کلپنا چندرن، ماڈریٹر:

سب کو میری طرف سے صبح بخیر، میں کلپنا ہوں۔ میں اِس بحث کی نظامت کر رہی ہوں۔ آج ہم لوگ جینیاتی طور پر ترمیم شدہ (جینیٹکلی موڈیفائیڈ) فصلوں پر مباحثہ کر رہے ہیں۔ بحث کا موضوع ہے: ہمارے لیے جی ایم فصل فائدہ مند ہے یا نقصاندہ؟

میری دائیں جانب جی ایم فصل کو فائدہ مند ماننے والی ٹیم بیٹھی ہے، تو بائیں جانب اس کو نقصاندہ ماننے والی ٹیم۔ میں ہر مقرر کو اپنی بات رکھنے کے لیے ایک منٹ کا وقت دوں گی۔ اس کے بعد ان کی باتوں پر سوال جواب کرنے کے لیے دوسری ٹیم کو ایک منٹ کا وقت ملے گا۔

اب جی ایم فصل کو فائدہ مند ماننے والی ٹیم اس بحث کی شروعات کرے گی۔

کریتکا کند سامی، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

سب کو میرا صبح بخیر۔ میرا نام کریتکا ہے۔ میں جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم کی جانب سے پہلی مقرر ہوں۔ دنیا بھر میں وِٹامن اے کی کمی کی وجہ سے اندھے پن کا مرض ہوتا ہے، اس میں تقریباً ۵ کروڑ بچے متاثر ہوتے ہیں۔ دودھ، مکھن، گوشت اور پیلی سبزیوں میں وٹامن اے ملتا ہے۔ عام چاول میں بہت زیادہ وٹامن اے نہیں ہوتا۔ جی ایم چاول کی سب سے عام مثال ہے گولڈن رائس۔ اس کے پیلے رنگ کے سبب ہی اسے گولڈن رائس کہتے ہیں۔ اس میں وٹامن اے کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ گولڈن رائس میں لوہے کے عنصر اور تانبہ بھی ملتا ہے۔ گولڈن رائس تیسری دنیا کے ملکوں کے لیے اچھی فصل ہے۔

کلپنا، ماڈریٹر:

اب وقت، مخالف ٹیم کا ہے۔

سوکنیا اَنگ مُتّو، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

ہمیں گولڈن رائس کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی جگہ ہم دودھ پی سکتے ہیں، گوشت کھا سکتے ہیں اور ہری و پیلی سبزیوں کو اپنے کھانے میں شامل کر سکتے ہیں۔

دُرگا ویل موروگن، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

سوکنیا نے کہا، ہم گولڈن رائس کی جگہ دودھ پی سکتے ہیں۔ لیکن ہم کھانے کی شکل میں دودھ کو کھا نہیں سکتے۔

اَرچنا پلنی سامی، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

سوکنیا نے کہا، ہم گوشت کھا سکتے ہیں اور ہری و پیلی سبزیوں کو اپنے کھانے میں شامل کر سکتے ہیں۔ لیکن سبزی خور لوگوں کے بارے میں سوچیے۔ وہ گوشت نہیں کھاتے۔ ایسے میں انھیں وِٹامن اے کیسے ملے گا؟ ہری اور پیلی سبزیاں بھی تو ہم روزانہ خرید نہیں سکتے، وہ مہنگی ہوتی ہیں۔

کریتکا، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

ہری سبزیاں ہر دن دستیاب بھی نہیں ہوتی ہیں۔

مانو ساجن قاسم، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

لیکن جو لوگ چاول کھاتے ہیں، وہ عام طور پر چاول کے ساتھ سبزیاں بھی کھاتے ہیں۔ انھیں ایسے بھی وٹامن اے مل سکتا ہے۔

کلپنا، ماڈریٹر:

وقت پورا ہو گیا۔

اَرچنا، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

لوگ چاول کے ساتھ سبزی کھاتے ہیں۔ لیکن یہ اُن لوگوں کی بنیادی غذا نہیں ہے۔

کلپنا، ماڈریٹر:

وقت پورا ہو چکا ہے، اب جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم کی طرف سے پہلی مقرر اپنی بات رکھیں گی۔

سوکنیا، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

سب کو میرا صبح بخیر۔ میرا نام سوکنیا ہے اور میں جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم کی جانب سے پہلی مقرر ہوں۔ اگر ہم جینیٹکلی موڈیفائیڈ فصل کی پیداوار کرتے ہیں، تو ہمارے روایتی چاول کی قسمیں ختم ہو جائیں گی۔ حالانکہ زیادہ تر روایتی قسمیں ابھی ہی غائب ہو چکی ہیں۔ جی ایم فصل کو اپنانے سے تو روایتی فصلیں ختم ہو جائیں گی۔

کلپنا، ماڈریٹر:

اب مخالف ٹیم اس کا جواب دے گی۔

نیتا سریندرن، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

سوکنیا نے کہا کہ اگر ہم جی ایم فصلوں کا استعمال کریں گے، تو ہماری روایتی فصلیں ختم ہو جائیں گی۔ لیکن ہائبریڈ بیجوں کے استعمال سے ہماری روایتی فصلیں ویسے بھی غائب ہو رہی ہیں۔ اس لیے ہم ہائبریڈ بیجوں کے استعمال کے بدلے جی ایم فصل کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی کیڑا بھی نہیں لگتا۔

پرشانت رام مورتی، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

ہم ہائبریڈ بیجوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ہائبریڈ فصل کے لیے بہت زیادہ حشرہ کش دواؤں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ ایسے میں زہر سے بھرا ہوا اناج کھاتے ہیں۔

مانو ساجن قاسم، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

ہائبریڈ فصل کے استعمال سے ہم اپنی فصلوں کی روایتی قسموں کو کھو چکے ہیں۔ لیکن کیا ہمیں جی ایم فصل کے لیے اپنی ساری روایتی قسموں کو کھو دینا چاہیے؟ اور پرشانت نے کہا کہ ہم حشرہ کش دواؤں والا کھانا کھاتے ہیں، تو ہم کیمیاوی اناج بھی کھا سکتے ہیں، جی ایم فصل کی ضرورت نہیں ہے۔

نیتا، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

آپ ابھی مرنا چاہتی ہیں یا پھر ۳۰ سالوں کے بعد؟

کلپنا، ماڈریٹر:

وقت پورا ہو چکا ہے۔ اب جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم کی دوسری مقرر اپنی بات رکھیں گی۔

نیتا، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

سب کو میری طرف سے صبح بخیر۔ میرا نام نیتا ہے۔ میں جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم کی جانب سے دوسری مقرر ہوں۔ میں آپ کو بی ٹی بینگن کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں۔ یہاں موجود سبھی نے بینگن کھایا ہوگا۔ گھر پر ہم جب بینگن کاٹتے تھے، تو اس میں کیڑے دکھائی دیتے تھے۔ اس سے بچنے کے لیے کسان حشرہ کش دواؤں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ ہماری صحت پر برا اثر ڈالتا ہے۔ لیکن ہم بی ٹی بینگن کا استعمال کر سکتے ہیں۔ بی ٹی بینگن بڑا ہوتا ہے اور اس میں کیڑے لگنے کا بھی ڈر نہیں ہوتا۔ کسان اسے بیچ کر پیسہ کما سکتے ہیں۔ ایک بی ٹی بینگن پوری فیملی کے لیے کافی ہوتا ہے، ایسے میں ہمارا پیسہ بھی بچتا ہے۔

کلپنا، ماڈریٹر:

اب وقت ہے اپوزیشن ٹیم کے جواب دینے کا۔

ابھجیت انوپ، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

بیٹی بینگن میں کرائی جین (کرای ۱ اے سی) ہوتی ہے۔ کچھ کیڑے صرف بینگن کھاتے ہیں۔ جب وہ بی ٹی بینگن کھاتے ہیں، وہ مر جاتے ہیں۔ کچھ پرندے اُن کیڑوں کو کھاتے ہیں۔ اگر اُن پرندوں کو کیڑے نہیں ملیں گے، تو پرندوں کی وہ قسمیں بھی غائب ہو جائیں گی۔ تو ایک طرح سے غذائی سلسلہ (فوڈ چین) ٹوٹ جاتا ہے۔

مانو ساجن قاسم، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

اور کئی لوگ بی ٹی بینگن جیسی فصل کھانے سے مر رہے ہیں۔

راہل رام کمار، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

بی ٹی بینگن کے بیج امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیوں میں تیار ہوتے ہیں۔ امریکہ میں وہ اسے کم قیمت میں بیچتے ہیں۔ لیکن دوسرے ملکوں میں، وہ اسے اونچی قیمت پر بیچتے ہیں۔ ایسے میں کسان بینک سے قرض لے کر بی ٹی بینگن کے بیج خریدتے ہیں۔ اگر وہ قرض ادا نہیں کر پاتے، تو وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔

پارس ناتھ، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

یہ جی ایم فصل کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ مسئلہ کمپنیوں اور ہماری حکومت کے درمیان کا ہے۔

کلپنا، ماڈریٹر:

وقت پورا ہو چکا ہے۔ اب جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم کے دوسرے مقرر اپنی بات رکھیں گے۔

سبھاش کنک راج، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

سب کو میری طرف سے صبح بخیر۔ میرا نام سبھاش ہے۔ میں جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم کا دوسرا مقرر ہوں۔ جی ایم فصل سے دوسرے حیوانات کو نقصان ہوتا ہے۔ امریکہ میں سائنس دانوں نے ریسرچ کے ذریعہ پتہ لگایا ہے کہ جی ایم فصل کے تخم ریزے مونارک تتلیوں کے لیے زہر ہوتے ہیں۔

کلپنا، ماڈریٹر:

اب دوسری ٹیم کے لیے رائے رکھنے کا وقت ہے۔

پارس ناتھ، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

بی ٹی بھُٹے کی فصل کے سبب انھیں زہر ملتا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ زہر کھاتے ہوں۔

نیتا، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دوسری بیماری سے متاثر ہوں۔ جی ایم فصل کی وجہ سے نہیں، بلکہ وہ کسی اور وجہ سے بھی تو متاثر ہو سکتی ہیں۔

مانو ساجن قاسم، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

نیتا نے کہا کہ وہ کسی دوسری وجہوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ لیکن امریکی محکمہ زراعت نے بی ٹی بھُٹے کے تخم ریزوں کی جانچ کرکے اسے مونارک تتلیوں کے لیے خطرناک مانا ہے۔ مونارک تتلیاں اِن فصلوں کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچاتی ہیں اور صرف فصل کی تخم ریزی کا کام کرتی ہیں۔ لیکن وہ زہر کے سبب مر رہی ہیں۔ ان کا ہمارے ماحولیاتی نظام میں اہم رول ہے، لیکن اب ان کا وجود خطرے میں ہے۔

پارس ناتھ، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

آپ حشرہ کش کا استعمال کرکے مونارک تتلیوں کو مار دیں گے۔ ایسے میں ہم بی ٹی بھُٹے سے اسے مار رہے ہیں۔ دونوں ہی حالت میں اسے مرنا ہی ہے۔ اس میں مسئلہ کیا ہے؟

کلپنا، ماڈریٹر:

وقت ہو چکا ہے۔ اب جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم کا مقرر اپنی بات رکھے گا۔

پارس ناتھ، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

میرا نام پارس ناتھ ہے۔ میں جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم کی جانب سے تقریر کرنے والا ہوں۔ میں آپ لوگوں کو جی ایم فصل کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ جی ایم فصل ہماری صحت کے لیے بہتر ہیں اور ماحولیات کے لیے بھی بہتر ہوتے ہیں۔ بی ٹی کپاس میں کرائے جین ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں کیڑے نہیں لگتے۔ ہمیں حشرہ کش خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس طرح ہمارے پیسے بچتے ہیں۔ اس کے بعد یہ فصل بھی آپ کو زیادہ پیسے دلاتی ہے۔

کلپنا، ماڈریٹر:

اب دوسری ٹیم کے لیے اپنی بات رکھنے کا وقت ہے۔

مانو ساجن قاسم، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

بی ٹی کپاس کے ٹیسٹ کے دوران یہ دیکھا گیا کہ کئی گائیں بی ٹی کپاس کے بیج کھانے کے بعد مر جاتی ہیں۔

پارس ناتھ، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

گائے بی ٹی کپاس کے بیج کیسے کھا جائے گی؟ اس بات کے کوئی سائنسی ثبوت بھی نہیں ہیں کہ گائیں بی ٹی کپاس کے بیج کھاتی ہیں۔

نیتا، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

گائے کو بی ٹی کپاس کا بیج کھانا بھی نہیں چاہیے، اسے تو گھاس کھانی چاہیے۔

مانو ساجن قاسم، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

کسان اپنی گایوں کو بی ٹی کپاس کے بیج کھلاتے ہیں، اس لیے گائیں بی ٹی کپاس کے بیج کھاتی ہیں۔ پرشانت نے کہا کہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے۔ اگر کمپنی کو اپنا مال بیچنا ہے، تو وہ سائنسی ثبوتوں کو چھپاتے ہیں۔ یہ لوگوں کے لیے خطرناک ہے اور جانوروں کے لیے بھی۔ ایک سگریٹ کمپنی کہا کرتی تھی کہ سگریٹ صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور کئی سال بعد پتہ چلا کہ سگریٹ صحت کے لیے خطرناک ہے۔ ایسا ہی کچھ جی ایم فصل کے ساتھ ہوگا۔

کلپنا، ماڈریٹر:

وقت ہو چکا ہے۔ اب جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم کا دوسرا مقرر اپنی بات رکھے گا۔

راہل، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

سب کو میری طرف سے صبح بخیر۔ میرا نام راہل ہے۔ میں جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم کا تیسرا مقرر ہوں۔

میں کہنا چاہتا ہوں کہ جی ایم فصل انسانوں کے لیے مضر ہے۔ جب سائنس داں جی ایم فصل کو تیار کر رہے ہوں، تب اگر ایک بھی جین چھوٹ گیا، تو یہ نقصان پہنچانے والا ہو جائے گا۔ امریکہ میں ایسا ہی ایک جین چھوٹ گیا اور گھاس میں چلا گیا۔ گھاس لگاتار بڑھنے لگی، بڑھتی ہی رہی اور کوئی اس پر کنٹرول نہیں کر پایا۔ یہی گھاس ویڈی سائڈ (گھاس پھوس کو ختم کرنے والا) کہلاتا ہے۔

کلپنا، ماڈریٹر:

اب دوسری ٹیم کے لیے رائے رکھنے کا وقت ہے۔

نیتا، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

راہل نے کہا کہ امریکہ میں ایک جین باقی رہ گیا۔ لیکن جینس تو میموری کارڈ کے اندر فولڈروں میں ہوتے ہیں۔ جب تک ہم اسے ایک فولڈر سے نکال کر دوسرے فولڈر میں نہیں رکھتے، تب تک وہ تیار نہیں ہو سکتے۔ وہ کوئی حیوان تو ہے نہیں کہ ایک سے کود کر دوسرے پر پہنچ گیا۔ ہمیں اسے دوسری جگہ پر رکھنا ہوتا ہے۔

ابھجیت، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

میموری کارڈ میں اسے رکھنے اور اسے دوسرے فولڈر میں ڈالنے کے دوران کارڈ میں وائرس جا سکتا ہے اور پورے فولڈر کو تباہ کر سکتا ہے۔

مانو ساجن قاسم، جی ایم فصل کی مخالفت کر رہی ٹیم:

کیڑوں سے خود کا دفاع کرنے والی گھاس ایک دن میں نہیں اُگنے لگے گی۔ یہ صرف جی ایم فصل کی وجہ سے ہوا ہے۔

نیتا، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

وائرس اگر اندر چلا گیا، جین برباد ہو جائے گا، وہ کود کر باہر نہیں آ جائے گا۔

اَرچنا، جی ایم فصل کی حمایت کر رہی ٹیم:

اور راہل کہہ رہا ہے کہ جین بھاگ سکتے ہیں اور گھاس تک پہنچ گئے۔ لیکن انھیں جب موڈیفائی کیا جاتا ہے، تو موڈیفائی لیب میں کیا جاتا ہے۔

کلپنا، ماڈریٹر:

وقت ہو چکا ہے۔ اب ہماری بحث یہیں ختم ہوئی۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath