤں سے یہ کسان ٹیمپو، شیئرنگ آٹو اور دوپہیہ گاڑیوں کے ذریعے ۱۳ کلومیٹر دور، ڈھاکمبے ناکہ پر پہنچے۔ نرگوڈے کرنجلی، بھیڈمال، تلبھٹ، شندواڑ اور دیگر گاؤوں سے اور بھی کسان جمع ہونے لگے۔ وہ دہانو، ناسک، پالگھر اور تھانے ضلعوں سے آئے تھے، ساتھ ہی کچھ مراٹھواڑہ اور مہاراشٹر کے دیگر حصوں سے بھی آئے تھے۔ پھر وہ سبھی ناسک کے سینٹرل بس ڈپو کی طرف مارچ کرنے لگے، جہاں دوسرے ضلعوں سے بھاری تعداد میں کسان جمع ہو رہے تھے۔

ویڈیو دیکھیں: ’ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ ہمارے مطالبات پورے ہوں گے...‘

۲۱ فروری، ۲۰۱۹ کو کسانوں نے ناسک کے بس ڈپو سے مارچ کرنا شروع کیا، اور ۱۱ کلومیٹر تک چلنے کے بعد، تقریباً ڈھائی بجے دوپہر کو وِلہولی گاؤں پہنچے۔ مہاراشٹر سرکار کے نمائندوں اور اس مارچ کے منتظمین، آل انڈیا کسان سبھا کے لیڈروں کے درمیان ایک لمبی بات چیت کے بعد، دیر رات مارچ کو ختم کر دیا گیا۔ سرکار نے ایک بار پھر کسانوں کے سبھی مطالبات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

the PARI Team